rss

صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ دنیا بھر میں خواتین کو معاشی اعتبار سے بااختیار بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔

English English, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Español Español, Русский Русский

 

”دنیا بھر میں خواتین پر سرمایہ کاری کر کے گویا ہم خاندانوں پر، خوشحالی پر اور امن پر سرمایہ کاری کرتے ہیں۔” ۔۔۔ صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ

خواتین کے لیے معاشی اختیار کا فروغ: ٹرمپ انتظامیہ دنیا بھر میں خواتین کو معاشی اعتبار سے بااختیار بنانے کے لیے ایک تاریخی قدم اٹھانے جا رہی ہے جس کا مقصد عورتوں کے معاشی امکان کی تکمیل ہے۔

  • آج ٹرمپ انتظامیہ نے خواتین کی عالمگیر ترقی اور خوشحالی کا اقدام (ڈبلیو-جی ڈی پی) شروع کیا ہے۔ یہ عالمی معیشت میں خواتین کی بھرپور اور آزادانہ شرکت کے فروغ پر مرتکز پوری حکومت کی پہلی تدبیر ہے۔
  • ڈبلیو-جی ڈی پی کے ذریعے امریکی انتظامیہ اس نمایاں موقع سے فائدہ اٹھائے گی کہ معیشت میں خواتین کو ترقی دینے سے عالمی سطح پر جی ڈی پی میں اضافہ ہوتا ہے۔
  • اس اقدام کا ہدف 2017 میں ٹرمپ حکومت کے آغاز سے 2025 تک ترقی پذیر دنیا میں 50 ملین خواتین تک پہنچنا ہے۔
  • صدر نے قومی سلامتی کی صدارتی یادداشت پر دستخط کیے اور امریکی ادارہ برائے عالمی ترقی (یوایس ایڈ) کو حکم دیا کہ وہ نئے ڈبلیو-جی ڈی پی فنڈ کے لیے ابتدائی طور پر 50 ملین ڈالر مختص کرے۔
  • ڈبلیو-جی ڈی پی اقدام میں تین امور پر توجہ مرکوز کی جائے گی:
  • معیاری تعلیم اور ہنر کی تربیت تک خواتین کی رسائی بہتر بنا کر انہیں افرادی قوت میں ترقی کا موقع دینا۔
  • خواتین کی کاروباری نظامت اور سرمایے، منڈیوں، تکنیکی معاونت اور رہنمائی کے لیے مالی معاونت اور مدد کی کوششیں جاری رکھنا، اور
  • عالمی معیشت میں خواتین کی شرکت کی راہ میں پالیسی، قانون اور ضابطہ کاری کی رکاوٹوں کی نشاندہی اور ان میں کمی لانا اور بہتر طریقہ ہائے کار کا فروغ۔

عالمگیر استحکام یقینی بنانے کے مواقع کی معاونت: جب خواتین بااختیار ہوتی ہیں تو وہ معاشی ترقی میں تیزی لاتی ہیں اور مستحکم معاشروں کے قیام میں مدد دیتی ہیں۔

  • معاشی طور پر بااختیار عورت عالمی معیشت میں جو حصہ ڈالتی ہے اس کے نتیجے میں آنے والی ترقی اور استحکام سے سبھی مستفید ہوتے ہیں۔
  • جب خواتین معاشی اعتبار سے بااختیار ہوتی ہیں تو وہ اپنے خاندان اور سماج پر خرچ کرتی ہیں جس سے معاشی ترقی میں تیزی آتی ہے اور مزید مستحکم معاشرے تشکیل پاتے ہیں۔
  • تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ عالمی اقتصادیات میں خصوصاً ترقی پذیر ممالک میں خواتین کی شرکت کو فروغ دینے سے 2025 تک عالمگیر معاشی نمو میں 12 ٹریلین ڈالر تک اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
  • بدقسمتی سے بہت سے ممالک میں خواتین کو عالمگیر معیشت میں مکمل اور آزادانہ شرکت کی راہ میں بہت سی رکاوٹیں درپیش ہیں۔
  • 104 ممالک میں خواتین کے لیے بعض کام قانوناً ممنوع ہیں جس سے 7 بلین سے زیادہ خواتین مردوں کی طرح اپنی مرضی کا کام کرنے سے محروم رہتی ہیں۔
  • دنیا کی آبادی کا نصف ہونے کے باوجود دنیا بھر میں رسمی کاروبار کا صرف ایک تہائی خواتین کے ہاتھ میں ہے اور انہیں مالیاتی خدمات، منڈیوں اور جائیداد تک بہت کم رسائی حاصل ہے یا سرے سے وہ یہ رسائی ہی نہیں رکھتیں۔

ہماری کوششوں کا فروغ: عالمی معیشت میں شرکت کے لیے خواتین کے کردار اور اہلیت میں بہتری لانا ایک اہم معاملہ اور صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کی اعلیٰ ترجیح ہے۔

  • 2017 میں جی 20 رہنماؤں کی کانفرنس کے موقع پر صدر ٹرمپ اور عالمگیر شراکت داروں نے خواتین کاروباری ناظمین کے لیے اپنی طرز کے پہلے اقدام (ڈبلیو ای-ایف آئی) کا اعلان کیا۔
  • اس اقدام کے ذریعے سرمایے کے طور پر 6 بلین ڈالر سے زیادہ رقم جمع کی جا رہی ہے۔
  • 2018 میں خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ٹرمپ انتظامیہ نے ‘ویمن کنیکٹ چیلنج’ شروع کیا جس کا مقصد ڈیجیٹل ٹیکنالوجی تک خواتین کی رسائی بڑھانا اور صنفی تقسیم پاٹنا تھا۔
  • سمندر پار نجی سرمایہ کاری کا امریکی ادارہ (او پی آئی سی) امریکی انتظامیہ کے خواتین سے متعلق 2X اقدام کے ذریعے  ترقی پذیر ممالک میں خواتین کی مدد کے لیے ایک بلین ڈالر جمع کر رہا ہے۔
  • صدر ٹرمپ نے خواتین، امن اور سلامتی کے قانون سمیت دونوں جماعتوں کے پیش کردہ قانون اور خواتین کی کاروباری نظامت و معاشی اختیار کے قانون پر دستخط کیے ہیں۔

ڈبلیو-جی ڈی پی کے ذریعے مہیا ہونے والے فوائد: ٹرمپ انتظامیہ کو ڈبلیو-جی ڈی پی اقدام میں ان نئے اور وسیع پروگراموں اور شراکتوں کا اعلان کرتے ہوئے خوشی ہے۔

  • ڈبلیو-جی ڈی پی فنڈ: ابتداً 50 ملین ڈالر کے ذریعے یوایس ایڈ میں یہ نیا فنڈ ایسے اختراعی اور موثر پروگراموں میں مد دے گا جن سے خواتین کے معاشی اختیار کو فروغ ملے بشمول:
  • ترغیبی فنڈ: عملی میدان میں نئے کاموں کے لیے ترغیب پیدا کرنے کی غرض سے 20 ملین ڈالر مختص کیے جائیں گے۔ ان کاموں میں حکومتی اداروں اور نجی شعبے کے ساتھ شراکتیں بھی شامل ہیں۔
  • خواتین کے لیے مفید روزگار کی ضمانت II: خواتین کاروباری ناظمین اور جنوب و جنوب مشرقی ایشیا میں ایسے کاروباروں کے لیے قرضوں کی صورت میں 100 ملین ڈالر کی جزوی ضمانت مہیا کی جانا ہے جن سے خواتین کو مدد ملتی ہو۔
  • پیپسی کو شراکت: انڈیا کی ریاست مغربی بنگال میں یوایس ایڈ اور پیپسی کو کی شراکت، جس کا مقصد پیپسی کو کے زرعی ترسیلاتی سلسلوں میں خواتین کے معاشی اختیار میں اضافہ کرنا۔
  • خدمات سے متعلق شراکت میں وسعت: ملاوی، موزمبیق، کوسوو، ال سلواڈور، گھانا اور لائبیریا میں توانائی کے شعبے میں خواتین کی شراکت اور قیادت میں اضافے کے پروگرام میں وسعت پیدا کی جائے گی۔
  • اپنی اشیا منڈیوں میں برآمد کرنے کے لیے خواتین کی اہلیت میں بہتری لانے کے لیے یوایس ایڈ اور یو پی ایس میں باہمی مفاہمت کی یادداشت طے پائی ہے ، جس میں ابتدائی طور پر افریقہ، ایشیا اور وسطی امریکہ پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
  • دفتر خارجہ میں خواتین کے عالمگیر مسائل سے متعلق شعبہ خواتین کاروباری ناظمین کو درپیش رکاوٹوں میں کمی لانے کے لیے سول سوسائٹی میں چھوٹے قرضے دینے کی تنظیموں کے ساتھ کام کرنے کے لیے ”وی رائز” نامی پروگرام شروع کرے گا۔
  • سمندر پار نجی سرمایہ کاری کے ادارے کے اقدامات:
  • امپیکٹ-فرسٹ ڈویلپمنٹ فنڈ: او پی آئی سی کی جانب سے عالمگیر شراکتوں کو 50 ملین ڈالر قرضہ دیا جائے گا اور یہ فنڈ خواتین قرض خواہوں کو مالی معاونت مہیا کرنے والے اداروں کی مدد کرے گا۔
  • انڈس انڈ بینک لمیٹڈ اور چھوٹے کاروبار سے منسلک خواتین کے لیے سہولت: او پی آئی سی کا جاری کردہ 100 ملین ڈالر کا قرضہ انڈیا میں انڈس انڈ بینک کی جانب سے خواتین کو چھوٹے قرضوں کی فراہمی کا سلسلہ وسیع کرنے میں مدد دے گا۔
  • پیس کور نے نجی عطیہ دہندگان سے 2025 تک سالانہ ایک ملین ڈالر اکٹھے کرنے کا وعدہ کیا ہے جس سے مقامی سطح پر معاشی ترقی، زراعت اور تعلیمی منصوبوں میں مدد ملے گی۔

یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں