rss

خفیہ جوہری ذخیرے سے متعلق سوالات کے جواب نہ دینے پر ایران کے خلاف امریکہ کی نئی جوہری پابندیاں نائب ترجمان رابرٹ پیلاڈینو کا بیان

English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Русский Русский

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
21 مارچ 2019

 

ٹرمپ انتظامیہ خطے کے استحکام کے لیے خطرے اور ایرانی عوام کے لیے نقصان کا باعث سرگرمیوں پر ایرانی حکومت کے احتساب کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس میں یہ امر یقینی بنانا بھی شامل ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے پائے۔

آج امریکہ نے 31 ایرانی افراد اور اداروں کو پابندیوں کے لیے نامزد کیا جنہوں نے ایران کے جوہری پھیلاؤ سے متعلق سرگرمیوں میں کردار ادا کیا، ان میں معاونت کی یا کسی بھی طور ایسی سرگرمیوں سے منسلک رہے۔ نامزد کردہ تمام اہداف کا تعلق ایران کے دفاعی ایجادات و تحقیق کے ادارے (جسے ایرانی سرنامیے کے مطابق ‘ایس پی این ڈی’ کہا جاتا ہے) سے ہے  جسے جوہری ہتھیاروں کے سابقہ ایرانی پروگرام کے سربراہ محسن فخرزادے نے قائم کیا تھا۔

انتظامی حکم 13382 کی مطابقت سے یہ پابندیاں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں (ڈبلیو ایم ڈی) اور ان کی تیاری میں مددگار لوگوں کو ہدف بناتی ہیں۔ پابندیوں کے نتیجے میں ان افراد کے امریکہ میں اثاثہ جات منجمد کرنے کے علاوہ ان کی امریکی مالیاتی نظام تک رسائی بھی روک دی جائے گی۔

امریکہ ایران کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے سابق تحقیق کاروں کے گروہ کو برقرار رکھنے، ان کے کام کو محفوظ کرنے اور حساس آلات کے حصول سے متعلق سرگرمیاں جاری رکھنے کی کوششوں کی کڑی مذمت کرتا ہے۔ ایرانی حکومت کے جوہری پروگرام کے لیے کام کرنے والے دیگر ایرانی افراد کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ امریکہ کی جانب سے پابندیوں کا خطرہ مول لے رہے ہیں۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں