rss

امریکہ اور انڈیا: امنگوں کے دور سے ہم آغوش وزیر خارجہ مائیکل آر پومپئو کا خطاب

English English, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
26 جون 2019
نئی دہلی، انڈیا

 

سفیر جسٹر: خواتین و حضرات، سہ پہر بخیر۔ انڈیا میں امریکی سفیر ہونے کی حیثیت سے مجھے آج اپنے مقرر وزیر خارجہ مائیک پومپئو کا تعارف کرانے کا خاص موقع ملا ہے۔

وزیر پومپئو نے سرکاری و نجی شعبوں میں کچھ  اس انداز میں خدمات انجام دی ہیں جو انہیں آج کی دنیا اور امریکہ انڈیا تعلقات میں بہت سے اہم امور پر بات کی خاص اہلیت عطا کرتا ہے۔ ویسٹ پوائنٹ میں امریکی ملٹری اکیڈمی میں اپنی جماعت میں اول پوزیشن سے گریجوایشن مکمل کرنے کے بعد انہوں نے پانچ برس تک امریکی فوج میں خدمات انجام دیں۔ بعدازاں انہوں نے ہاورڈ لا سکول میں داخلہ لے لیا اور وہاں سے گریجوایشن کرنے کے بعد ملک کی ایک اعلیٰ ترین قانونی فرم میں کام کیا۔

یہاں سے وہ کاروباری شعبے میں آ گئے اور سالہا سال تک فضائیات اور توانائی کے شعبوں میں کمپنیاں چلائیں۔ بعدازاں انہوں نے سرکاری خدمات کی جانب مراجعت کی اور ریاست کنساس کے چوتھے کانگریسی ضلع سے مسلسل چار مرتبہ امریکی نمائندے کے طور پر منتخب ہوئے۔

جنوری 2017 میں صدر ٹرمپ نے رکن کانگریس پومپئو کو سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی کا ڈائریکٹر مقرر کیا۔ مارچ 2019 میں صدر ٹرمپ نے انہیں وزیر خارجہ نامزد کیا۔

اس طرح وزیر خارجہ پومپئو فوج اور انٹیلی جنس میں خدمات انجام دینے کے ساتھ بنیادی سطح کے سیاست دان، دو اہم معاشی شعبہ جات میں کاروباری منتظم اور وکیل بھی رہ چکے ہیں جو ان سب چیزوں کو مدلل تجزیے اور ابلاغ سے منسلک کر سکتے ہیں۔

نئی دہلی میں ان کی دوبارہ آمد ہمارے لیے خوشی کی بات ہے۔ براہ مہربانی 70ویں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپئو کے استقبال میں میرا ساتھ دیجیے۔ (تالیاں)

وزیر پومپئو: سبھی کو شام بخیر۔ خوش آمدید اور یہاں میرے ساتھ موجودگی پر آپ کا شکریہ۔ نمستے۔

سفیر جسٹر، اس قدر گرمجوشانہ تعارف پر آپ کا بھی شکریہ۔ گزشتہ ستمبر میں یہاں آمد کے بعد کین اور میں دوبارہ نئی دہلی آنے کی بات کرتے رہے ہیں اور مجھے خوشی ہے کہ آپ کے زبردست انتخابات سے فوری بعد ہمارا یہاں آنا ممکن ہو گیا۔

میں یہاں موجود چند خاص لوگوں کی قدر افزائی کرنا چاہتا ہوں۔ امریکہ میں انڈیا کے سفیر ہارش شرنگلا اور انڈین سفارتی عملے کے بہت سے دیگر ارکان بھی حاضرین میں موجود ہیں۔ آپ کی یہاں موجودگی میرے لیے اعزاز ہے۔ ہمارے ساتھ شمولیت پر شکریہ۔

انڈین انٹرنیشنل سنٹر آمد بھی میرے لیے خوشی کا موقع ہے۔ دونوں ممالک میں باہمی تعاون کی اس ادارے سے بڑی کوئی اور علامت نہیں ہو سکتی جسے امریکی اور ایک انڈین صدر نے بنایا تھا۔ میری خواہش ہے کہ آج رات مجھے یہاں تھالی سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملے۔ میں نے سنا ہے یہ بہت مزے کی ہوتی ہے۔

آپ میں بہت سے لوگوں کو شاید اس کا علم نہ ہو مگر مجھے کاروبار کے دوران متعدد مرتبہ یہاں آنے کا موقع ملا۔ کئی دوروں پر میں اپنی اہلیہ سوسن کو بھی اپنے ساتھ لایا تھا۔ اس دوران ہمیں بنگلور، چنائی اور حیدرآباد جانے کا موقع ملا۔ یہ بہت سال پہلے کی بات ہے جب میں ایک چھوٹا سا کاروبار چلاتا  اور ہوائی جہازوں کے پرزے بناتا تھا۔ ہمارا واسطہ ایسے کاروبار، ایسے جوش و جذبے، ایسے زبردست لوگوں اور اس ملک کے روشن مستقبل سے وابستہ بے پایاں توقعات سے پڑا۔

یہاں ہم نے شاندار وقت گزارا۔ ہمارے میزبان بہت اچھے تھے۔ یہ ویسا ہی تجربہ تھا جیسا بہت سے امریکیوں کو کاروبار، سیروتفریح یا یوگا کے لیے یہاں آ کر ہوتا ہے۔ امریکی اور انڈین باآسانی آپس میں گھل مل جاتے ہیں۔

اس کے باوجود چند ہفتے پہلے واشنگٹن میں ایک تقریر کے دوران میں نے کہا تھا کہ دونوں ممالک کو یہ اندازہ کرنے میں دہائیاں  لگ گئیں کہ یہ دوستی کتنا آگے جا سکتی ہے اور ہم باہم مل کر کس قدر کام کر سکتے ہیں۔

مگر درحقیقت کسی نے دیکھ لیا تھا کہ اس دوستی میں کیا کچھ ممکن ہے۔ انڈیا کے ایک ممتاز مفکر کے سبرامنیم نے 1995 میں ایک مضمون میں حصہ ڈالا تھا اور اس کا آغاز ان سطور سے ہوتا ہے:

”یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ امریکہ انڈیا کے لیے اہم ہے۔ تاہم سبھی یہ بات نہیں جانتے کہ انڈیا امریکہ کے طویل مدتی مفادات کے لیے کس قدر اہم ہے۔”

آج میں آپ سبھی کو بتانا چاہتا ہوں کہ مجھے اس کا اندازہ ہے اور امریکہ بھی یہ بات جانتا ہے۔

کچھ ہی دیر پہلے مجھے ایک بہت زبردست موقع حاصل ہوا۔ میں نے وزیراعظم مودی، وزیر جے شنکر اور دیگر حکام سے ملاقاتیں کی ہیں۔ ہم نے محض دوطرفہ تعلقات پر ہی بات نہیں کی، اگرچہ ہم نے خاصا وقت اس اہم موضوع پر صرف کیا۔ ہم نے اس موضوع پر بھی بات کی ہے جسے میں امنگوں کا نیا دور کہوں گا۔ یہ ہمارے پُرفخر ممالک کے لے امنگوں کا نیا دور ہے۔

ہمیں ایک دوسرے کو محض محدود دوطرفہ تناظر میں نہیں دیکھنا چاہیے اور میں آج اسی  پر بات کرنا چاہتا ہوں۔

انڈیا اور امریکہ کو چاہیے کہ دنیا کو موجودہ صورت میں دیکھیں اور ایک دوسرے کو عظیم جمہوریتوں، عالمی طاقتوں اور اچھے دوستوں کے طور پر لیں ۔

ہمارے پاس ایک نئی طرز کا  باہمی تعاون پیدا کرنے کی اہلیت ہے جس سے ناصرف دونوں ممالک کو فائدہ پہنچے گا بلکہ اس سے خطے اور درحقیقت پوری دنیا کو فائدہ ہو گا۔

میں نے اس سہ پہر آپ کے رہنماؤں کو یہی بات کہی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ میں یہ تصور آپ لوگوں کے سامنے بھی پیش کر رہا ہوں۔

دیکھیے، ہم نے اچھی جگہ سے آغاز کیا ہے، بہت اچھی جگہ سے۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ امریکہ انڈیا دوستی کی بنیاد مستحکم ہے۔ قانون کی حکمرانی، انسانی وقار کا احترام اور سول سوسائٹی کی اہمیت، یہ ایسے آدرش ہیں جن کی بدولت لوگ پھلتے پھولتے ہیں۔ انڈیا کے عوام ان پر یقین رکھتے ہیں اور امریکیوں کا  بھی انہی آدرشوں پر یقین  ہے ۔

تاریخی اعتبار سے ہمارے مابین بہت سی چیزیں مشترک ہیں۔ دونوں ممالک نے آزادی کے حصول کی جدوجہد کی۔ دونوں نے ایسے آئین تحریر کیے جن کا آغاز ”ہم عوام” سے ہوتا ہے اور دونوں ناقابل انتقال انسانی حقوق کے محافظ ہیں۔

میرے علاقے کنساس سے تعلق رکھنے والی عظیم شخصیت اور سابق امریکی صدر آئزن ہاور نے 1959 میں اپنے دور صدارت میں انڈیا کا دورہ کیا تھا۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ ”دنیا کی پہلی سب سے بڑی جمہوریت انڈیا اور دوسری بڑی جمہوریت امریکہ میں 10 ہزار میل کا زمینی اور سمندری فاصلہ ہے۔ مگر بنیادی تصورات اور جمہوریت سے متعلق ایقان کو دیکھا جائے تو ہم نہایت قریبی ہمسایے ہیں اور ہمیں مزید قریب آنا ہے۔”

یقیناً مجھے صدر آئزن ہاور کی بات سے اتفاق ہے۔

دیکھیے، گزشتہ مہینے دنیا کی تاریخ میں سب سے بڑے جمہوری عمل میں آپ نے جمہوریت سے اپنی وابستگی کا بے پایاں اظہار کیا ہے۔ یہ خطے کے لیے ایک مثال تھی۔ تصور کیجیے  اگر ہر ملک کو اپنے سیاسی اظہار کا ویسا ہی موقع ملے جیسا انڈیا کو ملا تو کیا ہو۔

اس کے باوجود یہ پریشان کن غلط فہمی موجود ہے کہ دونوں ممالک مکمل شراکت دار بننے کے اہل نہیں ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ابتدائی دور کی بداعتمادی کا عنصر کسی حد تک تاحال موجود ہے۔

تاہم یہ بات درست نہیں ہے۔ ذرا دیکھیے کہ دونوں ممالک کیا کچھ کر چکے ہیں۔

آپ نے ایران اور وینزویلا سے تیل کی درآمدات ختم کرنے کے مشکل فیصلے کیے۔ ہمیں علم ہے کہ ان فیصلوں کی قیمت بھی چکانا پڑی۔

ہم آپ کو خام تیل کی خاطرخواہ ترسیل یقینی بنانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ ہم ان حکومتوں کو دیگر ممالک  جیسا طرزعمل اختیار کرنے اور وینزویلا کی حکومت کو اپنے لوگوں کا خیال رکھنے پر مجبور کرنے میں اپنی  مدد پر آپ کے شکرگزار ہیں۔

آپ نے شمالی کوریا پر دباؤ اور سفارت کاری کی عالمگیر مہم میں معاونت کی جس کا مقصد چیئرمین کم کو مذاکرات کی میز پر لانا اور بالاآخر جزیرہ نما کوریا کو جوہری اسلحے سے مکمل اور قابل تصدیق طور سے پاک کرنا تھا۔

آپ نے دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی دفاعی و سفارتی رہنماؤں کے مابین باقاعدہ ملاقاتوں کےمعاملے میں بھی امریکہ کا ساتھ دیا۔

حال ہی میں آپ کی بحریہ نے پہلی مرتبہ جاپان اور فلپائن کے ہمراہ جنوبی چینی سمندر میں مشترکہ جہازرانی میں حصہ لیا۔ اس طرح ہم نے عالمی پانیوں میں اپنی شراکت اور سمندری سفر کی آزادی کو بہتر بنایا۔

حال ہی میں انڈیا نے دہشت گرد گروہ حماس سے منسلکہ ایک غیرسرکاری  فلسطینی تنظیم کو اقوام متحدہ کے مشاہدہ کار کا درجہ دینے کے خلاف ووٹر ڈالا کیونکہ دہشت گرد گروہوں کو فائدہ پہنچانا غلط عمل  ہے۔ امریکہ اور انڈیا دونوں یہ بات جانتے ہیں۔

آپ نے افغانستان کی مدد کے لیے بھی 3 ارب ڈالر دیے جہاں ہم افغان عوام کے بہتر مستقبل کے لیے کام جاری رکھیں گے اور یہ امر یقینی بنائیں گے کہ یہ ملک دوبارہ کبھی دہشت گردی کا مرکز بننے نہ پائے۔

آپ نے یو ایس ایڈ کے ساتھ تعاون کیا  جو دفتر خارجہ میں ہمارا امدادی ادارہ ہے۔ آپ نے کینیا میں کسانوں کی تربیت سے لے کر افغانستان میں خواتین کو نوکریوں کی تلاش اور نیپال کو توانائی کی ضروریات کی تکمیل میں مدد دینے تک بہت سی معاشی ترقی میں ہمارا ہاتھ بٹایا۔

اسی ماہ کے اوائل میں آپ کے فوجی تربیت کاروں نے نئی دہلی میں افریقی امن کاروں کی تربیت کے لیے ہمارا ساتھ دیا تاکہ وہ اپنی بہتر طور سے حفاظت کر سکیں۔

عالمی سطح پر انڈیا کے کردار میں اضافہ ہو رہا ہے اور ہم آپ کی قطعیت کا خیرمقدم کرتے ہیں کیونکہ یہ دنیا کے لیے بہتر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم چار سال سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں آپ کی مستقل نشست کی حمایت کرتے چلے آ رہے ہیں۔ دنیا بھر میں عام بھلائی کےلیے مل کر کام کرتے ہوئے ہم نے یہ  دیکھا ہے کہ ہمارے لیے کیا کچھ کرنا ممکن ہے۔

میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ اب مختلف انداز میں اور بڑے تناظر میں سوچنے کا وقت آ گیا ہے۔ اب مزید پرعزم دور میں داخلے کا وقت ہے۔

آئیے انسداد دہشت گردی سے بات شروع کرتے ہیں۔ چند ہی ہفتے پہلے وزیراعظم مودی نے تمام ممالک سے کہا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے اکٹھے ہو جائیں۔ یہ پیغام صدر ٹرمپ کی بات سے ہم آہنگ ہے جو انہوں نے دو سال پہلے اپنے پہلے غیرملکی دورے کے دوران ریاض میں دنیا کے رہنماؤں سے کہی تھی۔ ہمیں خوشی ہے کہ اقوام متحدہ کی پابندیوں سے متعلق کمیٹی نے گزشتہ ماہ مسعود اظہر کو نامزد کیا ہے۔ قندھار سے سری لنکا اور آگے تک یہ جنگ جاری رہے گی۔ ہمیں بہرطور اکٹھے کام کرنا ہے۔ کیا ہم جنوب وسطی ایشیا کو مصائب کا شکار کرنے والی دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے باہم مزید تعاون کر سکتے ہیں؟

اس کے بعد آزاد اور کھلے خطہ ہندوالکاہل کے بارے میں ہماری مشترکہ سوچ ہے۔ یہ ایسا تصور ہے جسے ہم نے انفرادی طور پر سوچا تھا مگر آج ہم اس کے لیے مل کر جدوجہد کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک قومی خودمختاری کی برقراری، قانون کی حکمرانی، شفافیت، اچھی حکمرانی اور بنیادی آزادیوں کے خواہاں ہیں۔ ہم فرانس جیسے ممالک کے ہمراہ مغربی بحرہند میں آپ کے ساتھ مل کر چلنے کے منتظر ہیں۔ اس برس کے اواخر میں پہلی مرتبہ امریکی فوج اپنے انڈین ساتھیوں کے ہمراہ تین ملکی عسکری مشقوں میں حصہ لے گی۔ ہم آپ کی خودمختاری کا احترام کرتے ہیں اور ایک حقیقی شراکت کے خواہش مند ہیں۔ کیا ہم باہم مل کر، مشترکہ پلیٹ فارم، مشترکہ نظریات اور نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنے دفاعی تعلق کو مزید مضبوط بنا سکتے ہیں؟

آج عالمگیر سمندری تجارت کا 60 فیصد خطہ ہندوالکاہل سے گزرتا ہے۔ گزشتہ ہفتوں میں اسلامی جمہوریہ ایران نے جاپان، ناروے، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے تیل بردار جہازوں پر حملے کیے۔ جنوبی چینی سمندر پر چین اپنی بالادستی چاہتا ہے۔ کیا امریکہ اور انڈیا دنیا بھر میں سمندری راستوں کو محفوظ، آزاد اور کھلا بنانے کے لیے مزید جامع حکمت عملی وضع کر سکتے ہیں؟

معاشی محاذ پر آئیں تو جیسا کہ ہم اپنی حکومتوں سے ایک دوسرے کا شراکت دار بننے کی خواہش رکھتے ہیں اسی طرح ہم اپنے کاروباری اداروں کے لیے بھی یہی کچھ چاہتے ہیں۔ کیا ہم ایک دوسرے کی نجی صنعتوں کو ایسے ممالک سے ناطہ توڑنے میں مدد دے سکتے ہیں جہاں قانون کمزور ہے اور کیا ہم اپنے  کاروباری ترسیلی سلسلوں  میں جگہ پانے کے خواہش مند شراکت دار ممالک اور اپنے اختراع کاروں پر سرمایہ کاری کر سکتے ہیں؟

انڈیا میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا شعبہ ایک ڈیجیٹل معجزے سے بھی بڑھ کر ہے۔ یہ قومی تفاخر کا ذریعہ ہے۔ میں اس سے آگاہ ہوں۔ کیا ہم جاپان جیسے شراکت داروں کے ساتھ مل  کر انڈیا کے نیٹ ورکس اور مستقبل کے 5 جی نیٹ  ورکس کو محفوظ اور قابل اعتبار بنانے کے لیے کام کر سکتے ہیں؟ مجھے یقین ہے کہ ہم ایسا کر سکتے ہیں۔ کیا ہم کوئی ایسا معاہدہ کر سکتے ہیں جس سے ممالک کے مابین معلومات کا آزادانہ بہاؤ ممکن ہو سکے تاکہ انٹرنیٹ محدود نہ ہو، ہمارے کاروباری ادارے دوسروں کے ہم پلہ ہوں اور معاشی ترقی میں رکاوٹ پیدا نہ ہو؟ مجھے یقین ہے کہ ایسا ممکن ہے۔

دیکھیے، انڈیا کے پاس خطے میں توانائی کے تحفظ میں اپنا موثر کردار ادا کرنے کا موقع موجود ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایسا ہو۔ کیا ہم تمام انڈین عوام کے لیے صاف توانائی کی فراہمی کے لیے مل کر کام کر سکتے ہیں؟ کیا ہم آپ کے کاروباری اداروں کو ایسے شراکت داروں پر انحصار سے جان چھڑانے میں مدد دے سکتے ہیں جو ہمارے مشترکہ تزویراتی مفادات پر پورا نہیں اترتے؟

ہر مہینے دس لاکھ انڈین نوجوان روزگار کی منڈی میں آتے ہیں۔ کئی ٹریلین ڈالر کی ممکنہ امریکی سرمایہ کاری خطہ ہندوالکاہل میں کام کی راہ تک رہی ہے۔ خوشحالی لانے کی تیاری ہو چکی ہے۔ کیا انڈیا ایسی معاشی آزادی پا سکتا ہے جو سیاسی آزدی کی تکمیل کرتی ہو؟ میں جانتا ہوں کہ ہم باہم مل کر یہ سب کچھ کر سکتے ہیں۔

دونوں عظیم ممالک کے مابین تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کے بارے میں کیا خیال ہے؟ مجھے پورا یقین ہے کہ اس مسئلے کا حل ڈھونڈا جا سکتا ہے۔ اس سے صدر ٹرمپ کی منصفانہ اور دوطرفہ تجارت کی بات کو تائید و توقیر ملے گی اور انڈیا و امریکہ دونوں ممالک کے لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔

دونوں ممالک کے شہریوں کی بات ہو تو دنیا کے چار بڑے مذاہب میں سے دو کا ظہور انڈیا میں ہوا تھا۔ آئیے سبھی کی مذہبی آزادی کے دفاع میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں۔ آئیے ان حقوق کی حمایت میں مل کر زوردار آواز اٹھائیں کیونکہ جب بھی ہم نے ان حقوق پر سمجھوتہ کیا تو دنیا کی حالت ابتر ہو گئی۔

آئیے عوامی سطح پر تعلقات کو مضبوط بنائیں۔ 1960 سے اب تک پانچ لاکھ سے زیادہ انڈین طلبہ نے امریکہ میں تعلیم پائی ہے اور ان کے حاصل کردہ علم سے ناصرف انڈیا بلکہ پوری دنیا کو فائدہ پہنچا۔ انڈین آئین کے خالق، آپ کے بعض کامیاب ترین کاروباری رہنما اور 2009 میں کیمیا میں نوبیل انعام جیتنے والی شخصیت نے امریکہ سے ڈگریاں حاصل کی تھیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ آج کے نوجوان انڈین بھی اسی طرح ترقی پائیں جس طرح ان لوگوں نے پائی تھی۔

دیکھیے، میں دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو ترقی دینے کے لیے اپنا کردار ادا کروں گا۔ میں وزیر جے شنکر کے ساتھ باقاعدہ بات چیت اور آج ہونے والی گفت و شنید کو آگے بڑھانے کے لیے ذاتی طور پر پُرعزم ہوں۔ میرا وعدہ ہے کہ ہم اس پر کڑی محنت جاری رکھیں گے۔

میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ہم اکٹھے آگے بڑھ سکتے ہیں اور ہم نے پہلے ہی بہت بڑی پیش رفت کی ہے۔ ہم نے اہم پیش رفت کی ہے۔ مگر مجھے یہ کہنا ہے کہ آپ کے انتخابات کے بعد اب دونوں ممالک کو نتائج دینا ہیں۔

اکثر میں ایک ایسے شخص سے مشورے لیتا ہوں جسے آپ نہیں جانتے۔ اس کا نام چارلس وجندرا گھورا ہے۔ میں اسے چک کہہ کر پکارتا ہوں۔ چک کئی دہائیوں سے میرا دوست ہے۔ ہم نے قریباً 25 برس تک اکٹھے کام کیا ہے۔ تب سے ہم قریبی دوست ہیں۔

اس کے پاس تین ڈگریاں ہیں۔ وہ انتہائی کامیاب کاروباری ہے اور اس کے والدین اب بھی اس پر خفا ہوتے ہیں کہ وہ ڈاکٹر کیوں نہ بنا۔ چک آپ کی قوم کی عظمت کا نمائندہ ہے۔ میں یہ دیکھ چکا ہوں۔

چک میرا بہت اچھا دوست ہے۔ وہ سوسن اور میرا اچھا دوست ہے۔ اس نے مجھے انڈیا کو اس انداز میں سمجھنے میں مدد دی کہ شاید اس کے بغیر مجھے یہ موقع نہ مل پاتا۔ میں نے بھی ہمیشہ اس کے ساتھ اچھا پیش آنے کی کوشش کی ہے۔ مجھے 2016 میں ایک احسان کا بدلہ چکانے کا موقع ملا۔ اس وقت میں کانگریس کا رکن تھا جب وزیراعظم مودی واشنگٹن ڈی سی آئے اور کیپیٹل ہل میں ہماری کانگریس سے خطاب کیا۔ دنیا میں چند ہی لوگوں کو یہ موقع ملا ہے۔ میں جانتا تھا کہ چک کے لیے وہاں موجودگی کس قدر اہم ہے اس لیے میں نے اپنا ٹکٹ اسے دے دیا۔ یہ بہت حیران کن تھا۔ وہ اس عظیم رہنما کی موجودگی میں وہاں جانا چاہتا تھا جس کے بارے میں اسے علم تھا کہ وہ انڈیا اور امریکہ دونوں ممالک کے لوگوں کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔  

میں آپ سبھی کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ مجھے چک کی بات سے اتفاق ہے کہ ہم یہ کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ اس وقت ہمارے پاس اس منزل سے بھی آگے جانے کا بہت اچھا موقع ہے جس کا بہت سے لوگوں نے خواب دیکھا تھا۔

اس وقت صدر ٹرمپ اور وزیراعظم مودی کی صورت میں ہمارے پاس دو ایسے رہنما موجود ہیں جنہیں بڑے راستوں پر چلنے میں کوئی باک نہیں اور جو مناسب صورتحال میں خطرات مول لینے سے نہیں گھبراتے۔

اس وقت ہم اپنے لوگوں، خطے اور پوری دنیا کے لیے غیرمعمولی کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔

آئیے ایک دوسرے کو نئے انداز میں دیکھیں اور امنگوں کے دور سے ہم آغوش ہو جائیں۔

خدا آپ پر اور امریکہ پر اپنی رحمت کرے۔

میرے ساتھ موجودگی پر آپ سبھی کا شکریہ۔ (تالیاں)


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں