rss

افغان امن عمل کے لیے سہ فریقی ملاقات پر مشترکہ بیان

Русский Русский, English English, हिन्दी हिन्दी


امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
میڈیا بیان
واشنگٹن، ڈی سی
26 اپریل 2019


درج ذیل بیان کا متن امریکہ، روس اور چین کی حکومتوں کی جانب سے افغان امن عمل کے لیے سہ فریقی ملاقات کے موقع پر جاری کیا گیا۔
متن کا آغاز:
امریکہ، چین اور روس کے نمائندے 25 اپریل 2019 کو ماسکو میں ملے اور افغان امن عمل کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر تینوں فریقین نے درج ذیل باتوں پر اتفاق کیا:

  1. تینوں فریقین افغانستان کی خودمختاری، آزادی اور جغرافیائی سالمیت اور اس کی جانب سے اپنی ترقی کی راہ منتخب کرنے کے حق کا احترام کرتے ہیں۔ تینوں فریقین امن عمل کے فروغ میں افغان عوام کے مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔
  2. تینوں فریقین افغانوں کے زیرقیادت اور افغانوں کے لیے قابل قبول جامع امن عمل کی حمایت کرتے ہیں اور اس ضمن میں ضروری معاونت مہیا کرنے کو تیار ہیں۔ تینوں فریقین وسیع اور نمائندہ افغان وفد کے ساتھ امن مذاکرات میں شرکت کے لیے افغان طالبان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ جتنا جلد ممکن ہوا افغان حکومت بھی اس میں شامل ہو گی۔ اس مقصد کے لیے ہم دوحہ (قطر) میں بین افغان مکالمے کے دوسرے دور کی حمایت کرتے ہیں جیسا کہ فروری 2019 میں ماسکو میں طے پایا تھا۔
  3. تینوں فریقین عالمگیر دہشت گردی اور افغانستان میں انتہاپسند تنظیموں سے مقابلے کے لیے افغان حکومت کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔ افغان طالبان کے یہ وعدے فریقین کے مدنظر ہیں کہ وہ داعش کے خلاف لڑیں گے اور القاعدہ، ای ٹی آئی ایم و دیگر عالمگیر دہشت گرد گروہوں سے تعلقات ختم کر دیں گے، اس امر کی ضمانت دیں گے کہ ان کے زیرقبضہ علاقے کسی دوسرے ملک کے لیے خطرات پیدا کرنے کے لیے استعمال نہیں ہوں گے اور انہیں کہا جائے گا کہ وہ دہشت گردوں کی بھرتی، تربیت اور اس مقصد کے لیے مالی وسائل اکٹھے کرنے سے باز رہیں اور تمام معلوم دہشت گردوں کو نکال باہر کریں۔
  4. تینوں فریقین کو جامع جنگ بندی کے لیے افغان عوام کی شدید خواہش کا اندازہ ہے۔ پہلے قدم کے طور پر ہم تمام فریقین سے کہتے ہیں کہ وہ تشدد میں کمی لانے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات پر اتفاق کریں۔
  5. تینوں فریقین غیرقانونی منشیات کی پیداوار اور خریدوفروخت کے خلاف جدوجہد کی اہمیت پر زور دیتے ہیں اور افغان حکومت و طالبان سے کہتے ہیں کہ افغانستان میں منشیات کے خطرے کا خاتمہ کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائیں۔
  6. تینوں فریقین افغانستان سے غیرملکی افواج کے باضابطہ اور ذمہ دارانہ انخلا کے لیے کہتے ہیں جو کہ مجموعی امن عمل کا ایک حصہ ہے۔
  7. تینوں فریقین خطے کے ممالک سے کہتے ہیں کہ وہ اس سہ فریقی اتفاق رائے کی حمایت کریں اور افغانستان پر مزید جامع علاقائی و عالمگیر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
  8. تینوں فریقین نے بیجنگ میں آئندہ سہ فریقی ملاقات سے قبل اپنی مشاورت کو مرحلہ وار وسعت دینے پر اتفاق کیا۔ ملاقات کی تاریخ و ترکیب پر سفارتی ذرائع سے اتفاق پیدا کیا جائے گا۔
    متن کا اختتام۔

یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں