rss

صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کا امریکی کانگریس سے سٹیٹ آف دی یونین خطاب

English English, العربية العربية, Français Français, Português Português, Русский Русский, Español Español, 中文 (中国) 中文 (中国)

وائٹ ہاؤس
پریس سیکرٹری کا دفتر
واشنگٹن، ڈی سی
5 فروری 2019

 

 امریکی خارجہ پالیسی سے متعلق اقتباسات

محترمہ سپیکر، جناب نائب صدر، ارکان کانگریس، امریکی خاتون اول اور میرے امریکی ہموطنو:

آج رات ہم لامحدود امکانات کے لمحے میں ایک ساتھ  ہیں۔ نئی کانگریس کے آغاز پر میں تمام امریکیوں کے لیے تاریخی کامیابیوں کے حصول کی خاطر آپ کے ساتھ یہاں کام کرنے کے لیے تیار ہوں۔

* * * *

میری انتظامیہ نے جنوبی سرحد پر بحران کے خاتمے کے لیے کانگریس کو ایک عام فہم تجویز بھیجی ہے۔

اس میں انسانی امداد، قانون کا مزید نفاذ، ہماری بندرگاہوں پر منشیات کا سراغ لگانا، بچوں کی سمگلنگ کا سبب بننے والے سقم ختم کرنا اور نئی طبعی رکاوٹ یا دیوار کے منصوبے شامل ہیں جن کا مقصد ہمارے ملک کے داخلی راستوں کے درمیان وسیع علاقوں کو محفوظ بنانا ہے۔

* * * *

اپنی حیرت انگیز معاشی کامیابی کو آگے بڑھانے کے لیے ایک ترجیح اعلیٰ تر اہمیت کی حامل ہے، یعنی کئی دہائیوں سے چلی آ رہی تباہ کن تجارتی پالیسیوں کو واپس لینا۔ یہ بہت بری صورتحال ہے۔

اب ہم چین پر واضح کر رہے ہیں کہ سالہا سال تک ہماری صنعتوں کو ہدف بنانے اور ہماری ملکِ دانش کی چوری کرنے کے نتیجے میں ہونے والی امریکیوں کی نوکریوں اور دولت کی چوری کو  ختم کردیا گیا ہے۔

اسی لیے حال ہی میں ہم نے چینی اشیا پر 250 ارب ڈالر کے محصولات لگائے اور اب ہمارا محکمہ خزانہ اربوں ڈالر وصول کر رہا ہے۔ چین نے ہم سے جو فائدہ اٹھایا اس کا ذمہ دار میں چین کو نہیں بلکہ اپنے اُن  رہنماؤں اور نمائندوں کو ٹھہراتا ہوں جنہوں نے اس بے ڈھنگے پن کو ہونے دیا۔ میں صدر شی  کا بے حد احترام کرتا ہوں اور اب ہم چین کے ساتھ ایک نئے تجارتی معاہدے پر کام کر رہے ہیں۔ تاہم اس میں بہرصورت غیرمنصفانہ تجارتی اقدامات کے خاتمے، ہمارے دیرینہ تجارتی خسارے میں کمی اور امریکی ملازمتوں کے تحفظ کے لیے حقیقی اور اساسی تبدیلیاں ہونا چاہییں۔

* * * *

ہمارا نیا ”امریکہ میکسیکو کینیڈا معاہدہ” (یوایس ایم سی اے) اب ”نیفٹا” معاہدے کی جگہ لے گا اور اس سے امریکی کارکنوں کو اس طرح کا فائدہ پہنچے گا جس طرح کا فائدہ انہیں طویل عرصے تک نہیں پہنچایا گیا۔ مجھے امید ہے کہ آپ ‘یوایس ایم سی اے’ کی منظوری دے کر اسے قانونی شکل دیں گے تاکہ ہم بڑی تعداد میں اپنی صنعتی نوکریاں واپس لائیں، امریکی زراعت کو وسعت ملے، ملکِ دانش کا تحفظ ہو اور یہ امر یقینی بنایا جا سکے کہ زیادہ سے زیادہ کاروں پر فخریہ طور پر اِن چار خوبصورت الفاظ کی مہر لگی ہو: امریکہ میں بنائی گئیں۔

آج رات میں آپ سے امریکہ کے دو طرفہ تجارتی قانون کی منظوری کے لیے بھی کہہ رہا ہوں تاکہ اگر کوئی اور ملک امریکی پیداوار پر غیرمنصفانہ محصولات عائد کرے تو اس ملک کی جانب سے ہمیں فروخت کی جانے والی بالکل ویسی ہی چیزوں پر ہم بھی اتنے ہی محصولات عائد کر سکیں۔

* * * *

امریکہ کی قومی سلامتی کی حفاظت کرنا میرے ایجنڈے کا حتمی جزو ہے۔

گزشتہ 2 برس کے دوران ہم نے امریکی افواج کی مکمل تعمیرِ نو شروع کی ہے اور اس ضمن میں گزشتہ برس 700 ارب اور اس سال 716 ارب ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔ ہمیں دوسرے ممالک سے بھی اُن کا منصفانہ حصہ مل رہا ہے۔ ہمارے دوست ممالک، نیٹو کے رکن ممالک  نے سالہا سال تک امریکہ کے ساتھ نہایت غیرمنصفانہ سلوک روا  رکھا — مگر اب ہم نیٹو اتحادیوں کی جانب سے دفاعی اخراجات میں 100 ارب ڈالر اضافہ کرانے میں کامیاب رہے ہیں۔ وہ کہتے تھے کہ ایسا نہیں کیا جا سکتا۔

* * * *

میری انتظامیہ میں امریکی مفادات کے فروغ پر کبھی معذرت نہیں کی جائے گی۔

مثال کے طور پر دہائیوں پہلے امریکہ نے سوویت یونین کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جس میں ہم نے اپنی میزائل کی صلاحیتوں کو محدود اور کم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ ہم نے اس معاہدے اور اس کے ضوابط کی مکمل طور پر پاسداری کی جبکہ روس تواتر سے اس معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کرتا رہا۔ ایسا کئی سال سے ہوتا چلا آ رہا ہے۔ اسی لیے میں نے اعلان کیا کہ امریکہ درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے جوہری ہتھیاروں کے معاہدے یا ‘آئی این ایف’ معاہدے سے سرکاری طور پر دستبردار ہو رہا ہے۔ درحقیقت ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔

شاید ہم ایک مختلف معاہدے پر بات چیت کر سکتے ہیں جس میں چین اور دیگر بھی شامل ہوں، یا شاید ہم ایسا نہ کر سکیں۔ اس صورت میں ہم دوسروں سے کہیں زیادہ خرچ کریں گے اور ان سے کہیں زیادہ جدت طرازی سے کام لیں گے۔

ایک  نئی  اور بے باک سفارت کاری کے ذریعے ہم جزیرہ نما کوریا میں امن کے لیے اپنا تاریخی دباؤ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہمارے یرغمالی واپس آ چکے ہیں، جوہری تجربات بند ہو چکے ہیں اور 15 ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے اور کوئی میزائل نہیں داغا گیا۔ اگر میں امریکہ کا صدر منتخب نہ ہوا ہوتا تو میری رائے کے مطابق اس وقت ہم شمالی کوریا کے ساتھ ایک بڑی جنگ لڑ رہے ہوتے۔ ابھی بہت سا کام باقی ہے مگر کم جونگ ان کے ساتھ میرا اچھا تعلق ہے۔ چیئرمین کم اور میں 27 اور 28 فروری کو ویت نام میں دوبارہ ملیں گے۔

دو ہفتے قبل امریکہ نے وینزویلا کی قانونی حکومت اور اس کے نئے صدر خوان گوائیڈو کو سرکاری طور پر تسلیم کیا۔

ہم آزادی کی اس عظیم جدوجہد میں وینزویلا کے عوام کے ساتھ ہیں اور مادورو حکومت کے ظالمانہ طرزعمل کی مذمت کرتے ہیں جس کی اشتراکی پالیسیوں نے وینزویلا  کو جنوبی امریکہ کے دولت مند ترین ملک سے اٹھا کر انتہائی غربت اور مایوسی میں پھینک دیا ہے۔

* * * *

ہمیں سالہا سال سے مشرق وسطیٰ میں پیچیدہ ترین مسائل کے ایک مجموعے کا سامنا ہے۔

عرصہ دراز سے ہمارا طرزعمل کسی بھی پیش رفت میں ناکام رہنے والے غیرمعتبر نظریات پر نہیں بلکہ اصولی حقیقت پسندی پر استوار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میری انتظامیہ نے اسرائیل کے حقیقی دارالحکومت کو تسلیم کیا اور فاخرانہ طور پر یروشلم میں امریکی سفارت خانہ کھولا۔

ہمارے بہادر فوجیوں کو مشرق وسطیٰ میں لڑتے ہوئے اب تقریباً 19 برس ہو چکے ہیں۔ افغانستان اور عراق میں قریباً 7,000  امریکی ہیروز نے اپنی جانیں دیں۔ 52,000  سے زیادہ امریکی شدید زخمی ہوئے۔ ہم مشرق وسطیٰ میں جنگیں لڑنے پر 7 کھرب  ڈالر سے زیادہ رقم خرچ کر چکے ہیں۔

صدارتی امیدوار کی حیثیت سے میں نے کھل کر ایک نئے طریق کار کا وعدہ کیا تھا۔ عظیم قومیں ختم نہ ہونے والی جنگیں نہیں لڑا کرتیں۔

جب میں نے عہدہ سنبھالا تو داعش نے عراق اور شام میں 20,000  مربع میل سے زیادہ علاقے پر اپنا تسلط جما رکھا تھا۔ یہ محض دو سال پہلے کی بات ہے۔ آج ہم نے حقیقتاً یہ تمام علاقہ خون کی پیاسی اِن عفریتوں کی گرفت سے آزاد کرا لیا ہے۔

اب جبکہ ہم اپنے اتحادیوں کے تعاون سے داعش کی باقیات کو تباہ کرنے میں مصروف ہیں تو وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے بہادر جنگجوؤں کا شام سے واپسی پر وطن میں پرجوش خیرمقدم کریں۔

میں نے افغانستان میں سیاسی تصفیے تک، اگر ممکن ہوا تو، پہنچنے کے لیے گفت وشنید کے عمل کو بھی تیزتر کیا ہے۔  مخالف فریق بھی مذاکرات پر بے حد خوش ہے۔ ہمارے فوجی بے مثل جرات سے لڑے اور ان کی بہادری کی وجہ سے اب ہم اس طویل اور خونی  جنگ کے ممکنہ سیاسی حل کی جانب آگے بڑہنے کے قابل ہو گئے ہیں۔

افغانستان میں میری  انتظامیہ طالبان سمیت متعدد افغان گروہوں کے ساتھ تعمیری مذاکرات میں مصروف ہے۔ اس گفت و شنید میں پیش رفت کے ساتھ ہم اپنے فوجی دستوں میں کمی لانے اور انسداد دہشت گردی پر توجہ دینے کے قابل ہو سکیں گے اور بلا شک و شبہ ہم انسداد دہشت گردی پر اپنی توجہ مرکوز کریں گے۔ ہم نہیں جانتے کہ آیا کوئی معاہدہ ہو بھی پائے گا یا نہیں مگر ہم یہ یقینی طور پر جانتے ہیں کہ دو دہائیوں تک جاری رہنے والی اس جنگ کے بعد امن کے لیے کوشش کرنے کا وقت  آ گیا ہے۔اور فریق مخالف بھی یہی کام کرنا پسند کرے گا۔

* * * *

میری انتظامیہ نے دنیا میں ریاستی دہشت گردی کی سب سے بڑی سرپرست حکومت کا سامنا کرنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات اٹھائے ہیں: یعنی ایران کی بنیاد پرست حکومت کے خلاف۔ یہ ایک بنیاد پرست حکومت ہے۔ یہ بہت برے برے کام کرتے ہیں۔

اس بدعنوان آمریت کو ہمیشہ کے لیے جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے میں نے امریکہ کو تباہ کن ایرانی جوہری معاہدے سے نکالا۔ گزشتہ سال کے آخر میں ہم نے ایران پر سخت ترین پابندیاں لگائیں جو قبل ازیں ہم نے کبھی کسی اور ملک پر عائد نہیں کیں۔

ہم ایسی حکومت سے اپنی نظریں نہیں ہٹائیں گے جو امریکہ کے لیے موت کے نعرے لگاتی ہے اور یہودیوں کی نسل کشی کی دھمکیاں دیتی ہے۔ ہمیں یہودی مخالفت کے نفرت انگیز زہر یا اس زہریلے نظریے کے پرچارکوں کو کبھی بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں بیک آواز کسی بھی جگہ اور ہر جگہ رونما ہونے والی نفرت کا ہرصورت میں مقابلہ کرنا چاہیے۔

* * * *


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں