rss

امریکی وزیر خارجہ مائیکل آر پومپئو کی پریس کانفرنس

English English, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
25 جون 2019
امریکی سفارت خانہ کابل
کابل، افغانستان

 

وزیر پومپئو: سبھی کو سہ پہر بخیر۔ اس وقت دنیا میں اتنا کچھ ہو رہا ہے کہ بعض اوقات یہاں افغانستان کے حوالے سے امریکی عزم کو یاد رکھنا آسان نہیں ہوتا مگر دنیا کو علم ہونا چاہیے کہ ٹرمپ انتظامیہ اور امریکی عوام یہ  بھُولے نہیں ہیں۔ ہمیں یہاں ان کے مفادات کی اسی مستعدی سے نمائندگی کرنا ہے جیسے ہم پہلے کرتے چلے آئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میرے لیے ایک مرتبہ پھر افغانستان آنا اہم تھا۔

افغانستان کے معاملے میں بہت سی غلط باتیں سامنے آتی رہی ہیں۔ بعض اوقات ان کی نوعیت ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے، اس ضمن میں گزشتہ چند ماہ سے افغانستان کے حوالے سے امریکی سفارت خاری سے متعلق اطلاعات زیرگردشت ہیں۔ آج میں یہ امر یقینی بنانا چاہتا ہوں کہ اس معاملے میں ریکارڈ درست کیا جائے۔

جیسا کہ صدر نے کہا ہے افغانستان میں قریباً دو دہائیوں سے جاری جنگ کے بعد اب وقت آ گیا ہے کہ امن قائم کیا جائے۔ گزشتہ نو ماہ سے امریکہ نے ایک امن عمل میں سہولت دی ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ  تمام افغان فریقین کو گفت و شنید کے لیے جمع کرتے ہوئے اپنے قومی مفادات کا تحفظ کیا جائے۔ اس بات چیت کے نتیجے میں افغانوں کو ایک سیاسی سمجھوتے پر پہنچنے اور اپنے ملک کے مستقبل کا تعین کرنے میں مدد ملے گی۔

صدر غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ کے ساتھ میری ملاقات میں اس بات پر اتفاق پایا گیا کہ امن ہماری اعلیٰ ترین ترجیح ہے اور افغانستان کو دوبارہ کبھی عالمی دہشت گردی کا پلیٹ فارم نہیں بننا۔ خصوصی نمائندے خلیل زاد کے ساتھ طویل مدتی شراکت اور ان کی معاونت پر میں صدر غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ کا شکرگزار ہوں۔

جیسا کہ آپ آگاہ ہیں، جنوری میں امریکہ اور طالبان کے مابین ایک اصولی معاہدہ طے پایا تھا کہ کسی بھی جامع امن سمجھوتے میں چار مسائل کا حل بہرصورت ہونا چاہیے جو باہم مربوط ہیں۔ ان میں انسداد دہشت گردی، غیرملکی فوجی دستوں کی موجودگی، بین افغان بات چیت کے لیے بین افغان مکالمہ اور مستقل جنگ بندی شامل ہیں۔

جہاں تک دہشت گردی کا مسئلہ ہے تو ہم نے اس سلسلے میں حقیقی پیش رفت کی ہے اور ایک ایسے تحریری مسودے پر اتفاق کے لیے قریباً تیار ہیں جس میں یہ بات شامل ہو گی کہ طالبان یہ امر یقینی بنانے میں اپنے ہموطنوں کا ساتھ دیں گے کہ افغان سرزمین کبھی دہشت گردوں کا محفوظ ٹھکانہ نہیں بنے گا۔ اس پیش رفت کے ہوتے ہوئے ہم نے طالبان کے ساتھ غیرملکی عسکری موجودگی کے حوالے سے بات چیت شروع کی جو آج بھی مشروط ہے۔ اگرچہ ہم نے طالبان پر واضح کر دیا ہے کہ ہم اپنی فوجیں ہٹانے کے لیے تیار ہیں تاہم میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ تاحال ہم اس کے لیے کسی مخصوص وقت پر متفق نہیں ہوئے۔ اس میں کوئی حیرانی نہیں ہونی چاہیے مگر بعض اوقات ہمارے مخالفین ایسی باتوں کا اعلان کرتے ہیں جو درست نہیں ہوتیں۔

میں آپ کو ازسرنو یقین دہانی کرانا چاہتا ہوں کہ ہم نے طالبان کے ساتھ بات چیت کے متوازی افغان حکومت سے بھی گفت و شنید کی ہے۔ سفیر بیس، جنرل ملر اور سفیر خلیل زاد نے یہ یقینی بنانے کے لیے تندہی سے کام کیا ہے کہ ہم اپنی سوچ سے پوری طرح ہم آہنگ ہوں اور آج یہاں صدر غنی سے ملاقات بہت اچھی رہی۔

تمام فریقین متفق ہیں کہ دہشت گردی اور غیرملکی افواج کی موجودگی پر امریکہ طالبان سمجھوتہ بین افغان مکالمے اور گفت و شنید کے در وا کرے گا۔ آئندہ اقدام ہماری کوشش میں مرکزی اہمیت رکھتا ہے۔ ہم طالبان کے ساتھ افغان حکومت یا عوام کی جانب سے بات چیت کر رہے ہیں اور نہ ہی کریں گے۔ اس کے بجائے ہم افغانوں کو مذاکرات کی میز پر اکٹھا کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں تاکہ وہ مل جل کر اپنے ملک کے مستقبل کا فیصلہ کریں۔ جب یہ لوگ بات چیت کے لیے جمع ہوئے تو ان میں افغانوں کی وسیع تر نمائندگی ہو گی۔ اس بات چیت میں محض طالبان اور حکومت کے بجائے حزب اختلاف کی جماعتعوں، سول سوسائٹی بشمول خواتین اور نوجوانوں کو شامل کرنا اہم ہے۔

جہاں تک ہمارے آئندہ سفارتی اقدامات کا تعلق ہے تو ہم آئندہ ماہ ایک بین افغان مکالمے کے لیے قطر کے ساتھ جرمنی کے عہد کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ یہ بین افغان بات چیت کی فوری ضرورت کی توثیق کے لیے افغانوں کے پاس ایک اہم موقع ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ امریکہ بین افغان بات چیت کے ہرممکن حد تک فوری آغاز کے لیے بنیادی کام کر رہا ہے۔ اس بات چیت کا مقصد افغانوں کو جامع امن سمجھوتے تک پہنچنے کے لیے مخصوص وقت اور سیاسی راہ عمل پر متفق کرنا ہے۔ امریکہ ان مذاکرات سے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا۔

ہم اس بابت واضح ہیں کہ دوطرفہ تعلقات کی کامیابی یا ناکامی اور عالمی برادی بشمول عطیہ دہندہ ممالک کے ساتھ افغانستان کے تعلقات کا بڑی حد تک دارومدادر اس پر ہو گا کہ افغان  اپنی خواتین اور اقلیتوں کے شہری حقوق برقرار رکھنے اور گزشتہ 18 برس میں حاصل ہونے والے فوائد کے تحفظ کی بات کیا کرتے ہیں۔

میں محض امریکہ کے خیالات کی ترجمانی نہیں کر رہا۔ آج ہمارے الفاظ امن کے لیے ایک عالمگیر اتفاق رائے کا اظہار ہیں۔ میں افغانستان کے ہمسایہ ممالک کا شکرگزار ہوں جنہوں نے اس عمل کی حمایت کی ہے اور جنہیں علاقائی انضمام سے بے حد فائدہ پہنچے گا اور یقیناً اس کا آغاز امن سے ہونا ہے۔

ہم اپنے نیٹو اتحادیوں اور شراکت داروں کی حمایت کو بھی سراہتے ہیں جو ریزولوٹ سپورٹ مشن میں ہمارے ساتھ ہیں جس کا افغان عوام سے کیا گیا عہد  بعدازامن دور میں نہایت اہم ہو گا۔ چین اور روس کی شراکت سے ہمارا جاری کردہ سہ طرفی اتفاق رائے اور امریکہ یورپ گروپ کی جانب سے جاری کردہ اصول اس امن عمل کے لیے عالمی برادری کی حمایت کی مزید علامات ہیں۔

اس عمل میں اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ میں پاکستان کا کردار خاص طور پر اہم ہے۔ پیش رفت ہو چکی ہے اور ہم عملی اقدامات، امن مذاکرات میں تعاون اور کسی سمجھوتے کے نفاذ کے لیے پاکستان کی جانب دیکھتے رہیں گے۔

اب میں لفظ ”امن” نصف درجن سے زیادہ مرتبہ استعمال کر چکا ہوں۔ یہ ہماری ترجیح ہے۔ مگر امن کوششوں کے لیے  افغان صدارتی انتخابات تک انتظار نہیں کرنا۔ ہم امن کے لیے کوشاں ہیں جو افغانوں کا حق ہے تاہم انتخابی منصوبہ بندی کسی تاخیر کے بغیر آگے بڑھنی چاہیے۔ میں افغان حکومت، خودمختار انتخابی کمیشن اور تمام سیاسی فریقین پر زور دیتا ہوں کہ وہ انتخابات کو قابل اعتبار بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائیں۔

ہم افغانستان میں جنگ روکنے کے لیے ایک سیاسی سمجھوتے میں سہولت پہنچانے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس دوران ہم افغان حکومت اور عالمی برادری کے تعاون سے افغانستان کے لیے بعداز سمجھوتہ ایک مستحکم اور خوشحال مستقبل کے لیے بنیادی کام کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج میں نے محل میں ملاقاتوں کے علاوہ بہت سی داخلی ملاقاتیں بھی کی ہیں تاکہ  مستقبل میں اپنی مضبوط سفارتی،دفاعی اور ترقیاتی موجودگی کے لیے منصوبوں پر کام کیا جا سکے۔ امریکہ افغانوں کو گزشتہ 18 برس میں حاصل ہونے والے فوائد محفوظ رکھنے میں مدد دے گا اور اس مقصد کے لیے ریاستی سویلین حکومتوں اور اور خودانحصاری کی بابت ان کی روایات کی حمایت کی جائے گی۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں