rss

امریکی محکمہ خزانہ کی منشیات کے انڈین سمگلر جسمیت حاکم زادہ اور اس کے نیٹ ورک پر پابندیاں

English English, العربية العربية, हिन्दी हिन्दी

امریکی محکمہ خزانہ
دفتر برائے ترجمان
امریکی محکمہ خزانہ کی منشیات کے انڈین سمگلر جسمیت حاکم زادہ اور اس کے نیٹ ورک پر پابندیاں

 
 

واشنگٹن: آج امریکی محکمہ خزانہ میں غیرملکی اثاثہ جات پر کنٹرول کے دفتر (او ایف اے سی) نے انڈین شہری جسمیت حاکم زادہ کو ‘منشیات کے غیرملکی سرغنوں کی نامزدگی کے قانون’ (کنگ پن ایکٹ) کی مطابقت سے منشیات کا نمایاں غیرملکی سمگلر قرار دیا ہے۔ ‘او ایف اے سی’ نے دو انڈین شہریوں اور انڈیا یا متحدہ عرب امارات میں رجسٹرڈ چار اداروں کو بھی پابندیوں کے لیے نامزد کیا ہے جو جسمیت حاکم زادہ کی منشیات کی تجارت میں ملوث تنظیم کا حصہ ہیں۔ نتیجتاً امریکہ میں یا امریکی شہریوں کے زیر کنٹرول ان کے تمام اثاثے منجمد ہونے چاہئیں اور اس سلسلے میں ‘او ایف اے سی’ کو رپورٹ دی جائے۔ ‘او ایف اے سی’ کے ضوابط کی رو سے امریکی شہریوں کی جانب سے یا امریکہ میں ایسا تمام لین دین ممنوع ہے جس میں پابندی کا شکار افراد کے اثاثے یا اثاثوں میں مفادات شامل ہوں۔

امریکی دفتر خارجہ میں دہشت گردی اور مالیاتی انٹیلی جنس سے متعلق امور کی انڈر سیکرٹری سیگل مینڈلکر کا کہنا ہے کہ ”جسمیت حاکم زادہ کا منشیات کی خریدوفروخت اور کالا دھن سفید کرنے کا عالمگیر نیٹ ورک دنیا بھر میں ہیروئن اور سنتھیٹک افیون کی سمگلنگ میں ملوث ہے۔ حالیہ اقدام منشیات کی خریدوفروخت میں ملوث اس نمایاں تنظیم کی سرگرمیوں کا خاتمہ کرنے کے لیے ہمارے امریکی اور غیرملکی شراکت داروں کی سالہا سال کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ ہم اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانے اور منشیات کے بیوپاریوں کی امریکہ تک رسائی روکنے کے لیے طویل مدتی اور مربوط طریقہ کار اختیار کرنے کی غرض سے ایک جامع عالمگیر شراکت سے کام لے رہے ہیں۔

متحدہ عرب امارات میں رہنے والا انڈین منشیات سمگلر جسمیت حاکم زادہ منشیات کی خریدوفروکٹ کا عالمگیر نیٹ ورک چلاتا ہے اور امریکہ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور برطانیہ میں ہیروئن، کوکین، ایفیڈرین، کیٹامائن اور سنتھیٹک افیون سمگل کرتا ہے۔ کم از کم 2008 سے جسمیت حاکم زادہ نے غیرقانونی طور پر کمایا سیکڑوں ملین ڈالر مالیتی کالا دھن سفید کیا۔ اس مقصد کے لیے اس نے متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھنے والی اپنی کمپنی میوند جنرل ٹریڈنگ کمپنی ایل ایل سی کے ذریعے امریکہ، برازیل، انڈیا، پانامہ، متحدہ عرب امارات اور برطانیہ کے مالیاتی اداروں سے لین دین کیا۔

او ایف اے سی’ نے جسمیت حاکم زادہ کی مجرم تنظیم میں کردار ادا کرنے والے دو افراد کو بھی پابندیوں کے لیے نامزد کیا ہے۔ یہ دونوں بھی متحدہ عرب امارات میں رہتے ہیں۔ ان میں ایک ہرموہن حاکم زادہ ہے جو جسمیت کا والد اور منشیات کی خریدوفروخت اور کالا دھن سفید کرنے میں اس کا بنیادی شراکت دار ہے جبکہ دوسری جسمیت کی والدہ ایلجیت کور ہے جو انڈیا میں ان دو فرنٹ کمپنیوں میں افسر کے طور پر کام کرتی ہے۔

آج پابندیوں کے لیے نامزد ہونے والے چار اداروں میں سے تین انڈیا میں ہیں۔ ان میں میوند ایگزم پرائیویٹ لمیٹڈ، میوند ٹوبیکو لمیٹیڈ اور میوند بیورجز لمیٹڈ شامل ہیں۔ میوند جنرل ٹریڈنگ کمپنی ایل ایل سی متحدہ عرب امارات میں ہے جو منشیات اور غیرقانونی ادویہ کی سمندر پار سمگلنگ سمیت بہت سی غیرقانونی سرگرمیوں کے لیے آڑ کا کام کرتی ہے۔

5 اپریل 2017 میں امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ برائے مڈل ڈسٹرکٹ ٹینیسی کی فیڈرل گرینڈ جیوری نے جسمیت حاکم زادہ کی منشیات سمگلنگ اور کالا دھن سفید کرنے کے 46 واقعات میں نامزد کیا۔ 2014 سے 2016 تک تین سالہ عرصہ میں داخلی سلامتی کی تحقیقات (ایچ ایس آئی) نے جسمیت حاکم زادہ کی منشیات سمگلنگ اور کالا دھن سفید کرنے کی سرگرمیوں کی جامع تحقیقات کیں جن کے نتیجے میں منشیات کی خریدوفروخت اور کالادھن سفید کرنے سے متعلق درجنوں لین دین سامنے آئے ۔ ان میں متعدد امریکی بینکوں کو ملوث کیے جانے کے ساتھ ساتھ عالمگیر تجارتی کوریئر سروسز کے ذریعے منشیات براہ راست امریکہ بھیجی جا رہی تھی۔

‘او ایف اے سی’ نے آج کے اقدام کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ‘مڈل ڈسٹرکٹ آف ٹینیسی اور ‘ایچ ایس آئی’ کے ساتھ قریبی رابطے میں رہ کر کام کیا۔

ایچ ایس آئی’ کے ایگزیکٹو ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر ڈیرک بینر کا کہنا ہے کہ ”ان تحقیقات سے ٹینیسی میں ‘ایچ ایس آئی’ کی کڑی محنت واضح ہوتی ہے جس نے منشیات کی عالمگیر تجارت کے خلاف جنگ کے لیے محکمہ خزانہ سے تعلق رکھنے والے ہماری شراکت داروں اور عالمگیر تحقیقاتی اداروں کے تعاون سے کام کیا۔ جسمیت حاکم زادہ کی مجرمانہ تنظیم یہ خطرناک غیرقانونی ادویہ امریکہ برآمد کر کے رقم کما رہی ہے۔ ‘ایچ ایس آئی’ ان مجرموں اور ان کی مالیات کو ہدف بنانے کے لیے وسیع پیمانے پر تحقیقاتی اختیارات سے کام لینے کے لیے پرعزم ہے۔”

جون 2000 سے اب تک ‘کنگ پن ایکٹ’ کی مطابقت سے 2200 سے زیادہ افراد اور اداروں کو عالمگیر سطح پر منشیات کی خریدوفروخت میں کردار ادا کرنے پر نامزد کیا جا چکا ہے۔ ‘کنگ پن ایکٹ’ کی خلاف ورزی کے نتیجے میں دی جانے والی سزائیں فی خلاف ورزی 1466485 ڈالر سے لے کر مزید کڑی مجرمانہ سزاؤں تک کا احاطہ کرتی ہیں۔ کاروباری دفاتر کے لیے مجرمانہ سزاؤں میں 30 سال تک قید اور پانچ ملین ڈالر تک جرمانہ شامل ہو سکتا ہے۔ تجارتی اداروں کے لیے مجرمانہ جرمانے 10 ملین ڈالر تک ہو سکتے ہیں۔ دیگر افراد پر ‘کنگ پن ایکٹ’ کی خلاف ورزیوں سے متعلق امریکی کوڈ کے ٹائٹل 18 کی مطابقت سے 10 سال قید اور جرمانوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔

آج پابندیوں کے لیے نامزد افراد اور اداروں کی نشاندہی سے متعلق معلومات کے لیے۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں