rss

نائب وزیر خارجہ جان جے سلوین، یوایس ایڈ کے منتظم مارک گرین اور ماہرین کا مالی سال 2020 میں امریکی دفتر خارجہ و یوایس ایڈ کے لیے صدر کی جانب سے بجٹ درخواست پر اظہار خیال

English English, हिन्दी हिन्दी, Français Français, Español Español, Português Português, Русский Русский

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
آن دی ریکارڈ بریفنگ
11 مارچ 2019

واشنگٹن، ڈی سی

 

مسٹر پیلاڈینو: شکریہ۔ آج یہاں آنے اور مالی سال 2020 میں دفتر خارجہ و امریکی ادارہ برائے عالمی ترقی کے لیے صدر کی جانب سے بجٹ درخواست کی تفصیلات سامنے لائے جانے کے موقع پر ہمارے ساتھ موجودگی کا شکریہ۔ آغاز میں نائب وزیر خارجہ جان سلوین اور یوایس ایڈ کے منتظم مارک گرین افتتاحی کلمات کہیں گے۔ اختتام پر ہم چند ماہرین کو مدعو کریں گے جو اہم موضوعات پر ان تفصیلی سوالات کا جواب دیں گے جو آپ کے ذہن میں ہو سکتے ہیں۔

شکریہ۔ نائب وزیر سلوین۔

نائب وزیر سلوین: رابرٹ، تعارف کے لیے شکریہ۔ میں اپنے دوست اور ساتھی، یو ایس ایڈ کے منتظم مارک گرین کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جو مالی سال 2020 کے لیے دفتر خارجہ اور یوایس ایڈ کی بجٹ درخواست کا تعارف پیش کرنے کے لیے میرے ساتھ یہاں موجود ہیں۔

بات شروع کرنے سے پہلے میں دفتر خارجہ کی جانب سے یہ کہنا چاہوں گا کہ ہم ایتھوپین ایئرلائنز کی فلائٹ 302 کے المناک حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے اہلخانہ اور دوستوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرنا چاہتے ہیں۔ متعدد امریکی شہری بھی اس پرواز میں موجود تھے۔ ان میں اقوام متحدہ اور اس سے متعلقہ اداروں میں کام کرنے والے ہمارے دوست، ساتھی اور شریک کار شامل تھے۔ یہ واقعتاً ہم سب کے لیے ایک انتہائی افسوسناک اور المناک لمحہ ہے اور ادیس، نیروبی اور واشنگٹن میں ہمارے ساتھی اس مشکل وقت میں متاثرین کے اہلخانہ کو ہر ممکن معاونت فراہم کرنے کے لیے کڑی محنت کر رہے ہیں۔

اب میں زیربحث موضوع کی جانب آتے ہوئے بتانا چاہوں گا کہ صدر کی جانب سے مالی سال 2020 کے لیے بجٹ درخواست میں دفتر خارجہ اور یوایس ایڈ کے لیے 40 ارب ڈالر طلب کیے گئے ہیں۔ اتنے مالی وسائل کے ذریعے ہم اندرون و بیرون ملک اپنے شہریوں کا تحفظ کریں گے، امریکی خوشحالی اور اقدار کو فروغ دیں گے اور سمندرپار اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کی مدد کریں گے۔

دفتر خارجہ اور یوایس ایڈ آج ہمارے ملک کو درپیش خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے انتہائی اہم مسائل سے نمٹنے کے لیے قائدانہ کردار ادا کر رہے ہیں۔ ہمارے ان دونوں اداروں کا عملہ امریکی آزادی کے تحفظ، قوانین کی بنیاد پر عالمگیر نظام کے ارکان کے طور پر چین اور روس کے احتساب، اپنے ملک میں جمہوریت کی پرامن بحالی کے لیے جدوجہد کرنے والے وینزویلا کے عوام کی حمایت، وبائی امراض کو اپنی سرحدوں تک پہنچنے سے روکنے، ممالک کو خوداعتماد معاشی و سکیورٹی شراکت دار بننے میں مدد دینے اور بہت سے دیگر کاموں کے لیے کڑی محنت کر رہا ہے۔

ان تمام مقاصد کے لیے ہمیں اپنے تمام ساتھیوں، اپنی پوری ٹیم کو محفوظ، تیار اور ایک لمحے کے نوٹس پر کسی بھی نئے مسئلے سے نمٹنے کے لیے مستعد دیکھنا ہے۔ اپنے شہریوں کو محفوظ و مامون رکھنا مستقل چوکسی اور خاطرخواہ وسائل کا تقاضا کرتا ہے۔

ہمارے مالی سال 2020 کے لیے مجوزہ بجٹ میں اپنے سفارتی اور سمندر پار امداد معاونت مہیا کرنے والے عملے کے تحفظ کو ترجیح دینے کی درخواست کی گئی ہے۔ یہ بجٹ  سفارتی عملے کو ابھرتے ہوئے خطرات سے محفوظ بناتا اور محفوظ و مامون اور مفید جگہوں پر سرمایہ کاری کرتا ہے۔ یہ دفتر خارجہ اور یوایس ایڈ کو عالمگیر سفارتی و ترقیاتی افرادی قوت بھرتی کرنے، اسے سنبھالنے اور اور تربیت دینے کے قابل بنائے گا۔ ہمارے ادارے 21ویں صدی کے لیے نئی اہلیتیں پیدا کر رہے ہیں۔

امریکی عوام کی جانب سے اس قدر اہم مقاصد کو آگے بڑھانے کے ساتھ دفتر خارجہ اور یوایس ایڈ کو سفارتی اور بیرون ملک امداد کے پروگراموں کی بابت وسائل درکار ہیں۔ مالی سال 2020 کے لیے بجٹ درخواست میں ان وسائل کی فراہمی کے لیے کہا گیا ہے اور امریکی خارجہ پالیسی کو مستقبل کے لیے مضبوط بنیادوں پر استوار کیا گیا ہے۔ ہماری درخواست کی بنیاد اس اصول پر ہے کہ ٹیکس دہندگان کے ڈالر دانشمندانہ طور سے استعمال کیے جانے چاہئیں۔ ہم امریکی عوام کی جانب سے کی گئی اس سرمایہ کاری میں اضافہ اور جواباً ان کے لیے غیرمعمولی نتائج چاہتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ بیرون ملک امریکی امداد سے امریکہ کے قومی مفاد کا تحفظ ہونا چاہیے اور ایسے ممالک کی مدد کی جانی چاہیے جو ہمیں اپنے خارجہ پالیسی کے اہداف کو آگے بڑھانے میں مدد دیتے ہیں۔ اس بجٹ میں امریکی اتحادیوں بشمول اسرائیل، اردن، مصر اور کولمبیا کے لیے اہم امداد  برقرار رکھی گئی ہے۔ تزویراتی فنڈنگ اور پروگرامنگ کے ذریعے یہ بجٹ امریکہ کو فتح کی پوزیشن میں لے آتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ہمارا ملک دنیا کے ان خطوں سے پوری طرح جڑا ہوا ہے جن پر ہماری قومی سلامتی اور مستقبل کی خوشحالی کا دارومدار ہے۔

حالیہ برسوں میں ہم نے چین کو خطہ ہندوالکاہل اور اس سے آگے اپنا اثرورسوخ قائم کرنے کے لیے جارحانہ طور سے اپنی طاقت کا استعمال کرتے دیکھا ہے۔ صدر ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ نے چین کے جارحانہ اقدامات کے جواب میں فیصلہ کن اقدامات اٹھائے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مستقبل میں امریکہ کی سلامتی، خوشحالی اور قیادت کا انحصار خطہ ہند و الکاہل کو آزاد، کھلا اور محفوظ رکھنے پر ہو گا ۔ خطہ ہندو الکاہل کی حکمت عملی کو فروغ دینے کے لیے بجٹ میں اس خطے کے لیے بیرون ملک دی جانے والی امریکی امداد اور خطے کے لیے سفارتی روابط سے متعلق وسائل قریباً دگنا ہونے چاہئیں۔

بجٹ کے لیے ہماری درخواست اس سوچ کے تحت کی گئی ہے کہ روس کی جانب سے لاحق خدشات بیرونی یا عسکری خطرات سے کہیں بڑھ گئے ہیں اور اب ان میں امریکہ اور مغربی دنیا کے وسط میں اپنا اثرورسوخ قائم کرنی کی کارروائیاں بھی شامل ہو گئی ہیں۔ اس بجٹ میں یورپ، یوریشیا اور وسطی ایشیا میں روس کے ضرررساں اثرورسوخ کا مقابلہ کرنے کو فوقیت دی گئی ہے۔

جیسا کہ ہم نے کہا، وینزویلا کے عوام ایک ایسے جابر اور بدعنوان حکمران کے سامنے اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں جس نے عہدہ چھوڑنے سے انکار کر دیا ہے۔ مالی سال 2020 کی بجٹ درخواست میں وینزویلا  میں جمہوریت کے حق میں مالی امداد بھی شامل ہے اور جمہوری تبدیلی کی حمایت میں مزید فنڈ کی گنجائش رکھی گئی ہے۔

گزشتہ برس امریکہ مشرق وسطیٰ اور دیگر خطوں میں مظالم کا شکار مذہبی و نسلی اقلیتوں کی مدد کے لیے عالمگیر کوششوں میں پیچھے رہا۔ گزشتہ برس کے اواخر میں عراق کا دورہ کرتے ہوئے میں نے اس طرح کی امداد کے مثبت اثرات کا براہ راست تجربہ کیا اور مجھے اندازہ ہوا کہ ان تباہ حال علاقوں میں اس امداد کی بدولت کیا کچھ کیا جا چکا ہے۔ مقامی کرداروں اور رہنماؤں کے ساتھ کام کرتے ہوئے ہمارے معاونتی پروگراموں نے جنگ میں بچا کھچا بارودی مواد صاف کیا ہے تاکہ خاندانوں کو محفوظ رکھا جا سکے، صحت اور تعلیم جیسی خدمات تک رسائی بحال ہو، معاشی مواقع بہتر بنائے جائیں۔ مگر ابھی بہت سا کام باقی ہے۔

مالی سال 2020 کا بجٹ مذہبی و نسلی اقلیتوں کو بااختیار بنانے کی ہماری کوششوں میں اضافے میں مدد دیتا ہے۔ اس میں بہت سے ضرورت مند لوگوں کے لیے نئے مواقع تخلیق کرنے کے لیے اور عالمگیر مذہبی آزادی کےفروغ کے لیے امریکی قیادت کے تسلسل کے لیے فنڈ کی درخواست بھی کی گئی ہے۔

مزید برآں مالی سال 2020 کے لیے ہماری بجٹ درخواست میں سفارتی ترقیاتی فنڈ بھی شامل ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ ہم سفارتی اور امن پروگراموں سے ابھرنے والے نئے مواقع اور ایران کے مقابل جنم لینے والی ضروریات پوری کرنے کے لیے موثر طور سے ردعمل دے سکیں۔

آج ہمیں درپیش سفارتی مسائل میڈیا اور ٹیکنالوجی میں تیزتر اور مسلسل ترقی کے سبب خاص طور پر مشکل ہو گئے ہیں۔ ہمارے انسانی وسائل اور تنظیمی ڈھانچوں کو ان تبدیلیوں کے ساتھ اپنی رفتار برقرار رکھنا ہو گی۔ مالی سال 2020 کے بجٹ میں دفتر خارجہ اور یوایس ایڈ میں موجودہ افرادی قوت کے لیے پورے فنڈ کی درخواست دی گئی ہے جس سے ہمیں پالیسی کے حوالے سے ابھرتے ہوئے مسائل کے حل میں مدد ملے گی۔

تحفظ اور سلامتی کے حوالے سے ہم نے جو ترجیح متعین کی ہے وہ ہماری مادی تنصیبات سے آگے نیٹ ورک اور ڈیٹا کا احاطہ بھی کرتی ہے۔ بجٹ درخواست میں دفتر خارجہ اور یوایس ایڈ کے انفارمیشن ٹیکنالوجی نظام مضبوط بنانے اور سائبر سکیورٹی سے متعلق انتظامات میں ترجیحی بنیادوں پر بہتری لائی جائے  گی۔

ہماری سرزمین کو لاحق خطرات کی بات ہو تو امریکی عوام کا تحفظ اور سلامتی نیز سرحدوں کی حفاظت موجودہ انتظامیہ کے لیے اہم ترین ترجیح ہیں۔ دفتر خارجہ اور یوایس ایڈ کے لیے بجٹ درخواست میں امریکی سرحدی سلامتی کے لیے مدد لی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے ویزا کی جانچ پڑتال کا عمل مزید بہتر بنانے، بین الاقوامی مجرم تنظیموں کی جانب سے مغربی کرے سے منشیات، رقم ہتھیار حتیٰ کہ انسانوں کی منتقلی کے غیرقانونی طریقوں سے نمٹنے اور غیرقانونی مہاجرت کی حوصلہ شکنی کے لیے حکمرانی میں بہتری اور مقامی معیشت کی ترقی کے لیے فنڈ طلب کیے جائیں گے۔

مالی سال 2020 کے لیے ہماری بجٹ درخواست وبائی بیماریوں سےلاحق  خطرات سے بچاؤ بھی مہیا کرتی ہے۔ اس مقصد کے لیے مستقبل میں کسی بھی وبا کا مقابلہ کرنے اور اسے  روکنے کے لیے ملکی صلاحیت میں اضافہ کیا جائے گا۔ ان کوششوں کی بدولت امریکہ طبی معاونت کے میدان میں بدستور دنیا کا رہنما رہے گا۔ اس بجٹ کی بدولت امریکہ ایچ آئی وی/ ایڈز کے خلاف عالمی سطح پر سب سے بڑا واحد عطیہ دہندہ ہونے کا مقام برقرار رکھے گا۔

مالی سال 2020 کے لیے بجٹ درخواست میں متعدد دیگر اہم اضافے بھی کیے گئے ہیں جن کی بدولت عالمگیر ترقی میں نجی شعبے کی شمولیت میں اضافہ ہو گا، ہماری انسانی معاونت کو فوقیت ملے گی اور شراکت دار ممالک کو خوانحصاری کی جانب سفر پر آگے بڑھنے میں مدد ملے گی۔ میرے ساتھی یوایس ایڈ کے منتظم مارک گرین کچھ ہی دیر میں 2020 کے لیے بجٹ درخواست کے ان اہم عناصر کا تعارف کرائیں گے۔

ان تمام اور ایسی مزید کوششوں کے ذریعے ہمارا بجٹ دنیا میں آزادی کے روشن مینار کے طور پر ملکی روایت جاری رکھتے ہوئے امریکی مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔ مالی سال 2020 کے لیے صدر کی جانب سے بجٹ درخواست ہمارے اداروں اور ہمارے ملک کو کامیابی کی راہ پر ڈالتی ہے اور میں آج آپ سبھی کو اس سے متعارف کرانے کا موقع ملنا اپنے لیے باعث اعزاز سمجھتا ہوں۔

ہمارے ساتھ موجودگی پر ایک مرتبہ پھر شکریہ اور اس کے ساتھ ہی میں سفیر مارک گرین کو گفتگو کی دعوت دوں گا۔

مسٹر گرین: نائب وزیر سلوین، آپ کا شکریہ۔ میں سمجھتا ہوں کہ جان نے یوایس ایڈ اور دفتر خارجہ کی بہت سی مشترکہ ترجیحات کا بہت اچھی طرح ذکر کیا ہے۔ اسی لیے میں اپنی بات کو مقابلتاً مختصر رکھوں گا۔ تاہم میں گزشتہ روز ایتھوپیا کی ایئرلائن کے حادثے میں بہت سی جانوں کے ضیاع پر افسوس کے اظہار میں ان کا ساتھ ضرور دوں گا۔ جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے، اس حادثے میں کم از کم آٹھ امریکی شہری اور یوایس ایڈ کے شریک اداروں سے تعلق رکھنے والے بہت سے ارکان بھی ہلاک ہوئے۔ جیسا کہ آپ میں سے بہت سے لوگ آگاہ ہیں کہ میں امدادی کاموں کے حوالے سے ممتاز کارکاردگی کا مظاہرہ کرنے والے بہت سے لوگوں کی دلی قدر کرتا ہوں اور یہ مخصوص راستہ اور مخصوص پرواز اس خطے میں امدادی اور ترقیاتی تنظیموں کی جانب سے باقاعدگی سے استعمال ہوتی تھی۔خطرات کے باوجود  لوگ زندگیاں بچانے اور دنیا کو قدرے بہتر جگہ بنانے کے لیے روزانہ بنیادوں پر کام کر رہے ہیں۔ ہماری ہمدردیاں ان لوگوں کے ساتھ ہیں جنہوں نے اس حادثے میں اپنے پیاروں کو کھویا اور اس مشکل وقت میں ہماری دعائیں ان کے ساتھ رہیں گی۔

اس کے ساتھ ہی میں بجٹ کے موضوع پر آؤں گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ بجٹ کی یہ درخواست ممالک کو خودانحصاری کی جانب لے جانے کے ہمارے مقصد میں مدد دے گی۔ اس میں شراکت دار ممالک کی اہلیت بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے تاکہ بالاآخر وہ اپنے ترقیاتی مسائل پر خود قابو پا سکیں۔

جنگ میں کمی لانے، وبائی امراض کے پھیلاؤ کی روک تھام اور تشدد، عدم استحکام اور سکیورٹی سے متعلق دیگر خطرات کے انسداد کے لیے ہمارے ذرائع کی معاونت سے یہ بجٹ امریکی قومی سلامتی کو مضبوط بنائے گا۔ یہ ہماری سرمایہ کاری کی معاونت سے دنیا بھر میں امریکی معاشی قیادت کو بھی مضبوط کرے گا۔ یہ سرمایہ کاری امریکی اشیا کے لیے منڈیوں کو وسعت دیتی، امریکی کاروبار کے لیے یکساں مواقع پیدا کرتی اور مزید مستحکم، مضبوط اور جمہوری معاشروں کی مدد کرتی ہے۔ جیسا کہ آپ میں بہت سے لوگوں نے حالیہ مہینوں میں دیکھا ہو گا کہ دنیا کے بہت سے ممالک میں ایسی نقصان دہ مالیاتی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گیا ہے جو عموماً بیرون ملک امداد کی آڑ میں کی جاتی ہیں۔

موجودہ بجٹ آمرانہ مالیاتی ذرائع اور ہمارے اور اتحادی عطیہ دہندہ ممالک کے اختیار کردہ طریق کار میں واضح فرق کو شدت سے سامنے لانے کے لیے یوایس ایڈ کی کوششوں میں معاونت فراہم کرتا ہے۔ ہمارا طریق کار حقیقی امداد پر مبنی ہے۔ اس سے شریک ممالک کو خودانحصاری کی منزل پانے میں مدد ملتی ہے اور وہ مزید متحرک اور نجی کاروبار سے ترقی پانے والے مستقبل تک پہنچنے میں کامیاب رہتے ہیں۔ یہ نجی کاروبار اور آزاد منڈیوں کو مہمیز دینے، سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے اور میں پھر کہوں گا کہ خودانحصاری تک پہنچنے کی رفتار تیز کرنے کے لیے اصلاحات کو تحریک دیتا ہے۔

شراکت دار ممالک کو چین اور روس جیسے متبادل نمونے اختیار کرنے کی قیمت بارے بتانا بھی ہمارا مقصد ہے۔ ان کے طریق کار میں جمہوری اور آزاد منڈی کے نظام پر اعتماد کمزور پڑ جاتا ہے، ممالک پر ناپائیدار قرض کا بوجھ چڑھتا ہے اور اس کے نتیجے میں تزویراتی وسائل سے محروم ہونا پڑتا ہے اور آمرانہ کرداروں کے عسکری مقاصد کو تقویت ملتی ہے۔ آنے والے ہفتوں میں ہم ایک فریم ورک سامنے لائیں گے  جس سے ہمیں  کریملن کے ضرررساں اثرورسوخ خصوصاً یورپ، یوریشیا اور وسطی ایشیا میں اس کی نقصان دہ سرگرمیوں کے تدارک میں مدد ملے گی اور موجودہ بجٹ اس کام کی عملی تائید کرتا ہے۔

اس سلسلے میں ہماری کوششیں مزید آسان ہو جائیں گی کیونکہ سال کے اواخر میں ترقیاتی مالیات سے متعلق نیا ادارہ بنایا جا چکا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے خطہ ہندوالکاہل میں ہماری شراکتوں کو مزید مضبوط بنانے سے یہ مزید واضح بھی ہو جائے گا۔ میں نائب وزیر سے پوری طرح متفق ہوں کہ اندرون ملک ہماری سلامتی اور خوشحالی  مستحکم اور آزاد خطہ ہندوالکاہل سے قریبی طور پر جڑی ہے۔ ریاستوں اور دیگر کے ساتھ کام کرتے ہوئے ہماری تزویراتی سرمایہ کاری پورے خطہ ہندوالکاہل میں کھلی، شفاف اور شہریوں کے حوالے سے ذمہ دارانہ حکمرانی کو فروغ دے گی۔

انتظامیہ کی کوششوں سے اس بجٹ کی بدولت ہم جامع معاشی نمو کے فروغ کے قابل ہو سکیں گے خصوصاً جہاں اس کا تعلق دنیا بھر میں خواتین کی بھرپور معاشی شرکت سے ہو۔ قومی سلامتی کی حکمت عملی میں خواتین کے بااختیار بنائے جانے کو معاشی خوشحالی اور عالمگیر استحکام کے لیے لازمی ترجیح قرار دیا گیا ہے۔ گزشتہ ماہ صدر نے قومی سلامتی کی ایک صدارتی یادداشت پر دستخط کیے تھے جو معیشت میں خواتین کی مکمل اور آزادانہ شرکت کی اہلیت کو فیصلہ کن طور سے دنیا میں بڑے پیمانے پر امن اور خوشحالی سے جوڑتی ہے۔

ہم نے سرکاری طور پر خواتین کی عالمگیر ترقی اور خوشحالی کا اقدام بھی شروع کیا ہے جو ‘ڈبلیو جی ڈی پی’ کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس کا مقصد 2025 تک ترقی پذیر ممالک میں 50 ملین خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانا ہے۔ یوایس ایڈ میں قائم ہونے والے ‘ڈبلیو جی ڈی  پی فنڈ’ میں مالی سال 2018 سے 50 ملین امریکی ڈالر کا ابتدائی وعدہ بھی شامل ہے۔ اس بجٹ تجویز میں یہ رقم دگنی کر کے 100 ملین ڈالر تک لے جائی جا چکی ہے جس کا مقصد افرادی قوت کی ترقی اور اس کے لیے اہلیتوں کی تربیت، سرمایے تک بہتر رسائی اور ماحول میں تبدیلی لانا ہے تاکہ دنیا بھر کی خواتین کو اپنے مکمل معاشی امکان تک رسائی کا موقع ملے۔

جیسا کہ آپ سبھی جانتے ہیں ‘یوایس ایڈ’ ناصرف ترقیاتی امداد کے شعبے میں ہمارا سب سے بڑا ادارہ ہے بلکہ ہم دنیا بھر میں انسانی امداد اور بحرانوں کے موقع پر معاونت کے لیے بھی جانے جاتے ہیں۔ امریکہ انسانی امداد کے شعبے میں دنیا بھر میں اپنا قائدانہ کردار جاری رکھے گا مگر ہم دوسروں سے بھی کہیں گے کہ وہ بھی اپنا کردار ادا کریں اور یہ امر یقینی بنانے کے لیے انتھک محنت کریں کہ امداد ہرممکن موثر طریقے سے فراہم کی جائے۔

وینزویلا میں انسانی ساختہ اور حکومت کے پیدا کردہ بحران پر ہم نے جو مسلسل اقدامات کیے ہیں وہ  امریکہ کی جانب سے انسانی امداد کے حوالے سے اہم اور بروقت قائدانہ کردار کی سب سے بڑی مثال ہے۔ دفتر خارجہ اور یوایس ایڈ وینزویلا میں جاری انسانی بحران سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے پرعزم ہیں۔ ہم وینزویلا کے عوام کے لیے مستقبل میں جمہوری تبدیلی کے لیے پرعزم ہیں اور اس کی حمایت بھی کر رہے ہیں۔ ہم ایسی حکومت کے لیے جدوجہد میں ان کے ساتھ ہیں جو ان کے مفادات کی نمائندگی کرتی ہو اور ان کی ضروریات کو پورا کرے۔

یہ بجٹ ایک اور طرز کی آزادی کے حوالے سے ہماری سرمایہ کاری کو نمایاں وسعت دیتا ہے اور جیسا کہ نائب وزیر نے بتایا یہ مذہبی آزادی ہے۔ خاص طور پر ہم مشرق وسطیٰ میں ان مذہبی اور نسلی اقلیتوں کے لیے اپنی اہم معاونت جاری رکھیں گے جنہیں داعش نے ختم کرنا چاہا تھا۔

آخر میں مجھے یہ کہنا ہے کہ 2020 کا بجٹ یوایس ایڈ کے اندرونی اصلاحاتی اقدام یا تبدیلی پر عملدرآمد سے ہم آہنگ ہے۔ اس سے ہمیں اپنی بنیادی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے، ہماری کارگزاری میں بہتری اور بالاآخر اخراجات میں کمی لانے میں مددملے گی ۔ ہم ایک ایسا ادارہ بنا رہے ہیں جو ہمارے اثرورسوخ، اختیارات اور دستیاب وسائل سے کام لینے کا اہل ہو تاکہ انسانی اور ترقیاتی امداد کی فراہمی کے طریق کار میں تبدیلی لائی جا سکے۔ ہم ان حوصلہ شکن مسائل سے نمٹنے کے لیے بقیہ دنیا کے ہمراہ کڑی  محنت کریں گے جن کا سامنا ہم سبھی کو ہے۔

اگرچہ کانگریس کی جانب سے فیاضانہ طور سے دی گئی مالی امداد دنیا میں ہر مطالبے اور ہر ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں ہوتی مگر ہم یہ امر یقینی بنائیں گے کہ یوایس ایڈ بدستور دنیا کا اولین ترقیاتی ادارہ رہے اور وہ کام جاری رکھے جو ہم امریکہ  کے مستقبل کی سلامتی اور خوشحالی کے تحفظ میں دن رات کرتے ہیں۔ اپنے ساتھ موجودگی کا اعزاز بخشنے پر آپ کا شکریہ۔ شکریہ


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں