rss

بلوچستان لبریشن آرمی و حسین علی حزیمہ کی بطور دہشت گرد نامزدگیاں اور جنداللہ کی نامزدگیوں میں ترامیم

العربية العربية, English English

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
2 جولائی 2019
بلوچستان لبریشن آرمی و حسین علی حزیمہ کی بطور دہشت گرد نامزدگیاں اور جنداللہ کی نامزدگیوں میں ترامیم
دفتر خارجہ کا بیان

 

دفتر خارجہ نے بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور حزب اللہ کے آلہ کار حسین علی حزیمہ کو انتظامی حکم (ای او) 13224 کے تحت خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشت گرد قرار دے دیا ہے۔ علاوہ ازیں دفتر خارجہ نے جنداللہ کی بطور دہشت گرد نامزدگیوں میں ترمیم کرتے ہوئے گروہ کے نئے بنیادی نام جیش العدل اور وابستہ دیگر ناموں کو بھی اس کے ساتھ شامل کر لیا ہے۔ یہ نام اس گروہ کی ترک وطن اور قومیت کے قانون (آئی این اے) کے سیکشن 219 کے تحت غیرملکی دہشت گرد تنظیم (ایف ٹی او) اور انتظامی حکم 13224 کے تحت خصوصی طور پر نامزد کردہ عالمی دہشت گرد نامزدگی میں شامل کر لیے گئے ہیں۔ دفتر خارجہ نے جنداللہ کی بطور غیرملکی دہشت گرد تنظیم نامزدگی کا ازسرنو جائزہ لیتے ہوئے اس کا یہ درجہ برقرار رکھا ہے۔ آج اٹھائے گئے ان اقدامات کا مقصد حزب اللہ، بی ایل اے اور جیش العدل کو دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی اور ارتکاب کے لیے درکار وسائل تک رسائی سے روکنا ہے۔ امریکی دائرہ اختیار میں ان کی تمام جائیداد اور جائیداد میں مفادات منجمد کر دیے گئے ہیں اور امریکی شہریوں کو ان کے ساتھ کسی بھی طرح کے لین دین سے عمومی طور پر روک دیا گیا ہے۔

  • حسین علی حزیمہ حزب اللہ کے یونٹ 200 کا سربراہ ہے۔ حزب اللہ کو 1997 میں غیرملکی دہشت گرد تنظیم اور 2001 میں خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشت گرد قرار دیا گیا تھا۔ یونٹ 200 حزب اللہ کا انٹیلی جنس سے متعلق شعبہ ہے اور یہ حزب اللہ کے عسکری یونٹوں کی حاصل کردہ معلومات کے تجزیے و تخمینے کا ذمہ دار ہے۔
  • بی ایل اے ایک مسلح علیحدگی  پسند گروہ ہے جو زیادہ تر پاکستان کے بلوچ نسلی علاقوں میں سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کو نشانہ بناتا ہے۔ بی ایل اے نے ماضی  میں متعدد دہشت گرد حملے کیے ہیں جن میں اگست 2018 میں بلوچستان میں چینی انجینئروں پر خودکش حملہ، نومبر 2018 میں کراچی کے چینی قونصل خانے پر حملہ  اور مئی 2019 میں بلوچستان کے علاقے گوادر کے لگژری ہوٹل میں کیا جانے والا حملہ  بھی شامل ہے۔
  • جند اللہ کو 2010 میں غیرملکی دہشت گرد تنظیم اور خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشت گرد قرار دیا گیا تھا۔ اس نے 2012 میں جیش العدل اور دیگر نام استعمال کرنا شروع کیے تھے۔ آغاز سے ہی یہ گروہ متعدد حملوں میں ملوث رہا ہے جن میں بہت سے ایرانی شہری اور حکومتی عہدیدار ہلاک ہوئے۔ ان میں فروری 2019 میں خودکش دھماکے اور 2018 میں ایرانی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کا اغوا بھی شامل ہے۔

آج اٹھائے گئے ان اقدامات کے ذریعے  امریکی عوام اور عالمی برادری کو مطلع کیا جاتا ہے کہ حزیمہ اور بی ایل اے نے دہشت گردی کی کارروائیوں کا ارتکاب کیا ہے یا ان کی جانب سے ایسا کیے جانے کا نمایاں خطرہ موجود ہے ۔  جنداللہ نے جیش العدل کا نیا نام اختیار کر کے دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں جن سے امریکہ کی قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔ بطور دہشت گرد نامزدگیوں سے ایسی تنظیموں اور افراد کو سامنے لانے اور انہیں تنہا کرنے نیز امریکی مالیاتی نظام تک ان کی رسائی روکنے میں مدد ملتی ہے۔ مزید براں ایسی  نامزدگیوں سے امریکی اداروں اور دیگر حکومتوں کو نفاذ قانون میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

امریکی دفتر خارجہ کے نامزد کردہ افراد اور اداروں کی فہرست یہاں دستیاب ہے: https://www.state.gov/terrorist-designations-and-state-sponsors-of-terrorism/


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں