rss

وزیر خارجہ مائیکل آر پومپئو کا’پیپفر فیتھ کمیونیٹیز’ اور ‘ایچ آئی وی ٹیکنیکل سمٹ’ سے خطاب

Facebooktwittergoogle_plusmail
Português Português, English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Русский Русский, Español Español

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
27 نومبر 2018
لوئے ہینڈرسن آڈیٹوریم
واشنگٹن، ڈی سی

 

وزیر پومپئو: سبھی کو صبح بخیر۔ دفتر خارجہ میں آپ سب کے استقبال کا موقع میرے لیے خوشی کا باعث ہے۔ یہ نہایت عمدہ بات ہے اور مجھے فخر ہے کہ ایچ آئی وی/ ایڈز کے خلاف عالمگیر جدوجہد میں اس قدر بڑی تعداد میں شراکت دار ہمارے شانہ بشانہ موجود ہیں۔

آج سے 15 سال پہلے صدر جارج ڈبلیو بش نے ‘پیپفر’ کا آغاز کیا تھا جو کہ 21ویں صدی میں انتہائی کمزور لوگوں کے حوالے سے امریکی فکرمندی کا اظہار ہے۔ صدر ٹرمپ ایڈز کی وبا کے خاتمے کی کوششوں کے ضمن میں بدستور پرعزم ہیں۔

2003 میں ‘پیپفر’ کے آغاز کے بعد تین صدور، متعدد کانگریسوں اور دنیا بھر میں اپنے  بہت سے شراکت داروں کی بھرپور حمایت کی بدولت ہم نے 17 ملین سے زیادہ زندگیاں بچائیں۔ ہم نے کروڑوں افراد کو ایچ آئی وی سے محفوظ کیا۔ دنیا بھر میں ایڈز سے متعلق اموات جو 2004 میں عروج پر تھیں، اب ان کی تعداد نصف رہ گئی ہے۔ آسان الفاظ میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ ایچ آئی وی/ ایڈز کی وبا اب بحرانی صورت میں باقی نہیں رہی اور قابو میں آ چکی ہے۔

اس راہ میں ہر قدم پر آپ جیسے لوگوں، مذہبی رہنماؤں، مذہبی اداروں اور مذہبی گروہوں کا ہماری کوششوں میں اہم کردار رہا ہے۔ آپ اس وبا کے آغاز سے بہت پہلے ان علاقوں میں موجود تھے جو ایڈز سے بری طرح متاثر ہوئے اور ہم جانتے ہیں کہ اس وبا پر قابو پائے جانے کے بہت بعد بھی آپ وہاں موجود ہوں گے۔ دنیا کے بعض حصوں میں، بعض جگہوں پر ایچ آئی وی/ ایڈز سے متاثرہ لوگوں کو 70 فیصد طبی نگہداشت مذہبی اداروں نےفر اہم کی۔ یہ آپ کے جذبے، آپ کی دیکھ بھال، آپ کے عزم اور ساتھی انسانوں کے لیے آپ کی محبت کی نمایاں شہادت ہے۔

میری جانب سے ستمبر میں جاری کردہ ‘پیپفر’ کی حکمت عملی پر پیش رفت بارے 2018 کی رپورٹ سے ہمارے اقدامات کا اندازہ ہوتا ہے، وہ اقدامات جو ہم نے مل کر اٹھائے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی ‘پیپفر’ کے حوالے سے حکمت عملی کی رہنمائی میں ایچ آئی وی سے بری طرح متاثرہ 13 ممالک آئندہ دو برس میں اس وبا پر قابو پانے کے لیے تیار ہیں۔ اس حکمت عملی کے ضمن میں مجھے خاص طور سے  جس بات پر فخر ہے وہ یہ کہ ‘پیپفر’ اور ہمارے شراکت دار ثابت قدمی سے آبادی کے ان حصوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں جو عموماً نظرانداز کر دیے جاتے ہیں۔ ان میں نوجوان عورتیں، مرد اور بچے شامل ہیں۔

مجھے آج ‘پیپفر’ کے تازہ ترین سالانہ پروگرام کے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے بھی خوشی ہے۔ اس برس 30 ستمبر تک ‘پیپفر’ نے 14.6 ملین سے زیادہ افراد کو زندگی کے تحفظ اور وبائی وائرس کے علاج میں مدد دی ہے۔ 2003 میں جب یہ پروگرام شروع ہوا تو افریقہ میں صرف 50 ہزار افراد زیرعلاج تھے۔ علاج معالجے کی سہولت حاصل کرنے والوں کی موجودہ تعداد ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

مجھے نائیجیریا اور ایتھوپیا میں اس وبا پر قابو پانے کے لیے نئی اور پرجوش پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے بھی خوشی ہے۔ ابھی ہم اس حوالے سے مخصوص اعدادوشمار جاری نہیں کر رہے مگر ایتھوپیا ایچ آئی وی کی وبا پر قابو پانے کو ہے جو ایک قابل ذکر کامیابی ہے۔ ماضی کا اندازہ مدنظر رکھا جائے تو اب نائجیریا کے لیے ایچ آئی وی کی وبا پر قابو پانا  پہلے سے زیادہ ممکن ہو گیا ہے۔ یہ قابل ذکر کام ہے۔ ایچ آئی وی کا علاج کرانے والے نائیجریا کے لوگوں کی اکثریت میں وائرس کی بڑھوتری کا عمل رک گیا ہے جس کے نتیجے میں اب وہ صحت مند ہو رہے ہیں اور ان سے دوسروں کو وائرس کی منتقلی رک گئی ہے۔

میں آج آپ کو ایک اور زبردست داستان سے بھی آگاہ کرنا چاہتا ہوں۔ یہ ‘پیپفر’ کی تمام امریکیوں کے لیے اہمیت کے بارے میں ہے۔ جہاں ایچ آئی وی کا زور زیادہ ہے اور جہاں بہترین نتائج حاصل ہو سکتے ہوں وہاں وسائل مرکوز کرنے سے ‘پیپفر’ نے احتساب، شفافیت، اہلیت اور اثرپذیری پر مبنی بیرون ملک امریکی امداد کی طاقت کا اظہار کیا ہے۔

بہت سے مواقع پر واشنگٹن میں ہر مسئلے کا مجوزہ حل زیادہ سے زیادہ رقم کو قرار دیا جاتا رہا ہے خواہ اس سے مسئلہ حل ہوتا ہو یا نہ ہو۔ مگر ہم ٹیکس دہندگان کو ‘پیپفر’ پر جو رقم خرچ کرنے کو کہہ رہے ہیں وہ واضح طور پر زندگی اور امید کو جنم دے رہی ہے۔ ہم اس کا اندازہ کر سکتے ہیں اور اس کی تاثیر بھی دیکھ سکتے ہیں۔ اس میں آپ سبھی کا اہم کردار رہا ہے۔

آج ایک پوری نسل صحت مند زندگی گزار رہی ہے اور روشن مستقبل تعمیر کرنے میں مصروف ہے جو بصورت دیگر ضائع ہو سکتی تھی۔ ‘پیپفر’ واقعتاً 21ویں صدی میں امریکہ کی عظیم فتوحات میں ایک ہے۔ ہمیں آپ کی صورت میں اپنے مذہبی شراکت داروں کے ہمراہ یہ کام جاری رکھنے پر فخر ہے۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں