rss

”اچھائی کی قوت: مشرق وسطیٰ میں امریکہ کا تازہ دم کردار” وزیر خارجہ مائیکل آر پومپئو کا خطاب

Facebooktwittergoogle_plusmail
English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Русский Русский, Español Español

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
10 جنوری 2019
امریکن یونیورسٹی قاہرہ، مصر

 

وزیر خارجہ پومپئو: شکریہ فرینک۔ فرینک رچیارڈن کا شکریہ۔ آپ یہاں جو فرائض انجام دے رہے ہیں ان کے علاوہ امریکہ کے لیے آپ کی خدمات کا بھی شکریہ۔

یہ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے وزیر خارجہ کی حیثیت سے یہاں مصر اور مشرق وسطیٰ کے متواتر دوروں کا موقع ملتا رہا ہے۔ میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے اپنے سابقہ کردار میں بھی یہاں آتا رہا ہوں اور کانگریس کے رکن کی حیثیت سے بھی یہاں آ چکا ہوں۔میں  جب بھی یہاں آیا تو مجھے کچھ نیا اور حیرت انگیز تجربہ ہوا۔

اناجیلی مسیحی ہونے کے ناطے یہ دورہ میرے لیے خاص معانی رکھتا ہے کہ میں قبطی چرچ کی جانب سے کرسمس کا جشن منائے جانے سے فوری بعد یہاں آیا ہوں۔ یہ ایک اہم وقت ہے۔ مسیحی، مسلمان اور یہودیوں سمیت ہم سب ابراہیم کی اولاد ہیں۔ میرے دفتر میں میز پر انجیل کھلی رہتی ہے جو مجھے خدا، اس کے الفاظ اور سچائی یاد دلاتی رہتی ہے۔

یہ سچائی ہے جس کے بارے میں آج میں آپ سے بات کے لیے یہاں موجود ہوں۔ یہ وہ سچائی ہے جس کے بارے میں دنیا کے اس حصے میں عام طور پر بات نہیں ہوتی، مگر چونکہ میں اپنی تربیت کے اعتبار سے فوجی ہوں اس لیے آج میں نہایت صاف اور سیدھی بات کروں گا کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں اچھائی کی قوت ہے۔

ہمیں یہ سچائی تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو پھر حال اور مستقبل میں برے انتخاب کریں گے۔ ہم آج جو انتخاب کریں گے ان کے اثرات ہمارے ملکوں، کروڑوں لوگوں، ہماری سلامتی، ہماری معاشی خوشحالی، ہماری انفرادی آزادیوں اور ہمارے بچوں پر پڑیں گے۔

اس موضوع پر بات کے لیے خوبصورت شہر قاہرہ کی امریکن یونیورسٹی سے زیادہ موزوں جگہ اور کوئی نہیں ہو سکتی جہاں میں آج موجود ہوں۔ جیسا کہ فرینک نے کہا ہے اس برس اس ادارے کے قیام کو 100 برس مکمل ہو رہے ہیں اور ‘اے یو سی’ کا مقام یونیورسٹی سے کہیں بڑھ کر ہے۔ یہ مصر کے ساتھ امریکی دوستی کی ایک اہم علامت ہے جو ہمارے لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑے ہوئے ہے۔ ہم نے باہم مل کر اس قدیم تہذیب کے بیچ سیکھنے کی ایک جدید جگہ تخلیق کی ہے۔ اس تہذیب کے پاس فنکاروں، شعرا اور داناؤں کی اپنی زرخیز تاریخ ہے۔

مصر ہمیشہ جدوجہد کی سرزمین رہی ہے۔ ایسا وقت بھی آیا جب آپ اور مشرق وسطیٰ میں آپ کے بھائی بندوں کی خواہشات کا حصول ناممکن دکھائی دیتا تھا۔ تیونس سے تہران تک ان خطوں نے افراتفری کا مشاہدہ کیا جب پرانے نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھے اور نئے ابھرنے کی جدوجہد کر رہے تھے۔ یہ سب کچھ یہاں بھی ہوا۔

اس اہم لمحے میں آپ کا دیرینہ دوست امریکہ بے حد غیرحاضر تھا۔ کیوں؟ کیونکہ ہمارے رہنماؤں نے ہماری تاریخ اور آپ کی تاریخی تحریک کو سمجھنے میں بری طرح غلطی کی۔ 2009 میں اس شہر سے شروع ہونے والی ان بنیادی نوعیت کی غلط فہمیوں نے مصر اور خطے بھر میں کروڑوں لوگوں کی زندگیوں پر منفی اثرات مرتب کیے۔

یاد رہے: یہ یہاں اس شہر میں ہوا جب ایک اور امریکی آپ کے سامنے کھڑا تھا۔

اس نے آپ کو بتایا کہ بنیاد پرست اسلامی دہشت گردی کسی نظریے سے نہیں پھوٹی۔

اس نے آپ کو بتایا کہ نائن الیون نے میرے ملک کو خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں اپنے آدرش ترک کرنے پر مجبور کیا۔

اس نے آپ کو بتایا کہ امریکہ اور مسلم دنیا کو ”نئی شروعات” درکار ہے۔

ان غلط فیصلوں کے ہولناک نتائج برآمد ہوئے۔

غلط طور سے خود کو مشرق وسطیٰ کے لیے تکلیف دہ قوت کے طور پر دیکھنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب وقت آیا اور ہمارے شراکت داروں کو ضرورت پڑی تو ہم اپنی بات منوانے میں ڈرپوک نکلے۔

ہم نے اسلامی بنیاد پرستی کی ہٹ دھرمی اور خباثت کا کلی طور پر غلط اندازہ لگایا جو کہ ایسے عقیدے کی بدکارانہ شکل ہے جس کا مقصد عبادت یا حکومت کی ہر دوسری صورت کا خاتمہ کرنا ہے۔ امریکہ نے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا تو داعش بغداد کے مضافات تک پہنچ گئی۔ اس نے لاکھوں معصوموں کو زیادتی کا نشانہ بنایا، لوٹ مار کی اور لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا۔ انہوں نے شام اور عراق میں خلافت قائم کی اور تمام براعظموں میں دہشت گرد حملوں کے ذریعے لوگوں کو ہلاک کیا۔

امریکہ کی ہچکچاہٹ، اپنا اثرورسوخ استعمال کرنے میں ہماری ہچکچاہٹ نے ہمیں اس وقت بھی خاموش رکھا جب سبز انقلاب کے موقع پر ایرانی عوام تہران کے ملاؤں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ ملاؤں اور ان کے پٹھوؤں نے آزادی پسند ایرانیوں کو قتل کیا، جیلوں میں ڈالا اور دہشت زدہ کیا جبکہ اپنے ہی جبر کے نتیجے میں جنم لینے والی اس بے چینی کا غلط طور سے امریکہ کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ امریکہ کی خاموشی سے شہ پا کر ایرانی حکومت نے اپنا اثرورسوخ یمن سے عراق، شام اور اسے بھی آگے لبنان تک پھیلا دیا۔

جب مکمل طور سے ایرانی حکومت کے ماتحت حزب اللہ نے قریباً 130000 راکٹوں اور میزائلوں پر مشتمل اسلحے کا بھاری ذخیرہ جمع کر لیا تو پرامید سوچ بارے امریکی رحجان نے ہمیں دیگر طریقوں پر غور کی راہ دکھائی۔ حزب اللہ نے یہ ہتھیار لبنان کے شہروں اور دیہات میں جمع کیے اور نشانے پر رکھے تھے جو کہ عالمی قانون کی کھلی خلاف ورزی تھی۔ اس اسلحے کا رخ ہمارے اتحادی اسرائیل کی جانب ہے۔

جب بشارالاسد نے عام شامیوں کو دہشت کا نشانہ بنایا اور صدام حسین کی جانب سے کردوں پر گیس سے حملوں کی طرح عام شہریوں پر سرن گیس کے بیرل بیم داغے تو ہم نے اس کے اقدامات کی مذمت کی۔ تاہم طاقت کے استعمال بارے اپنی ہچکچاہٹ کے سبب ہم نے کوئی عملی قدم نہ اٹھایا۔

صرف مسلمانوں کو مخاطب کرنے کے ہمارے شوق نے مشرق وسطیٰ کے زرخیز تنوع کو نظرانداز کیا اور پرانے رشتوں کو توڑ ڈالا۔ اس سے خودمختار ریاست کا تصور کمزور ہوا جو کہ عالمگیر استحکام کا بنیادی ستون ہے۔ ہر قیمت پر امن کی ہماری خواہش نے ہمیں ایران کے ساتھ معاہدے پر مجبور کیا جو ہمارا مشترکہ دشمن ہے۔

چنانچہ ہم نے ان تمام باتوں سے کیا سیکھا؟ ہم نے یہ سیکھا کہ جب امریکہ پسپا ہوتا ہے تو نتیجتاً عموماً ابتری پھیلتی ہے۔ جب ہم اپنے دوستوں کو نظرانداز کرتے ہیں تو آزردگی جنم لیتی ہے۔ جب ہم دشمنوں کے ساتھ شراکت کرتے ہیں تو وہ آگے بڑھ آتے ہیں۔

اچھی خبر۔ اچھی خبر یہ ہے کہ: امریکہ کی خود پر طاری کردہ شرمندگی کا دور لد چکا ہے اور اس کے ساتھ ہی ایسی پالیسیاں بھی ختم ہو چکی ہیں جن کی بدولت اس قدر غیر ضروری مصائب نے جنم لیا۔ اب حقیقی طور سے نئی شروعات کا آغاز ہے۔

محض 24 مہینوں میں، دراصل دو سال سے بھی کم وقت میں امریکہ نے صدر ٹرمپ کے زیرقیادت اس خطے میں اچھائی کی قوت کے طور پر اپنا روایتی کردار ازسرنو منوا لیا ہے۔ ہم نے اپنی غلطیوں سے سیکھا ہے۔ ہم دوبارہ اپنی بات کہنے کے قابل ہو گئے ہیں۔ ہم نے اپنے تعلقات کو ازسرنو استوار کیا ہے۔ ہم نے اپنے دشمنوں کی جھوٹی راگنی مسترد کر دی ہے۔

دیکھیے کہ ہم نے کیا پایا۔ دیکھیے کہ ہم نے باہم مل کر کون سی کامیابی حاصل کی۔ نئی قیادت میں امریکہ نے اسلامی بنیاد پرستی کی بدنما حقیقت کا مقابلہ کیا۔ صدر ٹرمپ نے  بیرون ملک اپنے سب سے پہلے دورے میں مسلم اکثریتی ممالک سے کہا کہ وہ ”انتہاپسندی پر فتح پانے اور دہشت گردی کی قوتوں کو مغلوب کرنے کے عظیم تاریخی امتحان کا سامنا کریں۔”

صدر سیسی ہمارے ساتھ شامل ہوئے۔ وہ اس گمراہ کن نظریے کے ابطال میں ہمارے ساتھ شامل ہوئے جس نے بہت سے لوگوں کو موت اور مصائب کا نشانہ بنایا۔ اس ہمت کے لیے میں صدر سیسی کا شکرگزار ہوں۔ (تالیاں)

جیسا کہ میں نے برسلز میں اپنی حالیہ تقریر میں کہا تھا ہمارے الفاظ دوبارہ کسی مفہوم کے حامل ہو گئے ہیں اور انہیں ایسا  ہی ہونا چاہیے۔ ویسٹ پوائنٹ نے مجھے دیانت داری کا ایک بنیادی ضابطہ سکھایا۔ اگر ہم امریکی نیک نامی پیش نظر رکھتے ہوئے کوئی قدم اٹھائیں تو ہمارے اتحادی ہم پر انحصار کریں گے۔

جب بشارالاسد نے اپنے لوگوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کیے تو ٹرمپ انتظامیہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی نہیں رہی۔ درحقیقت صدر ٹرمپ نے ایک مرتبہ نہیں بلکہ دو بار اتحادیوں کی حمایت سے امریکی فوجی قہر کا مظاہرہ کیا۔ اگرچہ ہم امید کرتے ہیں کہ انہیں دوبارہ ایسا کرنا نہیں پڑے گا تاہم ضرورت ہوئی تو وہ ایک مرتبہ پھر یہی کچھ کرنے کو تیار ہیں۔

امریکہ کی جانب سے طاقت کے استعمال پر مضطرب ہونے والے یاد رکھیں کہ: امریکہ غاصب طاقت کے بجائے ہمیشہ آزادی کی قوت رہا ہے اور رہے گا۔ ہم نے کبھی مشرق وسطیٰ میں تسلط پانے کا خواب نہیں دیکھا۔ کیا آپ ایران کے بارے میں یہی کچھ کہہ سکتے ہیں؟

دوسری جنگ عظیم میں امریکی فوج نے شمالی امریکہ کو نازی قبضے سے آزاد رہنے میں مدد دی۔ پچاس برس بعد ہم نے کویت کو صدام حسین سے آزاد کرانے کے لیے ایک اتحاد بنایا۔ کیا روسی اور چینی بھی اسی طرح آپ کو بچانے آتے جس طرح ہم آئے؟

جب مقصد پورا ہو گیا اور کام مکمل ہو گیا تو امریکہ واپس چلا گیا۔ آج عراق میں حکومت کی دعوت پر تعینات ہمارے فوجی دستوں کی تعداد قریباً 5000 ہے جو کبھی 166000 تھی۔ کبھی سعودی عرب میں لاکھوں امریکی تعینات تھے۔ اب یہ تعداد بے حد معمولی ہے۔ جب ہم بڑے اڈے قائم کرتے ہیں جیسا کہ بحرین، کویت، قطر، ترکی اور امارات میں ہیں تو ایسا میزبان ملک کی دعوت پر کیا جاتا ہے۔

اسی جذبے کے تحت گزشتہ برس ہی امریکہ نے داعش کی خلافت کے خاتمے اور عراقیوں، شامیوں، عربوں، کردوں، مسلمانوں، عیسائیوں، مردوخواتین اور بچوں کو آزاد کرانے کے لیے اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کا اتحاد قائم کیا۔ صدر ٹرمپ نے داعش پر پہلے سے کہیں زیادہ فوری اور کاری ضرب لگانے کے لیے میدان جنگ میں اپنے کمانڈروں کو بااختیار بنایا۔ کبھی داعش کے زیرتسلط 99 فیصد علاقہ اب آزاد کرایا جا چکا ہے۔ لاکھوں عراقیوں اور شامیوں کی زندگی معمول پر آ رہی ہے۔ عالمگیر اتحاد میں شامل تمام ممالک کو اس کامیابی پر بے حد فخر ہونا چاہیے۔ ہم نے باہم مل کر ہزاروں زندگیاں بچائیں۔

داعش سے نمٹنے کی کوشش میں ہمارے اتحادیوں اور شراکت داروں نے بے حد تعاون کیا۔ فرانس اور برطانیہ نے شام میں ہمارے حملوں میں ساتھ دیا اور دنیا بھر میں انسداد دہشت گردی کی کوشش میں ہماری مدد کی۔ اردن اور ترکی نے تشدد سے جان بچا کر آنے والے لاکھوں شامیوں کو پناہ دی۔ سعودی عرب اور خلیج کے ممالک نے استحکامی کوششوں میں فیاضانہ حصہ ڈالا۔ ہم اس مدد پر ان سب کے مشکور ہیں اور زور دیتے ہیں کہ وہ یہ سلسلہ جاری رکھیں۔

امریکہ نے آزاد کرائے گئے علاقوں کی بحالی میں مدد بھی دی جو کہ داعش کی خلافت کو دوبارہ ابھرنے سے روکنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ ہم نے 2014 سے اب تک عراق کو انسانی امداد کی مد میں 2.5 ارب ڈالر مہیا کیے ہیں اور ہمارے چرچ نیز غیرمنافع بخش ادارے بھی وہاں روزانہ کی بنیاد پر بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ گزشتہ برس کویت میں ہونے والی تعمیرنو کانفرنس میں ہم اور ہمارے اتحادیوں نے عراق کی تعمیر نو کے لیے امداد اور مالیات کی مد میں قریباً 30 ارب ڈالر کا انتظام کیا۔

ان لوگوں کے بارے میں سوچیے جن کی ہم مدد کر رہے ہیں۔ گزشتہ برس میں نے مذہبی آزادی کے فروغ کے لیے واشنگٹن میں پہلے وزارتی اجلاس کی میزبانی کی۔ اس کانفرنس میں ہمارے خصوصی سفیر نے اپنے عراق کے دورے کی بابت بتایا۔ وہاں ان کی ملاقات ایک یزیدی خاتون سے ہوئی  تھی جسے غلام بنا کر فروخت کیا گیا اور اس کے بچوں کو اس سے چھین لیا گیا تھا۔ داعش کے تسلط میں زندگی واقعتاً جہنم تھی۔ اسے زمین پر زندہ جہنم کہا جا سکتا ہے۔ آج ہمارے اتحاد کی طاقت اور عزم کی بدولت یہ علاقے آزاد کرائے جا چکے ہیں۔

مجھے نوبیل انعام یافتہ ادیب آنجہانی نجیب محفوظ کا ایک فقرہ یاد آیا ہے کہ ”اچھائی روزانہ فتح یاب ہو رہی ہے۔ ممکن ہے بدی ہمارے تصور سے کہیں زیادہ کمزور ہو۔”

آئیے اب ایران کی جانب آتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے ایرانی حکومت سے لاحق خطرات پر ہماری قصداً بے بصری کا خاتمہ کیا اور ناکام جوہری معاہدے سے دستبرداری اختیار کی جس میں جھوٹے وعدے کیے گئے تھے۔ امریکہ نے ایران پر پابندیوں کا دوبارہ نفاذ کیا جو کبھی نہیں اٹھائی جانا چاہیے تھیں۔ ہم نے ان مالی وسائل کے خاتمے کے لیے ایران پر دباؤ ڈالنے کی نئی مہم شروع کی جنہیں وہ دنیا بھر میں دہشت اور تباہی پھیلانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ ہم نے آزادی اور احتساب کا مطالبہ کرنے والے ایرانی عوام کا ساتھ دیا۔

اہم بات یہ کہ ہم نے ایرانی حکومت کے انقلابی ایجنڈے سے نمٹنے کی ضرورت پر اپنے اتحادیوں کے ساتھ مشترکہ فہم کو ترقی دی۔ بڑی تعداد میں ممالک اب یہ بات سمجھتے ہیں کہ ہمیں ایرانی ملاؤں کی نازبرداری کرنے کے بجائے ان کا مقابلہ  کرنا ہے۔ دنیا بھر کے ممالک ایرانی حکومت کے مقابل جس طرح ہمارے ساتھ جمع ہو رہے ہیں ایسا پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ مصر، عمان، کویت اور اردن کا ایران کی جانب سے پابندیوں سے بچنے کی کوششیں ناکام بنانے میں اہم کردار ہے۔

امریکی پابندیوں کے ازسرنو نفاذ کے بعد متحدہ عرب امارات نے ایرانی قدرتی گیس کی درآمد منسوخ کر دی ہے۔ بحرین نے پاسداران انقلاب کے آلہ کاروں کو آشکار کیا ہے جو اس کے ہاں متحرک ہیں اور وہ اپنے علاقے میں ایران کی غیرقانونی بحری سرگرمیوں کو روکنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ سعودی عرب نے بھی ایرانی توسیع پسندی اور اس کے علاقائی نفوذ کو روکنے کے لیے ہمارے ساتھ کام کیا ہے۔ امریکہ ان تمام کوششوں کا معترف ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ تمام ممالک ایرانی حکومت کی ضرررساں سرگرمی کو روکنے کے لیے کام جاری رکھیں۔

ایرانی حکومت کے مہلک عزائم کے خاتمے کا کام مشرق وسطیٰ تک ہی محدود نہیں ہے۔ جنوبی کوریا سے پولینڈ تک امریکہ کے دوست اور شراکت دار ایران کی جانب سے علاقائی تباہی کی لہر اور دہشت کی عالمگیر مہمات کو روکنے کی کوششوں میں ہمارے ساتھ ہیں۔

دنیا بھر کے ممالک نے ایرانی تیل کی برآمدات روک دی ہیں۔ فرانس، جرمنی، برطانیہ اور ہر کہیں نجی کمپنیاں اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ ایرانی حکومت کے ساتھ کام کرنا کاروبار اور ان کے اپنے ممالک کے عوام کے لیے برا ہو گا۔

یمن میں ہم نے اپنے اتحادی شراکت داروں کو مدد دی ہے جو ایرانی توسیع کو روکنے کی کوشش میں قائدانہ کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایرانی توسیع عالمگیر تجارت اور علاقائی سلامتی کے لیے تباہ کن ہے۔ جیسا کہ امریکہ ہمیشہ کرتا چلا آیا ہے، ہمارے اس کردار میں موثر انسانی امداد بھی شامل ہے۔ ہم نے یمن کو امن کی راہ پر ڈالنے کے لیے اقوام  متحدہ کے زیراہتمام بات چیت کی حمایت کی ہے۔

لبنان میں حزب اللہ کا کردار بدستور برقرار ہے مگر ہم اس صورتحال کو قبول نہیں کریں گے۔ ایران کے خلاف ہماری جارحانہ پابندیوں کی مہم کا رخ اس دہشت گرد گروہ اور اس کے رہنماؤں کی جانب بھی ہے جن میں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کا بیٹا بھی شامل ہے۔

آئیے اب اتحاد بنانے کے لیے امریکی کوششوں پر بات کرتے ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے پرانے دوستوں سے سے روابط دوبارہ استوار کرنے اور نئی شراکتوں کو پروان چڑھانے کے لیے تیزی سے کام کیا ہے۔ اس کام کے لیے اپنے پہلے دوروں میں مجھے اسرائیل، اردن اور سعودی عرب جانا ہے۔

درحقیقت وزیر خارجہ کی حیثیت سے حلف اٹھانے کے بعد میں نے واشنگٹن ڈی سی میں اپنے دفتر جانے سے بھی پہلے ان ممالک کا دورہ کیا تھا۔ میری آپ کے رہنماؤں سے اکثروبیشتر اپنے دفتر میں ملاقات ہوتی رہتی ہے جیسا کہ گزشتہ برس اگست میں مجھے وزیر خارجہ شکری سے ملاقات کا موقع ملا۔

امریکہ کے لیے اتحادوں کی تشکیل ایک فطری بات ہے مگر ماضی میں ہم نے اسے نظرانداز کیا۔ مشرق وسطیٰ کے ساتھ امریکہ کے تعلقات سینکڑوں سال پر محیط ہیں مگر ہمیں انہیں قائم رکھنا اور انہیں قائم رکھنے کے لیے کام کرنا ہے۔ دیکھیے، ہمارے تعلقات بہت پرانے ہیں، مراکش اور اومان کے ساتھ ہمارے تعلقات 1777 اور 1833 سے چلے آ رہے ہیں۔ مصر کے ساتھ ہمارے تعلقات کئی نسلوں سے قائم ہیں۔ درحقیقت اس برس اردن کے ساتھ ہمارے سفارتی تعلقات کو 70 برس مکمل ہو جائیں گے۔ ہم عراقی حکومت کے ساتھ صحت مندانہ گفت و شنید کر رہے ہیں جو کہ پھلتی پھولتی اور نوجوان جمہوریت ہے۔ ہم اپنی مشترکہ خوشحالی کے لیے بھی تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پرانی مخاصمتیں ختم کی جائیں تاکہ خطے کو بڑے پیمانے پر فائدہ پہنچے۔

ٹرمپ انتظامیہ خطے کو درپیش انتہائی سنگین خطرات کا مقابلہ کرنے اور توانائی و معیشت کے شعبوں میں تعاون مضبوط بنانے کے لیے ‘مشرق وسطیٰ کا تزویراتی اتحاد’ قائم کرنے کے لیے بھی کام کر رہی ہے۔ اس کوشش سے خلیج تعاون کونسل کے ارکان اور مصر و اردن بھی اکٹھے ہو رہے ہیں۔ آج ہم ان تمام ممالک سے کہتے ہیں کہ وہ اگلا قدم اٹھائیں اور ‘ایم ای ایس اے’ کو مضبوط بنانے میں ہماری مدد کریں۔

ہم نمایاں تبدیلیوں کا مشاہدہ بھی کر رہے ہیں۔ نئے رشتے جنم لے رہے ہیں جن کے بارے میں اب تک سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔ چند سال قبل کس نے سوچا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم مسقط کا دورہ کرے گا؟ یا سعودی عرب اور عراق کے مابین نئے تعلقات ظہور پذیر ہوں گےَ یا رومن کیتھولک پوپ مسلمان اماموں اور قبطی عقیدے کے سربراہ سے ملنے کے لیے اس شہر کا دورہ کرے گا؟

گزشتہ برس اکتوبر میں متحدہ عرب امارات میں ایک جوڈو ٹورنامنٹ جیتنے والےاسرائیلی کھلاڑی کے لیے اس کا قومی ترانہ بجایا گیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ کسی اسرائیلی وفد کو اپنے قومی جھنڈے تلے کھیلوں میں شرکت کی اجازت دی گئی۔ اس اعتبار سے بھی یہ  پہلا موقع تھا کہ اسرائیلی وزیر کھیل و ثقافت نے خلیج میں کھیلوں کے کسی پروگرام میں شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا ”یہ ایک خواب تھا جو پورا ہوا۔ اس لمحے تک پہنچنے کے لیے ہم دو سال سے بات چیت کر رہے تھے۔” ان کے لیے اپنے آنسو روکنا مشکل تھا۔ ان کا کہنا تھا ”میں ابوظہبی کے حکام اور اپنے میزبانوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں جنہوں نے ہمارے ساتھ مثالی سلوک کیا۔” ان کی جانب سے خوشی کا اس سے زیادہ اظہار اور کیا ہو سکتا تھا۔

ہمیں درپیش مشترکہ خطرات کے ہوتے سلامتی کو مزید بہتر بنانے کے لیے تجدید تعلقات کی جانب یہ اقدامات ضروری ہیں اور یہ خطے کے لیے کہیں زیادہ روشن مستقبل کی جانب بھی اشارہ کرتے ہیں۔

یقیناً ہمارا مشترکہ کام ابھی ختم نہیں ہوا۔ امریکہ نے کبھی اکیلے کام نہیں کیا۔ امریکہ جانتا ہے کہ ہم ہر جنگ لڑ سکتے ہیں اور نہ ہی ہمیں لڑنی چاہیے یا ہمارے لیے ہر معیشت کو سنبھالنا ممکن نہیں ہے۔ کوئی ملک دوسرے کا دست نگر نہیں رہنا چاہتا۔ ہمارا مقصد اپنے دوستوں کے ساتھ شراکت قائم کرنا اور اپنے دشمنوں کا پوری قوت سے مقابلہ کرنا ہے کیونکہ مضبوط، محفوظ اور معاشی اعتبار سے متحرک مشرق وسطیٰ ہی ہمارے قومی مفاد میں ہے اور اسی طرح آپ کا مفاد بھی اسی میں ہے۔

یہاں میں واضح کرتا چلوں کہ: جب تک دہشت گردی کے خلاف جنگ ختم نہیں ہو جاتی اس وقت تک امریکہ پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ہم اپنی اور آپ کی سلامتی کے لیے خطرے کا باعث داعش، القاعدہ اور دیگر جہادیوں کو شکست دینے کے لیے آپ کے شانہ بشانہ انتھک محنت کریں گے۔ صدر ٹرمپ نے شام سے ہمارے فوجی دستے واپس لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہم ہمیشہ ایسا کرتے ہیں اور اب بھی ایسا کرنے کا وقت ہے مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہمارا مقصد تبدیل ہو گیا ہے۔ ہم داعش کے خطرے اور اسلامی بنیادی پرستی کی تمام صورتوں کا مکمل طور پر خاتمہ کرنے کےلیے بدستور پرعزم ہیں۔ مگر جیسا کہ صدر ٹرمپ نے کہا ہے ہم اس ضمن میں مزید کام کے لیے اپنے شراکت داروں کی جانب دیکھ رہے ہیں اور اس کوشش میں ہم اکٹھے آگے بڑھتے رہیں گے۔

جب اہداف سامنے آئیں گے تو خطے میں فضائی حملے جاری رہیں گے۔ ہم داعش کو شکست دینے کے اتحاد میں شامل اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے۔ ہم لیبیا اور یمن میں محفوظ پناہ گاہوں کے متلاشی دہشت گردوں کا پیچھا اور انہیں نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ ہم سینائی میں داعش کو تباہ کرنے کے لیے مصر کی کوششوں کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ ہم تہران کی جانب سے شام کو دوسرا لبنان بنانے سے روکنے کے لیے اسرائیل کی کوششوں کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔

اس جنگ میں ہم سرحدوں کی حفاظت، دہشت گردوں کے خلاف کارروائی، مسافروں کی جانچ پڑتال، پناہ گزینوں کی معاونت اور دیگر امور میں اپنے شراکت داروں کی مدد جاری رکھیں گے۔ مگر ہم مشرق وسطیٰ میں ہر امن پسند ملک سے کہتے ہیں کہ وہ ہر جگہ اسلامی انتہاپسندی کو شکست دینے کے لیے نئی ذمہ داریوں میں اپنا حصہ بٹائے۔

یہ جاننا بھی اہم ہے کہ ہم ایران کے بد اندیشانہ رسوخ اور خطے و دنیا کے خلاف اس کے اقدامات کو روکنے کی اپنی مہم میں نرمی نہیں لائیں گے۔ اگر ایران کی انقلابی حکومت اپنی موجودہ روش جاری رکھتی ہے تو مشرق وسطیٰ کے ممالک کبھی سلامتی، معاشی استحکام اور اپنے لوگوں کے خوابوں کی تکمیل  ممکن نہیں بنا پائیں گے۔

11 فروری کو تہران میں اس جابر حکومت کو برسراقتدار آئے 40 برس ہو جائیں گے۔ امریکہ کی جانب سے ایرانی حکومت کے خلاف تاریخ کی کڑی ترین پابندیاں عائد کی گئی ہیں اور جب تک ایران دیگر ممالک جیسا طرزعمل اختیار نہیں کرتا اس وقت تک ان پابندیوں میں مزید سختی آئے گی۔ ہم نے مئی میں جن 12 مطالبات کا تذکرہ کیا تھا وہ بدستور برقرار ہیں کیونکہ خطے کو اس حکومت سے خطرہ لاحق ہے۔

امریکہ شام سے ایک ایک ایرانی فوجی کو باہر نکالنے کے لیے اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر سفارت کاری اور عملی کارروائی کرے گا اور طویل عرصہ سے مصائب جھیلنے والے شامی عوام کے لیے امن و استحکام لانے کی غرض سے اقوام متحدہ کے زیرقیادت امن عمل کے ذریعے کام کرے گا۔ امریکہ اسد کے زیراقتدار شامی علاقوں میں اس وقت تک تعمیر نو کے ضمن میں مدد نہیں دے گا جب تک ایران اور اس کے آلہ کار علاقے سے نکل نہیں جاتے اور جب تک ہم سیاسی تصفیے کے لیے ناقابل تنسیخ پیش رفت نہیں دیکھ لیتے۔

لبنان میں امریکہ حزب اللہ کے میزائلوں سے لاحق خطرہ کم کرنے کے لیے کام کرے گا جن کا رخ اسرائیل کی جانب ہے اور جو اس ملک میں ہر جگہ پہنچ سکتے ہیں۔ ان میں بہت سے راکٹوں پر جدید رہنما نظام نصب ہیں۔ یہ نظام ایران نے فراہم کیے ہیں جو کہ ناقابل قبول بات ہے۔ شاید ایران سوچتا ہے کہ لبنان اس کی ملکیت ہے۔ مگر وہ غلطی پر ہے۔

عراق میں امریکہ ایرانی اثرورسوخ سے پاک ملک کی تعمیر کے لیے اپنے شراکت داروں کی معاونت کرے گا۔ گزشتہ مئی میں عراقیوں نے قومی انتخابات میں فرقہ واریت کو مسترد کیا اور ہم پورے دل سے اس کی حمایت کرتے ہیں۔ عراقی عوام نے ایرانی پشت پناہی سے کام کرنے والے بدمعاشوں اور مسلح گروہوں کے سامنے جھکنے سے انکار کیا۔ عراقیوں نے عرب ہمسایوں سے تعلقات مضبوط بنائے ہیں، کرد خطے اور بغداد کے مابین پرامن تعاون جاری ہے اور انہوں نے بدعنوانی کے خلاف جنگ پر اپنی توجہ دوبارہ مرکوز کی ہے۔

یمن میں ہم پائیدار امن کے لیے کام جاری رکھیں گے۔

میرے خیال میں یہ بات واضح مگر اعادے کی متقاضی ہے۔ امریکہ ایرانی حکومت کی جارحانہ مہم جوئی کے مقابل اپنے دفاع کے اسرائیلی حق کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ ہم یہ امر یقینی بناتے رہیں گے کہ اسرائیل کے پاس قطعی طور سے ایسا کرنے کے لیے فوجی اہلیت موجود ہو۔

ٹرمپ انتظامیہ اسرائیل اور فلسطینیوں میں حقیقی اور پائیدار امن کے لیے بھی زور دیتی رہے گی۔ ہم اپنے الفاظ پر قائم ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اپنی مہم میں یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ مئی میں ہم نے اپنا سفارت خانہ وہاں منتقل کر دیا۔ ان فیصلوں کی صورت میں دو دہائیوں سے بھی زیادہ عرصہ پہلے کانگریس کی منظور کردہ  دو جماعتی قرارداد کو عملی جامہ پہنایا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ جو کہتے ہیں وہی کرتے ہیں۔

امریکہ اپنے دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے بھی کام کر رہا ہے۔ میں آئندہ چند روز میں بحرین، متحدہ عرب امارات، قطر، سعودی عرب، اومان اور کویت کے رہنماؤں سے تفصیلی بات چیت کروں گا۔ ہم اپنے مشترکہ مقاصد کی بابت گفت و شنید کریں گے جیسا کہ میں نے اس ہفتے اردن اور عراق میں کی اور جس طرح میری آج صدر سیسی اور وزیر خارجہ شکری سے بات چیت ہوئی۔

جہاں ہم مصر کے ساتھ مزید مضبوط شراکت چاہتے ہیں وہیں صدر سیسی کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ مصری عوام کی تخلیقی اہلیت کو سامنے لائیں، معیشت کو آزاد کریں اور خیالت کے آزادانہ اورکھلے تبادلے کو فروغ دیں۔

میں مذہبی آزادی کے فروغ کے لیے صدر سیسی کی کوششوں کی بھی ستائش کرتا ہوں جو مشرق وسطیٰ کے تمام رہنماؤں اور تمام عوام کے لیے مثال ہیں۔ مجھے یہاں نامناسب انداز میں غیرسرکاری تنظیمیں چلانے کے الزام میں غلط طور سے سزاؤں کا سامنا کرنے والے اپنے شہریوں کی بریت پر خوشی ہوئی۔ ہم صدر سیسی کی جانب سے مصری قانون میں ترمیم کی بھرپور حمایت کرتے ہیں جس کا مقصد دوبارہ ایسے واقعات رونما ہونے سے روکنا ہے۔ یقیناً مصر اور اس کے عوام کی صلاحیتوں کو وسعت دینے کے لیے مزید کام کی ضرورت ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ امریکہ ایسی کوششوں میں مصر کا شراکت دار ہو گا۔

یہاں چند آخری باتوں کے ساتھ میں اپنی گفتگو کا اختتام کروں گا۔

پہلی بات یہ کہ سچائی کو پہچاننا کبھی آسان نہیں ہوتا۔ مگر جب ہم اسے دیکھ لیتے ہیں تو ہمیں ہر صورت سچ ہی کہنا چاہیے۔ مشرق وسطیٰ میں بہت زیادہ کردار پر امریکہ کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے اور ہمیں بہت کم کردار پر تنقید کا سامنا ہے۔ مگر ایک بات واضح ہے کہ ہم کبھی حکومتیں بنانے والے یا غاصب نہیں رہے۔

ہماری مشترکہ تاریخ پر نظر ڈالیں جس کا میں نے آج تذکرہ کیا ہے۔ مشترکہ دشمنوں کے خلاف ہماری جنگوں پر نگاہ دوڑائیں۔ ہماری اتحاد بنانے کی کوششوں کو دیکھیں۔ آخر میں اس یونیورسٹی میں اپنے اردگرد دیکھیں جسے ایک صدی ہونے کو آئی ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ بیروت سے سلیمانیہ تک مشرق وسطیٰ میں اس جیسی بہت سی دیگر یونیورسٹیاں بھی کام کر رہی ہیں۔ یہ امریکہ کی فطری اچھائی، آپ کے لیے ہماری امیدوں اور اس بہتر مستقبل کی علامات ہیں جس کی ہم مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک کے لیے خواہش رکھتے ہیں۔

یہاں آنے پر میں آپ سبھی کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ خدا آپ میں ہر ایک پر اپنی رحمت کرے۔ شکریہ۔ (تالیاں)


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں