rss

نائب وزیر خارجہ جان جے سلوین کا ‘انڈیا امریکہ فورم’ سے خطاب

English English, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
نئی دہلی، انڈیا
16 اگست 2019

نائب وزیر سلوین: سفیر سرنا، اس قدر عمدگی سے تعارف کرانے پر آپ کا شکریہ۔ اس فورم کے انعقاد پر میں انانتا سنٹر اور وزارت خارجہ امور کا مشکور ہوں۔

حاضرین میں بہت سے جانے پہچانے چہرے دیکھنا میرے لیے خوشی کا باعث ہے۔ جیسا کہ اس فورم میں موجود سبھی لوگ جانتے ہیں، ہم خطہ ہند بحرالکاہل میں ایک اہم دور سے گزر رہے ہیں۔ خطے میں معاشی ترقی اور تحرک کا سبب بننے والے بہت سے بنیادی قواعد اور اصول خطرات سے دوچار ہیں جن میں  افزوں ہوتی کھلی تجارت اور سرمایہ کاری کے ساتھ قوانین کی بنیاد پر چلنے والی آزاد منڈیاں شامل ہیں۔

ان مسائل سے نمٹنے کے لیے امریکہ اور بھارت کو دیگر ہم خیال ممالک کے تعاون سے خطہ ہند بحرالکاہل میں معاشی خوشحالی کے لیے لازم بنیادی اصولوں کو تقویت اور فروغ دینے کے لیے اپنی کوششیں دوچند کرنا ہوں گی۔ یہ معاشی اصول مزید بنیادی نوعیت کی اقدار سے جڑے ہیں جو بھارت اور امریکہ دونوں کو عزیز ہیں۔ ان میں جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور مذہب و اظہار کی آزادی سے ہماری وابستگی شامل ہیں۔ امریکہ اور بھارت نے اپنی آزمودہ اقدار کو زندہ رکھا ہے اور مستقبل میں بھی یہ قائم رہیں گی، تاہم ہمارے جمہوری ضابطے اور بنیادی انسانی حقوق کا احترام ہمیں آنے والے برسوں میں اپنے باہمی تعلقات کے حوالے سے رہنمائی فراہم کرتے رہیں گے۔  

درحقیقت گزشتہ 15 برس میں ہمارے باہمی تعلقات میں غیرمعمولی پیش رفت ہوئی ہے۔ میں ایسے شخص کی حیثیت سے اپنا مشاہدہ پیش کر رہا ہوں جس نے صدر بش کے پہلے دور میں محکمہ دفاع میں وزیر رمزفیلڈ کے لیے نائب جنرل مشیر کے عہدے پر کام کیا۔ بعدازاں صدر بش کی دوسری مدت صدارت میں محکمہ تجارت میں خدمات انجام دیں اور نائب وزیر تجارت کے عہدے تک پہنچا۔

آٹھ سال بعد حکومت میں دوبارہ واپسی کے بعد مجھ پر یہ واضح ہو چکا ہے کہ امریکہ اور بھارت کے باہمی تعلقات کس قدر اہمیت کے حامل ہیں۔ گزشتہ 15 برس کے دوران ان تعلقات میں مضبوطی آنے کی بڑی وجہ یہی مشترکہ اصول و اقدار تھیں جن کا میں نے تذکرہ کیا ہے۔

میں اپنے تجربے کی بنیاد پر یہ بھی کہہ سکتا ہوں کہ جہاں ہمارے جیسے اصول اور اقدار موجود نہیں ہیں وہاں جبر، بدعنوانی اور دھونس کی موجودگی کم و بیش ناگزیر ہے۔ جنوبی بحر الکاہل سے بحر ہند تک چین کا ترقیاتی نمونہ پورے خطے میں امن اور خوشحالی کو فروغ دینے والے تعاون پر مبنی طرز عمل کے لیے نقصان کا باعث رہا ہے۔ دوطرفہ فوائد کے دعووں کے باوجود، چینی پالیسیوں اور اقدامات کا مقصد خطہ ہند بحرالکاہل کو نئی شکل دیکر اپنے مفادات کی تکمیل کرنا ہے۔

میرے نظریہ سے اس خطے کے ممالک ایسے مسائل سے بڑی حد تک آگاہ ہیں۔ موجودہ انتظامیہ کی قیادت میں امریکہ ایسی استحصالی تجارت روکنے کے لیے اقدامات اٹھا رہا ہے جو طویل عرصہ سے امریکی کمپنیوں کے لیے نقصان کا باعث رہی ہے ۔

جیسا کہ وزیر پومپئو نے اس ماہ کے اوائل میں آسٹریلیا کے دورے میں کہا تھا ”ہم چین کی متسلسل ترقی کا خیرمقدم کرتے ہیں مگر یہ درست انداز میں ہونی چاہیے۔ اسے شفاف ہونا چاہیے۔ یہ ترقی منصفانہ ہو اور اسے دوطرفہ ہونا چاہیے”۔

یاد رہے کہ میرے نائب وزیر تجارت کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کے بعد اب تک چین کے حوالے سے ہماری سوچ تبدیل ہو چکی ہے۔ اب ہماری آنکھیں کھلی ہیں اور صورتحال تبدیل ہو رہی ہے۔

یہ بات بھی درست ہے کہ ہم چین کی بڑھتی ہوئی حیثیت کو روکنے یا ممالک پر امریکہ اور چین میں کسی ایک  کا انتخاب کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کے خواہاں نہیں ہیں۔ اس کے بجائے ہم یہ چاہتے ہیں کہ چین قوانین پر مبنی نظام میں شفاف طریقے سے چلے۔ یہی وہ نظام ہے جس نے بہت سی دہائیوں میں بہت سے ممالک کو بھرپور خوشحالی سے ہمکنار کیا ہے۔

مگر ہمیں احساس ہے کہ ہم اکیلے یہ کام نہیں کر سکتے۔ ہمیں اپنے ہم خیال شراکت دار درکار ہیں۔ لہٰذا اس بات کے تعین میں امریکہ بھارت شراکت کی بنیادی روح ایک اہم عنصر ہے کہ آیا چین اپنے مقاصد کے مطابق ایشیا کی تشکیل نو میں کامیاب ہو پاتا ہے یا نہیں۔ امریکہ اور بھارت دونوں کے رہنماؤں کو اس کا اندازہ ہے۔ اسی لیے میں آج یہاں موجود ہوں۔ اسی لیے وزیر پومپئو نے نئی دہلی کے دورے سے کچھ ہی عرصہ بعد رواں ماہ کے اوائل میں بنکاک میں وزیر برائے خارجہ امور جے شنکر سے ملاقات کی تھی۔

جیسا کہ وزیر پومپئو نے ”انڈین آئیڈیاز سمٹ” کے موقع پر اپنی تقریر میں کہا تھا، امریکہ اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ دونوں ممالک کے پاس مل کر آگے بڑھنے کا نادر موقع موجود ہے۔ اس سے دونوں ممالک کے عوام، خطہ ہند بحرالکاہل اور پوری دنیا کو فائدہ پہنچے گا۔

دونوں ممالک 2+2 ڈائیلاگ کو آگے بڑھاتے ہوئے، دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے اکٹھے کام کر کے اور بحیرہ جنوبی چین میں جہازرانی کی آزادی قائم رکھ کر اس موقع سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ہم نا صرف دفاعی امور پر ایک دوسرے سے قریبی تعاون کر رہے ہیں بلکہ صحت عامہ، خلائی کھوج، سائنس و ٹیکنالوجی اور قیام امن کے شعبہ جات میں بھی مل کر چل رہے ہیں۔

ہماری کوششوں کے نتائج دوطرفہ فائدے سے کہیں بڑھ کر ہوں گے۔ ہماری سوچ اور کڑی محنت سے خطے بھر میں ہمارے ہم خیال ممالک کو بھی فائدہ پہنچے گا۔

گزشتہ برس امریکہ بھارت دوطرفہ تجارت کا حجم 142 ارب ڈالر رہا جو کہ ایک نیا ریکارڈ ہے۔ تاہم ہماری معاشی شراکت اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے اور تجارتی امور پر بات چیت کرتے ہوئے ہم نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی منڈی تک رسائی کے ضمن میں رکاوٹیں دور کرے جو بھارت سے باہر تجارتی کمپنیوں پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہیں۔ ایسی رکاوٹیں دور ہونی چاہئیں جو عالمگیر تجارتی ترسیلی سلسلوں سے بھارت کے انضمام کی راہ میں حائل ہیں۔ مجھے علم ہے کہ (ناقابل سماعت) جس میں انہوں نے بھارت سے برآمدات میں اضافے پر زور دیا۔

امریکہ کی ایک اہم خارجہ پالیسی یہ ہے کہ خطے بھر میں نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کے لیے حالات سازگار بنائے جائیں۔ یہ طویل مدتی، مستحکم اور جامع ترقی کی واحد ثابت شدہ راہ ہے۔

اس مقصد کے لیے ہم نے نئی امریکی ترقیاتی مالیاتی کارپوریشن (ڈی ایف سی) قائم کی ہے جس کا مقصد بیرون ملک کام کرنے والی تجارتی کمپنیوں کی معاونت کرنا ہے۔ یہ ہماری معاشی سفارت کاری کا ایک اہم حصہ ہے اور میں ‘ڈی ایف سی’ کے بورڈ کے اجلاس کے لیے وزیر کے ساتھ کام کرنے کا منتظر ہوں۔

یکم اکتوبر کو اپنے آغاز کے بعد ‘ڈی ایف سی’ سرمایے کی ترتیب میں بہتری لانے، سودوں کی نشاندہی اور ایسی منڈیوں میں نقصان کے خطرات کم کرنے میں مدد دے گی جن تک بعض اوقات رسائی آسان نہیں ہوتی۔

‘ڈی ایف سی’ کے آغاز کے ساتھ ہمیں امید ہے کہ دنیا بھر کے ممالک میں موجود امریکی شہریوں کو قومی خوشحالی کے فروغ میں مدد دینے والے شفاف تجارتی منصوبہ جات اور قومی خودمختاری کو کھوکھلا کرنے، اخلاقیات اور اچھی حکمرانی کو چاٹ جانے اور اپنے معاشروں اور شہریوں کو بیرونی کرداروں کا مقروض کرنے والے منصوبوں میں فرق پہچاننے میں مدد ملے گی۔

ہماری سمندر پار نجی سرمایہ کاری سے متعلق کارپوریشن (او پی آئی سی) ایک ماہ سے کچھ زیادہ عرصہ میں دیگر اداروں کے ساتھ ‘ڈی ایف سی’ کا حصہ بن جائے گی۔ ‘او پی آئی سی’ نے خطہ ہند بحرالکاہل میں ایسے منصوبہ جات میں سرمایہ کاری کی ہے جو توانائی، تعلیم و مالیاتی خدمات تک رسائی  میں اضافے اور مقامی کسانوں اور زراعت کی مدد میں معاون ہیں۔

‘او پی آئی سی’ نے اس وقت بھارت بھر میں 50 سے زیادہ منصوبوں میں 1.5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ اس میں چھوٹے اور درمیانے درجے کی تجارتی کمپنیوں کے لیے سرمایے تک رسائی میں معاونت، صاف پانی تک رسائی کو وسعت دینے اور کاروباری خواتین کی مدد جیسے منصوبہ جات شامل ہیں جو کہ موجودہ امریکی انتظامیہ کی ترجیح ہے۔

‘او پی آئی سی’ کو اپنے ساتھ شامل کرنے والی نئی ‘ڈی ایف سی’ ترقیاتی مالیات کے لیے دستیاب سرمایہ کو دگنا کر دے گی اور نئی مالیاتی مصنوعات متعارف کرائے گی۔ دوسرے ممالک نجی شعبے کی ترقی میں سہولت دینے کے لیے کاروباری ماحول بہتر بنا کر ‘ڈی ایف سی’ سے ممکنہ طور پر حاصل ہونے والے فوائد میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

خطے بھر میں اہم منصوبہ جات میں سرمایہ کاری کے علاوہ ہم ایسی حکومتوں کے لیے اپنی تکنیکی معاونت میں بھی اضافہ کر رہے ہیں جو اپنے کاروباری ماحول کو بہتر بنانے اور غیرملکی کمپنیوں کو متوجہ کرنے کے لیے اصلاحات لانے پر تیار ہیں۔

ہم کاروباری سودوں کے حوالے سے ایک مشاورتی فنڈ بھی قائم کر رہے ہیں۔ یہ فنڈ دوسرے ممالک کو تجارتی معاہدوں پر بات چیت اور انفراسٹرکچر سے متعلق مخصوص منصوبہ جات کے لیے بولیوں یا تجاویز کا تخمینہ لگانے میں معاونت دے گا۔

ہم اس بات سے بھی آگاہ ہیں کہ بھارت طویل عرصہ سے خطے کی حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کرتا چلا آیا ہے۔ اس میں بھارت کے تکنیکی و معاشی تعاون سے متعلق پروگرام کے ذریعے اٹھائے گئے اقدامات بھی شامل ہیں اور ہم ان کوششوں کو مربوط بنانے کے مزید مواقع کا خیرمقدم کریں گے۔

ہمارا باہمی تعلق کثیر طرفی بھی ہے۔ نومبر 2017 سے اب تک ہم نے چار مرتبہ بھارت، جاپان اور آسٹریلیا کے ساتھ مل کر چہار طرفی مشاورتیں کی ہیں۔ غیررسمی طور پر ہم انہیں ‘چار رخی’ بھی کہتے ہیں۔ یہ چاروں ممالک سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ حکام کے لیے ایک آزاد اور کھلے خطہ ہند بحر الکاہل  سے متعلق ہمارے مشترکہ اور تکمیلی تصور پر بات کرنے اور باہمی تعاون کے مواقع کھوجنے کا اہم طریق کار ہے۔ درحقیقت گزشتہ ماہ ہی میں نے واشنگٹن میں چاروں ممالک کے سفیروں کا ایک غیررسمی اجلاس بلایا تھا جس میں اس موضوع پر بات چیت ہوئی کہ ہم اپنے حالیہ اشتراک کو مزید بہتر کیسے بنا سکتے ہیں۔

صدر ٹرمپ اور وزیراعظم مودی نے جون میں اوساکا میں جاپانی وزیراعظم ایبے سے ملاقات کی تھی جس میں یہ بات ہوئی کہ تینوں ممالک علاقائی امور پر مزید قریبی اشتراک کیسے پیدا کر سکتے ہیں۔

میں بخوبی آگاہ ہوں کہ بھارت کو اس علاقے اور آزاد و کھلے خطہ ہند بحرالکاہل میں بہت سے امکانات دکھائی دیتے ہیں۔ ہم اس کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

گزشتہ دسمبر میں بھارت کی جانب سے نظرثانی شدہ رہنما اصولوں سے سرحد پار برقی تجارت میں سہولت ملے گی۔ نئے قوانین کی بدولت نیپال، بنگلہ دیش اور بھوٹان بھارت کی ٹرانسمیشن لائنوں کے ذریعے بجلی کی تجارت کر سکیں گے۔ بھارت اور نیپال ایک نئی ٹرانسمیشن لائن قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں جس کے ذریعے توانائی کے ربط و تحفظ میں بہتری آئے گی اور نیپال کو صاف توانائی کی برآمدات میں سہولت ملے گی۔

درحقیقت نیپال کو اس کام میں ایک حد تک امریکی میلنیم چیلنج کمپیکٹ کی جانب سے مالی معاونت بھی حاصل رہی ہے۔ کئی سال پہلے واشنگٹن میں امریکہ کی جانب سے مجھے اس کام کے معاہدے پر دستخط کا اعزاز حاصل ہوا تھا۔

 خطہ ہند  بحرالکاہل کو قوانین پر مبنی نظام کے فروغ سے فوائد حاصل ہوتے رہیں گے جو نجی شعبے کے زیرقیادت معاشی ترقی کو ترجیح دیتا ہے۔ چین میں اپنے کام کو لاحق خدشات سے بچانے کی خواہاں تجارتی کمپنیاں سرمایہ کاری کے لیے دوسری جگہوں کا رخ کریں گی۔ ہم بنیادی ڈھانچے کی ترقی، آزاد تجارت اور عالمگیر تجارتی ترسیلی سلسلوں سے انضمام بڑھانے کے لیے بامعنی اصلاحات کے ضمن میں بھارت کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔

میں جانتا ہوں کہ آج یہاں طویل اور مفید بات چیت ہوئی، لہٰذا میں یہاں اپنی بات ختم کروں گا۔ بولنا جتنا اہم ہے دوسروں کو سننے کی بھی اتنی ہی اہمیت ہے۔ میں اپنے عزیز دوست جناب سفیر کے ساتھ یہ بات آگے بڑھاؤں گا اور مجھے امید ہے کہ اس دوران ایسے موضوعات پر بات ہو گی جو آپ پسند کریں گے۔ (تالیاں)


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں