rss

خلیج عمان میں بحری جہازوں پر حملے

हिन्दी हिन्दी, English English, العربية العربية, Français Français, Português Português, Русский Русский, Español Español

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
13 جون 2019
خلیج عمان میں بحری جہازوں پر حملے
وزیر خارجہ مائیکل آر پومپئو کی صحافیوں سے گفتگو
پریس بریفنگ روم
واشنگٹن، ڈی سی
غیرمدون/ مسودہ

 
 

وزیر پومپئو: سہ پہر بخیر۔ امریکی حکومت کا اندازہ ہے کہ آج خلیج عمان میں ہونے والے حملوں کے پیچھے اسلامی جمہوریہ ایران کا ہاتھ ہے۔ اس اندازے کی بنیاد انٹیلی جنس، استعمال ہونے والے ہتھیاروں، اس کارروائی کو انجام دینے کے لیے درکار مہارتوں کی سطح، بحری جہازوں پر ایسے ہی حالیہ ایرانی حملوں اور اس حقیقت پر ہے کہ اس علاقے میں کام کرنے والے کسی آلہ کار گروہ کے پاس اس قدر اعلیٰ  درجہ صفائی سے کارروائی کرنے کے وسائل اور مہارت موجود نہیں ہے۔

یہ اسلامی جمہوریہ ایران اور اس کے معاونین کی جانب سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کے خلاف کرائے گئے حملوں کے سلسلے میں تازہ ترین کارروائی ہے اور ان حملوں کو آزادی پسند ممالک کے خلاف 40 سالہ بلا اشتعال جارحیت کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

22 اپریل کو ایران نے دنیا سے کہا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں خلل ڈالے گا۔ اب وہ اپنے اس عہد کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔ مئی کے اوائل میں پاسداران انقلاب نے میزائل داغنے  کی اہلیت کے حامل تبدیل شدہ بادبانی جہازوں کو خفیہ طور سے سمندر میں تعینات کرنے کی کوشش کی تھی۔

12 مئی کو ایران  نے آبنائے ہرمز کے قریب چار تجارتی جہازوں پر حملہ کیا۔

14 مئی کو ایران کی پشت پناہی سے کام کرنے والے گروہوں نے سعودی عرب میں تزویراتی اعتبار سے اہم دو پائپ لائنوں پر مسلح ڈرون سے حملے کیے۔

19 مئی  کو داغا گیا ایک راکٹ بغداد میں امریکی سفارت خانے کے قریب گرا۔

31 مئی کو افغانستان میں ہونے والے ایک کار بم دھماکے میں امریکی افواج کے چار ارکان زخمی ہوئے۔ اس واقعے میں  چار افغان شہری ہلاک جبکہ  راہگیر زخمی  ہو گئے۔

گزشتہ روز ایرانی آلہ کاروں  نے سعودی عرب میں ایک میزائل داغا جس نے ایک عالمگیر ہوائی اڈے میں مسافروں کی آمد کے ٹرمینل کو نشانہ بنایا۔ اس حملے میں 26 افراد زخمی ہو گئے۔

مجموعی طور پر یہ بلااشتعال حملے عالمی امن اور سلامتی کے لیے واضح خطرہ، سمندری سفر کی آزادی پر کھلا حملہ اور ایران کی جانب سے تناؤ میں اضافے کی ناقابل قبول مہم ہیں۔

وزیراعظم ایبے نے ایران کا تاریخی دورہ کیا اور حکومت سے تناؤ میں کمی لانے اور بات چیت میں شرکت کے لیے کہا۔ ایران کے سپریم لیڈر  نے آج یہ کہہ کر وزیراعظم ایبے کی سفارت کاری مسترد کر دی کہ ان کے پاس صدر ٹرمپ کے لیے کوئی جواب  نہیں ہے اور وہ انہیں کوئی جواب نہیں دیں گے۔ بعدازاں سپریم لیڈر کی حکومت نے ایرانی پانیوں سے باہر ایک جاپانی آئل ٹینکر پر حملہ کر کے جاپان کی توہین کی۔ اس نے پورے عملے کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا اور سمندر میں ہنگامی حالات پیدا کیے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے آج ان حملوں پر ردعمل دیا۔ انہوں نے آج صبح ہونے والی اس کارروائی کو تمسخرانہ انداز میں مشکوک قرار دیا۔ وزیر خارجہ ظریف شاید اسے مزاحیہ بات سمجھتے ہوں مگر دنیا میں کوئی اور ایسا نہیں سمجھتا۔ ایران یہ کارروائیاں اس لیے کر رہا ہے کہ اس کی حکومت ہماری زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی مہم کا خاتمہ چاہتی ہے۔ کوئی معاشی پابندی اسلامی جمہوریہ کو معصوم شہریوں پر حملوں، تیل کی عالمی منڈی میں خلل ڈالنے اور جوہری معاملے میں ناجائز فائدہ اٹھانے کا حق نہیں دیتی۔ عالمی برادری سمندری سفر کی آزادی پر ایرانی حملے اور معصوم شہریوں کو ہدف بنانے کی مذمت کرتی ہے۔

آج میں نے اقوام متحدہ میں امریکی سفیر جوناتھن کوہن کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایرانی حملوں کا معاملہ سہ پہر کے اواخر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں اٹھائیں۔ ہماری حکمت عملی بدستور یہی ہے کہ ایران کو درست وقت پر مذاکراتی میز پر لانے کے لیے معاشی و سفارتی کوشش کی جائے اور ایک ایسے جامع سمجھوتے کی حوصلہ افزائی کی جائے جس کی بدولت بہت سے خطرات کا خاتمہ ہو سکے۔ امن اور سلامتی کو لاحق یہ خطرات آج پوری دنیا پر عیاں ہیں۔

ایران کو سفارت کاری کا جواب دہشت، خونریزی اور جبر کے بجائے سفارت کاری سے دینا چاہیے۔ امریکہ اپنی افواج اور مفادات کا تحفظ کرے گا اور عالمگیر تجارت و علاقائی استحکام کی حفاظت کے لیے اپنے شراکت داروں اور اتحادیوں کا ساتھ دے گا۔ ہم ایران کے اشتعال انگیز اقدامات سے متاثرہ ممالک سے کہتے ہیں کہ وہ اس جدوجہد میں ہمارا ساتھ دیں۔

شکریہ


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں