rss

صدر ٹرمپ کا بیان اقوام متحدہ کی مذہبی آزادی کی تقریب میں

Français Français, English English, العربية العربية, Português Português, Русский Русский, Español Español

اقوام متحدہ کا ہیڈ کوارٹر
نیو یارک، نیو یارک
11 بجکر 47 منٹ ای ڈی ٹی

 

بہت خوب۔ بہت بہت شکریہ۔ بہت خوب۔ اور میں مائیک کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ اقوام متحدہ میں مذہبی آزادی پر ہونے والے اجلاس کی میزبانی کرنے والا پہلا صدر ہونا حقیقی معنوں میں اعزاز کی بات ہے۔ اور یہ واقعی ایک اعزاز ہے۔ یہ  اعزاز ایک پرانا قرض تھا۔ جب مجھے یہ بتایا گیا کہ میں اولین صدر ہوں تو مجھے صدمہ پہنچا۔ کئی ایک لحاظ سے یہ بڑے افسوس کی بات ہے۔ آپ کے درمیان ہونا ایک بہت بڑی بات ہے۔  

نائب صدر پینس نے جو شاندار کام کیا ہے میں اُس کے لیے اُن کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔  وہ ملک کے شاندار اور قابل قدر نمائندے ہیں۔  

اسی طرح، وزیر خارجہ مائیک پومپیو، سفیر کیلی کرافٹ، وزیر راس، وزیر منوچن، سفیر سیم براؤن بیک کا بھی آج ہمارے ساتھ شامل ہونے پر شکریہ۔ ہماری کابینہ اور انتظامیہ کے دیگر اراکین بھی اس کمرے میں ہمارے درمیان موجود ہیں۔ ہم نے بہت سارا کام کیا  ہے۔   

جانسن ترمیم کے بارے میں زیادہ بات نہیں کی جاتی۔ مگر میں یہ بتاتے ہوئے فخر محسوس کرتا ہوں کہ  ہم نے اس ملک میں جانسن ترمیم کا خاتمہ کر دیا ہے۔ لہذا ہم اُن لوگوں  یعنی مذہبی لیڈروں کو الزام در الزام لگائے بغیر سن سکتے ہیں جن کو ہم سننا چاہتے ہیں۔ یہ ایک انتہائی اہم چیز ہے اور جیسا کہ میں نے ابتدا میں بھی کہا اور میں اب پھر کہتا ہوں: یہ ایک ایسی چیز ہے جس پر مجھے فخر ہے۔ 

ہم اس بات پر بھی مشکور ہیں کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریز بھی اپنے بہت سارے دوستوں اور میرے دوستوں یعنی عالمی لیڈروں کے ہمراہ یہاں موجود ہوں گے۔ اِن میں سے  بہت سوں کو میں نے جان لیا ہے اور میرا خیال ہے کہ آپ بھی انہیں جان لیں گے۔ میرا خیال ہے۔ اگر آپ انہیں نہیں جان پائیں گے تو آپ اپنا کام نہیں کر رہے۔ (قہقہ)

اور میں اپنی بیٹی ایوانکا کا بھی یہاں موجود ہونے پر شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ وہ اُن سب چیزوں پر انتہائی محنت سے کام کرتی ہیں جو اس کمرے میں موجود افراد کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ لہذا، ایوانکا یہاں آنے پر آپ کا شکریہ۔ ( تالیاں )

امریکہ کی بنیاد اس اصول پر ہے کہ ہمارے حقوق کا منبع حکومت نہیں؛ یہ خدا کی عنایات ہیں۔ اس ابدی سچ کا اعلان ہمارے آزادی کے منشور میں کیا گیا ہے اور یہ ہمارے  آئینی حقوق کے منشور کی پہلی ترمیم میں رقم ہے۔ ہمارے ملک کے بانی یہ سمجھتے تھے کہ کسی پرامن، خوشحال، اور نیک معاشرے کے لیے اپنے مذہبی اعتقادات پر عمل کرنے کے حق سے زیادہ اور کسی حق کو بنیادی اہمیت حاصل نہیں۔    

یہ افسوس کی بات ہے کہ امریکی شہریوں کو حاصل مذہبی آزادی دنیا میں بہت کم لوگوں کو حاصل ہے۔ دنیا کی تقریباً 80 فیصد آبادی اُن ممالک میں رہتی ہے جہاں مذہبی آزادی کو خطرات لاحق ہیں، [مذہبی آزادی] محدود ہے حتٰی کہ اِس پر پابندی عائد ہے۔ جب میں نے اس تعداد کے بارے میں سنا تو میں نے کہا، "برائے مہربانی اس کی جانچ پڑتال کیجیے کیونکہ اس کے درست ہونے کا امکان نہیں ہو سکتا۔” اور دکھ کی بات ہے کہ یہ سچ نکلا۔ ہاں اسی فیصد۔

اس وقت جب ہم بات کر رہے ہیں یہودیوں، عیسائیوں، مسلمانوں، بدھ مت کے ماننے والوں، ہندوؤں، سکھوں، یزیدیوں اور عقیدہ رکھنے والے بہت سے دیگر لوگوں کو اکثر اُن کی اپنی حکومتوں کی جانب سے جیلوں میں بند کیا جا رہا ہے، اُن پر پابندیاں لگائی جا رہی ہیں، انہیں اذیتیں پہنچائی جا رہی ہیں، اور حتٰی کہ انہیں قتل تک کیا جا رہا ہے محض اس بنا پر کہ وہ اپنے دلوں کی  گہرائیوں میں جاگزیں مذہبی عقائد کا اظہار کرتے ہیں۔ عقیدہ رکھنا کتنا مشکل ہے۔

آج، بیک زبان واضح الفاظ میں امریکہ کا دنیا کے ممالک سے یہ کہنا ہے کہ وہ مذہبی زیادتیوں کو ختم کریں۔ ( تالیاں )

مذہب کے ماننے والوں کے خلاف جرائم کو روکنے، ضمیر کے قیدیوں کو رہا کرنے، مذہب اور عقیدے کی آزادی پر پابندی لگانے والے قوانین کو منسوخ کرنے، کمزوروں، بے بسوں، اور  مظلوموں کی حفاظت کرنے کی خاطر، امریکہ تمام ملکوں میں مذہب کے ماننے والوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ یہ سب صرف اپنے اُس عقیدے کے مطابق رہنے کی آزادی مانگتے ہیں جو اُن کے دلوں میں جاگزیں ہے۔  

صدر کی حیثیت سے مذہبی آزادی کا تحفظ میری اولین ترجیح ہے اور ہمیشہ سے چلی آ رہی ہے۔ گزشتہ برس ہمارے وزیر خارجہ، مائیک پومپیو نے عالمگیر مذہبی آزادی کے فروغ  کے لیے دینی علما کی اولین کانفرنس کی میزبانی کی۔

مذہبی علما کی اس سال کی کانفرنس میں، وزیر خارجہ پومپیو نے مذہبی آزادی کا بین الاقوامی اتحاد تشکیل دینے کے منصوبے کا اعلان کیا – ہم خیال ممالک کے اس اتحاد کا مقصد دنیا بھر میں مذہبی زیادتیوں کا سامنا کرنا ہو گا۔ 

میں نے یہود دشمنی پر نظر رکھنے اور اس کو ختم کرنے کے لیے ایک خصوصی سفیر مقرر کیا ہے۔ ہم دنیا بھر میں تقریباً 25 کروڑ اُن عیسائیوں کے حق میں آواز اٹھا رہے ہیں جن کے ساتھ اُن کے عقیدے کی وجہ سے زیادتیاں کی جاتی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ہر روز 11 عیسائیوں کو [اپنے دین پر] عمل کرنے کی وجہ سے ہلاک کیا جا تا ہے – میرا مطلب ہے کہ یہ بات ذرا سوچیں: [حضرت] عیسٰی کی تعلیمات پر عمل کرنے کی وجہ سے 11 عیسائی ہر روز [مارے جاتے ہیں]۔ یہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ آج کے اس دور میں ایسا کرنا ممکن ہے؟ کون سوچے گا کہ ایسا کرنا ممکن ہے؟  .

آج ہمارے درمیان پادری اینڈریو برنسن موجود ہیں جنہیں ایک طویل عرصے تک ترکی میں قید میں رکھا گیا۔ گزشتہ برس میری انتظامیہ نے ایک بہت مضبوط آدمی کے ساتھ –  جو خوش قسمتی سے میرا دوست بن چکا ہے یعنی ترکی کے صدر ایردوگان  — مختصر مگر باوقار مذاکرات کیے۔ اس کے نتیجے میں میری انتظامیہ  [پادری برنسن] کو وطن واپس لے کر آئی۔ 

میں نے صدر کو ٹیلی فون کیا اور کہا، "یہ ایک بے گناہ آدمی ہے۔” گزشتہ انتظامیہ ایک طویل عرصے تک اینڈریو کو جیل سے نکالنے کی کوشش کرتی  رہی۔ بدقسمتی سے میرا خیال نہیں کہ انہوں نے جانفشانی سے کوشش کی ہوگی۔

میں صدر ایردوگان کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں اور میں یہاں آنے پر، پادری آپ کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ اینڈریو کہاں ہیں آپ؟ کیا وہ یہیں کہیں ہیں؟ آپ کا شکریہ، اینڈریو۔ ( تالیاں)

اینڈریو ہم نے عمدہ طریقے سے مذاکرات کیے۔ آپ واپس آ گئے۔ یہ آسان نہیں تھا۔ یہ دلکش عمل بھی نہیں تھا۔ مگر آپ واپس آ گئے۔ اور ہمیں آپ پر فخر ہے۔ آپ کا خاندان عظیم ہے۔ اور ہاں پیار – جب اینڈریو واپس آئے، اتنے سارے لوگوں کا پیار،  ایسا پیار کہ – اس طرح کا پیار میں نے نہیں دیکھا۔

لہذا، آپ کو مبارک ہو۔ اور مجھے پتہ ہے کہ آپ اپنے خاندان کے ہمراہ زبردست کام کر رہے ہیں۔ آپ کا بہت بہت شکریہ۔ آپ کا شکریہ، اینڈریو۔ ( تالیاں)  

میں فرینکلن گراہم کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کیونکہ ہم جو کچھ بھی  کرتے ہیں وہ ہر ایک کام میں ہماری مدد کرتے چلے آ  رہے ہیں۔ سیلابوں اور طوفانوں سمیت انہوں نے مختلف طریقوں سے بہت سا ناقابل یقین کام کیا ہے۔ اور ہر مرتبہ جب میں جاتا ہوں تو میں وہاں پر فرینکلن کو دیکھتا ہوں۔ وہ ہمیشہ مجھ سے پہلے وہاں پہنچے ہوتے ہیں۔ مجھے علم نہیں کہ وہ مجھ سے پہلے وہاں کیسے پہنچ جاتے ہیں۔ میں کسی دن اُن کو ہراؤں گا۔ وہ حقیقت میں ہمیشہ اِن جگہوں یعنی جن علاقوں میں تباہی ہوتی ہے موجود ہوتے ہیں۔ وہ اپنے زبردست قسم کے بڑی تعداد پر مشتمل حیرت انگیز رضاکارانہ عملے کے ساتھ پہنچ جاتے ہیں۔ آپ کا بہت بہت شکریہ۔ اور ہاں سی سی آپ کا بھی بہت بہت شکریہ (تالیاں۔) اور پاؤلا وائٹ آپ کا بھی بہت بہت شکریہ۔

میں نے جولائی میں وائٹ ہاؤس میں مذہبی زیادتیوں کا شکار ہونے والے افراد سے ملاقات کی۔ ہمارے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ اِن میں سے بہت سے آج یہاں پر بھی موجود ہیں۔ اِن میں سے کچھ افراد نے حکومتی سرپرستی میں کی جانے والی زیادتیاں جھیلیں؛ جب کہ دیگر نے دہشت گردوں اور مجرموں کی زیادتیوں کا سامنا کیا۔ صورت حال جو بھی ہو امریکہ کسی بھی جگہ کی جانے والی مذہبی زیادتیوں کا شکار ہونے والوں کی آواز بنے گا۔ آپ جہاں کہیں بھی ہوں اس کے قطع نظر، ریاستہائے متحدہ امریکہ کی شکل میں آپ کے پاس ایک جگہ ہے۔ کیا میں اِن افراد کو کھڑا ہونے کا کہہ سکتا ہوں؟ برائے مہربانی کھڑے ہوئیے۔ ( تالیاں۔) آپ کا شکریہ۔ آپ کا بہت بہت شکریہ۔   

حالیہ وقتوں میں دنیا نے عبادت کے مقدس مقامات پر تباہ کن پُرتشدد کاروائیاں دیکھی ہیں۔ 2016 میں اجتماعی دعائیہ خطبہ دینے والے ایک 85 سالہ کیتھولک پادری کو نارمنڈی، فرانس میں بہیمانہ طور پر ہلاک کر دیا گیا۔ گزشتہ برس، امریکہ نے پینسلوینیا اور کیلی فورنیا میں یہودی عبادت خانوں میں امریکی یہودیوں کے خلاف کیے جانے والے یہود دشمنی پر مبنی ہولناک قسم کے حملے دیکھے۔ مارچ میں نیوزی لینڈ میں اپنے اہلیان خانہ کے ساتھ نماز پڑھتے ہوئے مسلمانوں کو افسوسناک طریقے سے قتل کر دیا گیا۔ اس سال ایسٹر سنڈے کو دہشت گردوں نے سری لنکا میں گرجا گھروں میں بم دھماکے کیے اور سینکڑوں باوفا عبادت گزاروں کو ہلاک کیا۔ ایسا کون ہے جو اِس بات کا تصور بھی کرتا ہو کہ یہ ممکن ہے؟ 

بدی کے یہ حملے ساری انسانیت پر لگایا جانے والا ایک زخم ہے۔ ہم سب کو تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والی کمیونٹیوں کی حفاظت کرنے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔ ہم تمام ممالک پر زور دیتے ہیں کہ وہ مذہبی کمیونٹیوں کے خلاف کیے جانے والے جرائم پر مقدمات چلانے اور سزائیں دینے میں اضافہ کریں۔ اس سے بڑا جرم اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ اس میں مذہبی مقامات اور یادگاروں کی قصداً تباہی کو روکنے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔ آج، ٹرمپ انتظامیہ مذہبی آزادی اور مذہبی مقامات اور یادگاروں کی حفاظت کے لیے  دو کروڑ پچاس لاکھ  ڈالر کی اضافی رقم مختص کر رہی ہے۔   

آج جب ہم ایک انتہائی اہم منصوبے کا اعلان کر رہے ہیں تو اس وقت کاروباری برادری سے تعلق رکھنے والے اپنے بہت سے شراکت کاروں کو اپنے درمیان پاکر ہمیں خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ 

امریکہ نے مذہبی آزادی کے تحفظ کے لیے امریکی کاروباروں کا ایک اتحاد تشکیل دیا ہے۔ پہلی مرتبہ یہ کام کیا گیا ہے۔ اس  پروگرام سے نجی شعبے کی کام کی جگہ پر تمام مذاہب کے ماننے والوں کو تحفظ فراہم کرنے کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ نجی شعبے کے پاس شاندار قیادت ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ اس کمرے میں موجود کچھ لوگوں کا شمار دنیا کے کامیاب ترین مردوں اور عورتوں میں ہوتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ کام کیسے ہوتے ہیں اور انہیں علم ہے کہ چیزوں کی دیکھ بھال کیسے کی جاتی ہے۔ اور پہلی مرتبہ وہ ہمارے ساتھ اس حد تک آئے ہیں۔ پہلی مرتبہ۔ آپ کا اس کمرے میں ہمارے ساتھ موجود ہونا ایک اعزاز کی بات ہے۔ عظیم کاروباری لوگ، طاقت کے حامل عظیم لوگ۔    

اکثر اوقات طاقتور عہدوں کے حامل لوگ باوفا لوگوں کو خاموش کراتے ہوئے، اُن سے احتراز کرتے ہوئے یا انہیں دباتے ہوئے،  تنوع کا پرچار کرتے ہیں۔ حقیقی رواداری کا مطلب تمام لوگوں کے دلوں میں جاگزیں گہرے مذہبی عقائد کے اظہار کے حقوق کا احترام کرنا ہے۔

اپنی بات ختم کرنے سے قبل میں اس کمرے میں موجود [مذہبی زیادتیوں کے شکار ہونے والے] تمام افراد کا اُن کی جرات اور برداشت پر ایک بار پھر شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ آپ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ کرہ ارض پر مذہب کے ماننے والوں کے عقیدے سے زیادہ مضبوط کوئی طاقت نہیں ہے۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ دائمی طور پر آپ کے ساتھ اور اُن لوگوں کے ساتھ  رہے گا جو مذہبی آزادی کے متلاشی ہیں۔ 

آج میرا تمام ممالک سے یہ کہنا ہے کہ وہ ہمارے ساتھ اس فوری اخلاقی فرض میں شامل ہوں۔ ہمارا دنیا کی حکومتوں سے یہ کہنا ہے کہ وہ ہر ایک شخص کے اپنے ضمیر کے مطابق عمل کرنے، اپنے عقیدے کے مطابق زندہ رہنے، اور خدا کو عظمت دینے کے ابدی حقوق کا احترام کریں۔ اِس انتہائی اہم مشن میں امریکہ کا بہت اہم کردار ہے۔ 

اب سیکرٹری جنرل گوتیریز سب کی مذہبی آزادی کے فروغ کے لیے اقوام متحدہ کی کاوشوں کے بارے میں چند الفاظ کہیں گے۔ وہ بعینہی اُس کے بہت بڑے حامی ہیں جس کے لیے ہم اس کمرے میں جمع ہیں۔ 

یہاں پر موجود ہونے پر میں آپ سب کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ خدا آپ کو سلامت رکھے۔ خدا باوفا  لوگوں کو سلامت رکھے۔ اور خدا امریکہ کو سلامت رکھے۔ آپ کا بہت بہت شکریہ۔ (تالیاں۔) آپ کا شکریہ

 اختتام           صبح 11 بجکر 58 منٹ ای ڈی ٹی


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں