rss

داعش کے خلاف عالمگیر اتحاد کے وزارتی اجلاس سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا افتتاحی خطاب

Facebooktwittergoogle_plusmail
English English, العربية العربية, Français Français, Русский Русский, Português Português

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
واشنگٹن، ڈی سی
6 فروری 2019

 

3:07 سہ پہر

صدر: مائیک، آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ شاندار کام کر رہے ہیں۔ مجھ سے یہ بات بہت سے لوگوں نے کہی ہے۔

آج یہاں دفتر خارجہ میں اتنی بڑی تعداد میں ممتاز سفارت کاروں اور داعش کے خلاف عالمگیر اتحاد کے رکن ممالک کی نمائندگی کرنے والے دیگر لوگوں کے درمیان موجودگی اعزاز کی بات ہے۔ ہمارا یہ اتحاد 74 ممالک اور 5 عالمگیر اداروں پر مشتمل ہے جو اس نفرت انگیز دہشت گرد تنظیم کے خلاف جنگ میں متحد ہیں۔ یہ واقعتاً نفرت انگیز ہے۔

میں قائم مقام وزیر دفاع پیٹرک شیناہن کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ پیٹرک، کھڑے ہو جائیں۔ آپ شاندار کام کرتے چلے آئے ہیں۔ ہم اس کی ستائش کرتے ہیں۔ (تالیاں) شکریہ۔ سفیر جیمز جیفری، آپ کا بھی شکریہ۔ شکریہ۔ مشرق وسطیٰ اور دنیا بھر میں داعش کو شکست دینے کے پائیدار عزم کے لیے آج یہاں موجود تمام اتحادی ارکان بھی شکریے کے مستحق ہیں۔

محض دو سال پہلے، جنوری 2017 میں داعش کا شام اور عراق میں وسیع علاقے پر تسلط قائم تھا۔ جب میں صدر بنا تو میں نے کہا کہ ”میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ ان کے پاس کیا ہے۔” میں نے دیکھا تو افراتفری تھی۔ بہت سی افراتفری تھی۔ عہدہ سنبھالنے کے بعد میں نے جو پہلے کام کیے ان میں یہ بھی شامل تھا کہ میں نے پینٹاگون جا کر انہیں کہا کہ داعش کو شکست دینے کا منصوبہ تیار کر کے مجھے دکھائیں۔

ہم نے اپنے تیار کردہ نئے طریق کار کے تحت میدان جنگ میں اپنے کمانڈروں کو بااختیار بنایا، زمین پر اپنے شراکت داروں کی اہلیت میں اضافہ کیا اور داعش کے فاسق نظریے کا براہ راست  مقابلہ کیا۔ نتیجتاً، جیسا کہ میں نے گزشتہ روز اپنے سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں کہا تھا، امریکی فوج، ہمارے اتحادی شراکت دار اور شامی جمہوری فورسز نے حقیقتاً شام اور عراق میں وہ تمام علاقہ واگزار کرا لیا جو کبھی داعش کے زیرتسلط تھا۔ غالباً آئندہ ہفتے رسمی طور پر یہ اعلان ہونا چاہیے کہ ہم نے زمینی پر داعش کی خلافت کا 100 فیصد خاتمہ کر دیا ہے۔ مگر میں سرکاری بیان کا انتظار کرنا چاہتا ہوں۔ میں بہت پہلے ایسا نہیں کہنا چاہتا۔

گزشتہ دو برس میں ہم 20000 مربع  میل سے زیادہ علاقہ واپس لے چکے ہیں۔ ہم نے ایک میدان جنگ میں فتح پائی۔ ہمیں ایک کے بعد دوسری فتح ملی اور ہم نے موصل اور رقہ دونوں کو واپس لیا۔

ہم نے داعش کے 60 سے زیادہ اہم رہنماؤں کا خاتمہ کیا۔ چنانچہ اگر آپ داعش کے 60 بڑے رہنماؤں کی فہرست پر نظر ڈالیں تو ہم نے ان میں قریباً ہر ایک کا خاتمہ کر دیا ہے۔ اب وہ خود کو دوبارہ ترتیب دے رہے ہیں اور ہم اس سے آگاہ ہیں۔ مگر انہیں اس کام میں مشکلات کا سامنا ہے اور میں یہ کہوں گا کہ ہماری موجودگی میں ایسا کرنا آسان نہیں۔ امید ہے کہ یہ اتنا آسان کام نہیں ہو گا۔ داعش کے سو سے زیادہ دیگر بڑے رہنماؤں کا خاتمہ کیا جا چکا ہے اور داعش کے ہزاروں جنگجوؤں کاقلع قمع ہو گیا ہے۔ وہ ختم ہو چکے ہیں۔

ہم نے باہم مل کر 5 ملین سے زیادہ شہریوں کو ان خون آشام قاتلوں کی گرفت سے آزاد کرایا ہے۔ آپ  جانتے ہیں کہ وہ قاتل ہیں۔ آپ نے یہ سب کچھ دیکھا ہے۔ ہم نے اتنا کچھ دیکھا ہے کہ ہمیں یقین نہیں آتا۔ ہمارے لوگوں، ہمارے دوستوں اور اتحادیوں کو نارنجی لباس پہننا پڑا اور اس کے بعد جو کچھ ہوا اس سے آپ واقف ہیں۔ ان میں بہت سے لوگ ایسے بھی تھے جن کے والدین سے میں مل چکا ہوں۔ ہم یہ مناظر مزید نہیں دیکھنا چاہتے۔

عالمگیر اتحاد بشمول آج یہاں موجود تمام لوگوں اور دیگر شراکت داروں کا شکریہ کہ داعش کی خلافت کا بڑی حد تک خاتمہ ہو چکا ہے۔ کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ سب کچھ اس قدر جلد ممکن ہو سکتا ہے۔

تین ہفتے پہلے میں عراق میں تھا اور وہاں اپنے  چند زبردست جرنیلوں سے بات کر رہا تھا۔ میں نے انہیں کھل کر آگے بڑھنے کو کہا۔ میرا کہنا تھا کہ ”اسے جا لیں۔ جب آپ یہ کام شروع کریں گے تو آپ کو اس کی تکمیل میں کتنا وقت درکار ہو گا؟” مجھے جواب دیا گیا کہ ”جناب ایک ہفتہ۔” میں  نے کہا ”یہ کس نے کہا کہ ایک ہفتہ لگے گا؟” اسے علم تھا کہ وہ درست کہہ رہا ہے۔ اب ایک ہفتہ ہو چکا ہے اور وہ بہت جلد ہمیں سرکاری طور پر اطلاع دیں گے۔ مگر اب داعش کی خلافت کا 100 فیصد خاتمہ ہو چکا ہے۔

اب داعش شام اور عراق میں وسیع طور سے مقامی سطح پر تسلط نہیں جما سکتی۔ اب آپ کو ادھر اُدھر ان لوگوں کا سامنا ہو گا۔ ان کی حالت روگیوں اور پاگلوں جیسی ہے۔ عسکری میدان میں ہماری کارکردگی جتنی بھی اچھی رہی ہو، ہمیں ان کا سامنا ہو گا۔ ہم نے عسکری میدان میں جو کارکردگی دکھائی اس سے بہتر کام ممکن نہیں ہو سکتا۔ مگر اس کے باوجود ہمیں ان کا سامنا ہو گا۔ ہم انہیں تلاش کریں گے، آپ انہیں تلاش کریں گے اور انہیں ڈھونڈا جائے گا۔ امید ہے یہ لوگ زیادہ دیر باقی نہیں رہیں گے۔ اب وہ قدرتی وسائل سے استفادہ نہیں کر سکتے کیونکہ اب زمین یا علاقہ ان کے زیرقبضہ نہیں ہے۔ اب وہ ماضی کی طرح اس علاقے میں شہریوں پر محصول عائد نہیں کر سکتے، قدیم نوادرات نہیں چرا سکتے یا انہیں تباہ نہیں کر سکتے کیونکہ یہ علاقہ اب ان کے زیرتسلط نہیں ہے۔ اب انہیں واقعتاً بہت پیچھے دھکیلا جا چکا ہے۔

ہم انٹرنیٹ کے میدان میں کڑی محنت کر رہے ہیں۔ کچھ عرصہ کے لیے انہوں نے ہم سے بہتر طور پر انٹرنیٹ سے کام لیا تھا۔ انہوں نے انٹرنیٹ کو بہت اچھے طریقے سے استعمال  کیا مگر اب ایسا نہیں ہے۔ پہلے جو لوگ انٹرنیٹ پر انہیں دیکھ کر ان کی تعریفیں کرتے تھے اب وہ ایسا نہیں کرتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ اب وہ چھوٹے بچوں پر اپنا فاسقانہ نظریہ مسلط کرنے کے لیے سکولوں پر قبضہ نہیں کر سکتے۔

دیکھا جائے تو اب داعش کے پاس دوسرے ممالک میں دہشت گرد حملے کرنے، غیرملکی جنگجوؤں کی بھرتی اور خطے میں تباہی پھیلانے کے لیے درکار خاطر خواہ  زمینی بنیاد نہیں ہے۔ اب زمین اس کے پاس نہیں رہی۔ یہ ایک بڑا عنصر ہے۔ اب زمین اس کے پاس نہیں رہی۔ آج میں اس تمام مہم کے دوران غیرمعمولی صلاحیت اور اکملیت کا مظاہرہ کرنے والے امریکی افواج کے غیرمعمولی مردوخواتین کی ستائش کرنا چاہتا ہوں۔ یہ زبردست لوگ ہیں۔

اب جبکہ اس خطے اور ہمارے اتحاد میں شامل ممالک اپنی ذمہ داریوں میں اضافہ کر رہے ہیں تو ہم داعش کی باقیات کو تباہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ اب یہ باقیات رہ گئی ہیں۔ مگر باقیات بے حد خطرناک ہو سکتی ہیں۔ یہ بات یاد رکھنا ہو گی۔ باقی ماندہ شے بے حد خطرناک ہو سکتی ہے۔

مگر ہمیں داعش کی باقیات کا سامنا ہے۔ ہم شام میں لڑنے والے اپنے بہادر جنگجوؤں کا وطن واپسی پر پُرجوش خیرمقدم کرنے کے منتظر ہیں۔

بھروسہ رکھیں، ہم داعش کے پاگل پن میں شریک ہر چھوٹی سے چھوٹی شے اور آخری فرد تک کو شکست دینے کے لیے جو بن پڑا کریں گے اور اپنے لوگوں کو بنیاد پرستانہ اسلامی دہشت گردی سے تحفظ دیں گے۔

میں 30 دیگر ممالک کی ستائش کرتا ہوں جو جن کے فوجی دستے اس اہم کوشش میں پہلے سے شریک ہیں۔ ہمیں ابتدا میں جس صورتحال کا سامنا تھا، آج کے حالات اس سے مخٹلف ہیں۔ مگر یہ مکمل طور سے اہم معاملہ ہے۔ حالیہ مہینوں میں جرمنی، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے مالی معاونت کے وعدے کیے ہیں۔

دہشت گردی کے خلاف جدوجہد ایک مشترکہ جنگ ہے۔ ہم یہ اکٹھے لڑ رہے ہیں۔ اگر ہم مل کر یہ کام نہ کریں تو پھر یہ ایک سی نہیں ہو سکتی۔ سبھی کو اس میں اپنا کردار ادا کرنا اور اپنا منصفانہ حصہ ڈالنا ہو گا۔ ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہو گا کہ امیگریشن سکیورٹی دراصل قومی سلامتی ہے اور غیرملکی جنگجوؤں کو ہمارے ملکوں تک رسائی نہیں ملنی چاہیے۔

ہم نے ان لوگوں کے خلاف بے حد سخت اقدامات کیے ہیں جن کے بارے میں ہمارا خیال ہے کہ وہ کسی طرح بنیاد پرست اسلامی دہشت گردی سے منسلک ہیں یا کسی انداز میں اس کے لیے کام کر رہے ہیں۔ میں اس معاملے میں بے حد سخت رہا ہوں اور مجھے امید ہے کہ تمام دیگر ممالک بھی یہی کچھ کریں گے۔ میں یہاں موجود ہر فرد کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ یہ شاندار لوگوں کا خاص گروہ ہے اور آپ کے ساتھ کام کرنا میرے لیے اعزاز ہے۔ ہم آپ کے ساتھ کام جاری رکھیں گے کیونکہ اب ہمیں ان کے چھوٹے چھوٹے گروہوں کا سامنا ہو گا اور یہ کام بے حد خطرناک ہو سکتا ہے۔

تاہم میں ہر ایک کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ آپ کے ساتھ اتحاد اور شراکت میرے لیے اعزاز رہا ہے کیونکہ یہ واقعتاً ایک شراکت ہے۔ ہماری اور آپ کی افواج نے غیرمعمولی کام کیا ہے۔ لہٰذا آپ کے ساتھ مل کر چلنااعزاز ہے۔

ہم آنے والے بہت سے برسوں میں آپ کے ساتھ کام کریں گے۔ بدقسمتی سے ہمیں یہ کرنا پڑے گا کیونکہ یہی ایک راستہ ہے۔ ہم آنے والے بہت سے برسوں میں اکٹھے کام کریں گے۔ یوں یہ خطرہ کم سے کم ہوتا چلا جائے گا اور ہو سکتا ہے کسی دن ہمیں اس مسئلے کے بارے میں سوچنا بھی نہ پڑے جو آج اس قدر وسیع پیمانے پر موجود ہے۔

آپ سبھی کا بے حد شکریہ۔ یہاں آنا میرے لیے بہت بڑا اعزاز ہے۔ شکریہ۔ بے حد شکریہ۔ شکریہ۔ (تالیاں)

اختتام

3:18 سہ پہر


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں