rss

صدر ٹرمپ کی ایران سے متعلق نئی حکمت عملی کے پہلے سال کی تکمیل وزیر خارجہ پومپئو کا بیان

English English, العربية العربية, हिन्दी हिन्दी, Русский Русский, Français Français


امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
8 مئی 2019


ایک سال پہلے آج کے دن صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ مشترکہ جامع منصوبہ عمل میں اپنی شرکت ختم کر دے گا اور اس کے بجائے ایران کے تخریبی طرزعمل کا خاتمہ کرنے اور اسے جوہری ہتھیار کے حصول سے روکنے کے لیے ایک دلیرانہ اور نئی حکمت عملی شروع کرے گا۔ صدر ٹرمپ نے وعدہ کیا کہ امریکہ ایرانی حکومت کی جانب سے جوہری معاملے پر دھمکیوں کے آگے نہیں جھکے گا اور ہم ایران کی تمام تر تخریبی سرگرمیوں سے جارحانہ طور پر نمٹیں گے۔

ایک سال بعد صدر ٹرمپ نے جامع دباؤ کی مہم کے ذریعے ایران کا مقابلہ کرنے کا وعدہ پورا کیا ہے۔ ہم نے ایرانی حکومت کے خلاف اب تک کی کڑی ترین پابندیاں عائد کیں اور گزشتہ برس اس کے قریباً 1000 افراد اور اداروں کو پابندیوں کے لیے نامزد کیا۔ ٹرمپ انتظامیہ ایرانی تیل کی برآمدات کو تاریخ کی کم ترین سطح پر لے آئی ہے اور ایرانی تیل کے درآمدکنندگان کو اہم تخفیفی اسثنیات کا اجرا روک کر ایرانی خام تیل کی خریداری کا موثر طور سے خاتمہ کر دیا ہے۔ مئی میں وزیر خارجہ پومپئو نے ایسی پابندیوں کو مزید سخت کیا تھا جو ایران کی اپنے پرانے جوہری پروگرام کو دوبارہ ترتیب دینے کی اہلیت کے حصول میں مزاحم ہیں اور ان سے ایران کو جوہری ہتھیار کے لیے مختصر وقت میں قابل انشقاق مواد کی تیاری روکنے میں مدد ملی ہے۔ آج صدر ٹرمپ نے ایرانی دھاتوں کی خریدوفروخت کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ اس میں تیل سے ہٹ کر ایران کی سب سے بڑی برآمد کو ہدف بنایا گیا ہے اور اس کی بدولت ایرانی حکومت کی مشرق وسطیٰ میں دہشت گردی کی مالی معاونت اور عدم استحکام پیدا کرنے کی اہلیت میں مزید کمی واقع ہوئی ہے۔

ایرانی حکومت کی جانب سے آج اپنے جوہری پروگرام کو وسعت دینے کے ارادے کا اعلان عالمگیر اصولوں کی کھلی خلاف ورزی اور دنیا کو یرغمال بنانے کی کوشش ہے۔ اس کی جانب سے مختصر وقت میں جوہری ہتھیار بنانے کے عمل کو دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ایرانی حکومت کی جانب سے دنیا بھر کے امن و سلامتی کو مسلسل خطرہ لاحق ہے۔

امریکی ایرانی حکومت کی جوہری ہتھیار کے حصول کی تمام راہیں روکنے کے لیے پرعزم ہے۔ ہم ایرانی حکومت پر زیادہ سے زیادہ دباؤ کا نفاذ جاری رکھیں گے یہاں تک کہ وہ اپنے تخریبی عزائم سے باز آ جائے۔ ہم عالمی برادری سے کہتے ہیں کہ وہ جوہری پروگرام کو وسعت دینے کی دھمکی پر ایرانی حکومت کا احتساب کرے۔

ایران سے نمٹنے میں امریکہ اکیلا نہیں ہے۔ جوہری معاہدے سے ہماری دستبرداری سے اب تک ہمارے اتحادیوں اور شراکت داروں نے ہمارے ساتھ مل کر ایرانی جارحیت سے نمٹنے کے اقدامات میں اضافہ کیا ہے۔ ہم نے ایران کی جانب سے تیل کی ترسیل کے سلسلے میں غیرقانونی کارروائیاں ناکام بنانے کے لیے قریباً ہر براعظم کے ممالک کے ساتھ مل کر کام کیا ہے۔ یورپی یونین نے گزشتہ برس دہشت گردی کے دو منصوبے ناکام بنائے جانے کے بعد ایرانی اداروں پر نئی پابندیوں کی منظوری دی۔ دیگر ممالک نے اپنے سفیر واپس بلانے، ایرانی سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے، ویزے کے بغیر سفر کی سہولت کے خاتمے یا ماہان ایئر کے اپنے ملک میں اترنے کے حقوق ختم کر کے ایران کی ضرررساں سرگرمی کا جواب دیا ہے۔ اگلے قدم کے طور پر ہم ایران پر دباؤ ڈالنے کی مہم کو مزید آگے بڑھائیں گے جسے پہلے ہی نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ جیسا کہ 21 مئی 2018 کی تقرری میں شامل 12 مطالبات سے واضح ہوتا ہے ہم ایرانی حکومت پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنا جاری رکھیں گے یہاں تک کہ اس کے رہنما اپنا تخریبی طرزعمل تبدیل کر لیں، ایرانی عوام کے حقوق کا احترام کریں اور مذاکرات کی میز پر واپس آ جائیں


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں