rss

وزیر خارجہ پومپئو کا سعودی عرب، یواے ای، انڈیا، جاپان اور جمہوریہ کوریا کا دورہ

العربية العربية, English English, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
وزیر خارجہ پومپئو کا سعودی عرب، یواے ای، انڈیا، جاپان اور جمہوریہ کوریا کا دورہ
ترجمان دفتر خارجہ مورگن اورٹیگس کا بیان


 

وزیر خارجہ پومپئو 23 تا 30 جون سعودی عرب، یو اے ای، انڈیا، جاپان اور جمہوریہ کوریا کا دورہ کریں گے۔ ان دوروں میں علاقائی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال ہو گا اور آزاد و کھلے خطہ ہندوالکاہل سے متعلق ہمارے مشترکہ مقصد کو آگے بڑھانے کے لیے اہم ممالک کے ساتھ شراکتیں وسیع اور مضبوط بنانے پر بات چیت کی جائے گی۔

وزیر خارجہ پومپئو جدہ میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز السعود اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان السعود سے ملیں گے۔ اس دوران خطے میں ایران کے ضرررساں اثرورسوخ کا مقابلہ کرنے کے طریقے زیربحث آئیں گے۔ وزیر پومپئو ابوظہبی میں ولی عہد شہزادہ محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کے موقع پر خطے میں بڑھے ہوئے تناؤ اور سمندری سلامتی میں معاونت کی ضرورت پر تبادلہ خیال کریں گے۔

وزیر پومپئو نئی دہلی میں وزیراعظم نریندرا مودی اور وزیر برائے خارجہ امور ایس جے شنکر سے ملیں گے۔ اس موقع پر امریکہ انڈیا تزویراتی شراکت کے حوالے سے ہمارا پرعزم ایجنڈا زیربحث آئے گا۔ وزیراعظم مودی کی حالیہ انتخابی فتح نے انہیں ایک ایسے مضبوط اور خوشحالی انڈیا بارے اپنے تصور کو عملی جامہ پہنانے کا بہترین موقع فراہم کیا ہے جس کا عالمی سطح پر اہم کردار ہو گا۔

وزیر خارجہ اپنے دورے کے اگلے مرحلے میں اوساکا جائیں گے جہاں وہ جی 20 رہنماؤں کی کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ یہ جاپان میں ہونے والا ایسا پہلا اجتماع ہے۔ وزیر خارجہ اس کانفرنس کے دوران صدر ٹرمپ اور وزیراعظم ایبے کی ایک ملاقات میں بھی شریک ہوں گے۔ اس ملاقات میں شمالی کوریا کو حتمی اور مکمل طور سے قابل تصدیق انداز میں جوہری اسلحے سے پاک کرنے کے عمل کو مربوط بنانے پر بات چیت ہو گی۔ علاوہ ازیں اس موقع پر شمالی کوریا اور دیگر مشترکہ مسائل کے حوالے سے ہماری مشترکہ سوچ پر جمہوریہ کوریا کے ساتھ سہ طرفی تعاون مضبوط بنانے کے طریقے  بھی زیربحث آئیں گے۔

وزیر پومپئو جی 20 کانفرنس کے بعد صدر ٹرمپ کے ہمراہ جمہوریہ کوریا جائیں گے جہاں وہ صدر مون جے ان سے ملیں گے۔ دونوں رہنما امریکہ اور جمہوریہ کوریا کے اتحاد کو مضبوط بنانے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔ صدر ٹرمپ اور صدر مون شمالی کوریا کو جوہری اسلحے سے حتمی اور مکمل قابل تصدیق طور سے پاک کرنے کی کوششوں پر اپنا قریبی ربط جاری رکھیں گے۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں