rss

مالی سال 2020 کے لیے دفتر خارجہ اور امریکی ادارہ برائے عالمی ترقی کی بجٹ درخواست

English English, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Español Español, Русский Русский

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
11 مارچ 2019

 
 

مالی سال 2020 کے لیے دفتر خارجہ اور امریکی ادارہ برائے عالمی ترقی کی بجٹ درخواست
حقائق نامہ

صدر کی جانب سے مالی سال 2020 کے بجٹ میں دفتر خارجہ اور امریکی ادارہ برائے عالمی ترقی (یوایس ایڈ) کے لیے 40 بلین ڈالر کی درخواست کی گئی ہے۔ مالی سال 2020 کے لیے بجٹ درخواست امریکی شہریوں کے تحفظ، امریکی خوشحالی میں اضافے اور اس مقصد کے لیے امریکی کاروباروں کو وسعت دینے کی غرض سے بیرون ملک امداد کے ذریعے سازگار حالات کی تخلیق، اپنے اتحادیوں کی مدد اور دیگر ممالک کو مزید کردار ادا کرنے کے لیے کہنے نیز دنیا کے ممالک کو خوداعتماد اقتصادی و سکیورٹی شراکت دار بننے میں مدد دے کر دنیا کے تحفظ اور خوشحالی کو ترقی دینے کی غرض سے درکار ضروری وسائل مہیا کرتی ہے۔
اس بجٹ درخواست میں وسائل کا ارتکاز امریکی عوام کے لیے بہتر نتائج پر ہے۔ اس میں موثر امریکی سفارت کاری، سفارت خانوں کی سکیورٹی کو ترجیح دینے اور سفارت کاروں و عملے کے تحفظ نیز تزویراتی شراکت داروں اور سفارتی پیشرفت کے لیے معاونت مہیا کی گئی ہے۔ یہ درخواست عالمی سطح پر امریکہ کا بوجھ بانٹنے کے ساتھ پروگراموں کو مزید موثر بناتی ہے تاکہ امریکی ٹیکس دہندگان پر بوجھ کم کیا جا سکے اور عالمی سطح پر نتائج میں اضافہ ممکن ہو سکے۔
مالی سال 2020 کے لیے بجٹ درخواست میں شامل فنڈز کے ذریعے امریکی سفارت کاری اور بیرون ملک امداد میں درج ذیل امور پر توجہ مرکوز کی جائے گی:

اندرون و بیرون ملک امریکی سلامتی کا تحفظ

مشرق وسطیٰ میں اتحادیوں کو اہم مدد کی فراہمی: اسرائیل کو بیرون ملک فوج امداد کی مد میں 3.3 بلین ڈالر کی فراہمی سے امریکہ اور اسرائیل میں مفاہمت کی 10 سالہ یادداشت کی عملی تائیدہو گی ۔ بجٹ درخواست میں اردن کو معیشت اور سلامتی کے شعبے میں 1.3 بلین ڈالر امداد کی فراہمی کے ذریعے دونوں ممالک میں اہم تزویراتی شراکت کا اعتراف کیا گیا ہے۔ یہ امداد اردن کے ساتھ ہماری مفاہمت کی حالیہ یادداشت سے مطابقت رکھتی ہے۔
سمندرپار امریکی اہلکاروں اور تنصیبات کا تحفظ: سمندر پار امریکی حکومت کے اہلکاروں اور تنصیبات کے تحفظ کے لیے 5.4 بلین ڈالر کی فراہمی۔
آزاد، کھلے اور محفوظ خطہ ہندوالکاہل کا فروغ: قوانین کی بنیاد پر عالمگیر نظام کو مضبوط بنانے کے لیے امریکہ کی ہندوالکاہل سے متعلق حکمت عملی کی معاونت کے لیے 1.8 بلین ڈالر کی فراہمی۔ خطہ ہندوالکاہل میں تمام ممالک کی سیاسی و معاشی خودمختاری کا تحفظ، بیرون ملک سفارتی کارروائیوں کی معاونت اور اتحادوں کو مضبوط بنانے کے لیے غیرملکیوں سے روابط کا قیام۔
روس کے ضررساں اثر اور گمراہ کن اطلاعات کی روک تھام: یورپ، یوریشیا اور وسطیٰ ایشیا میں روس کے ضرررساں اثر ات کا مقابلہ کرنے کی کوششوں پر 661 ملین ڈالر کے اخراجات بھی بجٹ تجویز کا حصہ ہیں۔
وینزویلا میں تبدیلی کے عمل کی معاونت: وینزویلا میں جمہوریت کی حمایت اور وہاں جمہوری تبدیلی یا بحران پر ردعمل کے لیے اضافی فنڈ کی فراہمی بشمول بیرون ملک امداد سے متعلق اکاؤنٹس میں 550 ملین ڈالر تک کی فراہمی کا اختیار۔
امریکی سرحدی تحفظ: بین الاقوامی مجرم تنظیموں کی جانب سے انسانی خریدوفروخت، منشیات، رقم اور ہتھیاروں کی مغربی کرے سے منتقلی کےلیے استعمال میں آنے والے غیرقانونی طریقوں کی روک تھام کے لیے 1.2 بلین ڈالر کی فراہمی جبکہ غیرقانونی مہاجرت کی حوصلہ شکنی کے لیے حکمرانی میں بہتری لانے اور مقامی معیشتوں کو ترقی دینے کے اقدامات۔ علاوہ ازیں قونصلر پروگراموں کے تحت 3.9 بلین کے ذریعے ویزا جانچ پڑتال کے طریقہ کار میں بہتری، دھوکہ دہی کی روک تھام، ویزا عمل میں بہتری اور امریکہ آنے جانے کے لیے قانونی طریقے سے سفر میں سہولت کی فراہمی سے عالمگیر کاروبار کے انتظام کو آسان بنا کر امریکی سرحدوں کا تحفظ کیا جائے گا۔
قومی سلامتی کو لاحق اہم خطرات کی روک تھام کے پروگراموں کی فوقیت: وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پھیلاؤ سے نمٹنے، انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو مضبوط بنانے اور بارودی سرنگوں کی صفائی نیز دیگر ہتھیاروں کو تباہ کرنے کے لیے 707 ملین ڈالر سے عالمگیر کوششوں کی قیادت۔ اس میں شمالی کوریا، ایران، دیگر ممالک اور دہشت گرد گروہوں کو وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے حصول سے روکنا بھی شامل ہے۔
مذہبی و نسلی اقلیتوں کی مدد: مشرق وسطیٰ اور دیگر علاقوں میں داعش، القاعدہ اور دیگر دہشت گروہوں کی پھیلائی تباہی کے بعد بحالی کی جدوجہد میں مصروف مظلوم مذہبی ونسلی اقلیتوں کی مدد کے لیے 150 ملین ڈالر کی فراہمی۔
امریکی اتحادوں اور دوطرفہ سکیورٹی تعلقات کی مضبوطی: امریکی دفاعی سازوسامان کو مزید مسابقتی اور مزید قابل گنجائش انتخاب بنانے کے لیے بیرون عسکری قرضوں کی مد میں 8 بلین ڈالر کی فراہمی، تاکہ اتحادی و شراکت دار اپنی افواج کی امریکی اختراع اور معیار کے مطابق تعمیر کر سکیں۔

پائیدار معاشی نمو اور نوکریوں کی تخلیق کے لیے امریکی مسابقتی برتری کی تجدید:

نئی امریکی انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن (ڈی ایف سی) کے ذریعے فوائد کا حصول: نجی شعبے سے روابط کا قیام بشمول دفتر خارجہ اور یوایس ایڈ کے عہدوں، مشن اور علاقائی دفاتر کی جانب سے نئی ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن (ڈی ایف سی) کو مالی وسائل کی فراہمی کے ذریعے 50 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری اور معاشی ترقی ۔ اس سے تمام اتحادیوں اور شراکت داروں کی حوصلہ افزائی ہو گی کہ وہ اپنی معیشتوں کو ترقی دینے کے لیے نجی شعبے کو مالی وسائل مہیا کریں۔ اس سے ترقی پذیر ممالک میں امریکی قومی سلامتی کے مفادات کو فروغ دینے میں نجی شعبے کی شمولیت ممکن ہو پائے گا اور ترقیاتی نتائج کو فروغ دیتے ہوئے امریکی کمپنیوں، نوکریوں اور برآمدات کو مدد ملے گی۔
امریکی کاروباروں کے لیے سرمایہ کاری کے مواقع میں بہتری: نئے صدارتی اقدام ‘خوشحال افریقہ’ کے لیے 50 ملین ڈالر فراہم کیے جائیں گے تاکہ امریکہ اور افریقی شراکت داروں میں دوطرفہ سرمایہ کاری میں اضافہ ہو سکے، باہمی خوشحالی کو فروغ ملے اور نجی شعبے کو ساتھ لینے کے لیے دفتر خارجہ اور یوایس ایڈ کی کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔ اس درخواست میں ‘پاور افریقہ’ کے لیے 70 ملین ڈالر بھی شامل ہیں جس سے توانائی کی پیداوار میں نجی سرمایہ کاری کو سہولت ملے گی اور معاشی شراکتوں کے نئے مواقع تخلیق ہوں گے۔
متوازن شمولیت کے ذریعے امریکی قیادت کا فروغ:
عالمگیر ادارے: عالمگیر پروگراموں اور اداروں میں سرمایہ کاری کی ترجیحات کا ازسرنو تعین۔ 2.1 بلین کی درخواست پر یہ بجٹ ایسے اداروں کی مکمل مالی معاونت کرتا ہے جو ہماری قومی سلامتی کے لیے اہمیت رکھتے ہیں مگر ایسے اداروں کی معاونت میں کٹوتیاں کی گئی ہیں جن کے نتائج غیرواضح ہیں، جو ہمارے قومی سلامتی کے مفادات کو براہ راست فائدہ نہیں پہنچاتے یا جن کے لیے مالی معاونت کا بوجھ رکن ممالک میں جائز طریقے سے تقسیم نہیں کیا گیا۔ دفتر خارجہ اخراجات میں کمی، تاثیر بہتر بنانے اور مالی معاونت کے بوجھ کو یکساں طور سے تقسیم کرنے کے لیے اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گا۔
صحت کے عالمگیر پروگراموں کی قیادت: عالمگیر صحت بہتر بنانے کے لیے امریکہ کی قائدانہ کوششوں میں معاونت کے لیے 6.3 بلین ڈالر کی فراہمی جس میں ایڈز سے چھٹکارا پانے کے لیے امریکی صدر کے ہنگامی منصوبے (پیپفر)، ایڈز کے خالف عالمگیر فنڈ، تپ دق و ملیریا، ملیریا کے خلاف صدارتی اقدام اور صحت کے تحفظ کے لیے عالمگیر سرگرمیاں شامل ہیں۔ اس ضمن میں شراکت دار ممالک کی صلاحیت بہتر بنانے کی کوششوں میں مدد فراہم کی جائے گی۔ یہ بجٹ ایچ آئی وی/ایڈز کی وبا پر قابو پانے (2017 تا 2020) کے لیے امریکی حکومت کی ‘پیپفر’ حکمت عملی کی پوری مالی معاونت کرتا ہے۔ اس کے تحت تمام موجودہ مریضوں کا علاج معالجہ جاری رہے گا اور ایچ آئی وی/ ایڈز کے خلاف امریکہ کو دنیا کے سب سے بڑے عطیہ دہندہ کی حیثیت حاصل رہے گی۔ مزید براں بجٹ تجویز میں یہ بات شامل ہے کہ دیگر عطیہ دہندگان کے ساتھ بوجھ بانٹا جائے گا اور اس میں آئندہ چھ ماہ کے لیے عالمی فنڈ بھرنے کے لیے نئی ضمانت بھی شامل ہو گی۔ بجٹ درخواست میں تجویز دی گئی ہے کہ دیگر عطیہ دہندگان کی جانب سے وعدہ کردہ ہر تین ڈالر کے مقابلے میں امریکہ ایک ڈالر مہیا کرے گا تاکہ دیگر عطیہ دہندگان کی بھی حوصلہ افزائی ہو اور وہ بھی فنڈ میں بھاری رقم ڈال سکیں۔
انسانی بحرانوں کے ردعمل میں قائدانہ کردار: بجٹ میں دنیا بھر میں انسانی امداد (بشمول نوآبادکاری) کے ضمن میں 6.3 بلین ڈالر طلب کیے گئے ہیں جس سے امریکہ دنیا میں بدستور واحد سب سے بڑا عطیہ دہندہ رہے گا۔ گزشتہ وسائل کو شامل کر کے دیکھا جائے تو 2019 اور 2020 کے لیے اوسط امدادی پروگرام امریکہ کی جانب سے انسانی امداد کی مد میں اب تک کا سالانہ سب سے بڑا پروگرام ہو گا۔
خوراک کے متواتر بحرانوں کی وجوہات سے نمٹنا: تحفظ خوراک کے پروگراموں کے لیے 492 ملین ڈالر مہیا کیے جائیں گے جس سے معاشی نمو میں بہتری اور غذائی قلت کی صورتحال میں کمی لانے کے لیے زرعی ترقی کو فروغ ملے گا۔ اس میں متواتر جنم لینے والے بحرانوں کا موثر انداز میں مقابلہ کرنے، نجی سرمایہ کاری، عطیہ دہندگان اور میزبان ملک سے کام لینے کے لیے 123 ملین ڈالر بھی شامل ہیں۔
غیرملکی رائے عامہ کو معلومات کی فراہمی اور غیر ملکی سامعین سے روابط: غیرملکی رائے عامہ کو باخبر رکھنے کے لیے عوامی سفارت کاری کے پروگراموں میں 511 ملین ڈالر مہیا کر کے امریکی خارجہ پالیسی کے اہداف کو آگے بڑھایا جائے گا۔ ایسے پروگرام امریکہ اور اس کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے غلط معلومات کے تدارک میں مدد دیتے ہیں اور امریکیوں اور غیرملکی عوام میں تعلقات مضبوط بناتے ہیں۔
امریکی ٹیکس دہندگان کے لیے موثر کارکردگی اور احتساب کی ضمانت:
انسانی امداد کے نتائج میں بہتری لانا: یوایس ایڈ میں بیرون ملک ہر طرح کی انسانی امداد کی فراہمی کا عمل مستحکم بنانا ، ایک نئے اور مزید لچک پذیر اکاؤنٹ کے ذریعے تبدیل ہوتی انسانی ضروریات پر موثر اور مکمل ردعمل کا اظہار، اقوام متحدہ میں موافق اصلاحات، دیگر عطیہ دہندگان کو اپنے جائز حصے کی ادائیگی کے لیے قائل کرنا اور جاری بحرانوں کاحل ممکن بنانا۔ اس تعمیر نو کی بنیاد دفتر خارجہ اور یوایس ایڈ کی نئی اعلیٰ اور دہری ذمہ داریوں کی حامل قیادت کے تحت دونوں اداروں کی تقابلی قوتوں پر ہے جو وزیر خارجہ کے ماتحت روبہ عمل ہیں۔ دفتر خارجہ امریکہ میں مہاجرین کے داخلے کے پروگرام پر عملدرآمد جاری رکھے گا۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی میں جدت لانا: دفتر خارجہ کی انفارمیشن ٹیکنالوجی بشمول وائرلیس اور کلاؤڈ کی بنیاد پر خدمات میں جدت پیدا کرنے کے لیے 311 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری جس میں عملے کو مزید تحرک فراہم کرنے کے لیے نئی ڈیجیٹل اہلیتیں بھی شامل ہیں۔
مقامی سطح پر بڑے وسائل جمع کر کے خودانحصاری کا فروغ: دنیا بھر کے ممالک کو مقامی سطح پر سرکاری و نجی وسائل سے مزید موثر انداز میں کام میں لینے کے قابل بنانے کے لیے انہیں سازوسامان کی فراہمی، دیگر دستیاب مالیاتی ذرائع سے مدد دینا اور ان کی اپنی ترقی کے لیے درکار پائیداری ممکن بنانا۔
عالمی سطح پر خواتین کا معاشی اختیار مضبوط بنانا: دنیا بھر کے شراکت دار ممالک میں خواتین کو بااختیار بنا کر رسمی معیشت میں ان کی بھرپور شرکت ممکن بنانا اور اس مقصد کے لیے خواتین کی عالمگیر ترقی و خوشحالی کے اقدام کے لیے 100 ملین ڈالر امداد بھی بجٹ تجویز کا حصہ ہے۔
امریکی شراکت کی بنیاد میں تنوع لانا: نئی شراکتوں کے اقدام کے لیے 20 ملین ڈالر مختص کرنا جس سے بیرون ملک دی جانے والی امداد کے لیے مطابقت پذیر شراکت کے ذریعے مثبت اثر اور متعلقہ ملک کی ترقی میں اضافہ ہو گا۔
بہتر سفارت کاری اور ترقیاتی نتائج کے لیے امریکی حکومت کی اصلاحات پر عملدرآمد: بنیادی اہلیتوں کو مضبوط بنانے، کارکردگی میں بہتری لانے اور اخراجات میں کمی کے لیے یوایس ایڈ میں بڑی ساختی تنظیم نو میں معاونت۔
مزید معلومات کے لیے براہ مہربانی وزٹ کیجیے:
State.gov/budget
State.gov/f
State.gov/s/d/rm/
[email protected] on Twitter


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں