rss

مشرق وسطیٰ میں امن و سلامتی پر مبنی مستقبل کے فروغ کے لیے وزارتی اجلاس

English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Русский Русский, Español Español

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
13 فروری 2019

 
 

خطے کے مشکل ترین مسائل کا حل

• مشرق وسطیٰ میں مسائل کی کوئی کمی نہیں ہے۔ اسلحے کے پھیلاؤ اور انسانی بحران سے لے کر دہشت گردی اور توانائی کے تحفظ تک اور ایسے دیگر مسائل خطے میں استحکام اور دنیا بھر کی سلامتی کے لیے سنگین خطرات کا باعث ہیں۔

• یہ وزارتی اجلاس ہمارے اتحادوں اور شراکتوں کو ازسرنو مضبوط بنا کر ان مسائل سے نمٹنے کی کوششوں کو تقویت پہنچائے گا۔ یہ دنیا کے ممالک کو موقع فراہم کرے گا کہ وہ خطے کے بارے میں اپنی آرا کا تبادلہ کریں اور ہمارے مشترکہ مسائل کے حل کی بابت اپنے خیالات پیش کریں۔

• اس اجلاس کا ایجنڈا وسیع امور کا احاطہ کرتا ہے جن میں اسرائیل اور فلسطینیوں میں جامع اور پائیدار امن کے فروغ کے لیے امریکی انتظامیہ کی کوششوں پر بات چیت اور جاری انسانی بحرانوں سے نمٹنے کے معاملے پر گفت و شنید بھی شامل ہو گی۔ وزیر خارجہ شام کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کرنے کے علاوہ خطے میں دیگر امریکی ترجیحات پر بات کریں گے جن میں ایران کی تباہ کن سرگرمیوں کے حوالے سے خدشات بھی شامل ہیں۔

• اس دوران چھوٹے اجلاسوں میں وزرا کو خصوصی تشویش کے حامل معاملات پر توجہ دینے کا موقع ملے گا جن میں میزائلوں کی تیاری اور پھیلاؤ، سائبر سکیورٹی اور ابھرتے ہوئے خطرات نیز دہشت گردی اور غیرقانونی مالیاتی سرگرمیوں جیسے مسائل شامل ہیں۔

• دنیا بھر سے آنے والے وزرا سے کہا گیا ہے کہ وہ وزارتی گفت و شنید کے ایک ایک اجلاس کی قیادت کریں جس سے مسلسل و متحرک بات چیت میں سہولت ملے گی۔

• جہاں امریکہ اپنے مفادات کی ترجمانی کرے گا وہیں ہم تمام دوسرے ممالک سے بھی یہی توقع رکھتے ہیں اور ہم اختلاف رائے کا خیرمقدم کریں گے۔ ہمیں امید ہے کہ کھری بات چیت سے سے سوچ کی نئی راہیں کھلیں گی اور دیرینہ و بار بار سامنے آنے والے مسائل کے حل میں مدد ملے گی۔

مضبوط اتحادوں اور شراکتوں کا فروغ

• یہ اجلاس ہمارے موجودہ اتحادوں کو مضبوطی بخشے گا جیسا کہ امریکہ اور ہمارے مشترکہ وزارتی میزبان پولینڈ کے مابین اتحاد قائم ہے۔ اس برس ہم پولینڈ کے ساتھ مضبوط سفارتی تعلقات کی 100ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ یہ اجلاس ہماری تزویراتی شراکت کی واضح مثال ہے جو دوطرفہ امور سے بھی آگے مشترکہ عالمگیر مفادات کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ ہماری نئی بننے والی شراکتوں کو بھی آگے بڑھائے گا۔

• اس اجلاس میں 50 سے زیادہ ممالک کے وزرائے خارجہ اور نمائندوں کی شرکت متوقع ہے جس سے یہ وزارتی اجلاس ایک تاریخی واقعہ بن جائے گا۔ اجلاس میں شرکت کرنے والوں میں اسرائیل، اردن، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور قطر جیسے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ دنیا کے دیگر حصوں سے شریک کار بھی شریک ہوں گے جن میں برطانیہ، جنوبی کوریا، برازیل، اٹلی اور کینیا جیسے ممالک شامل ہیں۔

• مضبوط امریکی قیادت کی موجودگی میں تعاون کا یہ نیا پلیٹ فارم باہمی ربط بڑھائے گا اور خطے کے مسائل کے شراکتی حل میں اضافہ کرے گا۔

• داعش کے خاتمے کی مہم کی کامیابی سے ثابت ہوتا ہے کہ مشترکہ مفادات کے حامل ممالک خطے میں اکٹھے کام کر کے کیسی کامیابی پا سکتے ہیں۔ حالیہ دنوں داعش کے خاتمے کے حوالے سے منعقدہ اجلاس میں عراق اور شام میں داعش خلافت کی مادی شکست کی خوشی منائی گئی۔

تیز ترقی اور رفتار برقرار رکھنے کا فریم وریک

• امریکہ اس اجلاس کو دنیا کے ممالک کے مابین بات چیت کے آغاز کے طور پر دیکھتا ہے۔ وزیر خارجہ پومپئو ممالک سے اس وزارتی اجلاس میں شروع ہونے والا مکالمہ جاری رکھنے کو کہیں گے۔

• ہدف کے حصول میں سہولت دینے کے لیے امریکہ اور پولینڈ اس اجلاس میں طے پانے والے امور پر عملدرآمد کے لیے ورکنگ گروپس کی تشکیل کا اعلان کریں گے جن کی میزبانی دنیا بھر میں شراکت دار ممالک کو ملے گی اور آئندہ مہینوں میں ورکنگ گروپس کے اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔
یہ گروپ ایسے ٹھوس اقدامات پر پیش رفت کی رفتار تیز کریں گے جن سے علاقائی امن اور استحکام کو فروغ ملتا ہو۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں