rss

وزیر خارجہ پومپئو کا باہمی تزویراتی شراکت مضبوط بنانے کے لیے انڈیا کا دورہ

हिन्दी हिन्दी, English English

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
25 جون 2019

 

” میں واقعتاً یقین رکھتا ہوں کہ دونوں ممالک کے پاس اپنے عوام، خطہ ہندوالکاہل اور درحقیقت پوری دنیا کی بہتری کے لیے  اکٹھے آگے بڑھنے کا ایک غیرمعمولی منفرد موقع موجود ہے۔”  امریکی وزیر خارجہ مائیکل پومپئو، 12 جون 2019

وزیر خارجہ پومپئو 25 تا 27 جون انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی جائیں گے۔ اس دورے میں وہ وزیراعظم نریندرا مودی اور وزیر برائے خارجہ امور سبرامنیم جے شنکر سے امریکہ انڈیا تزویراتی شراکت سے متعلق ہمارے پرعزم مشترکہ ایجنڈے پر بات چیت کریں گے۔ اس دورے میں وہ باہمی تعلقات کے مستقبل اور مشترکہ دلچسپی کے عالمی امور پر تعاون کے مواقع پر بات چیت کریں گے۔

امریکہ انڈیا تزویراتی شراکت نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے

  • مشترکہ اقدار پر قائم متحرک جمہوریتیں، تیزی سے ترقی پاتی معیشتیں، کاروباری ماحول اور عالمی سطح پر قائدانہ پوزیشنوں کے ہوتے ہوئے امریکہ اور انڈیا فطری طور پر تزویراتی شراکت دار ہیں۔
  • صدر ٹرمپ اور وزیراعظم مودی اس شراکت کی ترقی کے سفر کی رفتار تیز کرنے کے لیے ثابت قدمی سے پرعزم ہیں۔ حالیہ انتخابات میں وزیراعظم مودی کو ملنے والی بھاری اکثریت سے اس وژن کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔
  • امریکہ اور انڈیا توانائی، ہوابازی اور خلا جیسے شعبہ جات میں تعاون کو وسعت دے کر آزاد، کھلے اور قوانین کی بنیاد پر خطہ ہندوالکاہل کے لیے ہمارے مشترکہ وژن کی جانب تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
  • ہم نے دونوں ممالک میں تزویراتی تعامل کی سطح میں اضافہ کیا ہے۔ اس میں سالانہ 2+2 وزارتی اجلاس خاص طور پر قابل ذکر ہے جس میں امریکہ اور انڈیا کے وزرائے خارجہ و دفاع شریک ہوتے ہیں۔
  • پہلا 2+2 ستمبر 2018 میں ہوا تھا جس کے اختتام پر تینوں افواج کی ایک نئی مشق اور ایک محفوظ مواصلاتی معاہدے پر دستخط کا اعلان ہوا جو انڈیا کو بڑے امریکی دفاعی شراکت دار کے اپنے درجے کو عملی صورت دینے کے قابل بنائے گا۔
  • ہمیں توقع ہے کہ آئندہ 2+2 2019 کے اواخر میں واشنگٹن ڈی سی میں ہو گا۔
  • امریکہ نے گزشتہ برس انڈیا کو تزویراتی تجارتی اختیار کا پہلا درجہ دیا تھا جس سے انڈیا کو مخصوص دفاعی سازوسامان تک لائسنس کے بغیر رسائی کا موقع ملا جس طرح نیٹو اتحادیوں، جاپان، جنوبی کوریا اور آسٹریلیا کو حاصل ہے۔ یہ درجہ ترسیلی سلسلے کو پہلے سے کہیں زیادہ موثر بناتا اور امریکی صنعت و سرمایہ کاری کی معاونت کرتا ہے۔
  • امریکہ، انڈیا اور جاپان کے رہنماؤں  میں دوسری سہ طرفی ملاقات اوساکا میں جی 20 کانفرنس کے موقع پر ہو گی۔
  • صدر ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد امریکہ، انڈیا، جاپان اور آسٹریلیا میں نئی توانائی سے بھرپور چار فریقی مذاکرات چار مرتبہ ہو چکے ہیں جن میں خطہ ہندوالکاہل میں قوانین پر مبنی نظام مضبوط بنانے کے طریقوں پر بات چیت ہوئی۔ اس نظام میں تمام ممالک خودمختار، مضبوط اور خوشحال ہوں گے۔
  • وزیر پومپئو کا یہ دورہ ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں وزیر خارجہ کا انڈیا میں تیسرا دورہ ہے۔

ہمارے معاشی تعلق میں ترقی کے بے پایاں امکان موجود ہے

  • امریکہ انڈیا کا اہم ترین تجارتی شراکت دار ہے۔ سمندر پار انڈیا کی سب سے بڑی منڈی کے طور رپ امریکہ انڈیا کی برآمدات کے قریباً بیس فیصد کا خریدار ہے۔ انڈیا بھی امریکی اشیا کے لیے تیزی سے بڑھتی بڑی منڈی ہے۔
  • اشیا اور خدمات کے شعبے میں انڈیا کے ساتھ امریکہ کی دو طرفہ تجارت کا حجم 2018 میں 142 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا جو کہ گزشتہ برس کے مقابلے میں 12.6 فیصد یا قریباً 16 ارب ڈالر زیادہ تھا۔
  • انڈیا کے لیے امریکی خام تیل کی برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے جس سے انڈیا میں توانائی کے شعبے میں بہتری آئے گی جبکہ ہمارا دوطرفہ تجارتی خسارہ کم ہو جائے گا۔ امریکہ نے 2018 میں انڈیا کو قریباً 50 ملین بیرل خام تیل فروخت کیا تھا۔ 2017 میں یہ مقدار 10 ملین بیرل سے کم تھی۔ 2019 میں یہ تجارتی حجم مزید بڑھ جائے گا۔
  • 2019 میں انڈیا کے لیے امریکی دفاعی سازوسامان کی فروخت اندازاً 18 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی جو کہ 2008 میں صفر پر تھی۔ اس سے انڈیا کی قومی سلامتی کی صلاحیتوں میں اضافہ ہو گا اور دونوں ممالک میں نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی۔
  • امریکی کمپنیوں کے لیے انڈیا میں بہت بڑے مواقع موجود ہیں اور بڑھتے ہوئے اقتصادی کھُلے پن اور سرمایہ کاری سے دونوں ممالک کو فائدہ پہنچے گا۔ ٹرمپ انتظامیہ یہ امر یقینی بنانے کے لیے کام کر رہی ہے کہ انڈیا میں کام کرنے والی امریکی کمپنیوں کو ویسے ہی مواقع ملیں جو انڈیا کی کمپنیوں کو امریکہ میں حاصل ہیں۔
  • اگر انڈیا تجارتی رکاوٹیں کم کر دے اور شفاف و دوطرفہ تجارت کرے تو دونوں ممالک کے باہمی تجارتی تعلقات کو ترقی دینے اور معیاری روزگار تخلیق کرنے کا بےپایاں امکان موجود ہے جیسا کہ وزیراعظم مودی بھی چاہتے ہیں۔

امریکہ اور انڈیا میں باہمی رشتہ اٹوٹ ہے

  • دنیا کی قدیم ترین اور سب سے بڑی جمہوریتیں ہونے کے ناطے امریکہ اور انڈیا ایک دوسرے کی اقدار اور روایات کا بھرپور احترام کرتے ہیں۔ ہمارے عوام اور ثقافتیں ایک دوسرے کے ساتھ اچھی طرح پیوسط ہیں۔
  • امریکہ میں انڈیا کے لوگوں کی آبادی قریباً 4 ملین ہے۔ امریکہ میں انڈین امریکی ترقی کر رہے ہیں اور صنعت، تعلیم و حکومت کے شعبوں میں اپنی قائدانہ صلاحیتوں کی بدولت ہماری معاشروں کو مزید محفوظ اور خوشحال بنانے میں مدد دے رہے ہیں۔
  • ہمارے اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں انڈین طلبہ کی بڑی تعداد موجود ہے۔ یہ لوگ امریکی معیشت میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں اور انہوں نے امریکیوں کے ساتھ زندگی بھر کے ناطے بنا رکھے ہیں۔ امریکہ میں زیرتعلیم انڈین طلبہ کی تعداد میں مسلسل پانچویں سال اضافہ ہو گیا ہے۔ 2012 اور 2013 کے تعلیمی سال میں یہ تعداد 96000 تھی جو 2018 میں 196000 تک پہنچ گئی تھی۔
  • 2018 میں دنیا بھر میں جاری کردہ H-IB ویزوں کا 70 فیصد انڈین باشندوں نے وصول کیا۔ اس پروگرام کی بدولت انڈیا کے باصلاحیت پیشہ وروں کو امریکی معیشت میں اپنا حصہ ڈالنے اور اپنے ملک کو نئی صلاحیتیں لوٹانے کا موقع ملتا ہے جس سے انڈیا کی معاشی ترقی میں اضافہ ہوتا ہے اور دونوں ممالک کو فائدہ پہنچتا ہے۔
  • امریکہ انڈیا تعلقات میں بہتری کی حمایت سیاسی جماعتوں اور صدارتی انتظامیہ سے ماورا ہے۔

یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں