rss

توانائی اور ایران سے متعلق پالیسیوں پر امریکہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں تعاون پر سیکرٹری اطلاعات کا بیان

العربية العربية, English English, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Русский Русский, Español Español

وائٹ ہاؤس
دفتر برائے سیکرٹری اطلاعات
برائے فوری اجرا
22 اپریل 2019

 
 

صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ نے اہم تخفیفی استثنیات (ایس آر سی) دوبارہ جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن کی معیاد مئی کے آغاز میں ختم ہو رہی ہے۔ اس فیصلے کا مقصد ایرانی تیل کی برآمدات صفر پر لانا اور ایرانی حکومت کو اس کی آمدنی کے اہم ترین ذریعے سے محروم کرنا ہے۔ دنیا میں توانائی پیدا کرنے والے تین بڑے ممالک امریکہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ہمارے دوستوں اور اتحادیوں کے ساتھ یہ امر یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں کہ عالمی منڈیوں میں تیل کی ترسیل پوری طرح جاری رہے۔ ہم نے منڈی سے تمام ایرانی تیل ہٹانے کے ساتھ ساتھ تیل کی عالمگیر طلب پوری کرنے کے لیے بروقت اقدام پر اتفاق کیا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ اور ہمارے اتحادی ایران پر زیادہ سے زیادہ معاشی دباؤ برقرار رکھنے اور اسے وسعت دینے کے لیے پرعزم ہیں تاکہ ایرانی حکومت کی جانب سے امریکہ، ہمارے شراکت داروں اور اتحادیوں نیز مشرق وسطیٰ میں سلامتی کے لیے خطرے کا باعث بننے والے تخریبی سرگرمی کا خاتمہ ہو سکے۔ صدر کی جانب سے تمام استثنیات (ایس آر سی) ختم کرنے کا فیصلہ پاسداران انقلاب اسلامی کو غیرملکی دہشت گرد تنظیم کے طور پر نامزد کرنے کے بعد آیا ہے جس سے ایران کے دہشت گرد نیٹ ورک کو تباہ کرنے اور ایرانی حکومت کے ضرررساں طرزعمل میں تبدیلی لانے کے لیے امریکہ کے عزم کا اظہار ہوتا ہے۔ ہم اس کوشش میں اپنے دوستوں اور اتحادیوں کی اعانت کا خیرمقدم کرتے ہیں۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں