rss

وزیر خارجہ مائیکل آر پومپئو کا خطاب جرمن مارشل فنڈ

Facebooktwittergoogle_plusmail
Русский Русский, English English, हिन्दी हिन्दी, Español Español, Português Português

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
4 دسمبر 2018

 

برسلز، بیلجیم

وزیر پومپئو: آئن، اس قدر اچھا تعارف کرانے پر آپ کا شکریہ۔ سبھی کو صبح بخیر ،  آج یہاں آنے پر میں آپ سب  کا مشکور ہوں۔ اس خوبصورت جگہ پر موجودگی اور آپ کے کام اور مارشل فنڈ نیز ہمارے خطے کو درپیش مسائل کی بابت گفتگو کا موقع ملنا نہایت عمدہ بات ہے۔

اپنی رسمی گفتگو کے آغاز سے پہلے اگر میں امریکہ کے 41ویں صدر جارج ہربرٹ واکر بش کو خراج تحسین پیش نہ کروں تو یہ بہت بڑی فرض ناشناسی ہو گی کہ وہ اس خراج کے حقدار ہیں۔ آپ میں بہت سے لوگ انہیں جانتے ہیں۔ وہ دنیا بھر میں آزادی کے کڑے حامی تھے۔ پہلے انہوں نے دوسری جنگ عظیم میں لڑاکا جہاز کے پائلٹ اور بعدازاں کانگریس کے رکن کی حیثیت سے اپنا یہ کردار نبھایا۔ وہ اقوام متحدہ میں سفیر اور پھر چین میں امریکی نمائندہ رہے۔ بعدازاں انہوں نے اسی عہدے پر کام کیا جس پر میں بھی کر چکا ہوں، یعنی وہ سی آئی اے کے ڈائریکٹر رہے۔ میں نے ان کی نسبت زیادہ عرصہ تک یہ ذمہ داری نبھائی ہے۔ اس کے بعد انہوں  نے رونلڈ ریگن کے تحت نائب صدارت سنبھالی ۔

مجھے ان سے ذاتی جان پہچان کا موقع ملا۔ وہ بہت اچھے بھائی، والد، دادا اور پرفخر امریکی تھے۔ درحقیقت امریکہ واحد ملک ہے جسے وہ ٹیکساس سے زیادہ چاہتے تھے۔ (قہقہہ)

دراصل میں سمجھتا ہوں کہ انہیں مجھے آج یہاں اس ادارے میں دیکھ کر خوشی ہوتی جس کا نام آزادی کے انہی جیسے متوالے جارج مارشل کے نام پر رکھا گیا ہے۔ انہیں آپ لوگوں کی صورت میں یہاں اتنا بڑا اجتماع دیکھ کر بھی بے حد خوشی ہوتی جو ماورائے اوقیانوس رشتے قائم ہونے سے اتنی دہائیوں بعد بھی ان سے یوں وابستہ ہیں۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد مغربی تہذیب کی تعمیر نو کرنے والے لوگ میرے پیشرو وزیر مارشل کی طرح جانتے تھے کہ صرف مضبوط امریکی قیادت ہی ہمارے دوستوں اور اتحادیوں کی مشاورت سے دنیا بھر میں خودمختار ممالک کو متحد کر سکتی ہے۔

چنانچہ ہم نے یورپ اور جاپان کی تعمیرنو، کرنسیوں کو مستحکم کرنے اور تجارت میں سہولت دینے کے لیے نئے ادارے قائم کرنے کی ذمہ داری لی۔ ہم سب نے مل کر نیٹو اتحاد قائم کیا تاکہ ہمیں اور ہمارے اتحادیوں کو تحفظ کی ضمانت مل سکے۔ اسی طرح ہم نے آزادی اور انسانی حقوق کی مغربی اقدار کی قانونی تدوین کے لیے معاہدے کیے۔

مجموعی طور پر ہم نے ریاستوں کے مابین امن اور تعاون کو فروغ دینے کے لیے کثیرملکی تنظیمیں قائم کیں۔ ہم نے مغربی آدرشوں کو محفوظ رکھنے کے لیے کڑی اور انتھک محنت کی کیونکہ جیسے صدر ٹرمپ نے وارسا میں اپنے خطاب میں واضح کیا تھا ان میں ہر اصول حفاظت کے لائق تھا۔

اس امریکی قیادت نے ہمیں جدید تاریخ میں زبردست انسانی خوشحالی سے لطف اندوز ہونے کا موقع فراہم کیا۔ ہم نے سرد جنگ جیتی۔ ہم نے امن جیتا۔ ہم نے جرمنی کو دوبارہ متحد کیا جس میں جارج ایچ ڈبلیو بش کا اہم کردار تھا۔ دلیرانہ طور سے صدر ٹرمپ ایسی ہی قیادت کا احیا چاہتے ہیں۔

سرد جنگ ختم ہونے کے بعد ہم نے اس لبرل نظام کو تباہ ہونے کے لیے چھوڑ دیا۔ اس سے بعض جگہوں پر ہمیں ناکامی ہوئی اور بعض اوقات اس سے آپ کو اور بقیہ دنیا کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ کثیرملکی حکمت عملی بڑی حد تک بے مقصدیت کا شکار ہو گئی۔ ہم نے سوچا کہ ہم جتنے زیادہ معاہدے کریں گے اتنے ہی محفوظ ہو جائیں گے۔ ہمارے پاس جتنے افسر ہوں گے کام بھی اتنا ہی اچھا ہو گا۔

کیا واقعتاً یہ بات کبھی سچ تھی؟ بنیادی سوال یہ ہے کہ آج یہ نظام جس شکل میں موجود ہے اور دنیا میں آج جو حالات ہیں، ایسے میں کیا یہ کارآمد ہے؟ کیا یہ دنیا کے تمام لوگوں کے لیے کارآمد ہے؟

آج اقوام متحدہ میں قیام امن کے مشن دہائیوں تک کام کرنے کے باوجود امن نہیں لا سکے۔ بعض ممالک ماحول سے متعلق اقوام متحدہ کے معاہدوں کو محض دولت کی ازسرنو تقسیم کے ذرائع کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اسرائیل مخالف تعصب باقاعدہ صورت اختیار کر گیا ہے۔ علاقائی طاقتیں انسانی حقوق کونسل میں کیوبا اور وینزویلا جیسے ممالک کو ووٹ دینے کے لیے سازباز کرتی ہیں۔ اقوام متحدہ کا قیام ایسے ادارے کے طور پر عمل میں آیا تھا جس میں امن سے محبت کرنے والی اقوام شامل تھیں۔ میں پوچھتا ہوں کہ کیا آج یہ ادارہ اپنا کام درست طور سے انجام دے رہا ہے؟

کیا مغربی کرے میں امریکی ریاستوں کی تنظیم نے اپنے چار ستونوں یعنی جمہوریت، انسانی حقوق، سلامتی اور معاشی ترقی کے لیے خاطرخواہ کام کیا ہے؟ یہ وہ خطہ ہے جہاں کیوبا، وینزویلا اور نکاراگوا جیسے ممالک بھی شامل ہیں۔

کیا افریقی یونین نے اپنے رکن ممالک کے باہمی مفادات کی تکمیل کے لیے کچھ کیا ہے؟

میرا تعلق کاروباری طبقے سے ہے، ذرا سوچیے  کہ عالمی بینک اور عالمی مالیاتی فنڈ جنگ سے تباہ حال ممالک کو تعمیرنو میں مدد دینے اور نجی سرمایہ کاری و ترقی کے فروغ کے لیے وجود میں آئے تھے۔ آج یہ ادارے بدانتظامی کے ذریعے اپنے معاشی معاملات خراب کرنے والے ممالک کو کفایت شعارانہ اقدامات کا مشورہ دیتے ہیں جس کے نتیجے میں ترقی کا پہیہ رک جاتا ہے اور نجی شعبے کا معاشی کردار محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔

یہاں برسلز میں یورپی یونین اور اس کے پیشرو پورے براعظم میں زبردست خوشحالی لائے۔ یورپ امریکہ کا واحد سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور ہمیں آپ کی کامیابی سے بے حد فائدہ پہنچا ہے۔ تاہم بریگزٹ نے کچھ اور نہیں تو سیاسی طور پر خبردار ضرور کیا ہے ۔ کیا یورپی یونین یہ امر یقینی بنا رہی ہے کہ ممالک اور شہریوں کے مفادات یہاں برسلز میں بیٹھے بیوروکریٹس کے مدنظر ہیں؟

یہ معقول سوالات ہیں۔ یہیں سے میں اپنے دوسرے نکتے کی جانب جاتا ہوں۔ برے کرداروں نے اپنے مفادات کی خاطر ہمارے ہاں قیادت کی کمزوری سے فائدہ اٹھایا۔ یہ امریکی پسپائی کا زہریلا پھل ہے۔ صدر ٹرمپ اس صورتحال کا ازالہ کرنے کا عہد کیے ہوئے ہیں۔

چین کی معاشی ترقی سے جمہوریت اور علاقائی استحکام نہیں آیا۔ اس سے برعکس یہ مزید سیاسی جبراور  علاقائی سطح پر اشتعال انگیزی کا سبب بنی ہے۔ ہم نے لبرل نظام میں چین کا خیرمقدم کیا مگر اس کے طرزعمل پر کبھی بازپرس نہیں کی۔

چین نے عالمی تجارتی تنظیم کے اصولوں میں موجود ہر سقم  سے متواتر ناجائز فائدہ اٹھایا، منڈی پر پابندیاں عائد کیں، ٹیکنالوجی کو جبراً منتقل کیا اور انٹلیکچوئل پراپرٹی چوری کی۔ اسے علم ہے کہ عالمی رائے عامہ اس کی جانب سے انسانی حقوق کی آمرانہ خلاف ورزیوں پر کچھ نہیں کر سکتی۔

ایران نے ہماری جانب سے جوہری معاہدے کے بعد بھی اقوام عالم میں شمولیت اختیار نہیں کی۔ اس نے معاہدے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی دولت کو دہشت گردوں اور آمروں پر لٹایا۔

ایران نے بہت سے امریکی یرغمال بنا رکھے ہیں اور باب لیونسن وہاں 11 برس سے لاپتہ ہیں۔ ایران نے سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلے عام خلاف ورزی کی، اپنے ایٹمی پروگرام سے متعلق جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے معائنہ کاروں سے جھوٹ بولا اور اقوام متحدہ کی پابندیوں سے گریز کی راہ اختیار کی۔ گزشتہ ہفتے ہی ایران نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلسٹک میزائل کا تجربہ کیا۔

اس سال کے اوائل میں تہران نے امریکہ ایران میل جول کے معاہدے کو عالمی عدالت انصاف میں امریکہ کے خلاف بے بنیاد دعووں کے لیے استعمال کیا۔

اب روس کی بات ہو جائے۔ روس نے آزادی اور عالمگیر تعاون کی مغربی اقدار کو قبول نہیں کیا۔ اس کے بجائے اس نے حزب مخالف کی آوازوں کو دبایا اور جارجیا و یوکرائن جیسے خودمختار ممالک پر چڑھائی کی۔

روس نے غیرملکی سرزمین پر، یہاں یورپ میں فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے اعصابی مادے کو استعمال کیا جو کہ کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کے معاہدے کی خلاف ورزی ہے جس پر دستخط کرنے والوں میں روس بھی شامل ہے۔ جیسا کہ میں آج بعد میں تفصیل سے بتاؤں گا، روس نے کئی سال تک درمیانے درجے تک مار کرنے والے جوہری میزائلوں سے متعلق معاہدے کی خلاف ورزی بھی کی۔

یہ فہرست بہت طویل ہے۔ ہمیں مستقبل کی راہ متعین کرنے کے لیے آج دنیا میں جاری نظام کی وضاحت کرنا ہے۔ قومی سلامتی سے متعلق امریکی حکمت عملی میں مستقبل کی اس راہ کو ‘بااصول حقیقت پسندی’ کہا گیا ہے۔ میں اسے ‘عام فہم’ کہنا چاہوں گا۔ ہر ملک کو اپنے شہریوں کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کا دیانت دارانہ احساس ہونا چاہیے اور اسے یہ دیکھنا ہو گا کہ آیا موجودہ عالمی نظام اس کے لوگوں کے لیے بہتر ہے یا نہیں۔ اگر نہیں تو ہمیں یہ پوچھنا چاہیے کہ اسے کیسے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ یہی کچھ کر رہے ہیں۔ وہ امریکہ کو دنیا میں اس کے روایتی مرکزی قائدانہ کردار کی جانب واپس لے جا رہے ہیں۔ وہ دنیا کو ویسا ہی دیکھتے ہیں جیسی یہ ہے، وہ اسے اپنی خواہش کے مطابق تبدیل کرنا نہیں چاہتے۔ وہ جانتے ہیں کہ جمہوری آزادیوں اور قومی مفادات کے ضامن کے طور پر خودمختار ریاست کا کوئی نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ جارج ایچ ڈبلیو بش کی طرح وہ بھی یہ بات جانتے ہیں کہ محفوظ دنیا نے عالمی منظرنامے پر تواتر سے امریکی جرات کا مطالبہ کیا ہے۔ جب ہم سب اپنے ہی قائم کردہ اداروں سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو نظرانداز کر دیں تو پھر دوسرے اس سے ناجائز فائدہ اٹھائیں گے۔

چین اور ایران جیسی جگہوں پر نقاد یہ کہہ رہے ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ اس نظام کو ڈھانے کی ذمہ دار ہے جبکہ یہی ممالک عالمی نظام کو کمزور کر رہے ہیں۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ امریکہ کثیر رخی کے بجائے یک رخی کردار ادا کر رہا ہے جیسے  ہر طرح کا کثیرملکی اقدام ہی مناسب ہو۔ حتیٰ کہ ہمارے یورپی دوست بھی بعض اوقات یہ کہتے ہیں کہ ہم دنیا کے مفاد میں نہیں چل رہے۔ یہ بات بالکل غلط ہے ۔

اپنی خودمختاری کا ازسرنو دعویٰ اور لبرل عالمی نظام میں اصلاحات لانا ہمارا مقصد ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ اس ضمن میں ہمارے دوست ہماری مدد کریں اور اپنی خودمختاری کے لیے بھی جدوجہد کریں۔ ہم چاہتے ہیں کہ عالمی نظام ہمارے شہریوں کو کنٹرول کرنے کے بجائے انہیں فائدہ پہنچائے۔ امریکہ اب اور ہمیشہ کے لیے قائدانہ کردار کی خواہش رکھتا ہے۔

صدر ٹرمپ کی قیادت میں ہم عالمی قیادت یا عالمی نظام میں اپنے دوستوں کو اکیلا نہیں چھوڑ رہے۔ درحقیقت ہمارا طرزعمل اس سے بالکل برعکس ہے۔ ذرا دیکھیے کہ شمالی کوریا پر دباؤ ڈالنے کی مہم میں ہم نے جتنے ممالک کو اپنے ساتھ لیا اس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ دنیا میں کوئی اور ملک کرہ ارض کے ہر کونے سے درجنوں ممالک کو ساتھ لے کر پیانگ یانگ حکومت پر پابندیوں کا نفاذ ممکن نہیں بنا سکتا تھا۔

عالمی معاہدوں کو ممالک کے مابین تعاون میں سہولت دینی چاہیے جس سے سلامتی اور آزاد دنیا کی اقدار کو فروغ ملے۔ بصورت دیگر ان میں اصلاحات لائی جائیں یا انہیں ختم کر دیا جائے۔ جب معاہدے توڑے جاتے ہیں تو ان کی خلاف ورزی کرنے والوں سے بازبرس ہونی چاہیے اور ان معاہدوں کو بہتر بنایا جانا چاہیے یا پھر ختم کر دیان چاہیے۔ الفاظ میں وزن ہونا ضروری ہے۔

اسی لیے ہماری حکومت ناکارہ یا نقصان دہ سمجھوتوں، تجارتی میثاقات اور ایسے دوسرے معاہدوں سے قانونی انداز میں دستبردار ہو رہی ہے یا ان پر دوبارہ گفت و شنید میں مصروف ہے جو ہمارے یا ہمارے اتحادیوں کے خودمختارانہ مفادات کو پورا نہیں کرتے۔

ہم نے ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق پیرس معاہدے سے دستبرداری کے ارادے کا اعلان کیا جس میں امریکہ کے لیے بہتر شرائط نہیں تھیں۔ حالیہ معاہدہ امریکیوں کی جیبوں سے رقم نہیں نکال پائے گا اور چین جیسے ممالک کی جیبیں نہیں بھر سکے گا جو نظام کو خراب کیے دیتے ہیں۔

امریکہ میں ہم نے اس معاملے کا ایک بہتر حل نکالا ہے اور ہم دنیا کے لیے بھی بہتر حل کا سوچتے ہیں۔ ہم نے توانائی سے متعلق اپنی کمپنیوں کو اختراع اور مسابقت کی راہ پر لگایا ہے نتیجتاً ہمارے ہاں کاربن کے اخراج میں ڈرامائی طور سے کمی آئی ہے۔

ہم نے دوسری باتوں کے علاوہ ایران کی متشدد اور تخریبی سرگرمیوں کے باعث بھی ایرانی جوہری معاہدے سے دستبرداری اختیار کی۔ اس کی یہ سرگرمیاں معاہدے کی روح کے منافی تھیں اور ان سے امریکی عوام اور ہمارے اتحادیوں کی سلامتی خطرات سے دوچار تھی۔ ہم ایران کے انقلابی عزائم کی روک تھام اور اس کی عالمگیر دہشت گردی کی مہم کے خاتمے کے لیے اپنے اتحادیوں کی قیادت کر رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ہمیں نئی بیوروکریسی درکار نہیں ہے۔ ہمیں ایسا اتحاد تشکیل دینے پرکام کی ضرورت ہے جو ایسے نتائج حاصل کرے جن سے مشرق وسطیٰ، یورپ اور پوری دنیا ایرانی خطرے سے محفوظ رہ سکیں۔

امریکہ نے امریکی کارکنوں کے مفادات کو ترقی دینے کے لیے اپنے معاہدے ‘نیفٹا’ پر دوبارہ گفت و شنید کی۔ صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے بیونس آئرس میں امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا کے مابین معاہدے پر فخریہ طور سے دستخط کیے اور جمعے کو اسے کانگریس کو پیش کر دیا جائے گا جو کہ امریکی عوام کو جوابدہ ہے۔

نئے معاہدے میں دوبارہ گفت و شنید کی شرائط بھی شامل ہیں کیونکہ کوئی تجارتی معاہدہ تمام ادوار کے لیے مستقل طور سے مفید نہیں ہوتا۔

ہم نے ڈبلیو ٹی او میں اصلاحات کے لیے اپنے جی 20 شراکت داروں کی حوصلہ افزائی کی ہے اور انہوں نے گزشتہ ہفتے بیونس آئرس میں اس حوالے سے پہلا اچھا قدم اٹھایا۔

قبل ازیں میں نے عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے بارے میں بات چیت کی۔ ٹرمپ انتظامیہ ان اداروں کی توجہ دوبارہ ایسی پالیسیوں پر مرکوز کرانے کے لیے کام کر رہی ہے جن سے معاشی خوشحالی کو فروغ ملے، چین جیسے ممالک کو قرض دینے کا سلسلہ روکا جائے جنہیں پہلے ہی سرمایے کی عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل ہے اور ایسے ترقیاتی بینکوں کو ٹیکس دہندگان کے پیسے کی فراہمی محدود کی جائے جو اپنے طور پر نجی سرمایہ اکٹھا کرنے کے پوری طرح اہل ہیں۔

ہم عالمی عدالت انصاف جیسے سرکش اداروں کو ہماری اور آپ کی خودمختاری اور ہماری آزادیوں کی پامالی سے روکنے کے لیے حقیقی اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ آئی سی سی کا مدعی دفتر افغانستان میں جنگ کے ضمن میں امریکی عملے کے خلاف تحقیقات شروع کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ہم اپنے لوگوں اور افغانستان میں ہمارے ساتھ مل کر لڑنے والے نیٹو اتحادیوں کو ناجائز قانونی کارروائی سے محفوظ رکھنے کے لیے تمام تر ضروری اقدامات اٹھائیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم جانتے ہیں اگر یہ  ہمارے لوگوں کے ساتھ ہو سکتا ہے تو پھر آپ کے ساتھ بھی ممکن ہے۔ یہ ایک اہم سوال ہے۔ کیا عدالت اپنا وہ مقصد پورا کر رہی ہے جس کے لیے اسے وجود میں لایا گیا تھا؟

ٹرمپ انتظامیہ کے ابتدائی دو برس اس حقیقت کے غماز ہیں کہ صدر ٹرمپ ان اداروں کو کمزور نہیں کر رہے اور نہ ہی وہ امریکہ کو قیادت سے دستبردار کر رہے ہیں۔ حقیقت اس سے بالکل برعکس ہے۔ اپنی عظیم جموریت کی عمدہ ترین روایات کے تحت ہم ایک نئے لبرل نظام کی تعمیر کے لیے دنیا بھر کے ممالک کو اکٹھا کر رہے ہیں۔ یہ نظام جنگ کو روکے گا اور سبھی کے لیے عظیم تر خوشحالی کا حصول ممکن بنائے گا۔

ہم ایسے اداروں کی مدد کر رہے ہیں جن کے بارے میں ہمارا خیال ہے کہ انہیں بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ یہ ایسے ادارے ہیں جو امریکہ کے مفاد میں اور آپ کے مفاد میں کام کرتے ہیں اور ہماری مشترکہ اقدار کو ترقی دیتے ہیں۔

مثال کے طور پر 1973 میں یہاں بیلجیم میں 15 ممالک کے بینکوں نے سرحد پار ادائیگیوں کے لیے عمومی معیارات ترتیب دینے کے لیے ‘سوئفٹ’ نظام تشکیل دیا اور اب یہ ہمارے عالمگیر مالیاتی ڈھانچے کا لازمی جزو ہے۔

‘سوئفٹ’ نے حال ہی میں پابندیوں کے لیے نامزد ایرانی بینکوں کو اپنے پلیٹ فارم سے الگ کر دیا کیونکہ یہ ادارے مجموعی طور پر پورے نظام کے لیے ناقابل قبول خطرہ ہیں۔ یہ ذمہ دارانہ طرزعمل کے لیے عالمگیر ادارے کے ساتھ مل کر کام کرنے کے ضمن میں امریکی قیادت کی شاندار مثال ہے۔

وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی خریدوفروخت روکنے کے لیے بش انتظامیہ کے تحت 11 ممالک کا اسلحے کے عدم پھیلاؤ سے متعلق اقدام اس کی ایک اور مثال ہے۔ اس کے ارکان کی تعداد خودبخود 105 تک پہنچ گئی ہے اور بلاشبہ اس نے دنیا کو مزید محفوظ بنا دیا ہے۔

یہاں میں ان سب سے زیادہ اہم عالمی ادارے کونہیں بھول سکتا جو امریکی قیادت میں ترقی پاتا رہے گا۔ وزیر خارجہ کی حیثیت سے حلف اٹھانے سے چند گھنٹے بعد ہی میں اپنے نیٹو اتحادیوں سے ملاقات کے لیے یہاں آیا۔ آج میں اپنی بات دہراؤں گا کہ یہ ناگزیر ادارہ ہے۔ صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ سبھی ممالک اس میں اپنا طے شدہ مالیاتی حصہ ڈالیں تاکہ ہم اپنے دشمنوں کا مقابلہ اور اپنے ممالک کے عوام کا دفاع کر سکیں۔

اس مقصد کے لیے نیٹو کے تمام اتحادیوں کو یہ اکٹھ مضبوط کرنے کے لیے کام کرنا چاہیے جو کہ پہلے ہی تاریخ کا سب سے بڑا فوجی اتحاد ہے۔ کبھی کوئی اتحاد اس قدر طاقتور اور پرامن نہیں رہا اور ہمارے تاریخی تعلقات کو جاری رہنا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہے کہ میں آئندہ اپریل میں واشنگٹن میں اپنے ساتھی وزرائے خارجہ کے اجلاس کی میزبانی کروں گا جہاں ہم نیٹو کی 70 ویں سالگرہ کے موقع پر جمع ہوں گے۔

اپنی گفتگو کے اختتام پر میں جارج مارشل کی بات دہرانا چاہتا ہوں جو انہوں نے 1948 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس کے قیام کے قریبی عرصہ میں کہی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ”عالمی ادارے قومی اور نجی کوششوں یا مقامی و انفرادی تصور کی جگہ نہیں لے سکتے۔ عالمی اقدامات اپنی مدد آپ کا متبادل نہیں ہو سکتے”

بعض اوقات جوں کی توں صورتحال میں تبدیلی لانے کی کوشش کرنا پسند نہیں کیا جاتا۔ مگر کھل کر کہا جائے تو ایسا نہ کرنے کے لیے آج یہاں ہم سب کا بہت کچھ داؤ پر لگا ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا صدر ٹرمپ کو اچھی طرح ادراک ہے۔

جیسا کہ جارج مارشل کی نسل نے محفوظ اور آزاد دنیا سے متعلق نئی سوچ کو پروان چڑھایا اسی طرح ہم بھی آپ سے اسی طرح کی دلیری کا مظاہرہ کرنے کو کہتے ہیں۔ ہماری پکار خاص طور پر ہنگامی نوعیت کی ہے۔ طاقتور ممالک اور عالمی نظام کو اپنے غیرلبرل تصور کے مطابق ازسرنو تشکیل دینے کے خواہاں کرداروں سے درپیش خطرات کے ہوتے ہوئے یہ معاملہ خاص طور پر ہنگامی توجہ کا متقاضی ہے۔

آئیے مل کر کام کریں۔ آئیے آزاد دنیا کو محفوظ رکھنے کے لیے مل کر کام کریں تاکہ یہ ان لوگوں کے مفادات کی تکمیل کرتی رہے جن کے سامنے ہم سب جوابدہ ہیں۔

ہمیں یہ کام اس انداز میں کرنا ہے جس سے مستعد عالمی ادارے وجود میں آئیں جنہیں قومی خودمختاری کا احترام ہو، جو اپنے طے شدہ مقصد کے لیے کام کریں اور جو لبرل نظام اور دنیا کے لیے مفید ہوں۔

صدر ٹرمپ یہ بات اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ جب امریکہ قیادت کرتا ہے تو امن اور خوشحالی کا حصول قریباً یقینی ہو جاتا ہے۔

وہ جانتے ہیں کہ اگر امریکہ اور یہاں یورپ میں ہمارے اتحادیوں نے قیادت کا ذمہ نہ اٹھایا تو دوسروں کو موقع مل جائے گا۔

امریکہ ہمیشہ کی طرح دنیا بھر میں ایسے پرامن اور لبرل نظام کے لیے اپنے اتحادیوں کے ساتھ کام کرتا رہے گا جو دنیا کے ہر شہری کا حق ہے۔

میرے ساتھ یہاں موجودگی پر آپ کا شکریہ۔ خدا ہم سب پر اپنی رحمت کرے۔ شکریہ (تالیاں)


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں