rss

مالی سال 2020 کے لیے ترقیاتی اور انسانی امداد کے بجٹ کی درخواست

English English, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Español Español, Русский Русский

امریکی ادارہ برائے عالمی ترقی (یوایس ایڈ)
دفتر اطلاعات
برائے فوری اجرا
11 مارچ 2019

 

حقائق نامہ

ٹیلی فون: 1.202.712.4320
ای میل:[email protected]

صدر کی جانب سے مالی سال 2020 میں یوایس ایڈ کے لیے بجٹ کی درخواست ایسی تزویراتی سرمایہ کاری کے ذریعے امریکی سلامتی کو مضبوط بنانے کی کوششوں کے فروغ کا تسلسل ہے جس سے خودانحصاری کے سفر کو آگے بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ یہ بجٹ اس دن کے تصور پر مبنی ہے جب یوایس ایڈ کی ترقیاتی معاونت کی ضرورت نہیں رہے گی۔ یوایس ایڈ شراکت دار ممالک میں حکومتوں، سول سوسائٹی اور نجی شعبے کو خودانحصاری تک پہنچنے میں مدد دیتاہے جسے کسی ملکی منصوبہ بندی، مالیات اور اپنے ترقیاتی مسائل کے حل کی اہلیت کہا جاتا ہے۔ مالی سال 2020 کا بجٹ امریکی شہریوں کی ضروریات پوری کرنے، ان کی سلامتی یقینی بنانے اور ان کی اقدار کے تحفظ کے لیے صدر کے عزم کی بھی تائید کرتا ہے جس کا تذکرہ صدر کی قومی سلامتی سے متعلق حکمت عملی میں موجود ہے۔ بجٹ میں جنگوں کو محدود کرنے، وبائی بیماریوں کا پھیلاؤ روکنے اور تشدد، عدم استحکام، بین الاقوامی جرائم اور سلامتی کو لاحق دیگر خطرات کی روک تھام کے لیے معقول اخراجات بھی شامل ہیں۔

مالی سال 2020 کے لیے بجٹ درخواست کے نمایاں نکات

مالی سال 2020 میں دفتر خارجہ اور یوایس ایڈ کے لیے صدر کی جانب سے بجٹ درخواست میں 40 بلین ڈالر طلب کیے گئے ہیں جن میں 19.2 بلین ڈالر وہ امدادی رقم ہے جسے یوایس ایڈ مکمل یا جزوی طور پر استعمال کرتا ہے۔ بجٹ میں یوایس ایڈ کو درکار ضروری وسائل مہیا کیے جائیں گے تاکہ وہ ایسی جگہوں پر رقم خرچ کر کے امریکی سلامتی اور خوشحالی کو فروغ دینے کے لیے حکومتی کوششوں میں اپنا اہم کردار جاری رکھے جہاں سے مزید مستحکم، مضبوط اور جمہوری معاشروں کو مدد ملے، جو اپنے بل بوتے پر مسائل حل کرنے اور اپنے ترقیاتی سفر خود طے کرنے کے قابل ہو سکیں اور امریکی کاروبار کے لیے منڈیاں کھولی جا سکیں۔

بجٹ درخواست سے یوایس ایڈ کو درج  ذیل اہداف کی تکمیل میں مدد ملے گی:

اندرون و بیرون ملک امریکی سلامتی کا تحفظ

خطہ ہندوالکاہل میں امریکی تزویراتی مفادات کا تحفظ: بجٹ میں دفتر خارجہ اور یوایس ایڈ کو آزاد، کھلے اور محفوظ خطہ ہندوالکاہل کے فروغ کے لیے معیشت اور سلامتی کے شعبوں میں معاونت کی مد میں 1.8 بلین ڈالر فراہم کیے جائیں گے۔ امریکی انتظامیہ کی خطہ ہندوالکاہل  کے لیے حکمت عملی دوسروں کی خودمختاری کے احترام، قانون کی حکمرانی، کھلی منڈیوں، منصفانہ اور دوطرفہ تجارتی فریم ورکس، شفافیت اور اچھی حکمرانی، سمندری سفر کی آزادی اور نجی شعبے کے زیرقیادت معاشی نمو کی بنیاد پر خطے کے لیے مستقل اور پائیدار عزم پیش کرتی ہے۔ امریکی اعانت سے ہمارے اتحادیوں اور شراکت داروں کو آزادانہ طور سے اپنی بات کہنے کا موقع میسر آیا ہے۔

بڑی طاقتوں کا مقابلہ جیتنے کے لیے ہماری کوششوں کا فروغ: یہ بجٹ یورپ، یوریشیا اور وسطی ایشیا میں روس کے نقصان دہ اثرورسوخ کا مقابلہ کرنے، دوطرفہ تعلقات کے فروغ اور خطے میں مغربی ہم آہنگی میں اضافے اور شہریوں کو جواب دہ ایسی حکمرانی کی حمایت کے لیے دفتر خارجہ اور یوایس ایڈ کو 661 ملین ڈالر فراہم کرے گا جو آزاد اور غیرجانبدار میڈیا کو فروغ دے اور بدعنوانی کے خلاف جنگ کرے۔

پائیدار استحکام، امن اور جمہوریت کے فروغ کے لیے مواقع میں وسعت لانا: صدر کی درخواست کے ساتھ یوایس ایڈ قابل احتساب، شہریوں کو جوابدہ جمہوری حکمرانی اور معاشی خوشحالی کے فروغ کے لیے کوششیں جاری رکھے گا جن سے امن کو فروغ ملتا ہو اور لچک پذیری و استحکام تقویت  پاتے ہوں۔ بجٹ امریکی سرحدی سلامتی کے لیے مالی وسائل بھی مہیا کرے گا جن کے ذریعے مجرم تنظیموں کے ایسے غیرقانونی راستوں کو ہدف بنایا جائے گا جن کے ذریعے وہ مغربی کُرے میں انسانی خریدوفروخت، منشیات، رقم اور ہتھیار منتقل کرتی ہیں۔ بجٹ کے ذریعے وینزویلا کے لیے جمہوری معاونت بھی جاری رکھی جائے گی اور اس میں وہاں جمہوری تبدیلی یا بحران سے نمٹنے کے لیے اضافی فنڈ بھی رکھے گئے ہیں جن میں 500 ملین ڈالر تک رقم ‘ٹرانسفر اتھارٹی’ کے تحت شامل کی گئی ہے جس سے دفتر خارجہ اور یوایس ایڈ کے پروگراموں کی اعانت کی جانا ہے۔

مذہبی و نسلی اقلیتوں کی امداد و تحفظ: صدر کی درخواست کے مطابق دفتر خارجہ اور یوایس ایڈ کی جانب سے ایسی مذہبی و نسلی اقلیتوں کی معاونت  کے لیے 150 ملین ڈالر خرچ کیے جائیں گے جو مظالم کا نشانہ بنتی رہی ہیں اور عراق و شام میں داعش، القاعدہ اور مشرق وسطیٰ و دیگر خطوں میں دوسری دہشت گرد تنظیموں کی پھیلائی تباہی کے بعد خود کو بحال کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

خودانحصاری کے سفر کا فروغ

ممالک کے مقامی وسائل کا انتظام: صدر کی درخواست میں مالیاتی خود انحصاری پر سرمایہ کاری کی تجویز دی گئی ہے جس سے ممالک کی اپنی ترقی کے لیے اپنے مقامی وسائل اکٹھے کرنے کی اہلیتوں میں بہتری آئے گی، مالیاتی شفافیت کو فروغ ملےگا، نجی شعبے کی شمولیت ممکن ہو گی، سرکاری مالیاتی انتظام بہتر ہو گا اور سرمایے کی منڈیوں میں وسعت آئے گی۔

نجی شعبے کو وسعت دینے کے لیے نئے مواقع کی تخلیق: بجٹ میں توقع کی گئی ہے کہ دفتر خارجہ اور یوایس ایڈ کے مشن اور علاقائی دفاتر نئے ترقیاتی مالیاتی ادارے (ڈی ایف سی) کے حوالے سے انتظامیہ کی ترجیحات کی عملی تائید کے طور پر 50 ملین ڈالر سے اختراعی مالیاتی ذرائع حاصل کریں گے۔ اس سے ڈی ایف سی کے ترقیاتی مالیات سے متعلق ذرائع سے کام لینے میں مدد ملے گی اور امریکی خارجہ پالیسی و ترقیاتی اہداف کے حوالے سے نجی شعبے کی سرمایہ کاری متحرک کرنا ممکن ہو پائے گا۔

تبدیلی کے ماحول میں فوری ردعمل کی فراہمی: صدر کی درخواست میں ابھرتی ہوئی جمہوریتوں کے حوالے سے فوری ردعمل اور انہیں مستحکم بنانے کے لیے اپنی اہلیت کو وسعت دینے کی خاطر 112 ملین ڈالر شامل ہیں۔

معاشی نمو اور نوکریوں کی تخلیق کے لیے امریکہ کی مسابقتی برتری کی تجدید

کاروبار اور تجارت میں ترقی: بجٹ نئے صدارتی اقدام ‘خوشحال افریقہ’ کے لیے 50 ملین ڈالر مہیا کرے گا۔ اس اقدام کا مقصد باہمی خوشحالی کے فروغ کے لیے امریکہ اور افریقی شراکت داروں میں تجارت اور سرمایہ کاری کو بڑھانا ہے۔ یہ بجٹ تجارتی سہولت کاری کو بھی فروغ دیتا اور ایسی معاشی اصلاحات کی تائید کرتا ہے جن سے بدعنوانی کی روک تھام، شفافیت اور احتساب کا فروغ نیز ایسی حکمرانی اور اداروں کی مضبوطی ممکن ہو سکے جن سے منڈی کی سرگرمیوں کو فروغ ملتا ہو۔

خواتین کا مکمل معاشی امکان ممکن بنانے کے مواقع کا فروغ: بجٹ میں خواتین کے عالمگیر ترقیاتی و خوشحالی کے فنڈ (ڈبلیو-جی ڈی پی) کے لیے 100 ملین ڈالر شامل ہیں جس کا مقصد امریکی حکومت کی وسیع کوششوں میں اعانت دینا ہے جن سے خواتین کو تربیت اور اہلیتوں کے حصول، کاروبار کے لیے سرمایے تک وسیع رسائی اور عالمی معیشت میں آزادانہ اور مکمل شرکت کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کر کے سازگار ماحول ممکن بنانے میں مدد ملتی ہے۔

نجی شعبے کے ساتھ تزویراتی شراکتوں سے کام لینا: بجٹ میں ترقی کو فروغ دینے کے لیے نجی شعبے کے اثاثوں، صلاحیتوں اور مالیاتی وسائل سے کام لینے کی تجویز شامل ہے۔ صدر کی درخواست کے مطابق ‘پاور افریقہ’ کو 70 ملین ڈالر مہیا کیے جائیں گے تاکہ توانائی کی پیداوار میں نجی سرمایہ کاری کو سہولت ملے اور معاشی شراکتوں کے لیے نئے مواقع جنم لیں۔ اس بجٹ میں نئے شراکتی اقدامات کے لیے 20 ملین ڈالر بھی رکھے گئے ہیں تاکہ ہمارے عملدرآمدی شراکت داروں کی تعداد بڑھا کر ان میں مزید چھوٹے علاقوں اور مذہبی بنیاد پر کام کرنے والی تنظیموں کو شامل کیا جا سکے۔

موثر پروگراموں میں سرمایہ کاری

انسانی بحرانوں اور غذائی عدم تحفظ سے نمٹنے کے لیے قیادت کی فراہمی: صدر کی جانب سے انسانی امداد (بشمول بحالی) کے لیے 6.3 ارب ڈالر کی درخواست سے امریکہ دنیا بھر میں جنم لینے والے بحرانوں میں مدد دینے والا واحد سب سے بڑا عطیہ دہندہ رہے گا۔ گزشتہ وسائل کو شامل کر کے دیکھا جائے تو 2019 اور 2020 کے لیے اوسط امدادی پروگرام امریکہ کی جانب سے انسانی امداد کی مد میں اب تک کا سالانہ سب سے بڑا پروگرام ہو گا۔ فوری انسانی امداد کے علاوہ بجٹ میں جنگوں اور قدرتی آفات کے متاثرین کی مدد کے لیے غذائی تحفظ کی مد میں 492 ملین ڈالر مہیا کیے جائیں گے جن میں 123 ملین سے بحالی کی سرگرمیوں میں معاونت دی جائے گی۔

عالمگیر صحت عامہ کی فوقیت اور بیماریوں کے پھیلاؤ کی روک تھام: بجٹ میں عالمی سطح پر صحت عامہ کی سہولیات کے لیے 6.3 ارب ڈالر شامل کیے جائیں گے جن میں 4.3 بلین ڈالر ایڈز سے چھٹکارے کے لیے صدر کے ہنگامی منصوبے (پیپفر)، ایڈز، تپ دق اور ملیریا کے خلاف جدوجہد کے لیے عالمگیر فنڈ اور یوایس ایڈ کے صحت سے متعلق عالمگیر پروگراموں (جی ایچ پی-یوایس ایڈ) کے لیے 2.04 ارب ڈالر شامل ہیں۔ یوایس ایڈ اور دفتر خارجہ کے عالمگیر صحت سے متعلق پروگرام تین اہداف تک پہنچنے کے لیے عالمی کوششوں کی معاونت کرتے ہیں۔ ان میں ایچ آئی وی/ ایڈز کی وبا پر قابو پانا، زچہ بچہ کی اموات کی روک تھام اور وبائی امراض سے نمٹنا شامل ہیں۔ یوایس ایڈ صحت کے حوالے سے متعدد ترجیحات کے لیے کام جاری رکھے گا جن میں صدر کا ملیریا سے متعلق اقدام، تحفظ صحت کا عالمگیر ایجنڈا، کم غذائیت، تپ دق، نظرانداز شدہ استوائی بیماریاں، خاندانی منصوبہ بندی اور عورتوں کی صحت شامل ہیں۔ بجٹ امریکی انتظامیہ کی ‘پیپفر’ حکمت عملی کے آخری سال کے لیے مکمل مالی معاونت کرے گا جس میں تمام زیرعلاج مریضوں کا علاج جاری رہے گا اور ایچ آئی وی/ ایڈز کے خلاف امریکہ کو بدستور دنیا کے سب سے بڑے عطیہ دہندہ کی حیثیت حاصل رہے گی۔ بجٹ میں آئندہ چھ ماہ کے لیے عالمی فنڈ بھرنے کے لیے نئی ضمانت بھی شامل ہو گی۔ دیگر عطیہ دہندگان کی جانب سے وعدہ کردہ ہر تین ڈالر کے مقابلے میں امریکہ ایک ڈالر مہیا کرے گا تاکہ دیگر عطیہ دہندگان کی بھی حوصلہ افزائی ہو اور وہ بھی فنڈ میں بھاری رقم ڈال سکیں۔

امریکی ٹیکس دہندگان کے لیے موثر کارکردگی اور احتساب کی ضمانت

ہر ڈالر کا زیادہ سے زیادہ فائدہ یقینی بنانا: صدر کی درخواست سے بیرون ملک امدادی پروگراموں کی ترتیب میں بہتری لانے، شراکت داروں کے ساتھ اختراعی طریقہ ہائے کار سے کام لینے، کڑی نگرانی اور ارتقا، پروگرام اور مالیاتی آڈٹ میں بہتری اور حاصل شدہ اسباق کے باقاعدہ اطلاق سے احتساب اور شفافیت کا عمل ترقی پائے گا۔

یوایس ایڈ میں تبدیلی کے ذریعے تاثیر میں اضافہ: یہ بجٹ بیرون ملک دی جانے والی امداد کو امریکی انتظامیہ کی پالیسیوں اور ترجیحات سے ہم آہنگ کرتا ہے، مزید لچک پذیر افرادی قوت کی تجویز دیتا ہے اور مسلسل بہتری، تخلیق کاری اور احتساب کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

انسانی امداد کے نتائج میں بہتری: صدر کی بجٹ درخواست بیرون ملک تمام تر انسانی امداد یوایس ایڈ اور ایک نئے اور مزید لچک پذیر اکاؤنٹ کے ذریعے مستحکم بنانے کی تجویز دیتی ہے تاکہ تبدیل ہوتی انسانی ضروریات کو انتہائی موثر اور بہترین انداز میں پورا کیا جا سکے، اقوام متحدہ میں بہترین اصلاحات لائی جا سکیں اور دیگر عطیہ دہندگان کو امدادی سرگرمیوں میں اپنا جائز حصہ ڈالنے اور جاری بحرانوں کے حل میں مدد دینے پر قائل کیا جا سکے۔ اس تعمیر نو کی بنیاد دفتر خارجہ اور یوایس ایڈ کی نئی اعلیٰ اور دہری ذمہ داریوں کی حامل قیادت کے تحت دونوں اداروں کی تقابلی قوتوں پر ہے جو وزیر خارجہ کے ماتحت روبہ عمل ہیں۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں