rss

ایران کی جانب سے اپنے خفیہ جوہری ذخیرے کے بارے میں سوالات کا جواب دینے سے انکار پر اس کے اہم جوہری ادارے سے متعلق نئی امریکی پابندیاں

English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Русский Русский

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
22 مارچ 2019
حقائق نامہ

 

آج دفتر خارجہ اور محکمہ خزانہ نے انتظامی حکم 13382 کے تحت 31 ایرانی اداروں اور افراد کو پابندیوں کے لیے نامزد کیا ہے۔ اس حکم کے تحت وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں (ڈبلیو ڈی ایم) اور ان کی ترسیل کے نظام اور معاونین کو ہدف بنایا گیا ہے۔ آج پابندیوں کے لیے نامزد ہونے والے 14 افراد اور 17 اداروں کا تعلق ایرانی کے دفاعی ایجادات و تحقیق کے ادارے سے ہے جسے اس کے فارسی سرنامیے ‘ایس پی این ڈی’ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

‘ایس پی این ڈی’ کو فروری 2011 میں محسن فخری زادے نے قائم کیا تھا جو 2004 سے قبل ایرانی جوہری ہتھیاروں کے پروگرام ‘عماد منصوبہ’ کے سربراہ کے طور پر معروف تھے۔ آئی اے ای اے کے مطابق 2003 کے اواخر میں ایرانی قیادت کے حکم پر عماد منصوبے پر کام روک دیا گیا تھا۔ تاہم ایران نے عماد دور سے متعلق ریکارڈ محفوظ رکھا اور فخری زادے نے ‘ایس پی این ڈی’ کے سربراہ کے طور پر اس کی اعلیٰ تنظیمی ذمہ داریاں سنبھالیں۔

‘ایس پی این ڈی’ میں 1500 افراد ملازم ہیں جن میں عماد منصوبے سے منسلک رہنے والے متعدد تحقیق کار بھی شامل ہیں جو بدستور دہری تحقیق و ترقی کا کام کر رہے ہیں جس کے کئی پہلو جوہری ہتھیاروں اور ان کے ترسیلی نظام کی تیاری میں کام آتے ہیں۔ مزید براں ‘ایس پی این ڈی’ کے ماتحت ادارے وسیع تر منصوبوں پر سالانہ کروڑوں ڈالر خرچ کرتے ہیں۔ امریکہ نے نومبر 2014 میں انتظامی حکم 13382 کے تحت ‘ایس پی این ڈی’ کو ہتھیاروں کے پھیلاؤ سے متعلق سرگرمیوں پر پابندیوں کے لیے نامزد کیا تھا۔

حال ہی میں دریافت شدہ خفیہ ایرانی جوہری ذخیرے سے متعلق جو معلومات سامنے آئی ہیں ان میں بعض ایسے افراد کے نام بھی شامل ہیں جن پر آج پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ عماد منصوبے کے تحت ایران کی جوہری ہتھیاروں سے متعلق سابقہ مخفی سرگرمیوں کے بارے میں سوالات بدستور جواب طلب ہیں۔ ان میں میزائلوں کے لیے جوہری اسلحے کی تیاری سے متعلق سرگرمیاں بھی شامل ہیں۔

یہ پابندیاں ایران سے جوہری ہتھیاروں سے متعلق اس کی سابقہ سرگرمیوں خاص طور پر (1) ایران کی جانب سے خفیہ جوہری ذخیرہ برقرار رکھنے کے فیصلے، (2) ‘ایس پی این ڈی’ میں فخری زادے کی قیادت کا تسلسل، (3) ‘ایس پی این ڈی’ کے سائنس دانوں کی جانب سے ہتھیاروں کے پھیلاؤ سے متعلق تحقیق و تجربات جاری رہنے اور (4) ‘ایس پی این ڈی’ کی جانب سے تیسرے ملک کے ترسیل کنندگان سے دہرے مقاصد کے لیے استعمال ہونے والا سازوسامان خریدنے کی غرض سے جعلی اداروں، کمپنیوں اور خریداری نمائندوں کے استعمال پر اس کے مکمل اور دیانتدارانہ احتساب کے مطالبے کی اہمیت کی ازسرنو توثیق ہوتی ہے۔

ہمارے آج کے اقدامات سے مشترکہ جامع منصوبہ عمل (جے سی پی او اے) میں پائے جانے والے نقائص کی نشاندہی ہوتی ہے اور یہ سامنے آتا ہے کہ اس میں اپنی شمولیت ختم کرنے کا امریکی فیصلہ کیوں درست تھا۔ علاوہ ازیں ان اقدامات سے ایران کو ماضی میں ہتھیاروں سے متعلق اپنی سرگرمیاں دوبارہ ترتیب دینے سے مستقلاً روکنے کی اہمیت بھی واضح ہوتی ہے۔ اسی لیے وزیر خارجہ پومپئو نے ایک نئے جامع معاہدے کی بات کی ہے جس سے جوہری ہتھیاروں تک رسائی کے تمام راستے مستقل طور پر روکے جا سکیں، جس سے ایران کی جوہری ہتھیاروں سے متعلق سابقہ سرگرمیاں مکمل طور سے سامنے آئیں، جو ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے کی ایرانی جوہری تنصیبات تک غیرمشروط رسائی ممکن بنائے اور جس کے نتیجے میں یورینیم افزودہ کرنے کی تمام سرگرمیاں اور بھاری پانی کا ری ایکٹر بند کرنے میں مدد ملے۔

آج عائد کی گئی یہ پابندیاں عالمگیر امن و سلامتی کو ایرانی حکومت سے لاحق خطرے کے سدباب کے لیے اس پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی امریکی کوششوں کا تسلسل ہیں۔ ان پابندیوں کے نتیجے میں نامزد افراد اور اداروں کے امریکہ میں اثاثے منجمد کیے جانے کے علاوہ ان کی امریکی مالیاتی نظام تک رسائی بھی روک دی جائے گی اور ان افراد اور اداروں کو مادی معاونت مہیا کرنے والے غیرامریکیوں کی نشاندہی بھی ہو سکے گی۔

ہتھیاروں کے پھیلاؤ سے متعلق ایرانی پروگرام کے لیے کام کرنے والے افراد بشمول سائنس دان، خریداری نمائندے اور تکنیکی ماہرین کو آگاہ ہونا چاہیے کہ ایرانی جوہری پروگرام کے لیے کام کرنے پر ان کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے اور انہیں مالی نقصان کا سامنا ہو سکتا ہے۔ مستقبل کے ایرانی سائنس دانوں کے پاس دو راستے ہیں: وہ اپنی صلاحیتوں کو ‘ڈبلیو ایم ڈی’ سے ہٹ کر اچھے کام کے لیے استعمال کر سکتے ہیں یا وہ اسلحے کے پھیلاؤ کے لیے ایرانی اداروں کے لیے کام کر تے رہیں جس پر انہیں پابندیوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ایرانی تکنیکی ماہرین کو اپنی صلاحیت ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے منصوبوں پر مدد دے کر ضائع نہیں کرنی چاہیے۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں