rss

سلامتی کونسل میں ایران سے متعلق اجلاس سے وزیر خارجہ مائیکل آر پومپئو کا خطاب

Facebooktwittergoogle_plusmail
हिन्दी हिन्दी, English English, العربية العربية, Français Français, Português Português, Русский Русский, Español Español

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
12 دسمبر 2012

اقوام متحدہ
نیویارک

 

وزیر پومپئو: بے حد شکریہ اور صبح بخیر۔ میری عزت افزائی پر شکریہ۔ میں اس کا قدردان ہوں۔

دو ہی روز پہلے ایرانی پاسداران انقلاب کے فضائی ڈویژن کے سربراہ عامر حاجی زادہ نے شیخی بگھاری کہ ایران 2000 کلومیٹر تک مار کرنے والے میزائلوں کی تیاری کی اہلیت رکھتا ہے۔ اس کے الفاظ کچھ یوں تھے کہ ”ہمارے پاس وسیع حدود تک کارگر میزائل تیار کرنے کی اہلیت ہے۔ تکنیکی اعتبار سے ہمیں کوئی رکاوٹیں درپیش نہیں ہیں”۔ اس نے یہ بھی کہا کہ ایران سے 800 کلومیٹر فاصلے تک یعنی ایرانی میزائلوں کے دائرہ اثر  میں دشمن کے بہت سے ٹھکانے ہیں۔ اس نے ڈینگ ماری کہ ایران سالانہ 40 سے 50 میزائل تجربات کرتا ہے۔

جیسا کہ میں مزید بات کروں گا، یہ واضح ہے کہ جوہری معاہدے کے بعد سے ایرانی حکومت کی بلسٹک میزائل سرگرمی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ایران نے دنیا کے ممالک کی جانب سے خیرسگالی کا ناجائز فائدہ اٹھایا اور طاقتور بلسٹک میزائل فورس تیار کرنے کی خاطر سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں کی حکم عدولی کا مرتکب ہوا۔ امریکہ کبھی اس کی اجازت نہیں دے گا۔

مشرق وسطیٰ میں امن اور خوشحالی کے خواہاں کسی اور ملک کو بھی ایسا ہونے نہیں دینا چاہیے۔

یہ کونسل 2006 سے ایران سے کہہ رہی ہے کہ وہ ہر طرح کے بلسٹک میزائل تجربات اور ان کا پھیلاؤ روک دے۔ 2010 سے 2015 تک ایران اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1929 کا ہدف تھا۔ یہ اب تک ایرانی بلسٹک میزائلوں کے مسئلے پر کڑی ترین قرارداد ہے۔

اس قرارداد میں سلامتی کونسل نے فیصلہ کیا کہ ”ایران کو جوہری ہتھیار لے جانے کی اہلیت والے بلسٹک میزائلوں سے متعلق کوئی سرگرمی نہیں کرنی چاہیے۔ اس میں بلسٹک میزائل ٹیکنالوجی پر مبنی تجربات بھی شامل ہیں۔ قرارداد میں کہا گیا کہ ایران کو ایسی سرگرمیوں  سے متعلقہ ٹیکنالوجی یا تکنیکی معاونت کی منتقلی روکنے کے لیے دنیا کے ممالک کو ضروری اقدامات اٹھانا چاہیئں”۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد (یواین ایس سی آر) 1929 کی اس شرط نے ایران کی بلسٹک میزائل سرگرمی کے خلاف ایک قانونی امتناع نافذ کیا۔ ان الفاظ کے پیچھے قانون کی طاقت تھی۔

اس کے باوجود ایران نے 2010 اور 2015 کے درمیانی عرصہ میں اس قرارداد کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلسٹک میزائلوں کے متعدد تجربات کیے۔

ایسے میں ہم نے جواباً کیا قدم اٹھایا؟ کیا ہم نے عالمی قانون کی مسلسل خلاف ورزیوں پر ایران کے احتساب میں کوئی اضافہ کیا؟ درحقیقت اس سے بالکل برعکس ہوا۔ خطرے میں اضافے کے باوجود ایران کے احتساب میں کمی واقع ہوئی۔

ایرانی حکومت کی جوہری مذاکرات میں شمولیت اور اوبامہ انتظامیہ کے اصرار پر سلامتی کونسل نے قرارداد 1929 کو قرارداد 2231 سے تبدیل کر دیا۔ قرارداد 2231 ایران پر ‘زور دیتی’ ہے کہ وہ جوہری ہتھیار لے جانے کے قابل کسی بھی طرح کی بلسٹک میزائل ٹیکنالوجی سے متعلق کوئی سرگرمی نہ کرے۔ قرارداد کی زبان میں تبدیلی کے باوجود دنیا کے خدشات بدستور باقی تھے۔

جب ہم مجموعی طور سے ایران پر ‘زور دیتے’ ہیں کہ وہ اپنی بلسٹک میزائل سرگرمی ختم کر دے تو ہمیں اس کے فوری خاتمے پر متفق ہونا چاہیے۔ تاہم ایران نے ہمیشہ کی طرح دنیا کے مطالبے کی نافرمانی کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم مسلسل بارہویں برس یہاں ایران کے بلسٹک میزائلوں سے متعلق بات چیت کر رہے ہیں اور اس بارے میں  غیرمعمولی حد تک پریشان کن حالات سے نمٹنے کے لیے کوشاں ہیں۔

جوہری معاہدے کے بعد ایران کی میزائل سرگرمی بشمول اس کی جانب سے میزائل داغنے اور ان کے تجربات کی رفتار میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔ درحقیقت ایران کے میزائل تجربات اور ان کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ آج ایران کے پاس مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑی بلسٹک میزائل فورس ہے۔ 10 سے زیادہ بلسٹک میزائل نظام اس کے ذخیرے میں یا تیاری کے مرحلے میں ہیں۔ اس کے پاس سیکڑوں میزائل خطے میں ہمارے شراکت داروں کے لیے خطرہ ہیں۔

حالیہ عرصے میں پیش آنے والے واقعات دیکھیے: 2016 میں جوہری معاہدے کے ہوتے ہوئے ایران مختصر فاصلے تک مار کرنے والے دو نئے بلسٹک میزائل سامنے لایا جن کے بارے میں اس کا دعویٰ تھا کہ وہ 500 سے 700 کلومیٹر کے درمیان ہدف کو نشانہ بنانے کے اہل ہیں۔ جنوری 2017 میں جوہری معاہدے کے ہوتے ہوئے ایران نے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والا میزائل داغا جو 500 کلوگرام سے زیادہ وزنی اسلحہ لے جانے کی صلاحیت کا حامل تھا اور اسے جوہری ہتھیاروں کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ شبہ ہے کہ یہ میزائل بھی 2000 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ایتھنز، صوفیہ، بخارسٹ اور دیگر بڑے یورپی شہر اس کی زد میں آتے ہیں۔ اگر ایرانی پاسداران انقلاب کے فضائی ڈویژن کا کمانڈر درست کہتا ہے اور ایران کے پاس 2000 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بنانے کی صلاحیت ہے تو پھر دیگر یورپی دارالحکومت بھی خطرے کی زد میں ہیں۔

جولائی 2017 میں جب امریکہ جوہری معاہدے میں شامل تھا تو ایران نے سیمرغ خلائی گاڑی لانچ کی تھی ۔ امریکہ، فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے اندازہ لگایا کہ یہ اقدام قرارداد 2231 سے مطابقت نہیں رکھتا کیونکہ خلائی جہاز کے لیے بھی وہی ٹیکنالوجی استعمال ہوتی ہے جو بین البراعظمی بلسٹک میزائلوں میں کام آتی ہے۔

ایران نے بلسٹک میزائل نظام برآمد بھی کیے ہیں اور تازہ ترین یمن کو دیا گیا ہے۔ ہمارے پاس ثبوت موجود ہے کہ ایران حوثیوں کو میزائل، تربیت اور معاونت فراہم کر رہا ہے اور ایرانی حوثی میزائل فورس پوری طرح کام کر رہی ہے۔ اس سے معصوم شہریوں بشمول ریاض، ابوظہبی اور دبئی میں مقیم امریکیوں اور ان تمام قومیتوں کے لوگوں کو خطرہ ہے جو سویلین طیاروں کے ذریعے اس خطے میں سفر کرتے ہیں۔

ایران عراق میں شیعہ جنگجوؤں کو بھی بلسٹک میزائل نظام دے رہا ہے۔

گزشتہ دو ہفتوں کے واقعات ہی دیکھ لیجیے۔ ایرانی حکومت نے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بلسٹک میزائل کا تجربہ کیا جو متعدد وارہیڈ لے جانے کا اہل ہے۔

ہمارا خیرسگالی اشارہ لاحاصل رہا اور یہ ایرانی حکومت کی لاپرواہانہ میزائل سرگرمی اور اس کے تباہ کن طرزعمل کو درست نہ کر سکا۔ کوئی ملک اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ ایران اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی کھلی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے۔

ان خدشات کے اظہار میں امریکہ اکیلا نہیں ہے۔ میں فرانس، جرمنی اور برطانیہ کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جنہوں نے سیکرٹریٹ کے سامنے ایرانی میزائلوں کے پھیلاؤ پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔

میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے شراکت داروں کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جو ایران کے دیے میزائلوں، راکٹوں اور یمن میں حوثی فورسز کی جانب سے اپنے ممالک میں داغے گئے ‘یو اے وی’ کی مادی باقیات اکٹھی کرنے میں اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کے ساتھ مصروف عمل ہیں۔

ہمارے اسرائیلی اتحادی ایران کی جانب سے بلسٹک میزائلوں کی تیاری کا سلسلہ جاری ہونے سے متعلق مزید شہادتیں سلامتی کونسل میں لائے ہیں۔ یہ میزائل جوہری ہتھیار لے جانے کے اہل ہیں۔ اسرائیل نے سیکرٹریٹ کو ایران کی جانب سے مشرق وسطیٰ بھر میں اپنے آلہ کاروں کو اسلحے کی منتقلی سے متعلق شہادت دی ہے۔ اس سے ہماری باتوں کی تصدیق ہو جاتی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ ہم ایران کی اس نقصان دہ سرگرمی کی روک تھام کے لیے کون سے اقدامات اٹھا سکتے ہیں؟ اگر ایران بلسٹک میزائلوں کا ڈھیر لگانا جاری رکھتا ہے تو ہمارے لوگوں کی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی۔ اگر ہم نے ایرانی سرگرمیوں کے خلاف روک بحال نہ کی تو خطے میں تنازع کے خطرات میں اضافہ ہو جائے گا۔ ایسے میں نقصان دہ سرگرمیوں میں ملوث دیگر تمام کرداروں کو یہ پیغام جائے گا کہ اگر ہم نے کچھ نہ کیا تو وہ بھی سلامتی کونسل کی حکم عدولی کر سکتے ہیں۔

جیسا کہ آپ سبھی جانتے ہیں اقوام متحدہ کا چارٹر سلامتی کونسل پر ”عالمگیر امن و سلامتی قائم رکھنے کی بنیادی ذمہ داری” عائد کرتا ہے۔ ہم سب اس ذمہ داری کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ امریکہ ایران کے خلاف قرارداد 1929 میں بیان کردہ بلسٹک میزائلوں سے متعلق پابندیوں کے ازسرنو نفاذ کے لیے کونسل کے تمام ارکان کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہے۔

ایران کی بلسٹک میزائلوں سے متعلق سرگرمیوں سے نمٹنے کے علاوہ کونسل کو 2020 میں ایران پر عائد اسلحے کی پابندی بھی نہیں اٹھانی چاہیے۔ اس ملک نے سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں پر عدم تعاون کا مظاہرہ کیا ہے جن میں القاعدہ، افغانستان، لبنان، یمن اور صومالیہ سے متعلق قراردادیں بھی شامل ہیں۔ اس وقت بھی ایران القاعدہ کو پناہ دے رہا ہے، افغانستان میں طالبان جنگجوؤں کی مدد کر رہا ہے، لبنان میں دہشت گردوں کو مسلح کرنے میں مصروف ہے ، صومالیہ میں کوئلے کی غیرقانونی تجارت میں سہولت دے کر الشباب کو فائدہ پہنچا رہا ہے اور شیعہ ملیشیاؤں کو تربیت دینے اور مسلح کرنے میں مصروف ہے۔

ایران شام اور یمن میں بھی جنگ کے شعلے بھڑکا رہا ہے۔ کونسل کو ان مضرت رساں سرگرمیوں سے بھی نمٹنا چاہیے۔ یہ ہتھیاروں پر پابندی اٹھا کر ایران کو انعام نہیں دے  سکتی۔

ہم کونسل سے یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ ایران کی جانب سے اسلحے پر پابندیاں ناکام بنانے کے لیے جاری مسلسل کوششوں کو روکنے کے لیے بندرگاہوں  پر اور کھلے پانیوں میں معائنے اور ممانعت کے اقدامات اٹھائے۔

بعض لوگوں نے ایرانی جوہری معاہدے سے دستبرداری کے ہمارے فیصلے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ہماری جانب سے اس کا جواب یہ ہے کہ آج یہاں ہونے والی بات چیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم نے ایسا کیوں کیا۔ اس معاہدے سے قبل مغربی رہنماؤں  نے بڑے بڑے دعوے کیے کہ کیسے یہ جوہری معاہدہ ایرانی حکومت کی جدیدیت کے نئے دور کی جانب رہنمائی کرے گا۔

درحقیقت امریکہ کے اپنے صدر کا کچھ یوں کہنا تھا کہ ”مثالی طور پر ہم ایسے حالات دیکھیں گے جن میں ایران پابندیوں میں کمی کو دیکھتے ہوئے اپنی معیشت، لوگوں کی تربیت، عالمی برادری میں دوبارہ شمولیت نیز  خطے میں اپنی اشتعال انگیز سرگرمیوں میں کمی لانے پر توجہ دے گا” مگر اصل میں ہم نے کیا دیکھا ہے؟

بلاشبہ اس معاہدے کی آڑ میں ایران نے ان خطرات پر اپنے احتساب سے جان بچائی ہے جو دنیا کو اس کی جانب سے درپیش ہیں۔

ایرانی حکومت پہلے کی طرح تباہ کن انقلابی اہداف کے لیے سرگرم ہے جو گزشتہ 39 برس میں اس کا مقصد رہے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ جوہری معاہدے کی بدولت اب اس کے پاس ان اہداف کی تکمیل کے لیے پہلے سے زیادہ رقم موجود ہے۔

میرے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ آج میں یہاں امریکہ کے وزیر خارجہ کی حیثیت سے موجود ہوں۔ صدر ٹرمپ کی قیادت میں اپنے اور اپنے اتحادیوں کے عوام  کی سلامتی ہماری پہلی ترجیح ہے۔

تاہم امریکی قیادت کی عمدہ ترین روایات کے تحت امریکہ امن اور اپنے عوام کی سلامتی نیز مستحکم عالمی نظام کے لیے خودمختار ممالک کو ان کی ذمہ داری کے حوالے سے متحد کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

امریکہ ذمہ دار ممالک کو متحد کرنے کے لیے انتھک کاوشیں کرے گا جو ایرانی حکومت کی لاپرواہانہ بلسٹک میزائل سرگرمی کی روک تھام میں سنجیدہ ہوں۔

اس میں ایران کی جانب سے اپنے ہی لوگوں کے ساتھ کیا جانے والا سلوک بھی شامل ہے۔ یہ ضرر رساں سرگرمی ایسی ہے کہ امریکہ ایرانی عوام کے شانہ بشانہ کھڑا ہو گا۔ وہ قریباً 40 برس سے اس حکومت کے سب سے بڑے متاثرین ہیں اور انہیں امریکہ کی غیرمتزلزل حمایت حاصل ہے۔

آخر میں مجھے یہ کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے مئی میں ان 12 معاملات کی اچھی طرح وضاحت کر دی تھی جن کے بارے میں ہم ایران سے تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اگر ایران بنیادی تزویراتی تبدیلی لاتا ہے اور ان مطالبات پر توجہ دیتا ہے تو ہم اس پر دباؤ ڈالنے کی مہم میں کمی لانے اور عالمگیر اقتصادی نظام میں ایرانی معیشت  کی جدیدیت اور ازسرنو استحکام میں مدد دینے کو تیار ہیں۔

مگر ہم یہ آسانی اسی صورت مہیا کریں گے جب ہمیں ایران کی پالیسیوں میں واضح، عملی اور پائیدار تبدیلیاں دکھائی دیں گی۔

شکریہ۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں