rss

جوہری ہتھیاروں کے حصول کی سابقہ ایرانی کوشش سے منسلک دفاعی ادارے سے روابط رکھنے والے اداروں اور افراد پر امریکی حکومت کی پابندیاں

English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी

امریکی محکمہ خزانہ
دفتر عوامی امور
جوہری ہتھیاروں کے حصول کی سابقہ ایرانی کوشش سے منسلک دفاعی ادارے سے روابط رکھنے والے اداروں اور افراد پر امریکی حکومت کی پابندیاں
22 مارچ 2019

 
 

واشنگٹن ۔۔ امریکی محکمہ خزانہ میں غیرملکی اثاثہ جات پر کنٹرول کے دفتر (او ایف اےسی) نے امریکی دفتر خارجہ کے تعاون سے آج دفاعی ایجادات اور تحقیق کے ایرانی ادارے (ایس پی این ڈی) سے تعلق رکھنے والے 14 افراد اور 17 اداروں کو پابندیوں کے لیے نامزد کیا ہے۔ اس ادارے نے پابندیوں کے لیے نامزد ایرانی دفاعی اداروں کی معاونت کی اور اس کے اہم لوگوں نے ایرانی حکومت کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے حصول کی سابقہ کوشش میں مرکزی کردار ادا کیا۔ اس کارروائی میں ‘ایس پی این ڈی’ کے حالیہ ماتحت گروہوں، معاونین، مقاصد کے حصول کی خاطر بنائی جانے والی جعلی کمپنیوں اور متعلقہ حکام کو ہدف بنایا گیا ہے۔

وزیر خزانہ سٹیون ٹی منوچن نے کہا ہے کہ ”امریکی حکومت دفاعی ایجادات اور تحقیق کے ایرانی ادارے (ایس پی این ڈی) سے روابط رکھنے والے ہر سطح کے کرداروں کے خلاف فیصلہ کن اقدام کر رہی ہے۔ یہ ادارہ ایرانی حکومت کے دفاعی شعبے کا معاون ہے۔ امریکہ ایرانی حکومت پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کا سلسلہ جاری رکھے گا اور ایران کو وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے تمام معاشی ذرائع استعمال کیے جائیں گے۔ عمومی طور پر ایرانی دفاعی صنعت اور خاص طور سے ‘ایس پی این ڈی’ کے ساتھ لین دین کاارادہ رکھنے والوں کو پیشہ وارانہ، ذاتی اور مالیاتی اعتبار سے خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔”

دفتر خارجہ نے 29 اگست 2014 کو انتظامی حکم 13382 کی مطابقت سے ‘ایس پی این ڈی’ کے خلاف ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے یا ملوث ہونے کی کوشش پر پابندیاں عائد کیں جن سے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں یا ان کے ترسیلی ذرائع کے حصول اور تیاری میں مدد ملتی ہو یا ان کی جانب سے اس مقصد کے لیے کسی طرح کا مادی کردار ادا کیے جانے امکان ہو۔ انتظامی حکم 13382 وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں (ڈبلیو ایم ڈی) اور ان کے ترسیلی ذرائع کے پھیلاؤ میں ملوث افراد اور معاونین پر پابندیاں عائد کرنے کا اختیار فراہم کرتا ہے۔ ایران نے اپنے ”عماد منصوبے” کے تحت مادی وسائل اور سازوسامان حاصل کیا اور جوہری آلات کی تیاری سے متعلق متعدد سرگرمیاں انجام دیں۔ ایران نے ممکنہ طور پر جوہری ہتھیار کے ترسیلی نظام کے لیے استعمال ہونے والی بلسٹک میزائل کی خاص گاڑی بھی ازسرنو تیار کی۔ ایرانی سائنس دان ہتھیاروں کے پھیلاؤ سے متعلق حساس تحقیق میں شامل ہیں اور ‘ایس پی این ڈی’ کے اداروں کے لیے تجربات کرتے ہیں جو کہ دفاع سے متعلقہ وسیع تر منصوبہ جات پر سالانہ کروڑوں ڈالر خرچ کرتا ہے۔

شاہد کریمی گروپ

‘او ایف اے سی’ نے ‘ایس پی این ڈی’ کے ایک ماتحت گروپ ‘شاہد کریمی گروپ’ کو پابندیوں کے لیے نامزد کیا ہے۔ یہ گروپ ‘ایس پی این ڈی’ کے لیے میزائلوں اور دھماکہ خیز آلات سے متعلق منصوبہ جات پر کام کرتا ہے۔ اس سے متعلقہ چار افراد پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ شاہد کریمی گروپ نے ‘ایس پی این ڈی’ کی جانب سے ہتھیاروں کے نظام، سازوسامان اور دھماکہ خیز مواد پر تحقیق کی ہے ۔ ‘او ایف اے سی’ نے انتظامی حکم 13382 کی مطابقت سے شاہد کریمی گروپ کو ‘ایس پی این ڈی’ کے زیر ملکیت یا اس کے زیراختیار ہونے یا براہ راست یا بالواسطہ طور پر اس کے لیے کام کرنے یا کام کے ارادے پر پابندیوں کے لیے نامزد کیا۔

شاہد کریمی گروپ کا سربراہ محمد رضا مہدی پور ہے اور وہ ‘ایس پی این ڈی’ کی جانب سے دھماکوں اور ضربات سے متعلق تحقیق میں ملوث رہا ہے۔

اکبر مطلبی زادہ قبل ازیں شاہد کریمی گروپ کا سربراہ تھا اور اس نے ‘ایس پی این ڈی’ کے منصوبوں کی نگرانی کی۔ اکبر مطلبی زادہ بھی ‘ایس پی این ڈی’ کے سربراہ محسن فخری زادہ (فخری زادہ) کے مشیر کے طور پر کام کر چکا ہے۔ فخری زادہ کو 8 جولائی 2008 کو انتظامی حکم 13382 کی مطابقت سے پابندیوں کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔
جلال امامی غارہ ہجلو شاہد کریمی گروپ میں ہتھیاروں کے نظام سے متعلق تحقیق کار تھا۔ جلال امامی غارہ ہجلو نے’ عماد منصوبے ‘کے لیے اعلیٰ سطحی ماہر اور کوالٹی کنٹرول مینجر کے طور پر بھی کام کیا۔

سید بورجی ‘ایس پی این ڈی’ کے شاہد کریمی گروپ کے لیے دھماکہ خیز مواد اور دھاتوں کا ماہر ہے جس نے دھماکوں کے لیے استعمال ہونے والا سازوسامان خریدنے کی کوششوں میں ‘ایس پی این ڈی’ کی معاونت کی۔

‘او ایف اے سی’ نے انتظامی حکم 13382 کی مطابقت سے محمد رضا مہدی پور کو براہ راست یا بالواسطہ طور پر شاہد کریمی گروپ کے لیے کام کرنے یا اس کی جانب سے کام کے ارادے پر پابندیوں کے لیے نامزد کیا۔ ‘او ایف اے سی’ نے انتظامی حکم 13382 کی مطابقت سے اکبر مطلبی زادہ، جلال امامی ہجلو اور سید بورجی کو بھی شاہد کریمی گروپ کو مالیاتی، مادی، ٹیکنالوجی سے متعلق یا دیگر معاونت یا اشیا و خدمات کی فراہمی یا فراہمی کی کوشش پر پابندیوں کے لیے نامزد کیا ہے۔

شاہد چمران گروپ

شاہد چمران گروپ کے کام میں الیکٹران کی رفتار اور مادے کی منتقلی سے متعلق تحقیق شامل ہے۔ ‘ایس پی این ڈی’ کے اس ماتحت گروپ نے ادارے کے لیے برقی مقناطیسیت، ارتعاشی قوت اور لہروں کی تخلیق پر بھی تحقیق کی۔ سید اصغر ہاشمی تبار نے شاہد چمران گروپ میں انتظامی ماہر کے طور پر کام کیا جہاں ارتعاشی طاقت پر تحقیق اس کا خاص شعبہ تھا۔

‘او ایف اے سی’ نے انتظامی حکم 13382 کی مطابقت سے شاہد چمران گروپ کو ‘ایس پی این ڈی’ کے زیر ملکیت یا اس کے زیراختیار ہونے کی بنا پر پابندیوں کے لیے نامزد کیا۔ ‘او ایف اے سی’ نے انتظامی حکم 13382 کی مطابقت سے سید اصغر ہاشم اتبار کو براہ راست یا بالواسطہ طور پر شاہد چمران گروپ کے لیے یا اس کی جانب سے کام کرنے پر پابندیوں کے لیے نامزد کیا۔

شاہد فخر مغادم گروپ

‘او ایف اے سی’ نے ‘ایس پی این ڈی’ کے ماتحت شاہد فخر مغادم گروپ (شاہد فخر) اور اس سے وابستہ دو افراد کو پابندیوں کے لیے نامزد کیا ہے۔ شاہد فخر نے تمثیلی دھماکوں کے لیے ٹیکنالوجی کی تیاری اور تابکاری و نیوٹران کی نگرانی اور نشاندہی کے نظام بنانے سے متعلق منصوبہ جات پر کام کیا۔ علاوہ ازیں اس ادارے نے ‘ایس پی این ڈی’ کو طبعیات سے متعلقہ ریاضیاتی حساب کتاب کے لیے ادارہ بنانے میں بھی مدد فراہم کی۔

روح اللہ غدیری بارمی (غدیری) شاہد گروپ فخر کا ڈائریکٹر ہے جہاں وہ سازوسامان کی تیاری اور پیداوار سے متعلق امور کی نگرانی کرتا ہے۔ غدیری شاہد فخر گروپ کی جانب سے بیرون ملک ترسیل کنندگان سے ایکس رے کے حصول کی کوششوں میں بھی ملوث رہا ہے۔

محمد جواد صفاری (صفاری) شاہد فخر گروپ میں گنتی اور پیمائش کا ماہر ہے۔
‘او ایف اے سی’ نے انتظامی حکم 13382 کی مطابقت سے شاہد فخر مغادم گروپ کو براہ راست یا بالوسطہ طور پر ‘ایس پی این ڈی’ کے زیر ملکیت یا اس کے زیراختیار ہونے یا اس کے لیے کام کرنے یا اس کی جانب سے کام کےارادے پر پابندیوں کے لیے نامزد کیا۔ ‘او ایف اے سی’ نے انتظامی حکم 13382 کی مطابقت سے روح اللہ غدیری بارمی کو براہ راست یا بالواسطہ طور پر شاہد فخر مغادم گروپ کے لیے یا اس کی جانب سے کام پر پابندیوں کے لیے نامزد کیا۔ ‘او ایف اے سی’ نے انتظامی حکم 13382 کی مطابقت سے محمد جواد صفاری کو شاہد فخر مغادم گروپ کے لیے مالیاتی، مادی، ٹیکنالوجی سے متعلق یا دیگر معاونت یا اشیا و خدمات کی فراہمی یا فراہم کرنے کی کوششوں پر پابندیوں کے لیے نامزد کیا۔

آج پابندیوں کے لیے نامزد ہونے والے ‘ایس پی این ڈی’ کے مزید ماتحت گروپ

‘او ایف اے سی’ نے ‘ایس پی این ڈی’ کے لیے مفید تحقیق اور سرگرمیوں میں ملوث 10 مزید اداروں کو پابندیوں کے لیے نامزد کیاہے ۔

شیخ بہائی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ریسرچ سنٹر ‘ایس پی این ڈی’ کے لیے تابکاری اور اطلاقی طبعیات پر کام کرتا ہے۔

شاہد ایوینی گروپ نے جوہری دہشت گردی، فطری و انسانی ساختہ واقعات میں امتیاز اور وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے معتدد ہتھیاروں کے استعمال اور تجربات کے حوالے سے معاہدوں پر تحقیق کی۔

شاہد بہائی گروپ انتہائی طاقتور لیزر تیار کرتا ہے اور یہ ‘ایس پی این ڈی’ کی مدد سے فوٹونکس اور سیمی کنڈکٹر پر بھی تحقیق کرتا ہے۔

شاہد موحد دانش گروپ نے لیزر اور فوٹونکس پر تحقیق میں ‘ایس پی این ڈی’ کی معاونت کی۔

ابو ریحان گروپ نے مصنوعی سیاروں اور پلازما ٹیکنالوجی سے متعلق منصوبہ جات میں ‘ایس پی این ڈی’ کو معاونت فراہم کی اور اس کے میزائل منصوبوں پر کام کیا۔

شاہد کاظمی گروپ نے ‘ایس پی این ڈی’ کے لیے آوازوں سے متعلق تحقیق کی۔

سائنس اور ٹیکنالوجی کے امور سے متعلق شاہد شکوری گروپ ‘ایس پی این ڈی’ کا ماتحت گروپ ہے جو تابکاری کے افشا پر کام کرتا ہے۔

حیدر کرار تحقیقی گروپ ‘ایس پی این ڈی’ کے لیے سائبر دفاعی نظام پر کام کرتا ہے۔ اس کے کمپیوٹر نیٹ ورک میں شامل معاونین ناجائز سرگرمیوں میں ملوث ہیں جنہوں نے امریکی لوگوں اور کمپنیوں کو نشانہ بنایا۔

شاہد زین الدین گروپ نے ‘ایس پی این ڈی’ کے لیے حیاتیاتی تحقیق کی اور حیاتیاتی ٹیکنالوجی کی تیاری پر کام کیا ہے۔ شاہد زین الدین گروپ نے ‘ایس پی این ڈی’ کی جانب سے بھی متعدد اقسام کے زہر، ادویہ کی ترسیل کے طریقہ ہائے کار اور حیاتیاتی دفاعی نظام پر تحقیق کی ہے۔

بوعلی گروپ کی ذمہ داریاں ‘ایس پی این ڈی’ کے لیے حیاتیاتی ری ایکٹر بنانے سے لے کر تجربہ گاہ میں ڈی این اے کی ترتیب پر تحقیق تک پھیلی ہوئی ہیں۔

‘صدرہ تحقیقی مرکز’ ادراکی سائنس میں خاص مہارت رکھتا ہے اور اس نے ایران کے اعلیٰ عسکری اہلکاروں کو ذہنی طور پر مضبوط بنانے کے طریقوں پر کام کیا ہے۔

‘او ایف اے سی’ نے انتظامی حکم 13382 کی مطابقت سے شاہد ایوینی گروپ کو براہ راست یا بالواسطہ طور پر ‘ایس پی این ڈی’ کے زیرملکیت یا زیراختیار ہونے یا اس کے لیے کام یا کام کے ارادے پر پابندیوں کے لیے نامزد کیا ہے۔ ‘او ایف اے سی’ نے انتظامی حکم 13382 کی مطابقت سے شیخ بہائی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ریسرچ سنٹر، شاہد بہائی گروپ، شاہد کاظمی گروپ، سائنس و ٹیکنالوجی پر تحقیق کے شاہد شکوری گروپ، حیدر کرار تحقیقی گروپ، بو علی گروپ اور صدرہ تحقیقی مرکز کو ‘ایس پی این ڈی’ کے زیرملکیت یا زیر اختیار ہونے کی بنا پر پابندیوں کے لیے نامزد کیا ہے۔

‘او ایف اے سی’ نے شاہد موحد دانش گروپ، ابو ریحان گروپ اور شاہد زین الدین گروپ کو ‘ایس پی این ڈی’ کے لیے مالیاتی، مادی، ٹیکنالوجی سے متعلق یا دیگر معاونت یا اشیا و خدمات کی فراہمی یا ایسی کوشش پر پابندیوں کے لیے نامزد کیا ہے۔

آج پابندیوں کے لیے نامزد ہونے والے مزید افراد

‘او ایف اے سی’ نے انتظامی حکم 13382 کی مطابقت سے غلام رضا عطائی (عطائی) اور منصور اصغری کو بھی براہ راست یا بالواسطہ طور پر ‘ایس پی این ڈی’ کے لیے کام کرنے یا کام کے ارادے پر پابندیوں کے لیے نامزد کیا ہے۔

عطائی اطلاقی طبعیات کا ماہر اور ‘ایس پی این ڈی’ کا اعلیٰ سطحی منتظم ہے جو ادارے کے بعض انتہائی حساس نوعیت کے منصوبہ جات کی نگرانی کرتا ہے۔
منصور اصغری نے ‘ایس پی این ڈی’ کے شعبہ تحقیق و ٹیکنالوجی کے سربراہ کی حیثیت سے کام کیا ہے۔ قبل ازیں منصور اصغری ‘عماد منصوبے ‘میں منتظم تھا جس کا کام دھماکوں اور پلوں کو دھماکے سے اڑانے کے لیے استعمال ہونے والے ڈیٹونیٹر سے متعلق منصوبوں کی نگرانی تھا۔

امریکی دفتر خارجہ نے انتظامی حکم 13382 کی مطابقت سے رضا ابراہیمی (ابراہیمی) کو ایسی سرگرمیوں یا لین دین میں ملوث ہونے یا ملوث ہونے کی کوشش پر پابندیوں کے لیے نامزد کیا ہے جن سے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں یا ان کے ترسیلی ذرائع (بشمول ایسے ہتھیاروں کی ترسیل کے اہل میزائلوں) کے پھیلاؤ میں مادی مدد ملتی ہو یا ایسی مدد ملنے کا خدشہ ہو۔ اس میں ایران کے لیے ایسی اشیا کی تیاری، حصول، ملکیت، ارتقا، منتقلی یا استعمال کی کوششیں بھی شامل ہیں ۔ ایران ایک ایسا ملک ہے جس کی جانب سے ہتھیاروں کے پھیلاؤ کا خدشہ موجود ہے۔

ابراہیمی نے ایران کے فضائیات سے متعلق تحقیقی ادارے (اے آر آئی) کے سربراہ کے طور پر کام کیا اور شہاب 3 بلسٹک میزائل کے ذریعے خلا میں بھیجی جانے والی گاڑی کاووشغر کی تیاری کے عمل کی قیادت کی۔ ابراہیمی نے ایران کے ‘عماد منصوبے’ پر بھی کام کیا جہاں وہ جوہری ہتھیار کی تیاری سے متعلق متعدد دھماکہ خیز تجربات میں ملوث تھا۔
‘ایس پی اینڈ ڈی’ کی فرنٹ اور کور کمپنیاں
‘او ایف اے سی’ نے آج ‘ایس پی این ڈی’ کی تین اہم فرنٹ اور کور کمپنیوں اور ان کے چار اعلیٰ سطحی عہدیداروں کو بھی پابندیوں کے لیے نامزد کیا۔
پلس نیرو نے ‘ایس پی این ڈی’ کو مالیاتی، مادی، ٹیکنالوجی سے متعلق یا دیگر معاونت یا اشیا و خدمات فراہم کیں یا فراہم کرنے کی کوشش میں ملوث رہی۔ پلس نیرو تہران سے تعلق رکھنے والی کمپنی ہے جو ارتعاشی قوت سے متعلق آلات کی تیاری، ضبط ایتلاف کے لیے ٹیکنالوجی کی تیاری اور ذراتی عاجل بنانے میں سرگرم ہے۔

پلس نیرو نے ‘ایس پی این ڈی’ کے لیے سازوسامان کے حصول کی کوشش بھی کی ہے۔ پلس نیرو چینی، روسی اور دیگر غیرملکی ترسیل کنندگان سے بعض سامان اور جدید ٹیکنالوجی لیتی ہے۔

محمد مہدی دائمی عطارن (عطارن) پلس نیرو میں منتظم اور اعلیٰ سطحی عہدیدار ہے۔ ارتعاشی قوت کے ماہر کی حیثیت سے اس نے ایک دہائی سے زیادہ عرصہ تک پلس نیرو کے لیے کام کیا۔ وہ ‘ایس پی این ڈی’ کو خصوصی خدمات کی ترسیل و فراہمی کے لیے پلس نیرو کی کوششوں میں براہ راست شامل تھا۔
عطارن نے ایجادات و ٹیکنالوجی میں تعاون کے ایرانی مرکز (سی آئی ٹی سی) کے لیے بھی اپنی مہارت مہیا کی۔ 12 جولائی 2012 کو انتظامی حکم 13382 کی مطابقت سے اس ادارے کو پابندیوں کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ سی آئی ٹی سی کا کام ایران کی جانب سے وسعی پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں اور عسکری مقاصد کے لیے خریداری کے بہت سے مقاصد سے متعلق ہے اور اس سے سائنسی شعبے سے فوج کو ٹیکنالوجی کی منتقلی اور سازوسامان کی خریداری کا کام لیا جاتا ہے۔

محسن شفائی پلس نیرو کا مینجنگ ڈائریکٹر ہے اور اس نے ادارے میں نئی ٹیکنالوجی کی تیاری، تجربے اور پیداوار کے لیے کام کیا ہے۔
‘او ایف اے سی’ نے انتظامی حکم 13382 کی مطابقت سے محمد مہدی دائمی عطارن اور محسن شفائی کو براہ راست یا بالواسطہ طور پر پلس نیرو کے لیے کام کرنے یا ان کی جانب سے کام کے ارادے پر پابندیوں کے لیے نامزد کیا ہے۔

ایرانی کمپنی کیمیا پخش شرق (کے پی ایس) براہ راست یا بالواسطہ طور پر ‘ایس پی این ڈی’ کے زیرملکیت یا زیراختیار ہے یا اس کے لیے یا اس کی جانب سے کام کرتی یا ایسا ارادہ رکھتی ہے۔ کے پی ایس ‘ایس پی این ڈی’ کے ماتحت ہے اور ادارے کے اعلیٰ سطحی حکام سے ہدایات لیتی ہے۔
کے پی ایس غیرملکی ترسیل کنندگان سے ریڈیو آئسوٹوپ جیسی چیزیں خریدتی ہے۔ ایسے آئسو ٹوپ جائز طبی مقاصد کے علاوہ ایسے طریقہ ہائے کار میں بھی استعمال ہو سکتے ہیں جن کے ذریعے دباؤ پر استعمال ہونے والے پائپوں اور برتنوں، مشینوں کے حصوں، بڑی گنجائش والے ذخیرہ کنٹینروں اور کنکریٹ پر تجربات اور ان اشیا کو جوڑا جاتا ہے۔ انہی مادوں کو مشینی نقصان اور تحلیل کے نتیجے میں جنم لینے والی ساختی بے قاعدگیوں کی نشاندہی اور دھاتی سانچوں میں نقائص کی نشاندہی کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
‘ایس پی این ڈی’ کا ملازم مہدی معصومین (معصومین) کے پی ایس کا مینجنگ ڈائریکٹر ہے۔
کے پی ایس کے تجارتی منتظم کی حیثیت سے محمد حسین حقیقیان کی ذمہ داریوں میں درآمدی اشیا کے حوالے سے کسٹم کے معاملات اور ضابطے کے عمل کی نگرانی شامل ہے۔ حقیقیان کے پی ایس کی جانب سے تکنیکی معائنوں کی نگرانی بھی کرتا ہے۔

‘او ایف اے سی’ نے انتظامی حکم 13382 کی مطابقت سے معصومین اور حقیقیان کو براہ راست یا بالواسطہ طور پر ‘ایس پی این ڈی’ کی جانب سے یا اس کے لیے کام کرنے یا کام کے ارادے پر پابندیوں کے لیے نامزد کیا۔
پیراڈائز میڈیکل پائنیرز کمپنی (پی ایم پی) براہ راست یا بالواسطہ طور پر ‘ایس پی این ڈی’ کے زیرملکیت یا زیراختیار ہے اور اس کے لیے یا اس کی جانب سے کام کرتی یا ایسا ارادہ رکھتی ہے۔ پی ایم پی ایک کور کمپنی ہے جو ‘ایس پی این ڈی’ سمیت دیگر گاہکوں کے لیے مرکبات، سٹیل، پولیمر اور دیگر مادوں پر تحقیق اور تیاری کے کام سے وابستہ ہے۔ پی ایم پی انتظامی طور پر ‘ایس پی این ڈی’ کے ماتحت ہے اور ادارے کے اعلیٰ سطحی حکام بشمول ‘ایس پی این ڈی’ کے سربراہ فخرزادہ کے پاس اس کمپنی میں کئی عہدے ہیں۔

پابندیوں کے اثرات

آج کے اس اقدام کے نتیجے میں امریکہ میں یا امریکی شہریوں کے زیر اختیار ان اہداف کے تمام اثاثے اور اثاثوں میں مفادات منجمد ہونا چاہئیں اور ان کے بارے میں ‘او ایف اے سی’ کو اطلاع دی جانا چاہیے۔ ‘او ایف اے سی’ کے ضوابط عمومی طور پر امریکی شہریوں کی جانب سے یا امریکہ میں ہر طرح کے ایسے لین دین (بشمول امریکہ کے راستے ہونے والا لین دین) کی ممانعت کرتے ہیں جن میں پابندیوں کے لیے نامزد کرہ افراد کے اثاثے یا اثاثوں میں مفادات شامل ہوں۔

علاوہ ازیں آج پابندیوں کے لیے نامزد ہونے والے افراد اور اداروں کے ساتھ مخصوص لین دین میں شامل لوگوں کے خلاف بھی پابندیوں یا نفاذی کارروائی کا اطلاق ہو سکتا ہے۔ مزید برآں اگر کوئی استثنیٰ نہ ہو تو آج پابندیوں کے لیے نامزد کسی فرد یا ادارے کے ساتھ جانتے بوجھتے نمایاں طور سے لین دین میں سہولت فراہم کرنے والے کسی بھی غیرملکی مالیاتی ادارے پر امریکی پابندیاں لگ سکتی ہیں۔

آخری بات یہ کہ آج کی کارروائی ایسے افراد اور اداروں کے لیے انتباہ کی حیثیت رکھتی ہے جو عمومی طور پر ایرانی حکومت کے دفاعی شعبے اور خاص طور پر ‘ایس پی این ڈی’ کے ساتھ کسی طرح کے لین دین کا ارادہ رکھتے ہیں۔ پابندیوں کا شکار ایرانی افراد کے ساتھ ایسی کسی سرگرمی کے نتیجے میں آپ کو پیشہ وارانہ، ذاتی اور مالیاتی نوعیت کی تنہائی کا سامنا ہو سکتا ہے۔

آج پابندیوں کے لیے نامزد ہونے والے اداروں اور افراد کی نشاندہی کے لیے معلومات کی غرض سے یہاں کلک کیجیے۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں