rss

وزیر خارجہ مائیکل آر پومپئو اور انڈین وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر کی صحافیوں سے گفتگو

हिन्दी हिन्दी, English English

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
26 جون 2019
نئی دہلی، انڈیا

 

وزیر پومپئو: شکریہ۔ سبھی کو سہ پہر بخیر۔ یہاں آنا بے حد خوشی کی بات ہے۔ وزیراعظم مودی کی غیرمعمولی انتخابی فتح سے فوری بعد یہاں آمد  میرے لیے خوشی کا موقع ہے۔ میں نے خود چند انتخابی مہمات میں حصہ لیا ہے، یہ غیرمعمولی طور پر متاثرکن فتح ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ انہیں جو مینڈیٹ ملا وہ بے حد اہم ہے۔

وزیر جے شنکر، مجھے آپ کے ساتھ موجودگی پر خوشی ہے۔ آج ہمیں یہاں اس قدر وقت بتانے کا بہت اچھا موقع ملا۔ میں جانتا ہوں کہ ہمیں باقاعدگی اور تواتر سے ایسے مواقع ملیں گے اور میں شدت سے ان کا منتظر ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ ہمیں دنیا کی دو عظیم جمہوریتوں کے مابین ایک مضبوط بنیاد پر آگے بڑھنے سے فائدہ ہوا ہے۔ ہم نے یہ انتخابات میں دیکھا  ہے ، ہم نے اس غیرمعمولی جمہوری قوت کی صورت میں اس کا مشاہدہ کیا ہے  جس نے حیران کن نتائج دیے ہیں۔

حالیہ دہائیوں میں ہم نے باہمی تعلقات میں حقیقی کامیابیاں حاصل کی ہیں مگر ہم مل کر مزید بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ ہمیں دونوں عظیم ممالک کے مابین ان تمام بڑے تزویراتی مواقع پر بات کرنے کا موقع ملا۔ اس تناظر میں ہم ایک دوسرے کو محض دوطرفہ شراکت دار کے بجائے اس سے کہیں بڑی حیثیت میں دیکھ سکتے ہیں۔ ہم ایسے دوست ہیں جو دنیا بھر میں ایک دوسرے کی مدد کر سکتے ہیں۔

وزیراعظم مودی کے ساتھ ملاقات میں مجھے صدر ٹرمپ کی جانب سے نیک خواہشات کا پیغام پہنچانے کے علاوہ ان تاریخی مواقع پر تبادلہ خیال کا موقع بھی ملا۔ کچھ دیر بعد آج سہ پہر میں انڈیا انٹرنیشنل سنٹر میں اپنی تقریر میں اپنے امکانات کا تذکرہ کروں گا۔ درحقیقت میں کہہ سکتا ہوں کہ امریکہ انڈیا شراکت پہلے ہی نئی بلندیوں کا سفر شروع کر چکی ہے۔ ہم نے اپنے دفاعی تعاون کو آگے بڑھایا ہے، ہم نے آزاد اور کھلے خطہ ہندوالکاہل کے لیے اپنے مشترکہ تصور کو مستحکم کیا ہے اور ہم نے توانائی، خلا اور دیگر شعبہ  جات میں باہمی تعاون کو ترقی دی ہے۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ جب قائم مقام وزیر دفاع ایسپر اور میں اس برس کے اواخر میں وزیر خارجہ اور وزیر سنگھ کا  دوسرے 2+2 ڈائیلاگ کے لیے خیرمقدم کریں  گے تو ہمارے پاس ان رشتوں کو وسعت دینے کا ایک اور موقع ہو گا۔ اس وقت میں 2+2 سٹریٹیجک ڈائیلاگ کا مکمل حصہ ہوں گا۔

امریکہ یہ امر یقینی بنانے کا عہد کرتا ہے کہ انڈیا کے پاس اپنی زمینی سالمیت کے دفاع اور 21ویں صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ عسکری صلاحیتیں ہوں۔ بہت سے عسکری معاہدے مکمل کرتے ہوئے ہم پہلے ہی اس ہدف کے حصول پر متفق ہو چکے ہیں اور امریکہ صدر ٹرمپ کی جانب سے انڈیا کو اپنے دیگر قریبی شراکت داروں کی طرح ایک سا دفاعی سازوسامان اور ٹیکنالوجی فراہم کرنے کا وعدہ پورا کرنے کے لیے بہت سی کوششیں کر رہا ہے۔

دہشت گردی کے حوالے سے انڈیا کا اپنا تجربہ نہایت حقیقی نوعیت کا ہے اور ہم یہ بات جانتے ہیں۔ گزشتہ ایسٹر کے موقع پر سری لنکا میں ہونے والے بم دھماکوں سے ثابت ہوا ہے کہ دہشت گردی اس خطے میں مضبوط قدم گاڑے ہوئے ہے اور انڈیا کے پاس اس کا مقابلہ کرنے کی پوری اہلیت ہونی چاہیے۔ اس ضمن میں اطلاعات اور معلومات کا تبادلہ بہتر بنانے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انڈیا کی صلاحیتوں میں بہتری لانے کے لیے ہماری ٹیمیں مل کر کام کرتی رہیں گی۔

جیسا کہ وزیر خارجہ نے بتایا ہے، میں کچھ ہی دیر پہلے کابل سے آیا ہوں۔ امریکہ کے افغان مذاکرات کی بنیاد اس عزم پر ہے کہ دہشت گرد دوبارہ کبھی افغانستان کو اپنے برے مقاصد کے لیے استعمال نہ کر سکیں۔ ہم اس مقصد میں کامیابی کے لیے انڈیا کے مشورے اور مدد کے بے حد مشکور ہیں۔ عظیم دوستوں میں اختلافات بھی ہوتے ہیں۔ امریکہ واضح طور پر کہتا چلا آیا ہے کہ ہم اپنے معاشی تعلقات میں منڈی تک کھلی رسائی اور تجارتی رکاوٹوں کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ آج میں نے دوستی کے جذبے کے تحت ان اختلافات پر بات کی اور میں سمجھتا ہوں کہ ہم دونوں اپنے ممالک کے لیے اچھے نتائج حاصل کرنے میں کامیاب رہیں گے۔ ہم ہر طرح کے معاشی تنازعات حل کرنے کے لیے کام کرتے رہیں گے۔ ان میں وہی تنازعات ہی شامل نہیں جن پر ہم نے ابھی بات کی ہے بلکہ ہم ایسے اختلافات کا حل بھی ڈھونڈیں گے جو کسی بھی اہم تجارتی تعلق میں بہرطور سامنے آتے ہیں۔

دیکھیے، ہمیں اس معاملے کو حل کرنا ہے، ہمیں معاشی شعبے میں باہمی تنازعے کا حل نکالنا ہے کیونکہ خطہ ہندوالکاہل میں ہمارے سامنے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ دنیا کے اس حصے میں ”بیلٹ اینڈ روڈ” منصوبوں پر دستخط کرنے والے ممالک کو بیجنگ کے ساتھ معاہدوں میں بیڑیاں ملی ہیں۔ خطے کے ممالک اپنی خودمختاری ترک کیے بغیر اپنے عوام کو بنیادی ڈھانچہ، ڈیجیٹل ربط اور توانائی (ناقابل سماعت) فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں ناصرف اپنے عوام بلکہ خطے اور دنیا کی بہتری کی غرض سے بھی خوشحالی کے اس تصور کی تکمیل کے لیے فوری کام کرنا چاہیے جسے صدر ٹرمپ اور وزیراعظم مودی دونوں نے پیش کیا ہے۔

دیکھیے: جب دنیا کی دو سب سے بڑی جمہوریتوں میں 1.7 ارب لوگ ایک دوسرے کے قریب آئیں گے تو ہم بہت بڑے کام کر سکتے ہیں۔ میں ان امور پر عملی اقدامات کے لیے آپ کے ساتھ کام کا منتظر ہوں۔ شکریہ۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں