rss

مشرق وسطیٰ میں امن اور سلامتی پر مبنی مستقبل کے فروغ پر وزارتی اجلاس کے مشترکہ سربراہان کا بیان

English English, العربية العربية, Français Français, Español Español, Português Português

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
14 فروری 2019

 

13 اور 14 فروری کو 62 ممالک کے وزرائے خارجہ اور نمائندے پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں ہونے والی ایک کانفرنس میں اکٹھے ہوئے جس کا اہتمام پولینڈ کے وزیر برائے امور خارجہ اور امریکی وزیر خارجہ نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔ اس کانفرنس کا مقصد مزید محفوظ اور مستحکم مشرق وسطیٰ کے لیے کام کرنا تھا۔

اجلاس کے شرکا نے اس موضوع پر بات کی کہ مشرق وسطیٰ میں دہشت گردی، اسلحے کا پھیلاؤ اور تنازعات میں شدت کیسے علاقائی اور عالمگیر امن و سلامتی کے لیے خطرے کا باعث بن رہی ہے۔

شرکا نے اسلحے کے پھیلاؤ اور خطے میں بلسٹک میزائل پروگراموں سے برآمد ہونے والے خطرات پر بات کی۔ انہوں نے خطے میں انسانی  بحرانوں سے نمٹنے، متشدد انتہاپسندی کا مقابلہ کرنے، سائبر اور توانائی کے شعبے میں بنیادی ڈھانچے کو لاحق خطرات کی روک تھام اور غیرقانونی مالیاتی نیٹ ورکس کے خاتمے پر بھی بات چیت کی۔

اس وزارتی اجلاس میں وسیع اور مفید شرکت سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی برادری خطے میں عدم استحکام کے محرکات سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے۔ متعدد شریک ممالک نے خطے اور اس کے عوام کے لیے مزید خوشحال مستقبل کے فروغ کی خاطر مشترکہ طور پر کام جاری رکھنے کے ارادے کا اظہار کیا۔

اس مقصد کے لیے پولینڈ اور امریکہ کو عالمگیر ورکنگ گروپس کا اعلان کرتے ہوئے خوشی ہے جو درج ذیل شعبہ جات میں مسائل کے ٹھوس حل کی جانب پیشرفت کی رفتار تیز کریں گے۔ ان گروپس کے اجلاس دنیا بھر کے ممالک  میں ہوں گے جن کا مقصد خطے میں امن و سلامتی کے فروغ کے لیے عالمی برادری کے مشرکہ مفادات کو فروغ دینا ہے۔ ورکنگ گروپس کے حوالے سے اضافی معلومات آئندہ ہفتوں میں جاری کر دی جائیں گی۔

انسداد دہشت گردی اور غیرقانونی مالیات:

1۔ انسداد دہشت گردی اور غیرقانونی مالیات

میزائلوں کی تیاری اور اسلحے کے پھیلاؤ کی روک تھام:

2۔ میزائلوں کا پھیلاؤ

3۔ سمندری اور فضائی سلامتی

سائبر اور ابھرتے ہوئے خطرات کی روک تھام:

4۔ سائبر سکیورٹی

5۔ توانائی کا تحفظ

انسانی مسائل اور انسانی حقوق:

6۔ امداد سے متعلق مسائل اور مہاجرین

7۔ غط طور پر گرفتار شدہ لوگ اور انسانی حقوق

شریک میزبانوں نے اس اعلان کا خیرمقدم بھی کیا کہ ‘پولینڈ کا ادارہ برائے عالمی امور’ ماہرین کا عالمگیر فورم ‘دی مڈل ایسٹ سٹریٹجک سٹڈی سنٹر’ منعقد کرنے کے لیے ایک امریکی تھنک ٹینک کے ساتھ مل کر کام کا خواہش مند ہے۔ یہ فورم ورکنگ گروپس کی جاری کوششوں پر تزویراتی آگاہی مہیا کرنے کے لیے دنیا بھر سے ممتاز علمی اور موضوعی ماہرین کو مجاز کر سکتا ہے۔

خطے میں امریکہ اور پولینڈ کے متعدد مفادات مشترکہ ہیں۔ ان میں دیگر کے علاوہ انسانی حقوق کے احترام کا فروغ، متشدد انتہاپسندی کی روک تھام، اسلحے کے عدم پھیلاؤ کے عالمگیر اصولوں کا فروغ اور انسانی مسائل سے نمٹنا شامل ہیں۔ دونوں ممالک کو امید ہے کہ یہ وزارتی اجلاس اور اس کے بعد کام کرنے والے ورکنگ گروپ وارسا عمل کا آغاز بنیں گے جو ایک مشترکہ اور متحرک کوشش ہے اور خطے میں ایسے اور دیگر اہم مسائل پر پیش رفت ممکن بناتی ہے۔

مزید برآں پولینڈ اور امریکہ کی تجویز ہے کہ وزارتی اجلاس کے شرکا مستقبل میں ایک مرتبہ پھر اکٹھے ہوں اور ورکنگ گروپس کی پیش رفت پر بات چیت کریں۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں