rss

تشدد کے متاثرین کی حمایت کا عالمی دن

Русский Русский, English English, العربية العربية, Français Français, Português Português, Español Español, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
ترجمان دفتر خارجہ مورگن اورٹیگس کا بیان
26 جون 2019

 

آج تشدد کے متاثرین کی حمایت میں عالمی دن منایا جا رہا ہے جو تشدد اور دیگر ظالمانہ، غیرانسانی یا ذلت آمیز سلوک یا سزا کے خلاف کنونشن کی منظوری کی 32ویں سالگرہ ہے۔ اس کنونشن کے محکم حامی صدر ریگن نے 1988 میں امریکہ کی جانب سے کنونشن پر دستخط کیے جانے کے موقع پر کہا تھا کہ ”امریکہ کی طرف سے اس کنونشن کی منظوری اس امر کا واضح اظہار ہو گا کہ امریکہ تشدد کے خلاف ہے۔ یہ ایک نفرت انگیز عمل ہے جو بدقسمتی سے دنیا میں آج بھی رائج ہے۔”

اگرچہ گزشتہ تین دہائیوں میں حالات پہلے سے بہت بہتر ہو گئے ہیں مگر بدقسمتی سے صدر ریگن کا اندازہ بدستور درست ہے۔ دنیا کے بہت سے حصوں میں لوگوں کو سزا دینے اور مشتبہ اعترافات جرم پر مجبور کرنے کے لیے آج بھی تشدد سے کام لیا جاتا ہے۔

تشدد غیرقانونی عمل ہی نہیں بلکہ یہ اخلاقی اعتبار سے بھی غلط ہے۔

عالمی قانون میں تشدد کی ممانعت ہے اور یہ انسان ہونے کے ناطے ہماری اقدار سے مطابقت نہیں رکھتا۔ جان ایڈمز کی ”انسانیت کی حکمت عملی” کے بعد جنرل واشنگٹن اور ان کی ”فوجِ آزادی” نے برطانوی جنگی قیدیوں پر تشدد سے انکار کر دیا تھا حتیٰ کہ ان لوگوں پر بھی تشدد نہ کیا گیا جنہوں نے ان کے اپنے لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ وزیر خارجہ کی حیثیت سے مائیک پومپئو نے حال ہی میں کہا تھا کہ ”امریکہ بالکل واضح ہے، ہم کبھی تشدد نہیں کرتے۔”

امریکہ ہر طرح کے حالات میں تشدد کے استعمال کی مذمت کرتا اور اسے عالمی قانون اور انسانی جان کے لیے خدا کے عطا کردہ وقار کی پامالی گردانتا ہے۔ ہم انصاف کے حصول اور اس مکروہ فعل کے خاتمے کے لیے تشدد کے متاثرین کے ساتھ ہیں۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں