rss

وزیر خارجہ مائیکل آر پومپئو کی پریس کانفرنس

Facebooktwittergoogle_plusmail
English English, العربية العربية, हिन्दी हिन्दी, Русский Русский

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
4 دسمبر 2018

 

نیٹو ہیڈکوارٹرز
برسلز، بیلجیم

وزیر پومپئو: سبھی کو سہ پہر بخیر۔ میں اپنی گفتگو کا آغاز ایک عظیم آدمی صدر جارج ایچ ڈبلیو بش کے انتقال پر بش خاندان کے ساتھ اظہار تعزیت سے کرنا چاہتا ہوں۔ وہ عوامی خدمت سے وابستگی اور اپنی پرجوش حب الوطنی میں واقعتاً ایک بہترین امریکی کا نمونہ تھے۔ ان کی غیرمعمولی زندگی کو یاد کرتے ہوئے میری اہلیہ سوسن اور میں صدر ٹرمپ اور تمام امریکیوں کے ہمراہ افسردہ ہیں۔ کل میں امریکہ میں ان کے سوگ میں قومی دن کے موقع پر صدر اور اپنے کابینہ کے ساتھوں کے ہمراہ انہیں خراج تحسین پیش کروں گا۔

صدر بش زندگی بھر  ماورائے اوقیانوس سلامتی کے کٹر حامی رہے۔ آج ہم اپنے لوگوں اور اپنے اتحادیوں کی جانب سے طاقتور امریکی قیادت کی بات کرتے ہوئے ان کی مثال کی تقلید کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ 1987 میں ‘آئی این ایف’ معاہدے پر دستخط ہوئے جو کہ جوہری جنگ کے خطرے کو کم کرنے کے لیے دو حریفوں کے مابین نیک نیتی سے کی گئی کوشش تھی۔ صدر ریگن نے اسے ‘ایک ناممکن وژن’ کا حصول قرار دیا اور میخائل گورباچوف نے کہا کہ یہ معاہدہ  ‘انسانیت کے لیے آفاقی اہمیت’ کا حامل ہے۔

تاہم اس معاہدے کی بدولت جیسی بھی کامیابیاں حاصل ہوئی ہوں، آج ہمیں روس کی جانب سے اسلحے پر کنٹرول کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کے معاملے پر دھوکہ دہی کا مقابلہ کرنا ہے۔ جیسا کہ آج صبح میں نے اپنے ساتھی وزرا سے کہا، ہمارے ممالک نے ایک انتخاب کرنا ہے۔ یا تو ہمیں اپنے سر ریت میں دبا لینا ہیں یا پھر روس کی جانب سے ‘آئی این ایف’ معاہدے کی شرائط کھلے عام نظرانداز کرنے کے جواب میں عام فہم کارروائی کرنا ہے۔

یہ بات یاد رکھی جائے کہ روس نے راتوں رات یہ خلاف ورزیاں نہیں کیں۔ روس 2000 کے وسط سے ایس ایس سی-8 کروز میزائل کی اڑان کے تجربات کرتا چلا آ رہا ہے۔ یہ معاہدہ جس فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی تیاری کی اجازت دیتا ہے وہ اس سے کہیں زیادہ صلاحیت کے حامل میزائل کے تجربات کرتے رہے ہیں۔ ایس ایس سی-8 کے تمام تجربات کپوسٹن یار کی تنصیب سے ایک قائم اور متحرک لانچر کے ذریعے کیے گئے۔ اس کے مار کرنے کی صلاحیت اسے یورپ کے لیے براہ راست خطرہ بنا دیتی ہے۔

2017 میں جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے جنرل سیلوا نے کانگریس کو بتایا کہ روس نے اپنے میزائل نصب کر دیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ”اس کا مقصد نیٹو اور اس کے زیرانتظام علاقوں میں تنصیبات کے لیے خطرہ پیدا کرنا ہے”۔ روس کی جانب سے یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے اور 2018 کے اواخر تک وہ ایس ایس سی-8 میزائلوں کی کئی بٹالین کھڑی کر چکا ہے۔

اس تمام عرصہ میں امریکہ معاہدے پر ذمہ دارانہ طور کاربند رہا۔ روس کی خلاف ورزیوں کے باوجود ہم نے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا اور روس کو اس معاہدے کی شرائط پر عمل کے لیے قائل کرنے پر کام کرتے رہے۔ 2013 سے اب تک ہم نے  کم از کم 30 مواقع پر اعلیٰ ترین قیادت کی سطح پر روس سے اس کے عدم تعاون کا معاملہ اٹھایا اور اس بات پر زور دیا کہ اگر اس نے تعاون نہ کیا تو اس کے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔

روس کا ردعمل ایک سا رہا کہ اس نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ اس نے مزید معلومات کا مطالبہ کیا اور بے بنیاد جوابی الزامات عائد کیے۔ چار سال سے زیادہ عرصہ تک ماسکو نے یہ ظاہر کیا کہ اسے علم ہی نہیں کہ امریکہ کون سے میزائل اور تجربے کی بات کر رہا ہے۔ حتیٰ کہ جب ہم نے میزائل کی خصوصیات اور اس کے تجربات کی تاریخ سے متعلق جامع معلومات مہیا کیں تو تب بھی روس کا طرزعمل وہی تھا۔ نومبر 2017 میں ہم اس میزائل کا روسی نام سامنے لائے تو تبھی روس نے اس کی موجودگی کا اعتراف کیا۔ اب اس نے اپنی کہانی تبدیل کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ ایسا میزائل موجود ہے مگر ساتھ ہی یہ کہا کہ اس میزائل کی صلاحیت معاہدے کی شرائط سے مطابقت رکھتی ہے۔

‘آئی این ایف’ معاہدے کی ان خلاف ورزیوں کو عالمی منظرنامے پر روس کی لاقانونیت کے بڑے نمونے سے الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔ روس کے مذموم کاموں کی فہرست طویل ہے۔ جارجیا، یوکرائن، شام، انتخابات  میں مداخلت، سکریپال اور اب آبنائے کیرچ، یہ ایسی چند مثالیں ہیں۔

ان حقائق کی روشنی میں آج امریکہ یہ قرار دیتا ہے کہ اس نے روس کو معاہدے کی سنگین خلاف ورزی کا مرتکب پایا ہے اور اگر روس نے معاہدے کے حوالے سے مکمل اور قابل تصدیق انداز میں تعاون نہ کیا تو امریکہ 60 روز میں اس کے تدارک کے طور پر اپنی ذمہ داریاں معطل کر دے گا۔

ہم کئی وجوہات کی بنا پر یہ اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ پہلی یہ کہ روسی اقدامات سے امریکی اور ہمارے اتحادیوں اور شراکت داروں کی قومی سلامتی سنجیدہ طور سے کمزور ہوئی ہے۔ امریکہ کے لیے ایسے معاہدے میں رہنے کا کوئی جواز نہیں بنتا جو روس کی خلاف ورزیوں پر ہماری ردعمل کی صلاحیت کو محدود کر دیتا ہو۔ روس یورپ میں جوہری خطرے کو کم کرنے کے بجائے اس میں اضافہ کر رہا ہے جہاں ہزاروں امریکی فوجی موجود ہیں اور لاکھوں مزید امریکی شہری رہتے اور کام کرتے ہیں۔ یہ امریکی کروڑوں یورپیوں کے ساتھ رہتے اور کام کرتے ہیں جو روسی میزائل نظاموں کے خطرات کی زد میں آ چکے ہیں۔

دوسری بات یہ کہ جہاں روس اس معاہدے کی موت کا ذمہ دار ہے وہیں بہت سے دوسرے ممالک بشمول چین، شمالی کوریا اور ایران ‘آئی این ایف’ معاہدے میں فریق نہیں ہیں۔ یوں وہ اپنی مرضی سے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے تمام میزائل تیار کرنے کے لیے آزاد ہیں۔ اس طرح  امریکہ کے لیے اس اہم عسکری فائدے کو چین جیسی رجعت پسندانہ قوتوں کے لیے چھوڑ دینے کا کوئی جواز نہیں بنتا خاص  طور پر جب یہ ہتھیار امریکہ اور ایشیا میں اس کے اتحادیوں کو دھمکانے اور ان پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال ہو رہے ہوں۔

اگر آپ یہ پوچھیں کہ اس معاہدے میں چین سمیت مزید ممالک کو شامل کیوں نہیں کیا گیا تھا تو یاد رہے کہ ایسی کوشش تین مرتبہ ناکام ہو چکی ہے۔

تیسری وجہ یہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ میں جمود کی پالیسی نہیں چلے گی۔ جیسا کہ صدر واضح کر چکے ہیں اور میں نے بھی آج صبح کہا ہے امریکہ ایسے عالمی معاہدوں میں نہیں رہے گا جو ہماری سلامتی، ہمارے مفادات اور ہماری اقدار کو کمزور کرتے ہوں۔

میں آخر میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ امریکہ قانون کی پاسداری کر رہا ہے۔ جب ہم کوئی وعدے کرتے ہیں تو ان سے وابستہ رہتے ہیں۔ ہم ہر جگہ معاہدوں میں اپنے ساتھ دیگر فریقین سے بھی یہی توقع رکھتے ہیں اور جب ان کے الفاظ ناقابل اعتبار ٹھہرے تو ہم ان سے بازپرس کریں گے۔ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو پھر دوسرے ممالک ہمیں دھوکہ دیں گے، امریکیوں کو بہت بڑے خطرے کا سامنا ہو گا اور ہماری ساکھ ختم ہو جائے گی۔

آج صبح میں نے عالمی نظام میں امریکہ کے پائیدار قائدانہ کردار کی بات کی اور اس امر پر زور دیا کہ طاقتور امریکی قیادت کا مطلب یہ ہے کہ اپنی سلامتی اور اپنی قومی خودمختاری کے تحفظ کی ذمہ داری کو کبھی نہ چھوڑا جائے۔ میں نے واضح طور پر اپنی پوزیشن بیان کی۔ امریکہ بدستور پرامید ہے کہ روس کے ساتھ ہمارے تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں اور انہیں بہتر خطوط پر استوار کیا جا سکتا ہے۔

اس کے بعد ضروری تبدیلیاں لانے کی ذمہ داری روس پر عائد ہوتی ہے۔ صرف وہی اس معاہدے کو بچا سکتے ہیں۔ اگر روس اپنی خلاف ورزیوں کو تسلیم کرتے ہوئے مکمل اور قابل تصدیق طور سے اس معاہدے پر دوبارہ تعاون کی راہ اختیار کرتا ہے تو یقیناً ہم اسے خوش آمدید کہیں گے۔ تاہم صرف روس ہی یہ قدم اٹھا سکتا ہے۔

ہم امریکہ کے فیصلوں پر نیٹو کی بھرپور حمایت کو سراہتے ہیں۔ امریکہ اور ہمارے نیٹو اتحادی چوکس ہیں کہ ہتھیاروں پر کنٹرول یا کسی اور معاملے میں روس کا لاقانونی طرزعمل برداشت نہیں کیا جائے گا۔

شکریہ۔

مس نوئرٹ: ہمارے پاس کئی سوالات کا وقت ہے۔ پہلا سوال ڈوئشے ویلے سے ٹیری شلز کریں گی۔ ٹیری۔

سوال: ہیلو، شکریہ وزیر پومپئو۔ میں یہاں ہوں۔

وزیر پومپئو: میں نے آپ کو دیکھ لیا ہے۔

سوال: اس کا ٹھوس مطلب کیا ہے؟ اگلا قدم کیا ہو گا؟ کیا آپ صرف 60 دن ختم ہونے کے منتظر ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ یورپ روس کو معاہدے پر تعاون کی راہ پر لانے میں مددگار ہو سکتا ہے؟ اب یہ معاملہ کس طرف جائے گا؟ اور کیا چھ ماہ ان 60 روز میں شروع ہوں گے؟ اس حوالے سے کچھ مزید تفصیلات سے آگاہ کیجیے۔ شکریہ۔

وزیر پومپئو: جیسا کہ میں نے اپنے بیان میں کہا، ہم روس کی جانب سے سمت میں تبدیلی، ان کے پروگرام کے خاتمے اور معاہدے کی شرائط پر عمل کا خیرمقدم کریں گے۔ لہٰذا آئندہ 60 روز میں ان کے پاس ایسا کرنے کا موقع ہے۔ ہم اس کا خیرمقدم کریں گے۔

میں آپ کو بتاؤں گا کہ ہمارے یورپی شراکت دار فاضل وقت دیے جانے کو سراہیں گے۔ ہم ان سے مل کر کام کرتے ہیں۔ انہوں نے توسیعی دورانیے کی بات کی اور ہم اپنی کوششوں میں یہ امر یقینی بناتے ہیں کہ ہمارے مابین مکمل اتحاد ہو اور میں آپ کو بتاؤں گا کہ اس پر مکمل اتفاق ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اچھا نتیجہ ہے۔ یہاں سے 60 روز شروع کرنے کے لیے ششماہی دورانیے کا آغاز ہو گا۔ 60 یوم میں ہم کوئی تجربہ کریں گے اور نہ  ہی کسی طرح کے نظام کی تیاری اور تنصیب کا کام کوئی کام کیا جائے  گا۔ ہم یہ دیکھیں گے کہ 60 یوم کے اس عرصہ  میں کیا ہوتا ہے۔

ہماری روسیوں سے تفصیلی بات ہوئی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ وہ اپنی راہ تبدیل کریں گے مگر ابھی تک ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا جس سے ظاہر ہوتا ہو کہ وہ ایسا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

مس نوئرٹ: وال سٹریٹ جرنل سے جیسیکا ڈونیٹی۔

سوال: جی شکریہ۔ آئی این ایف سے دستبرداری یا اپنی رکنیت معطل کرنے کے علاوہ آپ روس کے ہاتھوں مشکلات کا شکار یوکرائن کی مدد کے لیے کون سے اقدامات اٹھا سکتے ہیں؟

وزیر پومپئو: آج اس بارے میں بہت سی بات چیت ہوئی۔ اس گفت و شنید کی بابت گفتگو میں دوسروں پر چھوڑوں گا۔ مگر ہم نے گروپ کی صورت میں یوکرائن کے وزیر خارجہ کے ساتھ جو وقت گزارا اس میں دو باتیں بے حد واضح ہو کر سامنے آئیں کہ سبھی میں اس پر مکمل اتفاق پایا جاتا ہے کہ روسی کارروائی لاقانونی اور ناقابل قبول تھی اور ایسی کارروائیوں کے خلاف روک بحال ہونی چاہیے۔ مزید براں یہ یورپ اور دنیا کا مجموعی عہد ہے کہ روس کو بنیادی عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی صلاحیت سے روکنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ روسی اپنی قید میں موجود ملاحوں کو فوری طور پر رہا کر دیں گے۔ ہم مجموعی طور پر ایسے جوابی اقدامات کا تعین کریں گے جن سے روس پر واضح ہو جائے گا کہ یہ طرزعمل ناقابل قبول ہے۔

مس نوئرٹ: ون امریکہ نیوز سے ایمرالڈ رابنسن۔

سوال: شکریہ جناب وزیر۔  آپ نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے حوالے سے معاہدوں پر عملدرآمد کی بات کی۔ مگر آپ نے عالمی اداروں سے متعلق بھی گفتگو کی اور اس پر امریکی نکتہ نظر پیش کیا۔ آپ نے خاص طور پر آئی ایم ایف، عالمی بینک اور اقوام متحدہ کا نام لیا۔ آپ کے خیال میں اس قدر بڑے اداروں میں اصلاحات کیسے لائی جا سکتی ہیں؟ کیا یہ نئی قیادت کا سوال ہے؟

وزیر پومپئو: ہر  ادارے کا مستقل تجزیہ ہونا چاہیے۔ ٹھیک۔ اس میں کثیرملکی اور بین الاقوامی سمیت سبھی ادارے شامل ہیں۔ ان میں ہر ادارے کا مکمل جائزہ لیا جانا ضروری ہے کہ آیا یہ اپنا مقصد پورا کر رہے ہیں یا نہیں؟ کیا یہ وہی کام کر رہے ہیں جس کے لیے انہیں تخلیق کیا گیا تھا؟ میں نے آج صبح یہی بات کہی تھی۔

صدر ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم خوشحالی لانے اور دنیا بھر میں امن کے مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے ان اداروں کا تجزیہ کریں تو اندازہ ہو گا کہ ان میں ہر ایک کسی نہ کسی حد تک اصلاح کا متقاضی ہے۔ ہم ان اداروں کے ایسے حصوں کو دیکھیں گے جو اچھا کام کر رہے ہیں اور میں نے متعدد اداروں کے ایسے کاموں کا تذکرہ کیا ہے جو ٹھیک چل رہے ہیں۔ ہم انہیں چلتا رہنے دیں گے۔ ہم انہیں مزید بہتر بنائیں گے۔ ہم ان کا حصہ بننا چاہیں گے۔

تاہم اگر ان سے امریکہ اور دنیا کو فائدہ نہیں پہنچ رہا تو ہم انہیں صرف کثیر ملکی ہونے کی بنا پر ہی اچھا نہیں سمجھیں گے۔ کوئی شے محض کثیرملکی ہونے کے ناطے ہی اچھی نہیں ہو جاتی۔ اچھی چیزیں وہی ہیں جو آگے بڑھتی رہتی ہیں اور جو ان کثیرملکی اداروں کے رکن ممالک کے کام کو آگے بڑھاتی ہیں۔ امریکہ یہ امر یقینی بنانے کے لیے قائدانہ کردار ادا کرنا چاہتا ہے کہ یہ تمام ادارے درست طور سے کام کرتے رہیں۔

مس نوئرٹ: آخری سوال، واشنگٹن ٹائمز سے گائے ٹیلر۔

سوال: شکریہ جناب وزیر۔ میں ایک لحظہ ‘آئی این ایف’ معاہدے پر واپس جانا چاہتا ہوں۔ آپ نے امریکی میزائل نظام کی تیاری اور تنصیب کے امکانات کا تذکرہ کیا جو بصورت دیگر اس معاہدے کی خلاف ورزی گردانے جاتے۔ اگر تزویراتی تناظر میں دیکھا جائے تو کیا یہ ایسی تنصیب ہے جس کے لیے ٹرمپ انتظامیہ واقعتاً اب تیاری میں مصروف ہے؟ مزید یہ کہ کیا آپ مغربی یورپ میں درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے جوہری ہتھیاروں کی تنصیب کے امکانات کی بابت  یورپی خدشات پر کوئی بات کریں گے۔ اس معاہدے کے تحت ایسی تنصیبات پر بہت پہلے پابندی عائد کی جا چکی ہے۔

وزیر پومپئو: آج میں اس حوالے سے دو باتیں کہہ سکتا ہوں۔ یورپی ممالک کو اطمینان ہونا چاہیے کہ درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے جوہری میزائلوں خصوصاً ایسے روسی ہتھیاروں کے خطرے سے یورپ اور پوری دنیا کے تحفظ اور استحکام کے ضمن میں ہم اپنے یورپی اتحادیوں اور دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر چلیں گے جنہیں ان میزائل نظاموں سے خطرات لاحق ہیں۔ لہٰذا یہ کسی کے لیے حیران کن بات نہیں ہو گی کہ امریکہ کیا سوچتا ہے اور ہم یہ مقصد کیسے حاصل کر رہے ہیں۔ ہم ان کی معاونت اور سلامتی کا ڈھانچہ ترتیب دینے کے لیے ان سے مدد   چاہیں گے۔ یہ ایسا ڈھانچہ ہو گا جس سے واقعتاً سبھی کو فائدہ پہنچے گا۔

میرا مطلب ہے، واضح رہے کہ اس معاہدے میں دو فریق ہیں جن میں سے ایک ہی اس کی پاسداری کر رہا ہے۔ ایسے میں یہ معاہدہ نہیں رہتا۔ اسے ہم اپنے اوپر خود عائد کردہ رکاوٹ کہہ سکتے ہیں۔ تزویراتی طور پر اس کے یوں قائم رہنے کا کوئی جواز نہیں بنتا اور ہم مستقبل کے لیے اپنی راہ نکالیں گے۔ میں مستقبل کی امریکی حکمت عملی سے متعلق زیادہ بات نہیں کرنا چاہتا کیونکہ ابھی بہت سے لوگوں نے بات کرنی ہے۔ میں ایسے نظام کی نوعیت اور کام کی بابت وضاحت محکمہ دفاع پر چھوڑتا ہوں جو بالاآخر اس معاہدے کی عدم تعمیل میں ممکنہ طور پر نصب کیا جا سکتا ہے۔

مس نوئرٹ: ٹھیک ہے۔ آپ سبھی کا بے حد شکریہ۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں