rss

امریکی وزیر خارجہ مائیکل آر پومپئو کی پریس کانفرنس

Facebooktwittergoogle_plusmail
English English, العربية العربية, हिन्दी हिन्दी, Русский Русский, Español Español, Français Français

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
12 دسمبر 2018
اقوام متحدہ
نیویارک

 
 

وزیر پومپئو: سبھی کو سہ پہر بخیر۔ ہماری سلامتی کونسل میں تعمیری بات چیت ہوئی جہاں امریکہ نے واضح کر دیا کہ ایرانی بلسٹک میزائل سرگرمی قابو سے باہر ہے اور وہ کئی انداز میں سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی حکم عدولی کر رہے ہیں۔

ایران نے بلسٹک میزائلوں کے تجربات اور پھیلاؤ کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور اب اس کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ ہم ایرانی بلسٹک میزائلوں پر کڑی پابندیوں کے ازسرنو نفاذ کی خاطر سلامتی کونسل کے تمام ارکان کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہیں۔ آج دنیا کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1929 کے تحت عائد ہونے والی پابندیاں ہی درکار ہیں۔ یہ خطرہ حقیقی اور ہمارے سروں پر موجود ہے۔ ہم پر واضح ہے کہ جوہری معاہدہ اس ضرررساں سرگرمی کو روکنے میں کامیاب نہیں ہو پایا۔ مشرق وسطیٰ میں شہریوں، مشرق وسطیٰ میں سفر کرنے والے امریکیوں اور یورپیوں کا تحفظ سلامتی کونسل کی ذمہ داری ہے جو اب ایرانی میزائلوں کے خطرے کی زد میں ہیں اور ہم سلامتی کونسل کے ہر رکن پر زور دیتے ہیں کہ وہ اس مقصد کے حصول میں مددگار اقدامات اٹھائے۔ اس کے ساتھ ہی مجھے چند سوالات لے کر خوشی ہو گی۔

مسٹر پیلاڈینو: آئیے سی بی ایس کی پامیلا فاک سے آغاز کرتے ہیں۔

سوال: شکریہ۔ جناب وزیر آپ کا بے حد شکریہ۔ میں سی بی ایس سے پامیلا فاک ہوں۔ کیا آپ کے خیال میں ایران یا یورپی یونین پر کوئی اضافی پابندیاں بھی عائد کی جائیں گی کیونکہ ایرانی صدر کے چیف آف سٹاف کے مطابق ‘ایس پی وی’ دو یا تین ہفتوں میں موثر ہونے کو ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ ایران بلسٹک میزائلوں کے پھیلاؤ سے متعلق پابندیوں سے بچ جائے گا؟

وزیر پومپئو: یقیناً۔ ہم پابندیوں سے متعلق اپنے فیصلوں سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے۔ ہمیں خود کو درپیش حقائق کا تجزیہ کرنا ہے۔ مگر ہم جائز اور ناجائز چیزوں کے حوالے سے بالکل واضح رہے ہیں خواہ یہ یورپیوں کی جانب سے ایس پی وی کی تیاری کا معاملہ ہی کیوں نہ ہو۔ ہم اس کا جائزہ لیں گے۔ پابندیوں میں انسانی معاملات کے حوالے سے چھوٹ دی گئی ہے جن کا تعلق خوراک اور ادویات سے ہے۔ اگر یہ سرگرمی اس کے مطابق ہوئی تو یقیناً ہم پابندیاں عائد نہیں کریں گے۔ مگر جہاں تک ہماری پابندیوں کی خلاف ورزی کا تعلق ہے تو ہم نے اس میں ملوث کسی بھی فریق کے خلاف انہیں زبردست انداز سے نافذ کرنے کا قصد کیا ہے۔

مسٹر پیلاڈینو: (ناقابل سماعت) بی بی سی

سوال: یہاں، یہاں، شکریہ وزیر، بی بی سی، سہ پہر بخیر۔

وزیر پومپئو: (مائیک کے بغیر)

سوال: جناب وزیر، آپ نے دیکھا ہے کہ آپ کے یورپی اتحادی ایرانی جوہری معاہدے کی حمایت جاری رکھنے کی بات کر رہے ہیں۔ حتیٰ کہ فرانسیسی سفیر کی جانب سے یہ بات بھی کی گئی ہے کہ دباؤ اور پابندیوں سے شاید صورتحال میں زیادہ تبدیلی نہیں آئے گی۔ اگر آپ یہاں اس پوزیشن میں ہیں جہاں ایک سال پہلے تھے اور قرارداد 2231 پر ایک اور اجلاس ہو رہا ہے اور آپ کی پابندیوں سے ایرانی حکومت کے طرزعمل میں تبدیلی نہیں آئی اور وہ تاحال معاہدے پر قائم ہے اور اس کی میزائل سرگرمی یا علاقائی سرگرمی (ناقابل سماعت) اس سے کم جہاں ہیں موجود ہیں، تو پھر آگے کیا ہو گا؟ میں نے یہ بات اس لیے پوچھی ہے کہ دو ہی ہفتے پہلے جناب ہک نے یہاں فوجی کارروائی کے آپشن کی بات کی تھی اور آپ کے بہت سے نقاد یہ کہہ رہے ہیں کہ بنیادی طور پر آپ عراق والے معاملے کو دہرا رہے ہیں اور یہ تمام باتیں جنگ کے لیے ہو رہی ہیں۔ اگر آپ کی پابندیاں کام نہیں کرتیں تو پھر اگلا قدم کیا ہو گا؟

وزیر پومپئو: پہلی چیز جو ناکام رہی وہ جوہری معاہدہ تھا۔ بلسٹک میزائلوں سے متعلق تمام تر سرگرمی جوہری معاہدے کی موجودگی میں ہوئی۔ اس میں صرف آخری دو تجربات شامل نہیں ہیں جن کا میں نے آج تذکرہ کیا ہے۔ لہٰذا اگر آپ کسی ایسے معاہدے کا سوچ رہے ہیں جو یورپ میں قاتلانہ کوششوں، یمن میں لبنانی حزب اللہ جیسی تنظیم کے قیام، عراق میں ایرانیوں کی ضرررساں سرگرمی اور اس میزائل سرگرمی کو روکنے میں ناکام رہا جس کے بارے میں ہم نے آج بات کی ہے اور اگر آپ بری سرگرمی کی بات کر رہے ہیں تو یہ سب کچھ جوہری معاہدے کے دوران ہوا۔

اب وقت ہے کہ موجودہ سلامتی کونسل ایرانی حکومت کی جانب سے میزائلوں کے پھیلاؤ سے متعلق اس حقیقی خطرے بارے سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔ جیسا کہ صدر نے کہا ہم درست فیصلہ یقینی بنانے کے لیے ہر قدم اٹھانے پر تیار ہیں۔ ہم اتحاد قائم کرنے کے لیے امریکی قیادت سے کام لیں گے اور آپ نے آج سنا ہو گا کہ سلامتی کونسل کے 11 ارکان نے ایرانی میزائلو ں کے پھیلاؤ سے متعلق خدشات کے اظہار میں امریکہ کا ساتھ دیا۔ ہم اپنے ردعمل ترتیب دینے کے لیے اتحاد کے ساتھ کام کریں گے۔ اس طرح ایران اور اس کی جانب سے بلسٹک میزائلوں اور ان کے نظام کے مسلسل پھیلاؤ کو روکنے میں مدد ملے گی کہ یہ میزائل جوہری وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

مسٹر پیلاڈینو: فاکس نیوز سے ایڈم شا، جی بات کیجیے۔

سوال: جناب وزیر، میں فاکس نیوز سے ایڈم شا ہوں۔ ہم نے آج یورپی ممالک کی جانب سے ایرانی جوہری معاہدے کے لیے بہت سی حمایت دیکھی۔ ہم نے ایران کی تخریبی سرگرمیوں پر بہت سی تنقید بھی سنی۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یورپی ممالک ایران کے بارے میں آپ کے انداز فکر کو تسلیم کرنا شروع کر رہے ہیں؟

وزیر پومپئو: یورپی ممالک کیا کہتے ہیں یہ انہی کو کہنے دیں تاہم یہ بات بالکل واضح ہے کہ ایرانی جوہری معاہدے پر ہمارا نکتہ نظر مختلف ہے اور جب میں اس حوالے سے اپنے یورپی ہم منصبوں سے بات کرتا ہوں تو ہمارے سامنے کوئی بات مبہم نہیں ہوتی۔ ہم اس بابت نہایت واضح سوچ کے حامل ہیں۔ وہ اسے نہایت ضروری خیال کرتے ہیں جبکہ میں اسے تباہی سمجھتا ہوں۔ صدر ٹرمپ بھی ایسا ہی سوچتے ہیں۔

اب مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے نزدیک اسلامی جمہوریہ ایران کا طرز عمل دنیا بھر میں لوگوں کی سلامتی سے مطابقت نہیں رکھتا اور ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ باہم مل کر ہم کیسے ایک ایسا اتحاد تشکیل دے سکتے ہیں جو اس صورتحال پر قابو پا سکے۔ ایسا کئی انداز میں ہو سکتا ہے۔ یہ جوہری معاہدے اور ان ممالک کی اس معاہدے میں شمولیت کے ہوتے ہوئے بھی ممکن ہے۔ تاہم یاد رہے کہ امریکی قیادت ناصرف جرمنی، فرانس، اور برطانیہ بلکہ بہت سےد یگر یورپی ممالک کے ساتھ مل کر کام کے لیے بھی تیار ہے جو ایران کی بابت ہم جیسے ہی خدشات رکھتے ہیں۔ ان میں مشرق وسطیٰ، ایشیا اور افریقہ بھر کے ممالک بھی شامل ہیں جو ہماری قیادت میں امریکہ کے ساتھ اکٹھے ہو رہے ہیں۔ پہلے قدم کے طور پر انہیں ایران کی جانب سے درپیش خطرے کا اندازہ کرنا ہے اور پھر ایسا ردعمل ترتیب دینا ہے جس سے بالاآخر اس خطرے کا تدارک ممکن ہو گا۔

مسٹر پیلاڈینو: آخری سوال، الجزیرہ، جیمز بیس۔

سوال: جناب وزیر، میں الجزیرہ سے جیمز بیس ہوں۔

وزیر پومپئو: جی جناب۔

سوال: آج آپ اس نشست پر موجود تھے جو عموماً سفیر ہیلی کے پاس ہوتی ہے۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں جمال خشوگی کی ہلاکت کے ذمہ داروں کی بابت گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”اس کی ذمہ دار سعودی حکومت ہے اور محمد بن سلیمان سعودی حکومت کے سربراہ ہیں۔ لہٰذا یہ سبھی اس کے ذمہ دار ہیں اور وہ بچ نہیں سکتے”۔ کیا آپ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ محمد بن سلیمان اس قتل کے ذمہ دار ہیں؟

وزیر پومپئو: میں سمجھتا ہوں کہ سفیر ہیلی نے جو بات کہی وہ صدر ٹرمپ اور میرے موقف سے پوری طرح مطابقت رکھتی ہے کہ ہم نے پہلے ہی ان لوگوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے جو جمال خشوگی کے بہیمانہ قتل میں ملوث ہیں۔ ہم اپنی تحقیقات جاری رکھیں گے اور دیکھیں گے کہ حقائق کس طرف جاتے ہیں اور یوں ذمہ داروں کا تعین کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔

اس کے ساتھ مجھے یہ بھی کہنا ہے کہ میں نے سفیر ہیلی کا یہ بیان نہیں سنا مگر مجھے یقین ہے کہ وہ میرے ان خیالات کی تائید کریں گی کہ خطے میں امریکی مفادات اہم ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ ہماری شراکت اہم ہے۔ اس کی بدولت صدر ٹرمپ کی حکومت کے ابتدائی دو سال میں امریکی سلامتی کو بہتر بنانے میں مدد ملی ہے اور ہم امریکہ کو محفوظ رکھنے کے لیے سعود ی عرب کے ساتھ مل کر کام کا ارادہ رکھتے ہیں۔

سوال: (ناقابل سماعت)

وزیر پومپئو: آپ سب کا شکریہ۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں