rss

وزیر خارجہ مائیکل آر پومپئو اور پولینڈ کے وزیر برائے امور خارجہ یاکزیک زیپوٹوز کی پریس کانفرنس

English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Español Español

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
14 فروری 2019

 

وارسا، پولینڈ

وزیر پومپئو: سہ پہر بخیر۔ میں آج حاصل ہونے والی کامیابیوں کے بارے میں وزیر خارجہ کی باتوں کو دہرانا نہیں چاہتا۔ یقیناً ہم سوال و جواب کے موقع پر اس بارے میں مزید بات کر سکتے ہیں۔ میں ان تمام باتوں سے متفق ہوں۔

ہمیں خوشی ہے کہ ہم آپ اور آپ کے ملک کی شراکت کے اہل ہیں۔ وزیر خارجہ زیپوٹوز، اس تمام کارروائی سے آپ کی ذاتی وابستگی کا بے حد شکریہ۔ میں سمجھتا ہوں کہ مشرق وسطیٰ میں امن اور سلامتی پر مبنی مستقبل کے فروغ کے لیے یہ پہلا وزارتی اجلاس دونوں ممالک اور یورپ کے علاوہ ان لوگوں کی سلامتی کے حوالے سے بھی دیرپا قدروقیمت کا حامل ہو گا جو مشرق وسطیٰ میں رہ رہے ہیں۔ اب دونوں ممالک سفارتی تعلقات کی 100ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ آپ اس اقدام میں غیرمعمولی شریک کار اور بہت سے شعبوں میں ہمارے حقیقی اتحادی رہے ہیں۔

اس اجلاس میں 60 سے زیادہ ممالک شریک ہوئے۔ یہ پہلا موقع ہے جب ہم نے اس معاملے پر کوئی وزارتی اجلاس بلایا ہے۔ اس طرح یہ بجائے خود ایک کامیابی ہے۔ ہمارے ساتھ نیٹو اور یورپی یونین کی نمائندگی بھی موجود تھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب اس لیے یہاں آئے کہ انہیں اندازہ ہے یہ مشرق وسطیٰ میں امن و سلامتی کو درپیش مسائل سے نمٹنے کی اہم جگہ ہے۔ ہم سبھی جانتے ہیں کہ یہ مسائل اور خطرات مشرق وسطیٰ تک ہی محدود نہیں رہتے بلکہ اس سے آگے دیگر دنیا کو بھی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ یہ یورپ اور امریکہ تک دنیا بھر میں پھیلیں گے اور میں سمجھتا ہوں کہ اسی لیے لوگ بھرپور انداز میں اس اجلاس میں شریک ہوئے۔

ہم ہر ملک پر زور دے رہے ہیں کہ وہ ان موجودہ خطرات کے سامنے اپنے لوگوں کو تحفظ دینے کے لیے نئے اقدامات اٹھائے خواہ یہ خطرہ شام سے ہو، یمن سے یا اسلحے کے پھیلاؤ سے درپیش ہو۔ ہم نے اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین امن عمل کی بابت تفصیلی بات چیت کی۔ ہم نے دہشت گردی، ایران اور سائبر سکیورٹی اور انسانی بحرانوں پر بات کی۔ یہ مسائل ہم تمام ممالک اور امریکی عوام کے لیے سلامتی کے حوالے سے وسیع اثرات کے حامل ہیں۔ یہ چیزیں جادوئی طریقے سے خود بخود ٹھیک نہیں ہو جاتیں بلکہ ایسے مسائل نیک نیت اقوام کی جانب سے حقیقی حل ڈھونڈنے کے لیے مل بیٹھنے سے حل ہوتے ہیں۔

ہم حالیہ مسائل سے نمٹنے کے لیے مختلف طریقہ ہائے کار تلاش کرنے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔ ہم اچھی طرح آگاہ ہیں کہ ہر ملک یکساں نکتہ نظر کا حامل نہیں ہے اور طریق کار نیز مستقبل کی راہ بارے ایک جیسے نتائج پر نہیں پہنچتا اور اس میں کوئی برائی بھی نہیں۔ یقیناً ہم نے اس اجلاس میں بھی یہی دیکھا ہے۔ میں یہ بھی کہوں گا کہ اس اجلاس کے انعقاد کی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے دور کے خطرات سے نمٹنے کے لیے نئے اتحاد بنانے کے لیے صدر ٹرمپ کے سفارتی عزم کا عملی مظاہرہ چاہتے تھے۔ ہم نے اسی بات کو آگے بڑھایا جو میں نے چند ہفتے قبل قاہرہ میں کہی تھی کہ ہم اچھائی کی طاقت کے طور پر مشرق وسطیٰ میں قائدانہ کردار ادا کرتے رہیں گے۔

اسی لیے میں وزیر خارجہ کی بات کی جانب توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ یہ واقعتاً ایک تاریخی اجتماع تھا۔ گزشتہ شب کھانے پر عرب اور اسرائیلی رہنما انتہائی یکساں اور مشترکہ مفاد پر بات چیت کے لیے ایک ہی کمرے میں جمع ہوئے۔ اس بات سے انکار نہیں ہو سکتا کہ خطے میں ایرانی جارحیت اسرائیل اور عرب ممالک کو ایک دوسرے سے قریب لے آئی ہے۔ میری رائے میں جو بات اس سے بھی زیادہ غیرمعمولی تھی وہ یہ کہ یہ سب کچھ تاریخی محسوس نہیں ہوا۔ میں نے اسے درست اور عام سا محسوس کیا کیونکہ ہم ایک ایسے مسئلے پر کام کر رہے ہیں جو سبھی کو یکساں طور سے درپیش ہے۔

یہاں میں اس بات پر اپنی گفتگو کا اختتام کرنا چاہوں گا کہ امریکہ تمام شریک ممالک کے کردار پر ان کا مشکور ہے۔ مشرق وسطیٰ کی سلامتی کے متعلق ہمارے تعاون کا مستقبل یہیں سے ہی روشن ہو سکتا ہے۔ شکریہ۔

سوال: شکریہ، اس پریس کانفرنس کے انعقاد پر آپ دونوں حضرات کا شکریہ۔ جناب وزیر، مجھے آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ نائب صدر نے ظہرانے کے موقع پر آپ کے تین قریب ترین اتحادیوں فرانس، جرمنی اور برطانیہ پر نہایت کھل کر تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایران کی قاتلانہ انقلابی حکومت کے خلاف امریکی پابندیاں توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں اور انہیں ہمارا ساتھ دینا اور صدر ٹرمپ کی طرح جوہری معاہدہ ترک کرنا ہو گا۔ کیا آپ ہمیں بتا سکتے ہیں کہ اگر وہ نائب صدر کے مشورے پر عمل نہیں کرتے تو انہیں کیسے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا؟

یہ بھی بتائیے کہ آپ دو ہفتوں میں شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات کرنے جا رہے ہیں تو ایسے میں ہمیں ایرانی معاہدے کے حوالے سے کیسے سوچنا چاہیے۔ کیا آپ کا یہی نکتہ نظر ہے جبکہ نائب صدر نے اس حوالے سے بے حد تنقیدی موقف اختیار کیا ہے جیسا کہ صدر بھی کہہ چکے ہیں کہ آپ کو شمالی کوریا والوں سے اس اجلاس میں یا بعدازاں اس سے کہیں زیادہ حاصل کرنا چاہیے جو اوباما انتظامیہ نے ایران سے حاصل کیا تھا؟ دوسرے الفاظ میں آپ کو شمالی کوریا کا 97 فیصد سے زیادہ تیل روکنے کی ضرورت ہے تبھی آپ ایسا معاہدہ کر سکتے ہیں جس کی بدولت ان کی اسلحے کی پیداوار 15 سال سے زیادہ عرصہ تک منجمد ہو جائے جس کے بارے میں آپ کہہ چکے ہیں یہ بہت کم عرصہ ہے؟

وزیر پومپئو: ڈیوڈ آپ مجھ سے یہ دوسرا سوال پہلے بھی متعدد مواقع پر پوچھ چکے ہیں۔ میں آپ کو اس کا وہی جواب دوں گا جو پہلے دے چکا ہوں۔ تاہم میں اسے سراہتا ہوں۔ آپ یہ 58ویں مرتبہ بھی پوچھ سکتے ہیں۔ اگر میں اچھا ہوا تو آپ کو 58ویں مرتبہ بھی وہی جواب دوں گا۔

جہاں تک پہلے سوال کا تعلق ہے تو دیکھیے ہم اس بارے میں بالکل واضح ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں ایران پر مزید پابندیاں اور دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس سے ایرانی عوام کو وہ سب کچھ حاصل کرنے کا موقع ملے گا جس کے وہ بے حد حقدار ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس سے بدعنوان ایرانی حکومت کی اس دولت اور وسائل تک رسائی روکنے میں مدد ملے گی جو اسے وہ تباہی پھیلانے کے لیے درکار ہے جس کے بارے میں ہم ان دو روز میں دنیا بھر کے ممالک سے سن چکے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بے حد اہم بات ہے۔ ہماری رائے میں یہی وہ چیز ہے جو ایسے نتائج لائے گی جن کی بدولت بالاآخر ہم اس جگہ پہنچیں گے جہاں ہم ایسا ہی اجلاس بلائیں گے اور اس میں ایران کا تذکرہ نہیں ہو گا۔ تب وہ شام میں خطرات پیدا نہیں کرے گا، یمن میں انسانی بحران تخلیق نہیں کرے گا، جنوبی امریکہ میں حزب اللہ کی مالی معاونت نہیں کرے گا اور یورپ بھر میں قاتلانہ مہمات نہیں چلائے گا۔ ہم ایرانی قیادت پر معاشی دباؤ ڈالنے کی خواہش میں بالکل واضح اور کسی غلطی پر نہیں ہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ آپ نے آج نائب صدر کی زبانی جو کچھ سنا وہی بالکل اسی تناظر میں تھا۔ جیسا کہ صدر ٹرمپ بالکل واضح ہیں، ہم ہر ملک کی خودمختاری کا احترام کرتے ہیں۔ انہیں اپنے مستقبل کی راہ خود متعین کرنا ہے۔ مگر امریکہ دنیا کے تمام ممالک کو اس امر پر قائل کرنے کے لیے پرعزم ہے کہ آیت اللہ، صدر روحانی اور قاسم سلیمانی کی اس رقم تک رسائی روکنا ہم سب کے مجموعی مفاد میں ہے جس کی  انہیں دنیا میں دہشت کی سب سے بڑی معاون ریاست  کو چلانے کے لیے ضرورت ہے۔

جہاں تک ایران اور شمالی کوریا کے موازنے کا معاملہ ہے تو ہمارے سامنے یہ دو بہت مختلف صورتحال ہیں۔ ہم  آئندہ دو ہفتوں میں زیادہ سے زیادہ پیش رفت چاہتے ہیں۔ یہ محض جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کا معاملہ نہیں جس پر دونوں رہنماؤں نے سنگاپور میں اتفاق کیا تھا۔ یقیناً ہم اس پر بھی بات کریں گے کہ تناؤ میں تیزی سے کمی کیسے لائی جائے، عسکری خطرہ کیسے کم کیا جائے، اس خطرے کو اتنا کم کیسے کیا جائے کہ جزیرہ نما میں امن اور سلامتی کا حصول ممکن ہو سکے۔ ہم اس پر بھی بات کریں گے کہ شمالی کوریا کے عوام کے لیے روشن مستقبل کیسے ممکن ہے۔ جی بالکل یہی ہمارا ارادہ ہے۔ ہم اپنے مقصد میں بالکل واضح ہیں اور وہ جزیرہ نما کوریا کو قابل تصدیق طور سے جوہری اسلحے سے پاک کرنا ہے۔ مجھے امید ہے کہ چند ہفتوں میں ہم اس سمت میں حقیقی پیش رفت کریں گے۔

وزیر پومپئو: مجھے اس میں اضافہ کرنا ہے۔ جناب وزیر، آپ نے مجھے کچھ یاد دلا دیا۔ حال ہی میں یورپیوں اور امریکیوں نے ایران کے خلاف بہت سی جگہوں پر اکٹھے کام کیا ہے، کیا ایسا ہی ہے؟ جرمنوں نے ماہان ایئر کو اپنے ملک میں گزرنے سے روکا۔ ان میں بہت سے ممالک نے اپنے ہاں قاتلانہ حملوں پر جو ردعمل دیا وہ انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ سے پہلے نہیں دیا تھا۔ ایسے بہت سے معاملات ہیں جہاں ہم نے باہم مل کر کام کی اہلیت کا مظاہرہ کیا ۔۔۔

سوال: میزائل بھی انہی میں شامل ہیں؟

وزیر پومپئو: معذرت چاہتا ہوں، میں آپ کی بات نہیں سمجھا۔

سوال: آپ نے میزائلوں کے معاملے میں تعاون کا تذکرہ کیا؟

وزیر پومپئو: جی، اس سلسلے میں مزید کام باقی ہے مگر ایسا ہوا ہے۔ مجھ امید ہے کہ ہم اس پر کام جاری رکھ سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی قرارداد 2231 بالکل واضح طور سے کہتی ہے کہ ایرانیوں نے سلامتی کونسل کی میزائلوں سے متعلق قرارداد کی کھلی خلاف ورزی کی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہم پوری دنیا کو اس معاملے پر اپنے ساتھ لینے میں کامیاب رہیں گے۔

سوال: کیا آج کے اجلاس میں بھی اس پر کوئی پیشرفت ہوئی؟

وزیر پومپئو: میں نے اس پر بہت سی باتیں کیں۔ جی میں کہوں گا کہ اس پر پیشرفت ہوئی ہے۔ مگر یقیناً جب تک آپ ایک مخصوص لکیر پار نہیں کرتے اس وقت تک فتح کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا اور فی الوقت ہم اس لکیر تک نہیں پہنچے۔

سوال: (انگریزی میں) اگر اجازت ہو تو مجھے وزیر خارجہ پومپئو کے لیے سوال کا دوسرا حصہ پوچھنا ہے۔ میں آپ کے ان الفاظ کا حوالہ دینا چاہوں گا جو آپ نے دو روز قبل وزیر خارجہ زیپوٹو زکے ساتھ ملاقات میں کہے تھے۔ آپ کا کہنا تھا کہ ”میں پولینڈ کے اپنے ہم منصبوں پر زور دیتا ہوں کہ وہ املاک کی واپسی کے معاملے پر آگے بڑھیں۔ کیا آپ وضاحت کر سکتے ہیں کہ اس بات سے آپ کی کیا مراد تھی؟ شکریہ۔

وزیر پومپئو: آپ شرط لگا لیں۔ میرے پاس آپ کے دوسرے سوال کے حوالے سے اپنے بیان میں مزید اضافے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ اسی لیے ہم اس بات کو یہیں چھوڑیں گے۔ ہماری اپنے پولینڈ کے دوستوں سے بہت سے معاملات پر بات چیت ہوئی ہے۔

آپ نے پہلا سوال یہ کیا کہ میرے ہم منصب مزاحیہ ہیں کیونکہ آپ کا کہنا ہے کہ اس بیان میں اس بارے کوئی بات نہیں کی گئی۔ مگر، مگر ،مگر اس بیان میں کوئی بات اس لیے نہیں کی گئی کہ کانفرنس میں اس معاملے سے کہیں زیادہ وسیع اور اہم معاملات زیربحث آئے۔ میں دو مزید باتیں کہوں گا جو وزیر خارجہ زیپوٹو زکی اس بات سے بے حد مطابقت رکھتی ہیں جو انہوں نے ابھی کہی۔

پہلی بات یہ کہ اجلاس میں کوئی ایسا ملک نہیں تھا جو ایران کا حامی ہو۔ کسی ملک نے ان بنیادی حقائق سے انکار نہیں کیا جو ہم نے ایران سے درپیش خطرے اور اس حکومت کی نوعیت کے حوالے سے پیش کیے ہیں۔ اس معاملے میں سبھی کا اتفاق تھا۔ یورپ، ایشیا اور دنیا بھر سے ممالک میں کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ ایران سے درپیش خطرے کی بابت معلومات کسی طور غلط یا مبالغے پر مبنی ہیں۔ ہر ایک کو اندازہ ہے کہ حزب اللہ پر بات کیے بغیر لبنان میں مسائل پر بات کرنا بہت مشکل ہے، اسی طرح حوثیوں پر بات کیے بغیر یمن کے مسائل پر بات نہیں کی جا سکتی، شیعہ ملیشیاؤں پر بات کیے بغیر عراق کی خودمختاری کو درپیش مسائل پر بات نہیں ہو سکتی اور آج شام میں درپیش مسائل پر بات کرنا قدس فورس پر بات کیے بغیر بہت مشکل ہے جو تاحال وہاں موجود ہے۔ ان تمام عناصر کو اسلامی جمہوریہ ایران کی حمایت حاصل ہے اور اس پر کسی کو اختلاف نہیں۔

تاہم ان خطرات کے سدباب کی بابت طریقہ ہائے کار پر متعدد آرا پائی جاتی ہیں جن میں بہت سے خیالات کو اچھا کہا جا سکتا ہے اور ان پر ہم مل جل کر کام کریں گے۔ مگر میں سمجھتا ہوں یہ بات مدنظر رکھنا اہم ہے کہ ایران سے درپیش خطرے پر مکمل اتفاق پایا جاتا ہے اور یہ عالمگیر اتفاق ہے۔

آپ کا سوال یہ تھا کہ آیا اس کانفرنس میں کسی ایک ملک پر بات ہوئی۔ درحقیقت اس کانفرنس کا ہدف مشرق وسطیٰ میں استحکام، امن اور خوشحالی کا حصول تھا۔ یہی ہمارا مقصد تھا۔ اسی لیے ہم آج یہاں وارسا میں یہ گروپ تشکیل دینے کے لیے جمع ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ یہی ہماری کامیابی بھی ہے۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں