rss

انسانی بیوپار سے متعلق 2019 کی سالانہ رپورٹ کے اجرا کی تقریب

Español Español, English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Português Português, 中文 (中国) 中文 (中国)

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
20 جون 2019
اقتباسات
انسانی بیوپار سے متعلق 2019 کی سالانہ رپورٹ کے اجرا کی تقریب
وزیر خارجہ مائیکل آر پومپئو کا خطاب
بنجمن فرینکلن روم
واشنگٹن، ڈی سی


 

وزیر پومپئو: سبھی کو صبح بخیر۔ خوش آمدید۔

سب سے پہلے میں آج یہاں موجود انسانی بیوپار سے متاثرہ تمام لوگوں کا خیرمقدم کرنا چاہتا ہوں۔ آپ تمام لوگ ہیرو ہیں۔ یہ بہت خاص دن ہے۔ آپ سبھی یہ بات یقینی بنانے کے لیے یہاں موجود ہیں کہ کسی اور کو ایسے ناجائز حالات کا سامنا نہ ہو جو آپ نے جھیلے ہیں۔ ہمیں آپ کے عزم پر فخر ہے اور آپ کی ہمت ہمارے لیے ہر لحظہ متاثر کن ہے۔

میں صدارتی مشیر ایوانکا ٹرمپ کا بھی شکریہ ادا کروں گا جو آج ہمارے ساتھ شامل ہوئیں اور انسانی بیوپار کے مسئلے پر کامل اخلاقی صراحت سے بات کرتی چلی آئی ہیں۔ وہ اسے دور جدید کی غلامی کہتی ہیں۔

دونوں جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان کانگریس کا خیرمقدم کرنا بھی میرے لیے اعزاز ہے۔ اگر کسی معاملے کو دونوں جماعتوں کے لیے اہم اور موجودہ سیاست سے ماورا ہونا چاہیے تو یقیناً وہ انسانی بیوپار کا مسئلہ ہے۔ یہ بات گزشتہ دو ادوار حکومت میں دفتر خارجہ کے انسانی بیوپار سے متعلق شعبے کے تمام سابق اور حیات سربراہوں کی یہاں موجودگی سے بھی عیاں ہے۔ یہاں آنے پر آپ سبھی کا شکریہ اور خوش آمدید۔

دنیا بھر سے سفیروں اور نمائندوں کی یہاں موجودگی ہمارے لیے خوشی کا باعث ہے۔ انسانی بیوپار درحقیقت ایک عالمگیر بحران ہے اور یہ عالمگیر ردعمل کا تقاضا کرتا ہے۔ لہٰذا میں آج یہاں آنے پر آپ سبھی کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

کچھ ہی دیر میں ہم ان لوگوں کو سلام پیش کریں گے جو انسانی بیوپار کے خلاف جنگ کی قیادت کر رہے ہیں۔ یہ انسانی بیوپار سے متعلق 2019 کی رپورٹ کے ہیرو ہیں۔

تاہم اس سے پہلے میں ایک لحظہ یہ بتانا  چاہتا ہوں کہ جدید غلامی کے خاتمے کی لڑائی انسان ہونے کے ناطے ہماری بنیادی ترین اخلاقی ذمہ داری کیوں ہے۔

اس برس کی رپورٹ میں بیان کردہ ایک داستان پر غور کیجیے۔ یہ وینزویلا سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کی داستان ہے جسے میں میلنڈا کے نام سے پکاروں گا۔

مادورو کے برسراقتدار آنے کے بعد میلنڈا غربت کا شکار ہو گئی اور اسے اپنی اہلخانہ کے لیے روزی روٹی کا بندوبست کرنا تھا۔ ایک دن اس کی ملاقات ایک شخص سے ہوئی جس نے اسے اپنے خرچ پر سپین بھیجنے کی پیشکش کی اور وعدہ کیا کہ وہاں اسے کام مل جائے گا اور وہ اپنے اہلخانہ کو رقم بھیج سکے گی۔ بعدازاں اس شخص نے اسے جسم فروشی پر مجبور کیا اور دھمکی دی کہ اگر اس نے مزاحمت کی تو وہ اس کی بیٹی کو نقصان پہنچائے گا۔ چنانچہ وہ خاموش رہی اور کئی سال بعد شدید اذیت کے عالم میں اس نے پولیس تک رسائی حاصل کی جس نے چھاپہ مار کر اسے بازیاب کرایا۔

میری خواہش ہے کہ میں آپ کو یہ بتاتا کہ ہر جگہ ایسا نہیں ہوتا۔ مگر ہماری رپورٹ اس حوالے سے ایک بے رحم حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ دنیا میں 25 ملین بالغ افراد اور بچوں کو جبری مشقت اور جنسی مقاصد کے لیے خریدوفروخت کا سامنا ہے۔ اس میں امریکہ بھی شامل ہے اور آج ہم جس شہر میں موجود ہیں یہاں بھی یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔

یہ ایک بوجھ ہے۔ انسانی بیوپار تمام انسانیت پر بوجھ ہے۔ ہم اس سے نفرت کرتے ہیں کیونکہ یہ ہر انسان کے ناقابل انتقال حقوق کی کھلی پامالی کرتی ہے۔

ہر جگہ ہر فرد خلقی طور پر عمیق، فطری  اور مساوی وقار کا حامل ہے۔

امریکہ کی بنیاد ان حقوق کے تحفظ کے عہد پر رکھی گئی تھی۔ ان میں زندگی، آزادی اور انصاف کی جستجو شامل ہیں۔ مگر اکثروبیشتر ہم اپنے مقاصد حاصل نہیں کر پاتے اور ہم اس مسئلے سے نمٹنے میں ناکامی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

انسانی بیوپار کوئی فطری آفت نہیں ہے۔ انسان ہی اس مسئلے کا سبب ہے۔ اسی لیے ہمارے پاس اس کے حل کی اہلیت بھی موجود ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ رپورٹ ہم سب کو یہ جاننے میں مدد دے گی کہ مسئلے کا حل کیسے ممکن ہے۔

آپ دیکھیں گے کہ 2019 کی رپورٹ میں حکومتوں کی خاص طور پر حوصلہ افزائی کی گئی ہے کہ وہ اپنی ملکی سرحدوں میں جنم لینے والی انسانی بیوپار کی مختلف اقسام سے نمٹنے کی سعی کریں۔

ہو سکتا ہے یہ بات آپ میں بہت سے لوگوں کے لیے حیران کن ہو۔ درحقیقت میں سمجھتا ہوں کہ انسانی بیوپار سے متعلق سب سے بڑا غلط اندازہ یہ لگایا جاتا ہے کہ یہ مسئلہ بین الاقوامی ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ ہر فرد اور ہر ملک کو اس مسئلے کا اپنے خودمختار علاقے میں سامنا کرنا ہے۔ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ انسانی بیوپار میں ملوث عناصر اندازاً 77 فیصد متاثرین کا اپنے ہی ملک میں استحصال کرتے ہیں۔

انسانی بیوپار ایک مقامی اور عالمی مسئلہ ہے۔ دہشت انگیز طور سے بیشر متاثرین اپنے ہی علاقوں میں اس کا شکار بنتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس رپورٹ میں مناسب طور سے اس مسئلے کی عکاسی کی گئی ہے۔

قومی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ مقامی سطح پر لوگوں کو اپنے علاقوں میں انسانی بیوپار کی مخصوص اقسام کی نشاندہی اور ان کے خاتمے کے لیے بااختیار بنائیں۔

اس رپورٹ میں کامیابی کی چند داستانیں بھی شامل ہیں جیسا کہ ایک داستان سینیگال کی ہے جہاں حکومت نے بچوں سے گداگری کرانے والے گروہوں کے بڑھتے ہوئے مسئلے پر توجہ کی۔ حکومت نے اس حوالے سے آگاہی مہمات چلائیں، مسئلے کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی اور بہت سے متاثرین کو نگہداشت فراہم کی۔

اس رپورٹ میں ایسے ممالک کی ستائش کی گئی ہے جنہوں نے اس مسئلے کے خلاف کارروائی کی ہے۔ ان میں سینیگال، منگولیا، فلپائن، تاجکستان اور دیگر شامل ہیں۔ مگر ہم ان ممالک پر بھی عملی کارروائی کے لیے زور دیتے ہیں جو اس حوالے سے خاطرخواہ کام نہیں کر رہے۔

تیسرے درجے کی نامزدگیاں، یہ ممکنہ کمترین سطح کی نامزدگی ہے جس میں ایک مرتبہ پھر چین، ایران، شمالی کوریا، روس، شام، وینزویلا اور دیگر شامل ہیں۔ تیسرے درجے کی فہرست میں چند مزید ممالک کے نام ڈالے گئے ہیں جن میں کیوبا بھی شامل ہے۔

ان میں بعض حکومتیں انسانی بیوپار میں ملوث عناصر کو کھلی چھوٹ دیتی ہیں اور بعض خود انسانی بیوپار میں ملوث ہیں۔

شمالی کوریا میں حکومت اپنے ہی شہریوں سے اندرون و بیرون ملک جبری مشقت کراتی ہے اور اس کام سے حاصل ہونے والی آمدنی کو مذموم سرگرمیوں میں استعمال کرتی ہے۔

چین میں حکام نے مسلمان اقلیت سے تعلق رکھنے والے قریباً ایک ملین افراد کو نظربندی کیمپوں میں رکھا ہوا ہے۔ ان میں بہت سے لوگوں کو ملبوسات، قالین، صفائی کا سامان اور دیگر اشیا تیار کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے جو اندرون ملک فروخت ہوتی ہیں۔

پہلے، دوسرے اور تیسرے درجے کی ان نامزدگیوں کو محض الفاظ مت سمجھا جائے۔ ان نامزدگیوں کا شکار ہونے والے ممالک کو نتائج کا سامنا ہو گا۔ گزشتہ برس صدر ٹرمپ نے ایسے 22 ممالک کو مخصوص اقسام کی امداد محدود کر دی تھی جن کے نام 2018 کی سالانہ رپورٹ میں تیسرے درجے میں آئے تھے۔

یہ کارروائی اور اس کے ساتھ پیغام بالکل واضح ہے کہ اگر آپ انسانی بیوپار کے خلاف کھڑے نہیں ہوں گے تو امریکہ آپ کے خلاف کھڑا ہو گا۔

صدر ٹرمپ نے یہ بات ثابت کی ہے۔ انہوں نے انسانی بیوپار کے خلاف جنگ کو امریکہ کی اعلیٰ ترین ترجیح بنانے کے لیے ہماری وفاقی حکومت کو متحرک کیا ہے۔

گزشتہ اکتوبر میں صدر نے انسانی بیوپار  کی نگرانی اور اس کا  مقابلہ کرنے کے لیے بین الاداری ٹاسک فورس کے ایک اجلاس کی میزبانی کی جس کی صدارت میرے حصے میں آئی تھی۔

اس فورس کی 19 سالہ تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا جب کسی صدر نے اس کے اجلاس میں شرکت کی۔

اس روز صدر نے وعدہ کیا کہ اس وقت تک وہ آرام سے نہیں بیٹھیں گے ”جب تک انسانی بیوپار کی آفت کو ہمیشہ کے لیے ختم نہ کر دیں” اور انہوں نے ہر ادارے کو اس معاملے میں کارروائی کی ہدایت دی۔

یہاں دفتر خارجہ  میں ہم اس حکم کو بجا لانے کی ہرممکن کوشش کر رہے ہیں۔

ہم دنیا بھر میں انسداد انسانی بیوپار پروگراموں کی معاونت کے لیے 80 سے زیادہ ممالک میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ سال بھر جاری رہنے والی سرگرمی میں شریک ہوتے ہیں۔

گزشتہ برس کے اواخر میں دفتر خارجہ نے انسانی بیوپار کے متاثرین کی فراہم کردہ اہم معلومات کی روشنی میں ایک ویڈیو تیار کی جس میں انسانی بیوپور سے متعلقہ خطرات کی نشاندہی کے ساتھ ویزا درخواست دینے والوں کو ان کے حقوق کی بابت آگاہ کیا گیا تھا۔ دنیا بھر میں ہمارے بیشتر سفارت خانوں اور قونصل خانوں کی انتظارگاہوں میں یہ ویڈیو دکھائی جاتی ہے۔

انسانی بیوپار کے سدباب کے لیے ہمارا ایک بہت بڑا کام وہ رپورٹ ہے جسے ہم آج جاری کر رہے ہیں۔ یہ مسلسل 19ویں سال جاری ہوئی ہے۔

میں سفیر رچمنڈ اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے اس برس کی رپورٹ تیار کرنے کی کوششوں میں قائدانہ کردار ادا کیا اور لگن سے اپنا کام انجام دیا۔ انہوں نے یہ امر یقینی بنانے میں بہت سا وقت صرف کیا کہ اس رپورٹ کی ساکھ برقرار رہے۔

اب جبکہ وہ اپنا کام مکمل کر چکے ہیں تو یہ ہمیں بات یقینی بنانا ہے کہ یہ رپورٹ طاق پر نہ دھر دی جائے۔ ہمیں ہر متاثرہ فرد کی آزادی اور انسانی بیوپار میں ملوث ہر ایک کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے اپنے جڑواں مقاصد پر ثابت قدم رہنا ہے۔

اب مجھے ایک ایسی شخصیت کا تعارف کراتے ہوئے خوشی ہے کہ جو ان دونوں اہداف کی بابت غیرمتزلزل عزم کی حامل ہیں۔ انہوں نے دلیرانہ انداز میں یہ مسئلہ امریکی انتظامیہ کی ترجیح بنایا اور تین برس سے اس تقریب میں شریک ہوتی چلی آئی ہیں۔

اس کے ساتھ ہی براہ مہربانی صدارتی مشیر ایوانکا ٹرمپ کے استقبال میں میرا ساتھ دیجیے۔ اب ہم انسانی بیوپار سے متعلق 2019 کی رپورٹ کی ممتاز شخصیات کو اعزازات دیں گے۔ آپ سبھی کا شکریہ۔ (تالیاں)

سفیر رچمنڈ: جناب وزیر، ان پُرمعنی الفاظ اور اس اہم مسئلے پر آپ کی قیادت کا شکریہ۔ مجھے ان بہادر لوگوں کی قدرافزائی کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے جن کے نام انسانی بیوپار سے متعلق اس برس کی رپورٹ میں شامل ہیں۔

ہم برکینا فاسو سے تعلق رکھنے والی ایڈیلیڈ ساواڈوگو سے آغاز کریں گے۔ (تالیاں) انہوں نے انسانی بیوپار کے متاثرین کو ہر ممکن حد تک بہترین نگہداشت کی فراہمی یقینی بنانے بشمول بلامعاوضہ قانونی مشاورت کی فراہمی اور متاثرین کے معاشی استحکام میں مدد دینے کے پروگرام ترتیب دینے میں ایک دہائی تک قائدانہ کردار ادا کیا ہے ۔ اس کے ساتھ ہم بچوں کے تحفظ کے لیے روایتی طور طریقوں کو للکارنے میں ان کی بہادری کا اعتراف کرتے ہیں۔ (تالیاں)

اس کے بعد ایکواڈور سے ڈینیل روئیڈا اور ویرونیکا سپلیگوشیا کا نام ہے۔ ان دونوں بہادروں نے انسانی بیوپار سے متاثرہ افراد کی نگہداشت کے لیے مل کر ایک ادارے کی بنیاد رکھی۔ وہ ایک پناہ گاہ چلاتے ہیں اور سینکڑوں متاثرین کو انفرادی و اجتماعی طور پر مدد فراہم کرتے ہیں۔ ہم انسانی بیوپار کی روک تھام کے لیے ایکواڈور کی حکومت کے ساتھ انتھک کام پر ان کے مشکور ہیں۔ ہم ان دونوں بہادروں کی قدر کرتے ہیں۔ (تالیاں)

ہنگری سے تعلق رکھنے والی ایگنس ڈی کول نے انسانی بیوپار سے نمٹنے کے لیے ہنگری کے سرکاری اداروں کی صلاحیت بہتر بنانے اور اس مسئلے کی بابت عوامی سطح پر آگاہی بیدار کرنے میں غیرمعمولی کردار ادا کیا ہے۔ وہ انسداد انسانی بیوپار کے حوالے سے ہنگری میں سول سوسائٹی کی سب سے بڑی تنظیم چلاتی ہیں اور اس ضمن میں ثابت قدمی سے کوششیں کر رہی ہیں جس پر ہم ان کی قدرافزائی کرتے ہیں۔ (تالیاں)

انسانی بیوپار کے خلاف جدوجہد کرنے والوں میں اٹلی سے تعلق رکھنے والی سسٹر گیبریلا بوٹینی  بھی شامل ہیں۔ وہ انسانی بیوپار کی روک تھام کے لیے کیتھولک سسٹرز کے ایک جامع عالمگیر نیٹ ورک کی متحرک قائد ہیں۔ سسٹر بوٹینی  انسانی بیوپار کے متاثرین کو ضروری خدمات مہیا کرتی ہیں اور دنیا بھر کے معاشروں میں انسانی  بیوپار سے نمٹنے کی اہمیت اجاگر کرنے کے کڑے عزم پر ہم ان کے قدردان ہیں۔ (تالیاں)

انسانی بیوپار کے حوالے سے 2019 کی سالانہ رپورٹ میں اٹلی کی روزلائن ایگوابور کا نام بھی شامل ہے۔ انہوں نے بحالی کے عمل میں متاثرین کے ساتھ بااعتماد تعلقات بنانے میں غیرمتزلزل عزم کا اظہار کیا اور اپنے ذاتی تجربات کی روشنی میں انسانی بیوپار کے متاثرین کی مدد کے لیے تخلیقی طریقہ ہائے کار وضع کیے تاکہ وہ دوبارہ سماج کا حصہ بن سکیں۔ (تالیاں)

 اس رپورٹ میں تیونس سے تعلق رکھنے والی جج راؤدا لابیدی کا نام بھی شامل ہے۔ تیونس میں انسانی بیوپار سے متعلق ایک نئے قانون کے نفاذ میں ان کا بنیادی کردار رہا۔ علاوہ ازیں انہوں نے انسداد انسانی بیوپار کے حوالے سے ایک جامع حکمت عملی کو آگے بڑھانے کے لیے حکومتی اہلیت میں بہتری لانے کی غرض سے بین الاداری اور قومی سطح پر موثر کام کیا اور اس سلسلے میں محدود وسائل جمع کرنے اور افسرشاہی کی رکاوٹوں پر قابو پانے میں ان کا کردار متاثر کن رہا۔ (تالیاں)

آخر میں ہم زمبابوے سے تعلق رکھنے والے کیمیلیوس ماشنگورا کی خدمات کا اعتراف کرتے ہیں۔ انہوں نے انسانی بیوپار کے متاثرین کو بااختیار اور مضبوط بنانے میں نچلی سطح پر قائدانہ کردار ادا کیا۔ خاص طور پر زمبابوے بھر کے دیہی علاقوں میں ان کا کام نمایاں ہے۔ انہوں نے اس مسئلے کو حکومتی حکمت عملی کی ترجیح بنانے کے لیے انتھک محنت کی ہے۔  (تالیاں)

اب میں سسٹر بوٹینی  کو دعوت دوں گا کہ وہ انسانی بیوپار سے متعلق اس برس کی رپورٹ کے ہیروز کی جانب سے بات کریں۔ ہم ان کی نامزدگی اور ان کے اہم کام میں مدد پر سفیر گنگرچ اور ان کی ٹیم کے مشکور ہیں۔ سسٹر بوٹینی  انسانی بیوپار کی روک تھام کے لیے کیتھولک برادری میں کام کرتی ہیں اور اس ضمن میں ”ٹالیتھا کم”  نامی ادارہ چلاتی ہیں۔ ان کا شمار اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کوشاں ممتاز ترین موثر شخصیات میں ہوتا ہے۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں