rss

وزیر خارجہ مائیکل آر پومپئو کی پریس بریفنگ

English English, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Русский Русский, Español Español

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
15 مارچ 2019
وزیر خارجہ مائیکل آر پومپئو کی پریس بریفنگ
پریس بریفنگ روم
واشنگٹن ڈی سی

 
 

وزیر پومپئو: سبھی کو صبح بخیر۔ آج میں خارجہ پالیسی سے متعلق دو مسائل پر مختصراً بات کرنا چاہوں گا۔ تاہم پہلے میں کرائسٹ چرچ کی مسجد میں ہونے والے حملےپر نیوزی لینڈ کے لوگوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرنا چاہتا ہوں۔ آج امریکی لوگوں کے جذبات اور دعائیں متاثرین اور ان کے اہلخانہ کے ساتھ ہیں۔ امریکہ اس نفرت انگیز حملے کی مذمت کرتا ہے۔ ہم اس تاریک لمحے میں نیوزی لینڈ کی حکومت اور عوام کے ساتھ غیرمتزلزل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور اس واقعے کے حوالے سے کسی بھی طرح کی مدد کے لیے تیار ہیں۔

اب میں یمن جنگ میں سعودی عرب کے زیرقیادت اتحاد کی مدد ختم کرنے کے لیے سینیٹ کے ووٹ پر تبصرہ کرنا چاہوں گا۔ ہم سب اس جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ ہم سب سنگین انسانی صورتحال میں بہتری کے خواہش مند ہیں۔ مگر ٹرمپ انتظامیہ کا اس بات سے بنیادی اختلاف ہے کہ سعودی عرب کے زیر قیادت اتحاد کے لیے ہماری مدد پر پابندی سے یہ اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ پابندی کے حق میں ووٹ دینے والے سینیٹر حضرات کا کہنا ہے کہ وہ یمن میں بمباری کا خاتمہ چاہتے ہیں اور انسانی حقوق کے حامی ہیں۔ مگر ہمیں ان انسانی حقوق کے بارے میں واقعتاً سوچنے کی ضرورت ہے۔

اگر آپ کو واقعی یمن والوں کی زندگیوں کی فکر ہے تو آپ یمن کو بدعنوان اور وحشیانہ طرزعمل کی حامل اسلامی جمہوریہ ایران کی کٹھ پتلی ریاست بننے سے روکنے کے لیے سعودی عرب کے زیرقیادت کوشش کی حمایت کرتے۔ اگر ہمیں واقعی سعودیوں کی زندگی کی فکر ہے تو آپ ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کو ریاض میں میزائل داغنے سے روکنے کے خواہش مند ہوتے۔ اگر آپ کو واقعی اس خطے میں عربوں کی زندگی عزیز ہے تو پھر آپ ایران کو اپنا آمرانہ اقتدار تہران سے بحیرہ روم اور دوسری جانب یمن تک پھیلانے سے روکنے کے لیے اتحادیوں کی کوششوں کی اعانت کرتے۔ اگر ہمیں واقعی امریکیوں کی زندگی اور روزگار عزیز ہے اور دنیا بھر کے لوگوں کی زندگیوں اور روزگار کی فکر ہے تو آپ یہ بات سمجھتے کہ ایران اور اس کے آلہ کاروں کو یمن سے متصل جہازرانی کے راستوں پر قبضے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

ہم یمن میں انسانی بحران سے پوری طرح آگاہ ہیں اور ہمیں اس پر افسوس ہے۔ اس جنگ کے آغاز سے ہی امریکہ یمنی عوام کی مدد کے لیے 2 بلین ڈالر سے زیادہ امداد دے چکا ہے اور سعودی عرب نے صرف 2018 میں ہی 500 ملین سے زیادہ دیے ہیں جبکہ اس برس مزید 500 ملین ڈالر کا وعدہ کیا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے انسانی امداد کے لیے کچھ بھی نہیں دیا۔

یمنی عوام کی تکالیف میں کمی لانے کا راستہ یہ نہیں ہے کہ ہم اپنے شراکت داروں کی راہ میں مزاحم ہو کر اس جنگ کو طویل دیں۔ اس کے بجائے ہمیں سعودی عرب کے زیرقیادت اتحاد کو ایرانی پشت پناہی سے سرگرم باغیوں کو شکست دینے اور منصفانہ امن یقینی بنانے کے لیے درکار مدد فراہم کرنی چاہیے۔ گزشتہ روز میری مارٹن گرفتھس سے ملاقات ہوئی تھی اور ہمیں امید ہے کہ تناؤ میں کمی لانے کے لیے معاہدوں پر عملدرآمد ہو سکتا ہے مگر ہمیں یہ امر یقینی بنانا ہو گا کہ یہ بحران ختم ہو جائے۔

میں آج جس دوسرے موضوع پر بات کرنا چاہتا ہوں وہ جرائم کی عالمی عدالت سے متعلق ہے۔ گزشتہ برس برسلز میں ایک تقریر کے دوران میں نے واضح کیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ عالمی اداروں میں اصلاحات، انہیں دوبارہ ان کے بنیادی مقاصد سے ہم آہنگ کرنے اور جب وہ ان لوگوں کے کام آنے میں ناکام ہو جائیں جن کے لیے انہیں بنایا گیا ہے تو پھر ان کے احتساب پر یقین رکھتی ہے۔ ہم عالمی اداروں کی جانب سے آزادی، خودمختاری اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں کا احترام یقینی بنائے جانے کے لیے ذمہ دار ممالک سے شراکت چاہتے ہیں۔ خود مختار ممالک نے اکٹھے ہو کر یہ ادارے بنائے تھے اور یہ ان ممالک کی رضامندی سے ہی قائم ہیں۔
1998
سے امریکہ نے آئی سی سی میں شمولیت کو مسترد کیا ہے جس کی وجہ اس کے پاس وسیع و غیرجوابدہ قانونی اختیارات کا ہونا اور امریکی قومی حاکمیت کو لاحق خطرہ تھا۔ ہم امریکہ اور اپنے اتحادیوں کے فوجی و غیرفوجی اہلکاروں کو اپنے عظیم ملک کے دفاع میں اٹھائے گئے اقدامات پر غیرمنصفانہ قانونی کارروائی کے خوف سے تحفظ دلانے کے لیے پرعزم ہیں۔ ہمیں خدشہ تھا کہ عدالت امریکیوں کے خلاف سیاسی بنیادوں پر قانونی کارروائی کر سکتی ہے اور ہمارے خدشات درست تھے۔

نومبر 2017 میں آئی سی سی کے مدعی نے ”افغانستان کی صورتحال” پر تحقیقات شروع کرنے کی منظوری دینے کے لیے درخواست دائر کی۔ وہ امریکی اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی اور سزا دلانے کے لیے انہیں غیرقانونی طور پر نشانہ بنا سکتے تھے۔ ستمبر 2018 میں ٹرمپ انتظامیہ نے آئی سی سی کو خبردار کیا کہ اگر اس نے امریکیوں کے حوالے سے تحقیقات کی کوشش کی تو اس کے نتائج سامنے آئیں گے۔ تحقیقات کی یہ درخواست تاحال زیرالتوا ہے۔

غیرملکیوں پر بعد از ویزا پابندیوں سے متعلق موجودہ قانونی اختیار کے تحت میں ایسے افراد کو امریکی ویزے کے اجرا پر پابندی کی پالیسی کا اعلان کر رہا ہوں جو امریکی اہلکاروں کے خلاف آئی سی سی کی کسی بھی تحقیقات کے براہ راست ذمہ دار ہیں۔ اس اختیار کی رو سے ایسے لوگوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی لگائی جا سکتی ہے ”جن کا امریکہ میں داخلہ یا امریکی سرزمین پر مجوزہ سرگرمیاں خارجہ پالیسی کے حوالے سے ممکنہ طور پر سنگین نقصان کا باعث ہو سکتی ہیں۔” ان میں وہ افراد بھی شامل ہیں جنہوں نے ایسی تحقیقات کے لیے اقدامات اٹھائے ہیں یا ایسی تحقیقات کو آگے بڑھانے کی درخواست دی ہے۔ یہ ویزا پابندیاں آئی سی سی کی جانب سے ہمارے اتحادی ممالک کے اہلکاروں بشمول اسرائیلیوں کے خلاف آئی سی سی کی کوششوں کو روکنے کے لیے بھی استعمال ہو سکتی ہیں جس کے لیے اتحادیوں کی رضامندی ضروری نہیں۔ اس پالیسی پر عملدرآمد پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔ امریکی قانون کے تحت انفرادی ویزا ریکارڈ خفیہ ہوتے ہیں، چنانچہ میں یہ تفصیلات مہیا نہیں کروں گا کہ ان پابندیوں سے کون متاثر ہوا ہے اور آئندہ کون ہو گا۔

تاہم آپ کو علم ہونا چاہیے کہ اگر آپ افغانستان کی صورتحال کے حوالے سے امریکی اہلکاروں کے خلاف آئی سی سی کی مجوزہ تحقیقات کے ذمہ دار ہیں تو پھر آپ یہ مت سمجھیں کہ آپ کے پاس تاحال امریکی ویزا ہے یا آپ کو یہ ویزا مل جائے گا یا آپ کو امریکہ میں داخلے کی اجازت ملے گی۔ امریکہ قابل اطلاق قانون کی مطابقت سے ان اقدامات پر عملدرآمد کرے گا جن میں اقوام متحدہ مرکز کے معاہدے کے تحت ہماری ذمہ داریاں بھی شامل ہیں۔ ہماری کوششیں ان ویزا پابندیوں پر ہی ختم نہیں ہوں گی۔ ہم اضافی اقدامات کے لیے بھی تیار ہیں اور اگر آئی سی سی نے اپنی روش تبدیل نہ کی تو اس کے خلاف معاشی پابندیاں بھی لگائی جا سکتی ہیں۔

اپنے شہریوں کا تحفظ ہماری حکومت کی پہلی اور سب سے بڑی ذمہ داری ہے اور موجودہ انتظامیہ اس فریضے کی تکمیل کرے گی۔ قانون کی حکمرانی، احتساب اور انصاف کے حوالے سے امریکہ کا مستقل عزم دنیا کے لیے باعث رشک ہے اور یہ ہمارے ملک کی کامیابی کی بنیاد ہے۔ جب امریکی فوج کے ارکان ہمارے کڑے عسکری ضابطے کی پابندی میں ناکام رہتے ہیں تو انہیں تنبیہ کی جاتی ہے، ان کا کورٹ مارشل ہوتا ہے اور جرم کے مطابق سزا دی جاتی ہے۔ جہاں ممکن ہو امریکی حکومت عالمگیر جرائم کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کرتی ہے۔ امریکہ دوسرے ممالک کے مقامی نظام ہائے انصاف کو مضبوط بنانے کے لیے امداد دیتا ہے جو کسی مجرم کے سزا سے بچ نکلنے کے خلاف پہلی اور سب سے بہتر دفاعی لکیر ہوتے ہیں۔ اگر مخلوط عالمگیر قانونی طریقہ ہائے کار موثر انداز میں کام کریں اور ہمارے قومی مفادات سے ہم آہنگ ہوں تو امریکہ ان کی بھی حمایت کرتا ہے۔ مثال کے طور پر ان میں روانڈا اور یوگوسلاویہ میں ڈھائے جانے والے مظالم سے نپٹنے کا طریق کار اور شام و برما میں شہادتیں جمع کرنے کی عالمگیر کوششیں شامل ہیں۔ تاہم آئی سی سی امریکی حکمرانیء قانون پر حملہ کر رہی ہے۔ اگر عدالت اپنی روش تبدیل کرنا چاہے تو ابھی دیر نہیں ہوئی اور ہم اس پر زور دیتے ہیں کہ وہ فوری ایسا کرے۔ شکریہ۔

سوال: مجھے مختصراً آئی سی سی کے حوالے سے فیصلے کی بابت پوچھنا ہے۔ کیا آپ آج یہ اعلان اس لیے کر رہے ہیں کہ انہوں نے افغانستان سے متعلق زیرالتوا تحقیقات بند یا ختم نہیں کیں یا اس کی کوئی اور وجہ ہے؟

میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا آپ کو یہ دیکھنے کا موقع ملا اور کیا آپ ایک رات پہلے شمالی کوریا کی نائب وزیر خارجہ کے اس بیان پر ردعمل دیں گے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ امریکہ نے ہنوئی میں پیچھے ہٹ کر ایک سنہری موقع کھو دیا ہے۔ انہوں نے اس مخاصمانہ ماحول کے لیے آپ کو اور سفیر بولٹن کو ذاتی طور پر ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

وزیر پومپئو: جہاں تک ہمارے آج کے اقدامات کی وجوہات کا تعلق ہے تو یہ آئی سی سی کو اس کی ممکنہ تحقیقات اور افغانستان میں امریکیوں اور ہماری اتحادی افواج کے اہلکاروں کی سرگرمیوں پر انکے خلاف ممکنہ کارروائی کے حوالے سے اپنی روش تبدیل کرنے پر قائل کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ اگرچہ ہم اس ادارے کا حصہ نہیں ہیں مگر ہم انہیں روکنے اور ایسے اقدامات سے باز رکھنے کے لیے کوشاں ہیں جو ہمارے خیال میں اس راہ عمل سے بالکل متضاد ہیں جو آئی سی سی کے لیے طے کی گئی ہے۔ یہی وہ نمونہ ہے جس پر ہم نے پہلے بات کی ہے اور اب ہم اس بات پر عملدرآمد کر رہے ہیں جس کے بارے میں ہم نے پہلے نشاندہی کی تھی۔

مجھے ایک رات پہلے چو سون ہوئی کا بیان دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ بہت سی محنت کے بعد سنگاپور میں دونوں رہنماؤں میں ملاقات ہوئی تھی جس میں انہوں نے کچھ اقدامات شروع کیے۔ شمالی کوریا کو اس وقت کڑی ترین پابندیوں کا سامنا ہے، یہ عالمگیر پابندیاں ہیں جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے نتیجے میں عائد کی گئی ہیں اور یہ بدستور نافذ ہیں۔ ان پابندیوں کا خاتمہ شمالی کوریا کی جانب سے جوہری اسلحے کے مکمل خاتمے سے مشروط ہے۔ ان میں میزائل، ان کا اسلحے کا نظام اور وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا پورا پروگرام شامل ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے یہی تقاضا کیا گیا ہے۔

چنانچہ دونوں رہنماؤں میں ملاقات ہوئی۔ چیئرمین کم نے جوہری اسلحے کے خاتمے کا وعدہ کیا۔ ہم نے سنگاپور اور ہنوئی میں ہونے والی ملاقاتوں کے درمیانی عرصہ میں یہ سب کچھ ممکن بنانے کے لیے کام کیا۔ ہمارے یرغمالی لوٹائے گئے۔ ہم نے ان کی جانب سے میزائل اور جوہری تجربات کو رکوایا۔ ہمیں امید ہے کہ ہم گفت و شنید جاری رکھ سکتے ہیں۔ میں نے ان کا بیان دیکھا ہے۔ انہوں نے یہ امکان کھلا رکھا ہے کہ بات چیت یقیناً جاری رہے گی۔ یہ امریکی انتظامیہ کی خواہش ہے کہ ہم اس معاملے پر بات چیت جاری رکھیں۔ جیسا کہ ہنوئی میں صدر نے کہا تھا، شمالی کوریا والوں نے جو کچھ مانگا اس کے بدلے میں ان کی پیشکش قابل قبول حد تک جائز نہیں تھی۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں