rss

وزیر خارجہ مائیکل آر پومپئو کی صحافیوں سے گفتگو

Español Español, English English, العربية العربية, Português Português, Français Français, Русский Русский, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
4 اپریل 2019
وزیر خارجہ مائیکل آر پومپئو کی صحافیوں سے گفتگو
پریس بریفنگ روم
واشنگٹن، ڈی سی

 
 

وزیر پومپئو: صبح بخیر۔ یہاں میں اسلامی جمہوریہ ایران سے متعلق خارجہ پالیسی کے حوالے سے ایک اہم اعلان کر رہا ہوں۔ آج امریکہ ایرانی حکومت پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی مہم کو آگے بڑھا رہا ہے۔ میں ‘مہاجرت و قومیت کے قانون’ کے سیکشن 219 کی مطابقت سے پاسداران انقلاب اسلامی بشمول اس کی قدس فورس کو غیرملکی دہشت گرد تنظیم کے طور پر نامزد کرنے کے ارادے کا اعلان کر رہا ہوں۔ یہ نامزدگی آج سے ایک ہفتے بعد موثر ہو گی۔

یہ پہلا موقع ہے کہ امریکہ نے کسی دوسری حکومت کے ایک حصے کو ‘ایف ٹی او’ کے طور پر نامزد کیا ہے۔ ہم ایسا اس لیے کر رہے ہیں کہ ایرانی حکومت کی جانب سے دہشت گردی کا ریاست کاری کے اہم ذریعے کے طور پر استعمال اسے کسی بھی دوسری حکومت سے بنیادی طور پر مختلف بناتا ہے۔ یہ تاریخی اقدام ریاستی سطح پر دہشت گردی کے سب سے بڑے معاون کو دنیا بھر میں مصائب اور موت پھیلانے کے مالیاتی ذرائع سے محروم کر دے گا۔

دنیا بھر میں کاروباروں اور بینکوں کا اب واضح فرض ہے کہ وہ یہ امر یقینی بنائیں کہ وہ جن کمپنیوں کےساتھ مالیاتی لین دین کر رہے ہیں ان کا پاسداران انقلاب سے کوئی اہم تعلق نہیں ہے۔ اس اقدام سے امریکی حکومت کو ایرانی پشت پناہی سے ہونے والی دہشت گردی سے نمٹنے کے اضافی ذرائع بھی میسر آتے ہیں۔

یہ نامزدگی ایک لاقانون حکومت کو براہ راست جواب ہے اور اس پر کسی کو حیرت نہیں۔ یہ اقدام 970 سے زیادہ ایرانی افراد اور اداروں کے خلاف کارروائی کا تسلسل ہے جنہیں ٹرمپ انتظامیہ پہلے ہی پابندیوں کے لیے نامزد کر چکی ہے۔

پاسداران انقلاب 40 سال سے متحرک طور پر دہشت گردی میں ملوث ہے اور اس نے دیگر دہشت گرد گروہ تخلیق کرنے کے ساتھ انہیں مدد اور رہنمائی فراہم کی ہے۔ پاسداران انقلاب ایک قانونی فوجی ادارے کا روپ دھارے ہوئے ہے مگر ہم میں کسی کو دھوکہ نہیں کھانا چاہیے۔ یہ تنظیم مسلح جنگ کے ضوابط کی باقاعدہ خلاف ورزی کرتی  ہے اور دنیا بھر میں دہشت گردی کی مہمات کی منصوبہ بندی، انتظام اور ان پر عملدرآمد میں ملوث ہے۔ آغاز سے ہی پاسداران انقلاب کا مقصد ہر ممکن طریقے سے ایرانی حکومت کے انقلاب کا دفاع اور اسے دوسرے ممالک تک پہنچانا تھا۔ پاسداران انقلاب نے اپنی تخلیق سے فوری بعد دہشت گردی کو منظم کیا۔ 1983 میں اس نے بیروت میں میرین بیرکوں  پر ہولناک حملے کیے اور 1984 میں اپنی مدد سے قائم شدہ لبنانی دہشت گرد گروہ حزب اللہ کے ساتھ امریکی سفارت خانے کے ذیلی حصے کو نشانہ بنایا۔ اس کے کارندوں نے عراق سے لبنان اور شام سے یمن تک مشرق وسطیٰ کو عدم استحکام سےدوچار کرنے کے لیے کام کیا ہے۔

اس نامزدگی کے ذریعے ٹرمپ انتظامیہ محض ایک بنیادی حقیقت سامنے لائی ہے کہ: پاسداران انقلاب کو ایسے دہشت گرد گروہوں کی فہرست میں اس کی درست جگہ پر رکھا جائے گا جن کی یہ مدد کرتی ہے۔ ان میں لبنانی حزب اللہ، فلسطینی اسلامی جہاد، حماس، کتائب حزب اللہ اور دیگر شامل ہیں۔ ان تمام گروہوں کو پہلے ہی غیرملکی دہشت گرد تنظیمیں قرار دیا جا چکا ہے۔

پاسداران انقلاب کی پشت پناہی سے کام کرنے والے دہشت گردوں کی طویل فہرست آج کے ہمارے اقدام کا بھرپور جواز ہے۔ میں آپ کو اس ضمن میں چند مثالیں پیش کرنا چاہتا ہوں۔

گزشتہ ستمبر میں امریکہ کی ایک وفاقی عدالت نے ایران اور پاسداران انقلاب کو 1996 میں خوبار ٹاورز پر ہونے والے بم حملوں کا ذمہ دار قرار دیا جن میں 19 امریکی فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ 2011 میں امریکہ نے پاسداران انقلاب کی قدس فورس کی جانب سے یہاں واشنگٹن ڈی سی کے ایک ریستوران میں بم حملے کا منصوبہ ناکام بنایا۔ اس کوشش کا مقصد امریکہ میں سعودی سفیر کو ہلاک کرنا تھا۔

امریکہ سے باہر بھی پاسداران انقلاب کی دہشت گرد مہم اسی انداز میں جاری ہے۔ 2012 میں ترکی میں اسرائیلی اہداف پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے قدس فورس کے چار کارندوں کو گرفتار کیا گیا۔ اسی برس کینیا میں بم حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے قدس فورس کے دو کارندوں کو حراست میں لیا گیا جبکہ قدس فورس نے اسرائیلی سفارت کاروں کے خلاف بم حملہ بھی کروایا۔ حال ہی میں جنوری 2018 میں جرمن حکام نے اپنے ملک میں سرگرم قدس فورس کے 10 مشتبہ کارندوں کو پکڑا۔ پاسداران انقلاب ایسے فلسطینی دہشت گرد گروہوں کی مدد کرتی ہے جو معصوم شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں اور اس نے لبنان اور ایران میں دہشت گرد گروہ تخلیق کرنے میں مدد دی ہے جنہیں امریکہ کی جانب سے پابندیوں کے لیے نامزد کیا جا چکا ہے۔ پاسداران انقلاب قاتلانہ اسد حکومت کی پشت پناہی میں بھی ملوث ہے جو اپنے ہی لوگوں پر زہریلی گیس سے حملہ کرتی اور انہیں ذبح کرتی ہے۔

ہماری نامزدگی سے دنیا پر واضح ہوتا ہے کہ ایرانی حکومت ناصرف دہشت گرد گروہوں کی معاونت کرتی ہے بلکہ خود بھی دہشت گردی میں ملوث ہے۔ یہ نامزدگی ایسی شخصیات پر بھی بے مثل دباؤ کا باعث ہے جو اس حکومت کی دہشت گرد مہم کی قیادت کرتے ہیں۔ ان میں قاسم سلیمانی جیسے افراد شامل ہیں۔ وہ قدس فورس کا کمانڈر ہے اور دہشت گردی و تشدد کے دیگر طریقوں سے اسلامی انقلاب کے فروغ کی خاطر تعینات کی گئی ایرانی فورسز کی نگرانی کرتا ہے۔ وہ ایرانی حکومت کو حاصل ہونے والے مالی منافع خطے اور دنیا بھر میں دہشت گرد گروہوں میں تقسیم کرتا ہے۔

ایرانی حکومت کی جانب سے عراق میں ہلاک کیے گئے 603 امریکی فوجیوں کا خون قاسم سلیمانی اور مزید وسیع طور سے پاسداران انقلاب کے ہاتھوں پر ہی ہے۔ ناقابل توجیہہ طور سے عالمی برادری نے ان ہلاکتوں پر اس حکومت سے کوئی بازپرس نہیں کی۔ ایران پر من چاہے حملے سے ہٹ کر ہماری دباؤ کی مہم اس حکومت کی ضرررساں سرگرمی کے خلاف  ایسے نتائج سامنے لاتی ہے جو ناصرف منصفانہ ہیں بلکہ ان کی طویل عرصہ سے ضرورت تھی۔

ہمیں ایران بھر میں دھوکے پر مبنی کارروائیوں اور اپنے ہی عوام کے خلاف حکومتی رہنماؤں کی بدعنوانی میں پاسداران انقلاب کا مرکزی کردار بھولنا نہیں چاہیے۔ دوسری حکومتیں اور نجی شعبہ اب واضح طور پر دیکھے گا کہ پاسداران انقلاب نے قانونی اور غیرقانونی طریقوں سے خود کو ایرانی معیشت کے ساتھ کیسے جوڑ رکھا ہے۔

گزشتہ جولائی میں تہران کی شہری کونسل نے اعلان کیا کہ پاسداران انقلاب کی سرمایہ کاریوں کو منظم کرنے والے ادارے ‘پاسداران انقلاب کوآپریٹو فاؤنڈیشن’ نے تہران شہر سے ایک ارب ڈالر سے زیادہ کا غبن کیا۔ اگلے مہینے کونسل کے ایک سابق رکن نے طویل عرصہ سے تعینات تہران کے میئر پر پاسداران انقلاب کو ٹھیکے دینے کا الزام عائد کیا۔ یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ میئر نے بھی ماضی میں پاسداران انقلاب کے کمانڈر اور ایرانی پولیس کے سربراہ کی حیثیت سے کام کیا ہے۔ اس سے قبل 2017 میں پاسداران انقلاب کے متعدد کمانڈروں کو حراست میں لیا گیا جو کوآپریٹو فنڈ میں بدعنوانی کے مرتکب ہوئے تھے۔ ان میں پاسداران انقلاب کا مالیاتی معمار مسعود مہردادی بھی شامل ہے۔

اس کے علاوہ محمود احمدی نجاد کے  دیرینہ رفیق صادق محصولی کا کردار بھی اس حوالے سے نمایاں ہے۔ اسے ارب پتی جرنیل بھی کہا جاتا ہے۔ اس نے پاسداران انقلاب کے ایک معمولی افسر کی حیثیت سے آغاز کیا اور ایران کے امیر ترین افراد کی صف میں جگہ بنائی۔ اس نے یہ سب کچھ پاسداران انقلاب سے منسلک کمپنیوں کے ذریعے تعمیرات اور تیل کے ٹھیکے لے کر کیا۔

ایرانی رہنما انقلابی نہیں بلکہ دھوکے باز ہیں۔ ایرانی عوام ان منافق اور بدعنوان حکام کے بجائے اچھے حکمرانوں کے مستحق ہیں۔ یہ لوگ موقع پرست ہیں۔

آخر میں مجھے یہ کہنا ہے کہ پاسداران انقلاب امریکی شہریوں کو ناجائز طور پر قید میں رکھنے کا بھی ذمہ دار ہے۔ ان میں بہت سے لوگ بدستور ایران میں قید ہیں۔ امریکی عوام کو علم ہونا چاہیے کہ ہم ان میں ہر فرد کو وطن واپس لانے کے لیے انتھک کام کر رہے ہیں۔

اس نامزدگی کے ذریعے ہم قاسم سلیمانی اور اس کے غنڈہ گروہ سمیت ایرانی رہنماؤں کو ایک واضح اشارہ اور پیغام بھیج رہے ہیں کہ امریکہ اس حکومت کو اس کے لاقانون طرزعمل سے باز رکھنے کے لیے ہر طرح کا دباؤ استعمال کر رہا ہے۔ ہم دنیا بھر میں اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں سے بھی یہی توقع رکھتے ہیں۔ شکریہ۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں