rss

عالمگیر مذہبی آزادی پر 2018 کی سالانہ رپورٹ کا اجرا

Português Português, English English, Español Español, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Русский Русский

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
21 جون 2019
عالمگیر مذہبی آزادی پر 2018 کی سالانہ رپورٹ کا اجرا
وزیرخارجہ مائیکل آر پومپئو کا خطاب
پریس بریفنگ روم
واشنگٹن، ڈی سی


 

وزیر پومپئو: سبھی کو سہ پہر بخیر۔ دنیا بھر میں مذہبی آزادی کے فروغ سے متعلق دفتر خارجہ کے جاری مشن پر بات کے لیے آج یہاں موجودگی میرے لیے باعث فخر ہے۔

یہ مشن محض ٹرمپ انتظامیہ کی ترجیح نہیں ہے بلکہ اس کی ایک نہایت نجی نوعیت بھی ہے۔ میں کئی سال تک مذہبی سکول میں استاد اور اپنے چرچ میں دنیوی امور کا منتظم بھی رہا ہوں۔

ہو سکتا ہے بالٹ وے میں بہت سے لوگوں کے لیے یہ بات غیرمعمولی ہو۔ تاہم میرا شمار ان کروڑوں امریکیوں اور دنیا بھر کے اربوں لوگوں میں ہوتا ہے جو ایک ارفع طاقت کی موجودگی پر یقین رکھتے ہیں۔ میں اکثر عاجزانہ طور سے اس امر پر غور کرتا ہوں کہ کیسے خدا کی رحمت نے اس مقصد کے تحفظ میں اس عہدے پر میری رہنمائی کی۔ میں سوچتا ہوں کہ کیسے ایک امریکی ہونے کے ناطے مجھے مذہبی آزادی سے آزادانہ طور پر فیض یاب ہونے کا موقع ملا۔ یہ امریکہ میں ہماری آزادی کے ابتدائی اصولوں میں شامل ہے۔

تاہم دنیا کے بیشتر حصے میں حکومتیں اور گروہ لوگوں کو ان کا یہ ناقابل انتقال حق نہیں دیتے۔ لوگوں کو کوئی عقیدہ اختیار کرنے یا نہ کرنے کے فیصلے پر تکالیف پہنچائی جاتی ہیں، بیڑیاں ڈالی جاتی ہیں، جیلوں میں پھینکا جاتا ہے حتیٰ کہ ہلاک بھی کر دیا جاتا ہے۔ انہیں یہ سب کچھ اپنے ضمیر کے مطابق عبادت کرنے پر جھیلنا پڑتا ہے۔ انہیں اپنے بچوں کو اپنے عقیدے کی تعلیم دینے پر یہ تکالیف برداشت کرنا پڑتی ہیں۔ انہیں اپنے عقائد کے کھلم کھلا تذکرے پر ایذارسانی کا سامنا ہوتا ہے۔ انہیں اسی طرح نجی طور پر انجیل، توراۃ یا قرآن پڑھنے پر مظالم کا سامنا ہوتا ہے جیسا کہ ہم میں بہت سے لوگ پڑھتے ہیں۔

امریکہ میں کسی مسجد، کسی چرچ یا کسی بھی عبادت گاہ میں چلے جائیں وہاں آپ کو ایک ہی بات سننے کو ملے گی کہ امریکی یہ یقین رکھتے ہیں کہ اس طرح کی عدم رواداری انتہائی غلط ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ہماری خارجہ حکمت عملی کے ایجنڈے میں مذہبی آزادی کو جس طرح فروغ دیا ویسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ ہماری اپنی عظیم آزادیوں کے ہوتے ہوئے ہر ملک میں مذہبی آزادی کی حمایت کرنا امریکہ کی جداگانہ ذمہ داری ہے۔

اسی لیے مجھے آج یہاں دفتر خارجہ میں یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہے کہ ہم اپنے ادارے میں عالمگیر مذہبی آزادی سے متعلق دفتر اور یہود مخالفت کی نگرانی و روک تھام کے لیے خصوصی نمائندے کے دفتر کا درجہ بڑھا رہے ہیں۔ فوری طور پر یہ دونوں دفاتر شہری سلامتی، جمہوریت اور انسانی حقوق سے متعلق نائب وزیر کو براہ راست رپورٹ کریں گے۔

مذہبی آزادی سے متعلق خصوصی سفیر سام براؤن بیک بدستور مجھے براہ راست رپورٹ دیں گے۔

اس تنظیم نو سے ان دفاتر کو اضافی عملہ اور وسائل میسر آئیں گے اور ناصرف ہمارے ادارے میں بلکہ اس سے باہر ان کی شراکتوں میں اضافہ ہو گا۔ اس سے انہیں اپنے اہم اختیارات سے بہتر انداز میں فائدہ اٹھانے کی طاقت ملے گی۔

دوسری بات: مجھے عالمگیر مذہبی آزادی سے متعلق 2018 کی سالانہ  رپورٹ کے اجرا کا اعلان کرتے ہوئے خوشی ہے۔ کسی رپورٹ کارڈ کی طرح اس میں یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ دنیا کے ممالک نے اس بنیادی انسانی حق کا کس قدر احترام کیا ہے۔ میں اس ضمن میں اپنی بات کا آغاز ایک اچھی خبر سے کروں گا۔

ازبکستان میں تاحال اس حوالے سے بہت سا کام ہونا باقی ہے مگر 13 برس میں پہلی مرتبہ یہ ملک مذہبی آزادی کے حوالے سے خاص تشویش کا حامل نہیں رہا۔

گزشتہ برس وہاں کی حکومت نے مذہبی آزادی کے حوالے سے ایک راہ عمل متعین کی تھی۔ وہاں ڈیڑھ ہزار مذہبی قیدی رہا کیے گئے اور اپنی مذہبی وابستگیوں کی بنا پر بلیک لسٹ کیے گئے 16 ہزار افراد کو اب سفری آزادی حاصل ہے۔ اب ہم وہاں قانونی اصلاحات کے منتظر ہیں تاکہ بہت سے گروہ آزادانہ طور سے عبادت کر سکیں اور بچے اپنے والدین کے ہمراہ مساجد میں عبادت کے لیے جا سکیں۔

پاکستان میں سپریم کورٹ نے ایک کیتھولک آسیہ بی بی کو توہین مذہب کے الزام سے بری کیا اور قریباً ایک دہائی پر مشتمل قید کے بعد ان کی سزائے موت ختم کی۔ تاہم 40 دیگر لوگ اسی الزام میں عمرقید کاٹ رہے ہیں یا انہیں سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔ ہم ان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے  حکومت کی ہمت بڑھاتے ہیں کہ وہ مذہبی آزادی سے متعلق متعدد خدشات کا ازالہ کرنے کے لیے ایک نمائندہ تعینات کرے۔

ترکی میں صدر ٹرمپ کے زور دینے پر پادری اینڈریو برونسن کو رہا کر دیا گیا جنہیں اپنے عقیدے پر عمل کی پاداش میں غلط طور سے قید میں رکھا گیا تھا۔ ہم وہاں گرفتار کیے گئے اپنے مقامی عملے کی رہائی کے منتظر ہیں۔ مزید برآں ہم استنبول کے قریب ہالکی مدرسے کو فی الفور دوبارہ کھولنے پر زور دیتے ہیں۔

دیکھیے، ہم اچھی پیش رفت کی ان تمام دمکتی مثالوں کا خیرمقدم کرتے ہیں مگر ہمارا مطالبہ ہے کہ اس ضمن میں مزید بہت کچھ کیا جانا چاہیے۔ بدقسمتی سے 2018 مذہبی آزادی کے حوالے سے مکمل طور پر  اچھا سال نہیں تھا۔

گزشتہ برسوں کی طرح ہماری اس رپورٹ میں جابر حکومتوں، متشدد انتہاپسند گروہوں اور عام لوگوں کی جانب سے مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں کے خوفناک سلسلے کو آشکار کیا گیا ہے۔ میں مذہبی آزادی پامال کرنے والے تمام عناصر سے کہوں گا کہ امریکہ دیکھ رہا ہے اور آپ کو نتائج بھگتنا ہوں گے۔

ایران میں بہائیوں، عیسائیوں اور دیگر عقائد کے پیروکاروں کے خلاف حکومتی کارروائی بدستور ہمارے ضمیر کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔

روس میں الف سعادت فرقے سے تعلق رکھنے والوں کو بے سروپا اور گھناؤنے طور سے دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے۔ حکام نے ان کی املاک ضبط کر لی ہے اور ان کے اہلخانہ کو دھمکایا جاتا ہے۔

برما میں روہنگیا مسلمانوں کو بدستور فوج کے ہاتھوں تشدد کا سامنا ہے۔ ان میں لاکھوں لوگ اپنا گھر بار چھوڑنے یا گنجان مہاجر کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

چین میں حکومت کی جانب سے بہت سے عقائد کے پیروکاروں پر مظالم عام ہیں۔ ان میں فالن گانگ کے پیروکار، عیسائی اور تبتی بدھ شامل ہیں۔

چینی اشتراکی جماعت نے اپنی ابتدا سے ہی تمام مذہبی عقائد کے خلاف انتہائی معاندانہ طرزعمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس جماعت کا مطالبہ ہے کہ صرف اسے ہی خدا سمجھا جائے۔

مجھے یہاں چند ویغور باشندوں سے ملاقات کا موقع ملا مگر بدقسمتی سے بیشتر چینی ویغور باشندے اپنی داستانیں نہیں سنا پاتے۔ یہی وجہ ہے کہ سنکیانگ میں مذہبی آزادی کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزیوں کے تذکرے کے لیے ہم نے اس برس چین کے حوالے سے رپورٹ میں ایک خصوصی حصہ شامل کیا ہے۔

تاریخ ان خلاف ورزیوں کی بابت خاموش نہیں رہے گی مگر یہ اسی صورت ممکن ہے جب ہماری طرح آزادی کے حق میں اٹھنے والی آوازیں اسے ریکارڈ کریں گی۔

میں آخر میں صرف ایک اور وجہ بیان کروں گا کہ یہ رپورٹ اس قدر اہم کیوں ہے۔ اس سے مذہبی آزادی کے فروغ سے متعلق ہمارے دوسرے سالانہ وزارتی اجلاس کے لیے گفت و شنید کو تحریک ملے گی۔ میں جولائی کے وسط میں اس اجلاس کی میزبانی کروں گا۔

اس برس ہم ایک ہزار ایسے افراد کا خیرمقدم کریں گے جو مذہبی آزادی کے مقصد سے متعلق اپنے جذبے کی تجدید کریں گے۔ مجھے ان لوگوں کا حصہ ہونے پر فخر ہے۔ مجھے اس دن کا انتظار ہے۔ گزشتہ برس تاریخ میں پہلی مرتبہ مذہبی آزادی کے موضوع پر وزرائے خارجہ کی سطح کا اجلاس ہوا  تھا ۔

ہم نے حقیقتاً دنیا کے ہرکونے سے نمائندے، کارکن اور مذہبی رہنما جمع کیے۔ یہ واقعتاً تمام عقائد سے تعلق رکھنے والوں کی باہمی یگانگت کا حیرت انگیز مظاہرہ تھا جب تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک بنیادی ترین انسانی حق کے لیے کھڑے ہوئے۔ یہ اجلاس اس قدر کامیاب تھا کہ میں نے فوری طور پر آئندہ برس  بھی اسی دن یہ اجلاس بلانے کا عہد کر لیا۔

دیکھیے، اس وقت ہونے والا اچھا کام اس کانفرنس کے اختتام پر تمام  نہیں ہوا۔ اس کے بعد متحدہ عرب امارات اور تائیوان  نے کانفرنسوں کی میزبانی کی اور متاثرکن قیادت کا مظاہرہ کیا۔ مذہبی آزادی سے متعلق عالمگیر فنڈ میں بدستور کروڑوں ڈالر موصول ہو رہے ہیں۔ یہ فنڈ مذہبی بنیاد پر تکالیف جھیلنے والوں کی مددکے لیے شروع کیا گیا تھا۔ میں منتظر ہوں کہ اس برس بھی یہ وزارتی اجلاس متاثر کن ہو اور میں جانتا ہوں کہ ایسا ہی ہو گا۔

اب میں اپنے دوست اور عالمگیر مذہبی آزادی سے متعلق ہمارے خصوصی سفیر سیم براؤن بیک سے کہوں گا کہ وہ آپ کے سوالات کا جواب دیں۔ آپ سبھی کا شکریہ۔

سوال: کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آیا آپ نے گزشتہ شب  ایران پر  فضائی حملے کی حمایت کی   تھی؟

سوال: (مائیک کے بغیر)


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں