rss

نائب صدر پنس کا وارسا میں وزارتی اجلاس کے موقع پر ظہرانے سے خطاب پی جی ای نیشنل سٹیڈیم

English English, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Español Español, Русский Русский

وائٹ ہاؤس
دفتر سیکرٹری اطلاعات
وارسا، پولینڈ

 

12:34 سہ پہر

نائب صدر: وزیراعظم موراویکی، وزیراعظم نیتن یاہو، وزیر پومپئو، قابل احترام حاضرین: مشرق وسطیٰ میں امن و سلامتی پر مبنی مستقبل کے فروغ پر اس پہلے وزارتی اجلاس میں آپ تمام لوگوں کے درمیان موجودگی میرے لیے اعزاز اور قدرافزائی کا باعث ہے۔

اپنی بات کے آغاز سے قبل میں تسلیمات پیش کرنا چاہوں گا۔ میں یہاں موجود ہر ملک کے دوست اور مشرق وسطیٰ میں امن و سلامتی کے علمبردار کی جانب سے آپ کو سلام پیش کرتا ہوں۔ میں ریاستہائے متحدہ امریکہ کے 45ویں صدر کی جانب سے  یہ تسلیمات لایا ہوں۔

دو سال قبل صدر ٹرمپ امریکہ کے صدر کی حیثیت سے اپنے پہلے دورے میں مشرق وسطیٰ گئے تھے۔ وہاں انہوں نے خطے بھر کے 50 ممالک کا تاریخی اجلاس بلایا جو کہ عرب اسلامی امریکی کانفرنس تھی۔

جیسا کہ صدر ٹرمپ نے اس وقت کہا تھا ”تہذیب کی جنم بھومی نشاۃ ثانیہ کے آغاز کی منتظر ہے۔” انہوں نے ہمیں انتہاپسندی پر فتح پانے اور دہشت گردی کی قوتوں کا خاتمہ کرنے کے لیے تاریخ کے عظیم امتحان کا اکٹھے سامنا کرنے کو کہا۔

آج میں یہاں صدر کی نمائندگی کرتے ہوئے 50 سے زیادہ ممالک کے رہنماؤں کے ایک اور بے مثل اجتماع کے روبرو کھڑا ہوں۔ اس موقع پر مجھے یہ کہنا ہے کہ امریکہ اس عظیم چیلنج سے نمٹنے اور امن کے ہمارے مشترکہ مقدر کو گرفت میں لینے کے لیے یہاں اکٹھے  ہونے والے تمام ممالک کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہے۔

ہم سب کا تعلق مختلف ممالک اور ثقافتوں سے ہے۔ ہمارے لوگ مختلف زبانیں بولتے ہیں۔ وہ ابراہیمی روایت اور اس سے الگ مختلف عقائد کی پیروی کرتے ہیں۔ مگر ہم سب مشرق وسطیٰ میں سلامتی و خوشحالی پر مبنی روشن مستقبل کی تشکیل کے مشن میں متحد ہیں۔

مشرق وسطیٰ کے لوگ کئی دہائیوں سے مصائب جھیلتے چلے آئے ہیں جن کے وطن سلامتی سے متعلق درپیش خطرات کے سبب عدم استحکام کا شکار رہے اور فرقہ واریت سے بھڑکنے والی خانہ جنگیوں سےلے کر قاتلانہ آمریتوں تک یہ خطرات آج بھی ہمارے ساتھ ہیں۔

گزشتہ شب ہی جدید مشرق وسطیٰ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ قریباً ہر بڑے ملک کے نمائندے مل بیٹھے اور باہمی دلچسپی کے امور پر کھل کر بات کی۔

امریکہ اور پولینڈ تعاون کی اس خارجی مثال  کا روشن مستقبل کی علامت کے طور پر خیرمقدم کرتے ہیں جس کا مشرق وسطیٰ کے ممالک کو انتظار ہے۔

آج ہم بہتر مستقبل کے وعدے اور خود کو درپیش مشترکہ خطرات کے باعث اکٹھے ہوئے ہیں۔ کوئی خطرہ بنیاد پرست اسلامی دہشت گردی اور ایسی آمرانہ حکومتوں سے زیادہ مہلک اور فوری توجہ کا متقاضی نہیں ہے جو اسے خطے اور دنیا بھر میں پھیلاتی ہیں۔

بنیاد پرست اسلامی دہشت گردی کی کوئی سرحدیں نہیں ہیں۔ یہ  امریکہ، اسرائیل، مشرق وسطیٰ اور دنیا بھر کے ممالک کو نشانہ بناتی ہے۔ یہ کسی عقیدے کی پروا کیے بغیر عیسائیوں، یہودیوں اور مسلمانوں کی جانیں لیتی ہے۔ بنیاد پرست اسلامی دہشت گردی وحشیانہ طاقت کے علاوہ کسی حقیقت کا ادراک نہیں رکھتی۔

اومان کے ساتھ دوستی اور تجارت کے معاہدے پر نظر ڈالی جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ 200 سال سے مشرق وسطیٰ میں اچھائی کی قوت کے طور پر اپنا کردار ادا کرتا چلا آیا ہے۔

میرے ملک میں سابق حکومتوں نے اکثروبیشتر امریکی عوام، ہماری سرزمین، ہمارے اتحادیوں اور ہمارے شراکت داروں کو بنیاد پرست اسلامی دہشت گردی سے درپیش خطرے کا درست اندازہ نہیں لگایا۔ ان کی بے عملی کے سبب ہمیں یو ایس ایس کول پر حملوں سے لے کر 11 دسمبر اور شام و عراق میں داعش کا پھیلاؤ اور اس کے بغداد کے نواح تک پہنچنے سمیت بہت سے واقعات کا سامنا ہوا۔ تاہم جیسا کہ دنیا نے گزشتہ دو برس میں دیکھا صدر ٹرمپ کی قیادت میں یہ دن لد چکے ہیں۔

پہلے دن سے ہی صدر ٹرمپ نے عالمی سطح پر امریکی قیادت کو بحال کیا۔ اپنی قومی سلامتی  کی حکمت عملی پر عملدرآمد کرتے ہوئے ہم نے امریکی سرزمین کے تحفظ، امریکی خوشحالی کے فروغ، امریکی مفادات کو ترقی دینے اور طاقت کے ذریعے امن قائم رکھنے کے لیے فیصلہ کن قدم اٹھایا۔

صدر ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ ایک مرتبہ پھر ملکی سلامتی اور خوشحالی کو پہلی ترجیح بنا رہا ہے۔ مگر جیسا کہ گزشتہ دو برس میں مشرق وسطیٰ اور دنیا بھر کے واقعات سے ظاہر ہے ”پہلے امریکہ” کا مطلب ”صرف امریکہ” نہیں ہے۔

جیسا کہ صدر نے کہا، امریکہ مشرق وسطیٰ میں ممالک کا ایسا اتحاد قائم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے جس کا مقصد انتہاپسندی کا قلع قمع کرنا اور ہمارے بچوں کو پرامید مستقبل دینا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں تبدیلی کی ہوائیں پہلے ہی محسوس کی جا سکتی  ہیں ۔اسرائیلی وزیراعظم نے کھلے عام اومان کا دورہ کیا۔ گزشتہ ہفتے ہی پوپ فرانسس متحدہ عرب امارات آئے۔ دیرینہ دشمن اب شراکت دار بن رہے ہیں۔ پرانے مخالفین تعاون کی نئی بنیاد ڈھونڈ رہے ہیں۔ اسحاق اور اسماعیل کی اولادیں مشترکہ مقصد کے لیے اکٹھی ہو رہی ہیں جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ یہ تاریخی کانفرنس اس حقیقت کی شہادت ہے کہ نیا دور شروع ہو چکا ہے۔

امریکہ نے کرہ ارض سے بنیاد پرست اسلامی دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے لیے اپنے تمام اتحادیوں کے ساتھ پوری عسکری طاقت سے کام لیا ہے۔

ہم نے بنیاد پرست اسلامی دہشت گردوں کے خلاف جنگ ان کی زمین اور اپنی شرائط پر لڑی ہے۔ صدر ٹرمپ نے داعش کو نشانہ بنانے اور اسے پیچھے دھکیلنے کے لیے  میدان جنگ میں اپنے کمانڈروں کو درکار اختیارات دیے ہیں۔ ہماری مسلح افواج کی جرات اور ہمارے 78 اتحادی شراتک داروں کی کوششوں کے سبب ہم نے لاکھوں عراقیوں، شامیوں، عربوں، کردوں، مسلمانوں، عیسائیوں، مردوں، خواتین اور بچوں کو آزاد کرایا۔ بہت جلد داعش کی خلافت کے زیرتسلط علاقہ ختم ہو جائے گا۔

ان کامیابیوں کے نتیجے میں صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ خطے میں یہ جنگ اپنے شراکت داروں کے حوالے کرنے اور اپنے فوجی دستے وطن واپس لانے کا عمل شروع کرے گا۔

یہ تدبیراتی تبدیلی ہے جسے مقصد میں تبدیلی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ امریکہ خطے میں اپنی مضبوط موجودگی برقرار رکھے گا۔ ہم جانتے ہیں کہ محض خلافت کی سرزمین واپس لینا کافی نہیں ہو گا۔ اب جبکہ ہم اس نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں تو امریکہ اپنے تمام اتحادیوں اور ان تمام ممالک کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا جو اس مہم میں بڑا کردار سنبھالنے والے ہیں۔

داعش کی باقیات جہاں کہیں اور جب کہیں اپنا بدنما سر اٹھائیں گی ہم اپنے اتحادی شراکت داروں کے تعاون سے انہیں ڈھونڈ کر ختم کریں گے۔ امریکہ مشرق وسطیٰ کو امن و خوشحالی کے لیے محفوظ بنانے اور انسانی حقوق کو فروغ دینے کے لیے خطے میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا رہے گا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے مابین پائیدار امن کے حصول کے لیے  پوری طرح پرعزم ہے۔

شام میں صدر ٹرمپ نے امریکی عسکری طاقت کو اپنے فرانسیسی اور برطانوی اتحادیوں کے ہمراہ مخصوص عسکری حملوں اور شام کی جانب سے اپنے عوام کے خلاف کیمیائی عصبی گیس کے استعمال کا جواب دینے کے لے استعمال کیا۔ امریکہ اور ہمارے اتحاد ی معصوم مرد، خواتین اور بچوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال برداشت نہیں کریں گے۔ ہم اسد حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے مزید استعمال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

ایسے اقدامات اور موقف کے ساتھ امریکہ دیرینہ اتحادوں کو مضبوط بنانے اور نئی شراکتیں تشکیل دینے میں مصروف ہے۔ صدر ٹرمپ ایسے رہنما ہیں جو طاقت کے ذریعے آزاد دنیا کی قیادت کے خواہاں ہیں۔ ہم ہمیشہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور اپنی اقدار کا تحفظ کریں گے۔

امریکہ اپنے اتحادی اسرائیل کا ساتھ دینے میں کبھی ناکام نہیں رہے گا۔ ہم معصوم شہریوں یا آزاد اور غیرجانبدار میڈیا پر حملوں کا مقابلہ کریں گے اور یہ مطالبہ جاری رکھیں گے کہ جمال خاشقجی کے قتل کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

مگر آج ہم یہاں اس لیے موجود ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں سلامتی، خوشحالی اور انسانی حقوق کے فروغ کا ہمارا مشترکہ عزم اور اس روشن مستقبل کی راہ میں حائل واحد سب سے بڑے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے ہماری مشترکہ ذمہ داری  ہی ہمیں متحد بناتی ہے۔

گزشتہ شب غیرمعمولی اہمیت کی حامل تھی۔ اس تاریخی کانفرنس کے آغاز میں خطے بھر کے رہنماؤں میں اتفاق پایا گیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران مشرق وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔

چالیس برس پہلے اسی مہینے ملاؤں نے اس ملک میں اقتدار پر قبضہ کیا تھا ۔ اس کے بعد ہر سال انہوں نے اپنے دہشت گرد آلہ کاروں اور حزب اللہ و حماس جیسی ملیشیاؤں کی معاونت کی، میزائل برآمد کیے اور شام، یمن و دیگر جگہوں پر جنگوں کی آگ بھڑکائی۔

ایرانی حکومت دنیا میں ریاستی سطح پر دہشت گردی کی سب سے بڑی معاون ہے۔ انہوں  نے امریکی سفارت خانوں پر بم حملے کیے، سینکڑوں امریکی فوجیوں کو قتل کیا اور آج بھی وہ امریکہ و دیگر مغربی ممالک کے شہریوں کو یرغمال بنائے ہوئے ہیں۔

ایران نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلے عام حکم عدولی کی، قراردادوں کو پامال کیا اور یورپی سرزمین پر دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کی۔

جیسا کہ صدر ٹرمپ نے کہا ہے، ایرانی حکومت نے اپنے ہی لوگوں کی دولت لوٹ کر تباہی اور دہشت کے اپنے طویل اقتدار کو مالی سہارا دیا۔

تہران میں  آمرانہ حکومت اظہار اور اجتماع کی آزادی کو دباتی، مذہبی اقلیتوں پر مظالم ڈھاتی، خواتین سے وحشیانہ سلوک کرتی، ہم جنس پرستوں کو پھانسیاں دیتی اور کھلے عام اسرائیلی ریاست کی تباہی کی بات کرتی ہے۔ آیت اللہ خمینی نے خود کہا تھا ”اسرائیل کو دنیا کے نقشے سے مٹانا اسلامی جمہوریہ ایران کا مقصد ہے۔”

آج بعدازاں میری اہلیہ اور میں وارسا کی بستی کے یہودی جنگجوؤں کی یادگار پر پھول چڑھائیں گے۔ کل ہم آشوٹز کے  اپنے پہلے دورے میں ہولوکاسٹ کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کریں گے۔

نازی قبضے کے تاریک برسوں سے پولینڈ کے عوام اچھی طرح آگاہ ہیں کہ یہودی مخالفت محض غلط کام نہیں بلکہ یہ ایک برائی ہے۔ یہودی مخالفت جہاں کہیں اور جب کبھی سامنے آئے اس کا مقابلہ ہونا چاہیے اور اس کی عالمگیر مذمت ہونی چاہیے۔

تاہم نفرت پر مبنی ان بیانات سے بھی بڑھ کر ایرانی حکومت کھلے عام ایک اور ہولوکاسٹ کی حامی ہے اور اس مقصد کو پورا کرنے کے ذرائع کا حصول چاہتی ہے۔ ایران ملاؤں کی جدید آمریت کے تحت قدیم ایرانی سلطنت دوبارہ قائم کرنا چاہتا ہے۔ جیسا کہ ہم نے کہا، یہ حکومت عراق، شام اور لبنان میں اپنے اثرورسوخ کی راہداری بنانا چاہتی ہے تاکہ اپنی افواج اور اس کے نظریے کے لیے محفوظ راستہ تخلیق کیا جائے۔ نتیجتاً اس نے اپنے پیچھے تباہی چھوڑی ہے۔

شام میں ایرانی فوجی دستوں نے اسد حکومت کی مدد کی اور اس آمر کی اپنے ہی عوام کے خلاف وحشیانہ جنگ کو تقویت پہنچائی۔

لبنان میں ایرانی آلہ کار حزب اللہ نے ایران کے فراہم کردہ جدید رہنما نظام سے مزین ایک لاکھ سے زیادہ راکٹ اور میزائل جمع کر رکھے ہیں۔

یمن میں حوثی باغی حکومت کے خلاف جنگ کرنے اور ملک بھر میں تباہی پھیلانے کے لیے ایرانی ساختہ راکٹ استعمال کرتے ہیں۔

عراق میں ایرانی پشت پناہی سے کام کرنے والی ملیشیائیں عراقی حکومت کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے کام کر رہی ہیں۔ یہ امریکی مفادات کو نشانہ بنانے، اقلیتوں کو دھمکانے اور داعش کے مظالم سے چھٹکارا پانے کے بعد عراق کی  مدد کے لیے دی گئی اہم عالمی امداد چرانے میں مصروف ہیں۔

ایران نے اپنی ان مداخلتوں کے سبب خطے میں ایسا انسانی بحران پیدا کیا ہے جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ شام میں 5.7 ملین سے زیادہ لوگ اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

یمن میں دس لاکھ سے زیادہ افراد کو ہیضہ ہوا اور مزید لاکھوں کو صاف پانی تک رسائی میسر نہیں ہے۔ بھوک اس قدر عام ہے کہ ہر دس منٹ بعد ایک بچہ کسی ایسی بیماری کا شکار ہو کر مر جاتا ہے جس کی روک تھام مکمل طور پر ممکن ہے۔

اگرچہ عراق میں داعش کی خلافت کا خاتمہ ہو گیا ہے تاہم 1.8 ملین عراقی تاحال  اپنے گھروں کو واپس نہیں پہنچ سکے۔

مشرق وسطیٰ میں زیر جبر لوگوں کی حالت اور ان پر جبر کرنے والوں سے درپیش خطرے نے امریکہ کو عملی اقدام پر مجبور کیا۔

ہماری مسلح افواج کی جرات کی بدولت اب پانچ ملین سے زیادہ لوگ داعش کی قید سے آزاد ہیں۔

امریکی عوام کی فیاضی کی بدولت امریکہ مشرق وسطیٰ بھر میں بہت سے بحرانوں سے متاثرہ لوگوں کو انسانی امداد اور سویلین معاونت کی مد میں 9 ارب ڈالر سے زیادہ مہیا کر چکا ہے۔  یہ کرہ ارض پر کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ دی جانے والی امداد ہے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ میں اچھائی کی قوت رہا ہے۔ مگر ملاؤں کے تحت ایرانی حکومت 40 برس تک بدعنوانی، 40 سالہ جبر، 40 سالہ دہشت اور 40 سالہ ناکامی سے عبارت ہے۔

طویل عرصہ تک امریکہ نے بنیاد پرست اسلام کے خطرات کا قلع قمع کرنے کی کوشش کی جو اسلام کے سنی اور شیعہ دونوں بڑے دھاروں کو زہرآلود کر رہے ہیں۔ یہ ایسی بنیاد پرستی ہے جو ہر طرح کے اختلاف اور انحراف کو کچل دینا چاہتی ہے۔

گزشتہ امریکی حکومتوں کی جانب سے ہر قیمت پر امن کی خواہش نے انہیں ہمارے مشترکہ دشمن کے ساتھ شیطانی معاہدے پر مجبور کیا ۔ یہ مشرق وسطیٰ میں ہمارے اتحادیوں اور شراکت داروں کا دشمن ہے۔

تاہم موجودہ انتظامیہ کے پہلے دن سے صدر ٹرمپ نے ایران کے اچھے لوگوں کا ساتھ دینے اور ان پر جبر کرنے والوں کے خلاف کھڑے ہونے کا وعدہ کیا۔ ہم نے یہی کچھ کیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے جب امریکہ کو تباہ کن ایرانی جوہری معاہدے سے باہر نکالا تو اپنے وعدے کا پاس کیا۔ نام نہاد مشترکہ جامع منصوبہ عمل ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے میں ناکام رہا۔ اس معاہدے سے محض اس دن کی آمد میں کچھ تاخیر ہوئی جب یہ کریہہ حکومت دنیا کے مہلک ترین ہتھیاروں تک رسائی پا لے گی۔

گزشتہ شب اسی کانفرنس میں بات کرنے والوں کا نکتہ نظر یہ تھا کہ جوہری معاہدے کے بعد ایران نے مزید جارحانہ طرزعمل اختیار کر لیا ہے۔

امریکہ نے ایران پر پابندیوں کا ازسرنو نفاذ کیا جنہیں اٹھایا ہی نہیں جانا چاہیے تھا اور ہم نے ایرانی حکومت کو دنیا بھر میں دہشت گردی اور تباہی کے لیے مالی معاونت سے روکنے کی غرض سے ایک نئی مہم شروع کی ہے۔

تب سے اب تک متحدہ عرب امارات نے ایران سے منجمد گیس کی درآمد منسوخ کر دی ہے۔ بحرین اپنے ہاں متحرک ایرانی پاسداران انقلاب کے آلہ کاروں کو سامنے لا رہا ہے اور خطے میں ایران کی غیرقانونی سمندری سرگرمیوں کو روکنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ دنیا بھر کے ممالک ایرانی تیل کی درآمدات صفر پر لانے کے لیے عمل پیرا ہیں۔

تاہم یہ افسوسناک امر ہے کہ ہمارے بعض نمایاں یورپی شراکت داروں نے اتنا تعاون نہیں کیا۔ درحقیقت انہوں نے ہماری پابندیوں کو توڑنے کا طریقہ کار تخلیق کرنے کی کوششیں کی ہیں۔

دو ہی ہفتے پہلے جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے عکسی لین دین کی نگرانی کے ایک خصوصی مالیاتی طریقہ کار کی تخلیق کا اعلان کیا جو یورپی یونین کے کاروباروں اور ایران میں ایسی ادائیگیوں کی جگہ لے گا جو پابندیوں کی زد میں آتی ہیں۔

انہوں نے اس منصوبے کو ”خصوصی مقاصد کے حصول کا ذریعہ” قرار دیا ہے۔ ہم اسے ایران کی قاتلانہ انقلابی حکومت کے خلاف امریکی پابندیاں توڑنے کی کوشش کہتے ہیں۔ یہ ایک غیرمحتاط قدم ہے جس سے ایران مضبوط ہو گا، یورپی یونین کمزور ہو گی اور امریکہ و یورپ کے مابین فاصلہ بڑھ جائے گا۔

بعض لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ ایران تکنیکی طور پر اس معاہدے کی شرائط پر پورا اتر رہا ہے۔ مگر شرائط پوری کرنا اہم بات نہیں بلکہ یہ معاہدہ ہی اصل مسئلہ ہے۔

آج امریکہ نے ایران کے خلاف تاریخ کی کڑی ترین پابندیاں عائد کر رکھی ہیں اور جب تک ایران اپنے خطرناک اور تخریبی طرزعمل میں تبدیلیاں نہیں لاتا اس وقت تک ان میں مزید سختی آتی جائے گی۔ جیسا کہ صدر ٹرمپ نے کہا ہے ”بہت مصائب، اموات اور تباہی ہو چکی۔ آئیے اب اسے ختم کریں۔”

وقت آ گیا ہے کہ ہمارے یورپی شراکت دار ہمارا اور ایرانی عوام کا ساتھ دیں اور خطے میں ہمارے اتحادیوں اور دوستوں کے ساتھ کھڑے ہوں۔ وقت آ گیا ہے کہ ہمارے یورپی شراکت دار ایرانی جوہری معاہدے سے دستبردار ہو جائیں اور ایرانی عوام، خطے اور دنیا کو امن، سلامتی اور آزادی دینے کے لیے ایران پر معاشی و سفارتی پابندیاں عائد کرنے میں ہمارا ساتھ دیں۔

ہمیں یہ موقع کھونا نہیں چاہیے۔ جون 2009 میں ایرانی حکومت نے اقتدار پر قبضہ برقرار رکھنے کے لیے انتخابات چرائے۔ اس پر جب ایرانی عوام سبز انقلاب کا نعرہ لگا کر بطور احتجاج سڑکوں پر نکلے تو گزشتہ امریکی حکومت نے آواز بلند کرنے سے انکار کیا۔ بالاآخر کانگریس کے اقدام پر امریکہ نے ایرانی عوام کی حمایت کا اعلان کیا۔

کانگریس کے رکن کی حیثیت سے دونوں جماعتوں کی حمایت سے قرارداد لانا میرا استحقاق تھا جو کہ بھاری اکثریت سے منظور ہوئی اور اس سے ایرانی عوام کے لیے امریکی حمایت کا اظہار ہوا۔ اس قرارداد کے بعد ہی ہماری حکومت نے ایرانی عوام کے حق میں آواز اٹھائی۔ تاہم جلد ہی ملاؤں اور ان کے پٹھوؤں نے دنیا کی بزدلی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آزادی پسند ایرانیوں کے خلاف قتل وغارت، قیدوبند اور دہشت کا بازار گرم کر دیا۔

قبل ازیں دنیا نے ایرانی حکومت کو روکنے کا موقع کھو دیا مگر اس مرتبہ ایسا نہیں ہو گا۔ اس مرتبہ ہم سب کو مضبوط ہونا ہے۔ ایرانی معیشت گراوٹ کا شکار ہو رہی ہے اور ایرانی عوام سڑکوں پر نکل رہے ہیں، ایسے میں آزادی پسند اقوام کو ایرانی حکومت کے احتساب کے لیے اکٹھے ہونا ہو گا اور اس سے اپنے عوام، خطے اور پوری دنیا پر تشدد مسلط کرنے کا حساب لینا ہو گا۔

لہٰذا میں یہاں موجود مشرق وسطیٰ میں امن و سلامتی کی مشترکہ سوچ کے حامل تمام ممالک سے امریکی صدر اور امریکی عوام کی جانب سے یہ وعدہ کرتا ہوں کہ اگر آپ اس اچھے مقصد میں ہمارا ساتھ دیں گے تو ہم آپ کا ساتھ دیں گے۔ ہم مل جل کر ایک مشترکہ مستقبل تعمیر کریں گے جس کی بنیاد ماضی کی بہترین روایات پر ہو گی۔

یہ سوچ کر حیرت ہوتی ہے کہ قریباً 4000 سال پہلے ایک شخص نے کلدانیوں کے شہر اُر میں اپنا گھر چھوڑا اور شمال کی جانب طویل سفر اختیار کیا۔ وہ بادشاہ نہیں تھا۔ اس کے پاس کوئی فوج بھی نہیں تھی۔ اس نے کوئی معجزے بھی نہیں دکھائے تھے۔ وہ غیب کا حال بھی نہیں بتاتا تھا تاہم اس کے باوجود اس سے وعدہ کیا گیا کہ ”اس کی اولاد آسمان کے تاروں جتنی ہو گی۔”

آج یہودی، عیسائی اور مسلمان ابراہیم کو اپنا مذہبی جدامجد کہتے ہیں اور یہ سچ ہے۔دنیا کی نصف سے زیادہ اور مشرق وسطیٰ کی قریباً تمام آبادی ان مذاہب پر مشتمل ہے۔

اب جبکہ ہم اس تاریخی کانفرنس میں جمع ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ اس ابراہیمی روایت کی بنیاد پر ہم مشرق وسطیٰ کے تمام لوگوں اور تمام عقائد کے لیے روشن مستقبل کی مضبوط بنیاد ڈھونڈ سکتے ہیں۔ یہ محض ہمارے تصورات کی بات نہیں بلکہ اسی وقت یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔

اگر ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ خطے کے لیے مجموعی طور پر کیا بہتر ہو سکتا ہے تو پھر ہمارے لیے قدیم یروشلم کی مثال ہی کافی ہے۔ وہاں تین عظیم مذاہب کے پیروکار ایک دوسرے سے مستقل ملتےجلتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ روزانہ ہر عقیدہ نئے انداز میں زندگی پاتا ہے۔

حرم شریف میں ہم نوجوان مسلمانوں کو سجدہ ریز دیکھتے ہیں۔ گنبد والے کلیسا میں ہم ایک عیسائی بچے کو بپتسمہ لیتا دیکھتے ہیں۔ مغربی دیوار پر ہم ایک نوجوان یہودی لڑکے کو مذہبی حکم نامہ پڑھتا دیکھتے ہیں۔ ہم وہاں جو کچھ دیکھتے ہیں وہ سب کچھ پورے مشرق وسطیٰ میں بھی ممکن ہے۔ صدر ٹرمپ کی یہی سوچ ہے۔ ہمارے ملک اور دنیا بھر میں امن پسند لوگوں کی یہی امید اور خواہش ہے۔

لہٰذا آج آپ سبھی کے ساتھ موجودگی میرے لیے اعزاز ہے۔ ہم یہاں موجود تمام قابل احترام شخصیات اور اپنے میزبان ملک پولینڈ کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ یہاں آمد پر آپ کا ایک مرتبہ پھر شکریہ۔

جس کسی کو بھی یہ شبہ ہے کہ نجانے کبھی مشرق وسطیٰ میں امن آئے گا یا نہیں، اسے میں کہتا ہوں کہ اگر ہم اس وعدے کو منظر رکھیں تو ہماری کارکردگی اچھی رہے گی جو اس شخص سے کیا گیا تھا جس نے کئی صدیاں پہلے وہ سفر اختیار کیا جس کا میں نے تذکرہ کیا ہے۔ یہ قدیم الفاظ میں کیا گیا وعدہ تھا کہ ”یقیناً میں تم پر اپنی رحمت کروں گا۔”

میں صدق دل سے یقین رکھتا ہوں کہ ہم اس خطے، دنیا کے تمام لوگوں، اپنے اور اپنی آئندہ نسلوں کے لیے وہ رحمت ازسرنو پا سکتے ہیں۔ اگر ہم یقین کے ساتھ اور اکٹھے طلب کریں تو مجھے یقین ہے کہ خدا ہمیں امن سے نوازے گا۔ تو آئیے آغاز کریں۔ شکریہ، خدا آپ پر رحمتیں کرے۔ (تالیاں)

اختتام

12:58 سہ پہر


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں