rss

دنیا بھر کے ممالک میں انسانی حقوق کی پاسداری سے متعلق 2018 کی رپورٹ کا اجرا

English English, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Русский Русский, Español Español, العربية العربية

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
وزیر خارجہ مائیکل آر پومپئو کا بیان
پریس بریفنگ روم
واشنگٹن ڈی سی
13 مارچ 2019

 

 

وزیر پومپئو: سبھی کو صبح بخیر۔ امریکہ کے آغاز سے ہی انفرادی حقوق کا تصور ہماری قومی ساخت کا بنیادی جزو رہا ہے۔ جیسا کہ میری دوست اور سکالر میری این گلینڈن نے لکھا ہے، اس نے ہمارے سماج میں کمزوروں کو ”اپنی آواز بلند کرنے کا وسیلہ مہیا کیا” اور ہمیں اس قابل بنایا کہ ہم دنیا کے بہت سے حصوں میں روزانہ انسانی زندگی، آزادی اور وقار کی ہولناک خلاف ورزیوں کو سامنے لا سکیں۔

حقوق کے حوالے سے ہماری مضبوط روایت کی مطابقت سے آج وزیر خارجہ کی حیثیت سے انسانی حقوق سے متعلق 2019 کی رپورٹ کا اجرا میرے لیے اعزاز ہے۔ 1977 سے اب تک ہر سال دفتر خارجہ اس رپورٹ کے ذریعے دنیا کو بتاتا ہے کہ ہم ہر جگہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو سامنے لائیں گے۔ جو لوگ انسانی وقار کے تصور کو تسلیم نہیں کرتے انہیں ہم نے بتا دیا ہے کہ انہیں اس کی قیمت چکانا ہو گی اور ان کی جانب سے ہونے والی خلاف ورزیوں کو باریک بینی سے دستاویزی شکل دے کر شائع کیا جائے گا۔

ہم انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بابت واضح طور سے بات کر کے اور نافرمان حکومتوں پر دباؤ ڈال کر تبدیلی لا سکتے ہیں۔ یقیناً ہم نے یہی کچھ دیکھا ہے۔ سالہا سال تک اس رپورٹ نے حکومتوں کو اپنی راہ تبدیل کرنے اور سفاکیت و دیگر بدسلوکیاں بند کرنے پر مجبور کیا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اس رپورٹ کی بدولت ایسا ہوتا رہے گا اور ایسی جگہوں پر جابر حکومتوں کو انسانی حقوق کا احترام کرنا پڑے گا جہاں عموماً یہ آوازیں خاموش کرا دی جاتی ہیں اور جہاں رواداری اور احترام کی دلی خواہش طویل عرصہ تک تشنہ رہی ہے۔

اس برس کی رپورٹ اندازاً 200 ممالک اور علاقوں میں انسانی حقوق کی پاسداری سے متعلق صورتحال کا تخمینہ پیش کرتی ہے۔ یہ دنیا بھر میں امریکی سفارتوں کے سیکڑوں افسروں اور یہاں دفتر خارجہ کے مابین بہت بڑے پیمانے پر تعاون کا نتیجہ ہے جو اپنے جیسے انسانوں کے وقار کی تحفظ کا فریضہ انجام دے رہے ہیں جو خدا نے انہیں تفویض کیا ہے۔ مجھے ان میں ہر ایک پر فخر ہے۔

میری خواہش ہے کہ میں یہ کہہ سکتا کہ اس برس کی رپورٹ میں ہر ملک کا ریکارڈ بے داغ ہے یا پہلے سے بہتر ہوا ہے، مگر ایسا نہیں ہے۔

ایران کی مثال لے لیجیے۔ گزشتہ برس وہاں کی حکومت نے اپنے حقوق کے لیے احتجاج کرنے والے 20 سے زیادہ لوگوں کو ہلاک کیا اور ہزاروں کو ناجائز طور سے حراست میں لیا۔ حکومت نے میڈیا کے اداروں کو ان مظاہروں کی خبریں دینے سے روک دیا۔ یہ سفاکی کے اسی نمونے کا تسلسل ہے جو ایرانی حکومت نے گزشتہ چار دہائیوں سے ایرانی عوام پر مسلط کر رکھا ہے۔

دریں اثنا جنوبی سوڈان میں فوج نے عام لوگوں کو ان کی سیاسی وفاداریوں اور قومیت کی بنا پر جنسی تشدد کا نشانہ بنایا۔

نکاراگوا میں جب شہریوں نے سماجی تحفظ سے متعلق فوائد کے لیے پرامن احتجاج کیا تو انہیں تاک تاک کر گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ وہاں حکومت کے نقادوں کو جلاوطنی، قید یا موت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

انسانی حقوق کی پامالیوں کی بات ہو تو چین سب سے آگے ہے۔ صرف 2018 میں ہی چین مسلم اقلیتی گروہوں کے لوگوں کو قید میں ڈالنے کی مہم پہلے سے  کہیں زیادہ تیز ی لایا۔ آج دس لاکھ سے زیادہ ویغور، قازق اور دیگر مسلمان تعلیم نو کیمپوں میں قید ہیں جن کا مقصد ان لوگوں کی مذہبی و نسلی شناختیں مٹانا ہے۔ حکومت عیسائیوں، تبتیوں اور حکومتی موقف سے مختلف نکتہ ہائے نظر رکھنے والوں یا حکومت میں تبدیلی کی حمایت کرنے والوں کے خلاف مظالم میں بھی اضافہ کر رہی ہے۔

حتیٰ کہ دنیا کے مختلف حصوں میں ہمارے دوست، اتحادی اور شراکت دار بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں۔ ہم نے ان سے متعلق بھی ایسی ہی رپورٹیں تیار کی ہیں۔ ہمارا مقصد ہمیشہ یہی رہا ہے کہ انسانی حقوق سے متعلق مسائل کی نشاندہی کی جائے اور امریکی اثرورسوخ اور طاقت کو استعمال کرتے ہوئے ہر ملک کو انسانی حقوق کی بہتر اور مزید استقامت سے پاسداری پر مجبور کیا جائے۔

جیسا کہ میں نے ابتدا میں بتایا ہے انسانی حقوق کے دفاع سے متعلق ہمارے عزم نے امریکہ کے بنیادی اصولوں سے جنم لیا ہے۔ یہ ہماری روایت ہے۔ امریکہ کی بنیاد ان واضح سچائیوں پر ہے جنہوں نے ہم میں ہر ایک کو وہ حقوق دیے ہیں جو ناقابل تنسیخ ہیں۔ یہ وہ حقوق ہیں جن کی دنیا میں کسی حکومت کو پامالی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ہمارے آئین میں ان حقوق کو ضوابط کی شکل دی گئی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ صرف امریکی حقوق نہیں رہیں گے بلکہ مزید بنیادی طور سے دنیا بھر میں انسانی حقوق کے طور پر جانے جائیں گے۔

درحقیقت عالمی سطح پر یہ 30 مختصر دفعات کی صورت میں انسانی حقوق کے عالمگیر اعلامیے کا حصہ ہیں۔ بہت سے ممالک نے اپنے دستور اور اقوام  تشکیل دیتے وقت ان دستاویزات سے تحریک پائی ہے۔ آج دفتر خارجہ دنیا بھر میں انسانی حقوق کی حمایت میں قائدانہ کردار ادا کرتے ہوئے اپنے بانیوں کی سوچ کا احترام اور تمام لوگوں کی آزادی کے لیے امریکہ کی دیرینہ خواہش کا اظہار کر رہا ہے۔

آج یہ رپورٹ جاری کر کے ہم دنیا بھر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق سچائی سامنے لائے ہیں جو کہ امریکہ کے سفارتی اسلحے کا سب سے طاقتور ہتھیار ہے۔ آپ کا شکریہ اور اب میں سفیر کوزاک سے کہوں گا کہ وہ سوالات کے جواب دیں۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں