rss

صدر ٹرمپ کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74ویں اجلاس سے خطاب

Français Français, English English, العربية العربية, Português Português, Русский Русский, Español Español

وائٹ ہاؤس
پریس سیکرٹری کا دفتر
واشنگٹن ڈی سی
اقوام متحدہ کا ہیڈ کوارٹر
نیویارک، نیویارک
24 ستمبر 2019

صبح 10 بجکر 12 منٹ ای ڈی ٹی

جناب صدر، جناب سیکرٹری جنرل، ممتاز مندوبین، سفراء اور دنیا کے رہنما خواتین و حضرات، آپ کا بے حد شکریہ۔ یہاں تاریخ کی سات دہائیاں اپنی تمام تر ثمرآوری اور سنسنی سمیت گزر چکی ہیں۔

جہاں میں کھڑا ہوں وہاں سے دنیا سرد جنگ کی انتہا پر صدور اور وزرائے اعظم کو بات کرتے ہوئے سن چکی ہے۔ ہم نے اقوام کی بنیادیں اٹھتی ہوئی دیکھیں ہیں۔ ہم انقلابی رہنماؤں کو دیکھ چکے ہیں۔ ہم نے یہاں ایسی خدا رسیدہ شخصیات کو دیکھا جنہوں نے ہمیں امید دلائی، ہم نے ایسے باغی دیکھے جنہوں نے ہمیں پرجوش طریقے سے جھنجھوڑا اور ہم نے ایسے بہادروں کو دیکھا جنہوں نے جرات سے ہماری حوصلہ افزائی کی۔ سبھی لوگ دنیا کے اس سب سے بڑے سٹیج پر اپنے منصوبے، تجاویز، تصورات اور نظریات لے کر آئے۔

ہم سے پہلے یہاں ملنے والوں کی طرح ہمارے وقت کا شمار بھی بڑے بڑے مقابلوں اور مفادات اور واضح انتخابات کے وقتوں میں ہوتا ہے۔ پوری دنیا میں پھیلی اور پوری تاریخ پر محیط، بنیادی تقسیم ایک مرتبہ پھر انتہائی نمایاں دکھائی دے رہی ہے۔ اس تقسیم کی ایک جانب وہ لوگ ہیں جن کی ہوس اقتدار انہیں اس مغالطے میں رکھتی ہے کہ وہ دوسروں پر حکمرانی کے لیے پیدا ہوئے ہیں اور دوسری جانب ایسے لوگ اور ملک ہیں جو اپنے آپ پر صرف خود کی حکمرانی چاہتے ہیں۔

آج مجھے ایک ایسی قوم کے منتخب رہنما کے طور پر آپ سے خطاب کا بہت بڑا اعزاز حاصل ہوا ہے جو آزادی، خودمختاری اور خود اختیاری کو تمام باتوں پر مقدم گردانتی ہے۔ میرے انتخاب کے بعد اور اپنی عظیم فوج کی مکمل تعمیرِ نو پر 2.5 کھرب ڈالر خرچ کرنے کے بعد، امریکہ اِس وقت دنیا کی طاقتور ترین قوم بن چکا ہے۔ امید ہے کہ اسے کبھی بھی اس طاقت کو استعمال کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

امریکی جانتے ہیں کہ ایسی دنیا میں ہمیں دولت، طاقت اور جذبے کے اعتبار سے ہرگز مضبوط ہونا چاہیے جہاں دوسرے ممالک تسخیر اور بالادستی کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسی لیے امریکہ اُن روایات اور رواجوں کی پوری قوت سے حفاظت کرتا ہے جنہوں نے ہمیں جو کچھ آج ہم ہیں وہ کچھ بنا دیا ہے۔  

میرے پیارے ملک کی طرح ہر اُس ملک کی جس کے اس ہال میں نمائندے موجود ہیں، اپنی تاریخ، ثقافت اور ورثہ ہے۔ [اِن اقدار سے] وہاں کے لوگوں کو محبت ہے۔ یہ دفاع  کرنے اور خوشی منانے کے قابل ہیں۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو ہمیں غیرمعمولی صلاحیت اور قوت عطا کرتی ہیں۔

آزاد دنیا کو اپنی قومی بنیادوں کو قبول کرنا چاہیے۔ اسے انہیں ختم یا تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔

اگر ہم اس بڑے اور پرشکوہ کرہ ارض پر نظر ڈالیں تو سچائی صاف دکھائی دیتی ہے۔ اگر آپ آزادی چاہتے ہیں تو اپنے ملک پر فخر کریں۔ اگر آپ کو جمہوریت درکار ہے تو اپنی خودمختاری قائم رکھیں۔ اگر آپ امن چاہتے ہیں تو اپنی قوم سے محبت کریں۔ دانا رہنما ہمیشہ اپنے لوگوں اور اپنے ملک کی بہتری، مقدم رکھتے ہیں۔

مستقبل عالمگیریت کے حامیوں کا نہیں ہے۔ مستقبل محب وطن لوگوں کا ہے۔ مستقبل اُن خودمختار اور آزاد ممالک کا ہے جو اپنے شہریوں کا تحفظ کرتے ہیں، اپنے ہمسایوں کا احترام کرتے ہیں اور تفاوات کو قبول کرتے ہیں جو ہر ملک کو خاص اور منفرد بناتے ہیں۔ 

اسی لیے امریکہ میں ہم نے قومی احیا کا ولولہ انگیز پروگرام شروع کیا ہے۔ ہر وہ کام جو ہم کرتے ہیں اُس میں ہماری توجہ اپنے شہریوں کے خوابوں اور تمناؤں کو عملی شکل دینے پر مرکوز رہتی ہے۔

 ہماری ترقی نواز اقتصادی پالیسیوں کی بدولت ہمارے ہاں بیروزگاری کی شرح نصف  صدی سے زیادہ عرصہ کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ محصولات میں بڑی کٹوتیوں اور ضوابط میں کمی لانے سے روزگار کی دستیابی تاریخی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ تین برسوں سے کم مدت میں ساٹھ لاکھ امریکیوں کو روزگار ملا ہے۔ 

گزشتہ ماہ افریقی نژاد امریکیوں، ہسپانوی نژاد امریکیوں اور ایشیائی نژاد امریکیوں میں بیروزگاری کی شرح اب تک کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ ہم اپنے ملک میں توانائی کے فراواں ذخائر اکٹھے کر رہے ہیں اور اب امریکہ دنیا بھر میں تیل اور قدرتی گیس پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔ اجرتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، آمدنی بڑھ رہی ہے اور تین سال سے بھی کم عرصے میں 25 لاکھ امریکیوں کو غربت سے نکالا جا چکا ہے۔  

امریکی فوج کی بے مثل قوت کی تعمیرِنو کرتے ہوئے ہم اپنے اتحادوں کو بھی مضبوط بنا رہے ہیں اور اس ضمن میں ہم نے اپنے تمام شراکت داروں پر واضح کر دیا ہے کہ وہ مشترکہ دفاعی اخراجات کے ضمن میں اپنا جائز حصہ ڈالیں جس کا بوجھ ماضی میں امریکہ نے اٹھایا ہے۔

 قومی احیا کے تصور میں ہمارا مرکزی نکتہ عالمگیر تجارت میں اصلاحات کے لیے پرعزم مہم چلانا ہے۔ بدنیتی سے کام لیتے ہوئے ملک کئی دہائیوں سے عالمگیر تجارتی نظام سے آسانی سے ناجائز فائدہ اٹھاتے چلے آ رہے ہیں۔ نوکریاں ملک سے باہر منتقل ہوئیں تو لوگوں کی ایک چھوٹی سی تعداد متوسط طبقے کی قیمت پر امیرتر ہو گئی۔  

امریکہ میں اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ گزشتہ ربع صدی میں صنعتی شعبے میں 42 لاکھ نوکریاں ختم ہوئیں اور ملک کو تجارت میں 15 کھرب ڈالر کا خسارہ ہوا۔ اب امریکہ اس سنگین معاشی ناانصافی کو ختم کرنے کے لیے فیصلہ کن اقدام اٹھا رہا ہے۔ ہمارا مقصد بالکل سادہ سا ہے۔ ہم متوازن تجارت چاہتے ہیں جو شفاف اور دوطرفہ ہو۔

ہم نے ‘نیفٹا’ کو تبدیل کرنے کے لیے میکسیکو اور کینیڈا میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کیا ہے۔ اس کی جگہ ہم ایک بالکل نیا امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا کے مابین باہمی رضامندی سے طے پانے والا امیدوں بھرا معاہدہ لائے ہیں۔

کل میں جاپانی وزیراعظم ایبے سے ملاقات میں ایک بہت زبردست نئے تجارتی معاہدے پر پیش رفت کو جاری رکھوں گا۔

چونکہ برطانیہ یورپی یونین سے نکلنے کی تیاریاں کر رہا ہے اس لیے میں نے واضح کر دیا ہے کہ ہم برطانیہ کے ساتھ غیرمعمولی نوعیت کے ایک ایسے نئے تجارتی معاہدے کے لیے تیار ہیں جس سے دونوں ممالک کو بے پایاں فائدہ پہنچے گا۔ ہم اس نئے شاندار تجارتی معاہدے پر وزیراعظم بورس جانسن کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

تجارت کے شعبے میں امریکہ  کی نئی سوچ میں جنم لینے والی اہم ترین تبدیلی کا تعلق چین کے ساتھ ہمارے تعلقات سے  ہے۔ 2001 میں چین کو تجارت کی عالمی تنظیم میں شامل کیا گیا۔ اس وقت ہمارے رہنماؤں کا استدلال تھا کہ یہ فیصلہ چین کو اپنی معیشت آزاد کرنے میں مدد دے گا اور ہمیں ناقابل قبول چیزیں فراہم کرنے کے خلاف تحفظات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ نجی ملکیت اور قانون کی حکمرانی کو بھی تحفظات فراہم کرے گا۔ دو دہائیوں کے بعد یہ تصور مکمل طور پر غلط ثابت ہو چکا ہے۔

ناصرف چین نے اپنے وعدے کے مطابق معاشی اصلاحات سے انکار کیا بلکہ اس نے ایسا اقتصادی چلن بھی اختیار کیا جس کا انحصار منڈی کی رکاوٹوں، ریاست کی جانب سے بھاری اعانتی قیمتوں، کرنسی کے ہیرپھیر، ذخیرہ اندوزی، ٹیکنالوجی کی جبری منتقلی کے علاوہ بڑے پیمانے پر املاکِ دانش اور تجارتی رازوں کی چوری پر ہے۔

اس حوالے سے میں محض ایک مثال پیش کرنا چاہوں گا۔ حال ہی میں میری ایک بڑی امریکی کمپنی” مائکرون ٹیکنالوجی” کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات ہوئی۔ مائیکرون الیکٹرونکس بے شمار اشیا میں استعمال ہونے والی میموری چپس بناتی ہے۔

چینی حکومت کے پانچ سالہ معاشی منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے حکومتی ملکیت کی ایک چینی کمپنی نے مبینہ طور پر مائیکرون کے ڈیزائن چوری کیے جن کی مالیت 8.7 ارب ڈالر تک بنتی ہے۔ اس چینی کمپنی نے اسی جیسی چپ بنا کر اس کے ایجادی حقوق حاصل کر لیے اور یوں مائیکرون کو اپنی ہی چیزیں چین میں فروخت کرنے سے روک دیا گیا۔ اب ہم انصاف کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔

چین کے ڈبلیو ٹی او میں شامل ہونے کے بعد امریکہ میں 60 ہزار کارخانے بند ہوئے۔ دنیا کے طول و عرض میں دیگر ممالک کے ساتھ بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔

 تجارت کی عالمی تنظیم میں بہت زیادہ تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ دنیا میں دوسری سب سے بڑی معیشت کو یہ اجازت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ دوسروں کی قیمت پر اپنا مفاد پورا کرنے کے لیے خود کو ترقی پذیر ملک قرار دے کر نظام سے کھیلے۔

سالہا سال تک ان خلاف ورزیوں کو برداشت اور نظرانداز کیا گیا بلکہ ان کی حوصلہ افزائی بھی کی گئی۔ عالمگیریت نے ماضی کے رہنماؤں کو اپنے ہی قومی مفادات نظرانداز کرنے پر مجبور کیا۔

تاہم امریکہ کی حد تک یہ دن گزر چکے۔ ان غیرشفاف اقدامات کا مقابلہ کرنے کے لیے میں نے 500 ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کی چینی ساختہ درآمدات پر بھاری محصولات عائد کیے۔ ایسے اقدامات کی بدولت تجارتی ترسیلی سلسلے امریکہ اور دوسرے ممالک واپس لوٹنے  لگے ہیں اور ہمارے خزانے میں اربوں ڈالر جمع ہو رہے ہیں۔

امریکی عوام چین کے ساتھ ہمارے تعلقات میں توازن کی بحالی کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں۔ امید ہے کہ ہم ایک ایسے معاہدے پر پہنچ سکتے ہیں جس سے دونوں ممالک کا فائدہ ہو۔ مگر جیسا کہ میں واضح کر چکا ہوں، میں امریکی عوام کے لیے کوئی بُرا معاہدہ قبول نہیں کروں گا۔

ہم اپنے تعلقات کو مستحکم بناتے ہوئے ہانگ کانگ کی صورتحال پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ دنیا پوری طرح یہ توقع رکھتی ہے کہ چینی حکومت برطانیہ کے ساتھ کیے جانے اور بعد میں اقوام متحدہ میں رجسٹر کیے جانے والے اُس معاہدے کی پاسداری کرے گی جس میں چین نے ہانگ کانگ کی آزادی، قانونی نظام اور جمہوری طرز زندگی کے تحفظ کا وعدہ کیا ہوا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے چین کا طریق کار ہی بڑی حد تک مستقبل کی دنیا میں اس کے کردار کا تعین کرے گا۔ ہم سبھی ایک عظیم لیڈر کی حیثیت سے صدر شی پر تکیہ کیے ہوئے ہیں۔

امریکہ کسی دوسرے ملک سے تصادم نہیں چاہتا۔ ہم امن، تعاون اور سبھی کے ساتھ باہمی فائدے کے خواہش مند ہیں۔ مگر میں امریکی مفادات کا دفاع کرنے میں کبھی ناکام نہیں رہوں گا۔

ایران میں جابرانہ حکومت کا شمار، سلامتی کے لحاظ سے آج کی دنیا کے امن پسند ممالک کو درپیش بڑے خطرات میں ہوتا ہے۔ اس حکومت کا ہلاکتوں اور تباہی سے متعلق ریکارڈ سب کے سامنے ہے۔ ایران ناصرف دنیا میں ریاستی سطح پر دہشت گردی کا سب سے بڑا سرپرست ہے بلکہ ایرانی رہنما شام اور یمن میں المناک جنگوں کی آگ بھی بھڑکا رہے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ حکومت جوہری ہتھیاروں اور ان کی ترسیل کے ذرائع کے حصول کی مجنونانہ کوشش میں اپنی قوم کی دولت اور مستقبل کو ضائع کر رہی ہے۔ ہمیں یہ سب کچھ ہونے کی اجازت ہرگز نہیں دینی چاہیے۔

ایران کی جوہری ہتھیاروں اور میزائلوں تک رسائی کی راہ روکنے کے لیے میں نے امریکہ کو اس خوفناک جوہری معاہدے سے نکال لیا جس میں بہت کم وقت باقی بچا تھا۔ اس معاہدے میں نہ تو ایران کی اہم تنصیبات کے معائنے کا تذکرہ تھا اور نہ ہی ایرانی بلسٹک میزائل اس معاہدے کے دائرہ کار میں آتے تھے۔

اس معاہدے سے دستبرداری کے بعد ہم نے اس ملک پر کڑی معاشی پابندیاں عائد کیں۔ ایرانی حکومت نے خود کو پابندیوں سے آزاد کرانے کی امید میں اپنی متشدد اور بلااشتعال جارحیت کو مزید بڑھا دیا۔ سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر ایران کے حالیہ حملے کے جواب میں ہم نے ایرانی مرکزی بینک اور ‘خودمختار دولت فنڈ’  پرکڑی ترین پابندیاں عائد کی ہیں۔

تمام ممالک کا فرض بنتا ہے کہ وہ حرکت میں آئیں۔ کسی بھی ذمہ دار حکومت کو ایران کی خونی پیاس بجھانے میں  معاونت نہیں کرنا چاہیے۔ جب تک ایران کا خطرناک طرزعمل جاری رہے گا اس وقت تک اس پر پابندیاں بھی برقرار رہیں گی۔ بلکہ ان میں مزید سختی آئے گی۔ دیکھیں ہوا کیا ہے۔ ایرانی لیڈروں نے ایک فخرمند قوم کو ایسی سبق آموز  داستان میں بدل کر رکھ دیا ہے جس میں حکمران طبقہ اپنے لوگوں کو تنہا چھوڑ کر ذاتی طاقت اور دولت کے حصول میں جُت گیا ہے۔

گزشتہ 40 برس سے دنیا ایرانی رہنماؤں کو سن رہی ہے جو اپنے ہی پیدا کردہ مسائل کا ذمہ دار دوسروں کو قرار دیتے چلے آ رہے ہیں۔ وہ امریکہ کے لیے موت کے نعرے لگاتے اور بھیانک یہود مخالفت کو فروغ دیتے ہیں۔ گزشتہ برس ایران  کے سب سے بڑے رہنما نے کہا، "اسرائیل ایک زہریلا سرطانی پھوڑا ہے …  جسے ختم کر دیا جانا چاہیے۔ یہ ممکن ہے اور ایسا ہوکر رہے گا۔ ” امریکہ ایسی یہود مخالف نفرت کو کبھی بھی برداشت نہیں کرے گا۔

 طویل عرصے تک جنونیوں نے اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے یہودیوں سے نفرت کا سہارا لیا ہے۔ شکر ہے کہ اب وسیع تر مشرق وسطیٰ میں یہ سوچ تقویت پا رہی ہے کہ انتہاپسندی سے لڑنے اور معاشی مواقع پیدا کرنے میں ہی خطے کے ممالک کا مشترکہ مفاد ہے۔ اسی لیے اسرائیل اور اس کے ہمسایوں میں مکمل اور اچھے تعلقات کا قیام  بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ مشترکہ مفاد، باہمی احترام اور مذہبی رواداری پر مشتمل تعلق ہی بہتر مستقبل تشکیل دے سکتا ہے۔

ایرانی شہری ایسی حکومت کے مستحق ہیں جو بیرون اور اندرون ملک قتل عام اور ان کی دولت چرانے کی بجائے — غربت میں کمی، بدعنوانی کے خاتمے اور روزگار میں اضافے کی فکر کرے۔

چار دہائیوں کی ناکامی کے بعد اب ایرانی رہنماؤں کے لیے وقت آ گیا ہے کہ وہ آگے قدم بڑھائیں اور دیگر ممالک کو دھمکانے کی بجائے اپنے ملک کی ترقی پر توجہ مرکوز کریں۔ اب ایرانی رہنماؤں کے لیے وقت ہے کہ وہ ایرانی عوام کو مقدم جانیں۔

امریکہ ان تمام ممالک کے ساتھ دوستی کے لیے تیار ہے جو واقعتاً امن اور احترام کے خواہاں ہیں۔

آج کے امریکہ کے بہت سے قریب ترین دوست کبھی اس کے بدترین دشمن ہوا کرتے تھے۔ امریکہ نے کبھی مستقل دشمنیاں نہیں پالیں۔ ہم مخالفین کی بجائے شراکت دار چاہتے ہیں۔ امریکہ جانتا ہے کہ جنگ تو کوئی بھی کر سکتا ہے مگر دوستی  کا انتخاب صرف انتہائی حوصلہ مند ملک ہی کرسکتے ہیں۔  

اسی لیے ہم نے جزیرہ نما کوریا  کے معاملے میں جراتمندانہ سفارت کاری سے کام لیا ہے۔ جس بات پر میں واقعتاً یقین رکھتا ہوں، وہی بات میں نے کم جانگ ان کو بتائی: یعنی ایران کی طرح ان کا ملک بھی ایسی بے پایاں صلاحیتوں کا حامل ہے جن کو ابھی تک بروئے کار نہیں لایا گیا۔ تاہم اس کے لیے شمالی کوریا کو جوہری اسلحے کا ہرصورت میں خاتمہ کرنا ہوگا۔

دنیا بھر کے لیے ہمارا پیغام بالکل واضح ہے: یعنی امریکہ کا مقصد دیرپا ہے۔ امریکہ کا ہدف ہم آہنگی ہے۔ اور امریکہ کا مقصد دائمی جنگیں نہیں ہے – ایسی جنگیں جو کبھی ختم نہیں ہوتیں۔

 یہی مقصد ذہن میں رکھتے ہوئے میری انتظامیہ افغانستان میں بھی روشن مستقل کی امید لیے آگے بڑھ  رہی ہے۔ بدقسمتی سے طالبان نے اپنے وحشیانہ حملے جاری رکھنے کا انتخاب کیا ہے۔ ہم دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے افغان شراکت داروں کے اتحاد سے مل کر کام کرنا جاری رکھیں گے اور امن کو حقیقت بنانے کا اپنا کام کبھی بھی  نہیں روکیں گے۔

یہاں مغربی نصف کرے میں ہم خطے بھر کے استحکام اور مواقعوں کی خاطر اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ اس مشن میں ہماری سب سے اہم مشکلات میں ایک وہ غیرقانونی مہاجرت ہے جو خوشحالی کو نقصان پہنچاتی ہے، معاشروں کو برباد کرتی ہے اور بے رحم مجرمانہ گروہوں کو طاقتور بناتی ہے۔

بڑے پیمانے پر غیرقانونی مہاجرت سبھی کے لیے غیرمنصفانہ، غیرمحفوظ اور ناپائیدار نتائج کی حامل ہوتی ہے: یعنی بھیجنے والے ملک اور افرادی قوت سے محروم ہو جانے والے ملک۔ [موخرالذکر ملک] بہت تیزی سے افرادی قوت سے محروم ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ نوجوانوں کا خیال نہیں رکھتے اور انسانی سرمایہ ضائع ہو جاتا ہے۔

جن ممالک میں مہاجرت کی جاتی ہے اُن پر مہاجرین کا بوجھ اُس سے زیادہ پڑتا ہے جتنا وہ ذمہ داری سے برداشت کر  سکتے ہیں۔ اور بدقماش رہبر اِن مہاجرین کا استحصال کرتے ہیں، اُن پر حملے کرتے ہیں، اور اُن کے ساتھ زیادتیاں کرتے ہیں۔ شمال میں ہماری سرحد کی جانب ہجرت کرنے والی قریباً ایک تہائی خواتین کو راستے میں جنسی حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے باوجود یہاں امریکہ اور دنیا بھر میں بنیاد پرست سرگرم کارکنوں اور غیرسرکاری تنظیموں کی ایک ایسی گھریلو صنعت پنپ رہی ہے جو انسانی سمگلنگ کو فروغ دیتی ہے۔ یہ گروپ غیرقانونی مہاجرت کی حوصلہ افزائی اور قومی سرحدوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

آج میں کھلی سرحدوں کے اُن حامیوں کو پیغام دینا چاہتا ہوں جو خود کو سماجی انصاف کے لبادے میں چھپائے ہوئے ہیں: آپ کی پالیسیاں منصفانہ نہیں ہیں۔ آپ کی پالیسیاں ظالمانہ اور بری ہیں۔ آپ ایسی مجرمانہ تنظیموں کو تقویت پہنچا  رہے ہیں جو معصوم مردوں، عورتوں اور بچوں کو اپنا شکار بناتی ہیں۔ آپ بے شمار معصوم لوگوں کی زندگیوں، [اور]  بھلائی  پر، نیکی کے اپنے جھوٹے تصور کو فوقیت دیتے ہیں۔ جب آپ سرحدی سلامتی کو کمزور کرتے ہیں تو آپ انسانی حقوق اور انسانی وقار کو بھی کمزور کر رہے ہوتے ہیں۔

آج یہاں موجود بہت سے ممالک بےقابو مہاجرت سے پیدا ہونے والی مشکلات سے نمٹنے میں مصروف ہیں۔ آپ میں سے ہر ملک کو اپنی سرحدوں کے تحفظ کا مکمل حق حاصل ہے۔ یقیناً اسی طرح ہمارے ملک کو بھی یہ حق حاصل  ہے۔ آج ہمیں انسانی سمگلنگ اور انسانی بیوپار کے خاتمے اور ان مجرمانہ گروہوں کو ناکارہ بنانے کے لیے مل کر کام کرنے کا تہیہ کرنا ہو گا۔  

جہاں تک ہمارے ملک کا معاملہ ہے تو میں مخلصانہ طور سے آپ کو بتا سکتا ہوں کہ ہم میکسیکو، کینیڈا، گوئٹے مالا، ہنڈوراس، ایل سلویڈوراور  پانامہ سمیت خطے میں اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر سرحدی سالمیت کو برقرار رکھنے اور اپنے لوگوں کے تحفظ و خوشحالی کو یقینی بنانے پر کام کر رہے ہیں۔ میں میکسیکو کے صدر لوپیز اوبریڈور کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جن کی جانب سے اس معاملے میں ہمیں بہت تعاون مل رہا ہے اور انہوں نے اس وقت 27 ہزار فوجی ہماری جنوبی سرحد پر تعینات کر رکھے ہیں۔ میکسیکو ہمارے ساتھ بے حد احترام سے پیش آ رہا ہے اور جواباً میں بھی اس کا احترام کرتا ہوں۔

امریکہ میں ہم نے غیرقانونی مہاجرت کو روکنے کے لیے بے مثل قدم اٹھایا ہے۔ ہماری سرحد کوغیرقانونی طور پر عبور کرنے کے خواہش مند براہ مہربانی یہ الفاظ سن لیں: سمگلروں کو پیسے مت دیں۔ جرائم پیشہ رہبروں کو پیسے  مت دیں۔ خود کو خطرے میں مت ڈالیں۔ اپنے بچوں کو خطرے میں مت ڈالیں کیونکہ اگر آپ سرحد پر پہنچ گئے تو تب بھی آپ کو [امریکہ] میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ آپ کو فوراً آپ کے ملک واپس بھیج دیا جائے گا۔ آپ کو ہمارے ملک کے اندر داخل ہونے پر چھوڑ نہیں دیا جائے گا۔ جب تک میں امریکہ کا صدر ہوں ہم اپنے قانون کا نفاذ اور اپنی سرحدوں کا تحفظ کرتے رہیں گے۔

مجھے مغربی نصف کرے کے تمام ممالک سے یہ کہنا ہے کہ ہمارا مقصد لوگوں کی مدد کرنا ہے تاکہ وہ اپنے ملکوں  کے مستقبل روشن بنانے میں مدد کر سکیں۔ ہمارا خطہ ایسے غیرمعمولی خوابوں سے معمور ہے: یعنی عملی صورت اختیار کرنے کے منتظر خواب اور سب کے لیے منازلِ مقصود۔ یہ عملی روپ دھارنے کے لیے محنت کی منتظر ہیں۔

پورے مغربی نصف کرے میں کروڑوں محنتی اور محب وطن نوجوان، تعمیر، اختراع اور کامیابی کے لیے بے چین ہیں۔ تاہم اگر نوجوانوں کی ایک نسل کہیں اور زندگی گزارنے کی تلاش میں اپنے گھربار چھوڑ دے تو یہ ملک اپنی صلاحیتوں سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ ہم اپنے خطے میں ہر ملک کو پھلتا پھولتا اور اس کے لوگوں کو آزادی اور امن کے ماحول میں ترقی کرتا دیکھنا چاہتے ہیں۔

اس مقصد کے لیے ہم مغربی نصف کرے میں ایسے لوگوں کی مدد کے لیے بھی تیار ہیں جو ظالمانہ جبر میں زندگی گزار رہے ہیں جیسا کہ کیوبا، نکاراگوا اور وینزویلا ہیں۔

اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کی کونسل کی جانب سے جاری کردہ حالیہ رپورٹ کے مطابق وینزویلا میں خواتین خوراک کے حصول کی خاطر روزانہ 10 گھنٹے قطار میں کھڑی رہتی ہیں۔ وہاں 15 ہزار سے زیادہ لوگ سیاسی قیدی ہیں۔ جدید انداز میں کام کرنے والے موت کے گروہ، ہزاروں افراد کو ماورائے عدالت قتل کر رہے ہیں۔

وینزویلا کا آمر مادورو کیوبا کا کٹھ پتلی ہے جس کی حفاظت پر کیوبا کے محافظ مامور ہیں اور وہ اپنے ہی لوگوں سے چھپتا پھر رہا ہے۔ جبکہ کیوبا اپنا بدعنوان اشتراکی اقتدار قائم رکھنے کے لیے وینزویلا کا تیل لوٹ رہا ہے۔

اس ہال میں میرے گزشتہ خطاب کے بعد امریکہ اور اس کے شراکت دار، 55 ممالک کا وہ تاریخی اتحاد تشکیل دے چکے ہیں جو وینزویلا کی جائز حکومت کو تسلیم کرتا ہے۔

اس مصیبت میں پھنسے وینزویلا کے عوام سے مجھے یہ کہنا ہے: برائے مہربانی یہ جان لیجیے کہ  پورا امریکہ آپ کی پشت پر کھڑا ہے۔ امریکہ کے پاس انسانی امداد کی بہت بڑی مقدار تیار پڑی ہے اور تقسیم کی منتظر ہے۔ ہم وینزویلا کے حالات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ ہمیں اس دن کا انتظار ہے جب جمہوریت بحال ہو گی، وینزویلا آزاد ہو گا اور پورے مغربی نصف کرے میں آزادی کی کرنیں پھوٹ پڑیں گی۔

اشتراکی آسیب ہمارے ممالک کو درپیش انتہائی سنجیدہ مسائل میں سے ایک مسئلہ ہے۔ یہ ملکوں کو تباہ اور معاشروں کو برباد کرکے رکھ دیتا ہے۔

وینزویلا کے حالات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اشتراکیت اور اشتمالیت کا انصاف سے کوئی لینا دینا نہیں۔ ان کا برابری سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ غریب کی حالت نہیں سدھارتے اور یقیناً ان کا ملک کی بہتری سے کوئی واسطہ نہیں۔ اشتراکیت اور اشتمالیت کا ایک ہی مقصد ہے: یعنی حکمران طبقے کے لیے طاقت۔

آج میں دنیا کے لیے وہی پیغام دہراتا ہوں جو میں اپنے ملک میں دے چکا ہوں: یعنی امریکہ کبھی بھی اشتراکی ملک نہیں بنے گا۔

گزشتہ صدی میں اشتراکیت اور اشتمالیت نے 10 کروڑ لوگوں کو ہلاک کیا۔ افسوس کے بات ہے کہ جیسا کہ ہم وینزویلا میں دیکھ رہے ہیں، اس ملک میں اموات کی تعداد میں اضافہ ہو  رہا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ مل کر یہ آمرانہ نظریات، جبر اور غلبے کی نئی اور پریشان کن اقسام سامنے لا رہے ہیں۔

اسی وجہ سے امریکہ غیرملکی ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاریوں کی بہتر جانچ پڑتال اور اپنے ڈیٹا اور سکیورٹی کے تحفظ کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ ہم یہاں موجود ہر ملک پر زور دیتے ہیں کہ وہ بھی ایسا ہی کریں۔

بیرون اور اندرون ملک آزادی و جمہوریت کا ہرصورت میں مسلسل دفاع اور تحفظ ہونا چاہیے۔ ہمیں ان لوگوں کو شک کی نظر سے دیکھنا چاہیے جو ہم آہنگی اور کنٹرول چاہتے ہیں۔ حتٰی کہ آزاد ممالک میں بھی ہم آزادی کو درپیش پریشان کن علامات اور نئے مسائل دیکھ رہے ہیں۔

سماجی میڈیا کے پلیٹ فارموں کی ایک چھوٹی سی تعداد جو کچھ ہم دیکھ سکتے ہیں اورجس کے کہنے کی ہمیں اجازت ہے، اس پر بےتحاشا اختیار حاصل کر رہی ہے۔ ایک مستقل سیاسی طبقہ عوامی خواہشات کی سرعام تحقیر کرتا ہے، انہیں نظرانداز کرتا اور ان کی مخالفت کرتا ہے۔ ایک بے چہرہ افسرشاہی خفیہ طور سے کام کرتی اور جمہوری حکمرانی کو کمزور بناتی ہے۔ میڈیا اور تعلیمی ادارے ہماری تاریخ، روایات اور اقدار پر کھلم کھلا حملے کرتے ہیں۔

امریکہ میں میری حکومت نے سوشل میڈیا کمپنیوں پر واضح کر دیا ہے کہ ہم آزادی اظہار کی سربلندی کے لیے کام کریں گے۔ ایک آزاد سماج سوشل میڈیا کے بڑوں کو عوامی آواز خاموش کرانے کی اجازت نہیں دے سکتا اور ایک  آزاد قوم کو اپنے ہی ہمسایوں کو خاموش کرانے، انہیں ڈرانے دھمکانے، انہیں رد کرنے اور ناپسندیدہ قرار دینے کے مقصد کا حصہ کبھی بھی نہیں بننا چاہیے۔

امریکی اقدار کا تحفظ کرتے ہوئے ہم تمام لوگوں کے لیے باوقار زندگی کے حق کی توثیق کرتے ہیں۔ اسی لیے میری انتظامیہ ہم جنسیت کو جرم قرار دینے سے روکنے کے لیے دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے اور ہم ایسے ‘ایل جی بی ٹی کیو’ لوگوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں جو اُن ممالک میں رہتے ہیں جہاں لوگوں کو ان کے جنسی رجحانات کی بنا پر سزائیں دی جاتی ہیں، جیلوں میں ڈالا جاتا ہے یا پھانسی چڑہایا جاتا ہے۔

ہم اپنے معاشروں میں عورتوں کے کردار کی بھی حمایت کر رہے ہیں۔ خواتین کو بااختیار بنانے والی اقوام زیادہ خوشحال، محفوظ اور سیاسی اعتبار سے زیادہ مستحکم ہوتی ہیں۔ اسی لیے کسی ملک میں خواتین کی معاشی ترقی کے لیے کوشش کرنا اس کی خوشحالی کے لیے ہی نہیں بلکہ اس کی قومی سلامتی کے لیے بھی اہم ہوتا ہے۔

انہی اصولوں کی روشنی میں میری انتظامیہ نے عالمی سطح پر خواتین کی ترقی اور خوشحالی کے اقدامات شروع کیے ہیں۔ ‘ڈبلیو- جی ڈی پی’ خواتین کو معاشی لحاظ سے بااختیار بنانے کے لیے حکومتی سطح پر اٹھایا جانے والا پہلا قدم  ہے جس کا مقصد پوری دنیا میں خواتین کو جائیداد کی ملکیت اور وراثت کے قانونی حق کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ یہ بھی یقینی بنانا ہے کہ خواتین  مردوں کے برابر صنعتوں میں کام کر سکیں، آزادانہ سفر کر سکیں اور قرضوں اور اداروں تک رسائی حاصل کرسکیں۔

گزشتہ روز مجھے مذہبی رہنماؤں اور مذہبی آزادی کے تحفظ کے لیے امریکہ کے آہنی عزم پر بات چیت  کرنے کے لیے رہنماؤں کے اجلاس کی میزبانی کرنے کا موقع ملا جس کی مجھے خوشی ہے۔ دنیا بھر میں اس بنیادی حق کو بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔ اس بات پر یقین کرنا مشکل ہے مگر دنیا کی 80 فیصد آبادی ایسے ممالک میں رہتی ہے جہاں مذہبی آزادی کو نمایاں خطرات کا سامنا ہے یا وہاں سرے سے یہ آزادی میسر ہی نہیں۔ امریکی عوام  عبادت اور مذہب کی آزادی کے دفاع اور فروغ کی کوشش میں کبھی بھی بیزار نہیں پڑیں گے۔ ہم سبھی کے لیے مذہبی آزادی کے خواہاں ہیں۔

امریکی کبھی بھی معصوم زندگی کا تحفظ  کرتے ہوئے تھکیں گے نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اقوام متحدہ کے بہت سے منصوبوں کے ذریعے یہ عالمگیر حق حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ مطالبے کی صورت میں،  بچے کی پیدائش تک کسی بھی وقت ٹیکس دہندگان کے پیسے سے اسقاط حمل ممکن بنایا جا سکے۔ عالمی افسرشاہی کو ایسے ممالک کی خودمختاری پر حملہ کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں جو معصوم جانوں کو تحفظ دینا چاہتے ہیں۔ آج یہاں موجود بہت سے ممالک کی طرح امریکہ بھی اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ پیدا اور نہ پیدا ہونے والا،  ہر بچہ خدا کا مقدس تحفہ ہے۔

ذاتی دفاع کے حق سمیت، امریکہ کسی صورت میں بھی عالمگیر اداروں کو اپنے شہریوں کے حقوق کچلنے کی اجازت نہیں دے گا۔ اسی لیے رواں برس میں نے اعلان کیا کہ ہم اسلحے کی تجارت سے متعلق اقوام متحدہ کے اُس معاہدے کی کبھی بھی توثیق نہیں کریں گے جس سے قانون پسند امریکی شہریوں کی آزادیوں کو خطرہ لاحق ہے۔ امریکہ ہمیشہ ہتھیار رکھنے اور لے کر چلنے کے اپنے آئینی حق کو برقرار رکھے گا۔ ہم اپنی دوسری ترمیم کو ہمیشہ برقرار رکھیں گے۔

آج امریکہ اپنے جن بنیادی حقوق اور اقدار کا دفاع کر رہا ہے وہ امریکہ کی بنیادی دستاویزات میں رقم ہیں۔ ہمارے بانی یہ بات جانتے تھے کہ ایسے لوگ  ہمیشہ موجود رہیں گے جو حقیقی طاقت اور دوسروں پر حکمرانی کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔ جبر بہت سے ناموں اور بہت سے نظریات سے فروغ  پاتا ہے۔ تاہم یہ ہمیشہ غلبے کی خواہش رکھتا ہے۔ یہ بہت سے لوگوں کے مفادات کے تحفظ کی بجائے چند لوگوں کے استحقاق کی حفاظت کرتا ہے۔

ہمارے بانیوں نے ہمیں اس خطرناک جذبے کو روکنے کے لیے ایک نظام بنا کے دیا۔ انہوں نے امریکی طاقت ایسے لوگوں کے حوالے کی جنہوں نے ہماری قوم کا مقدر سنوارنے میں سب سے زیادہ حصہ ڈالا: یعنی ایک فخرمند اور انتہائی آزاد قوم۔

کسی قوم کی حقیقی بہتری انہی  لوگوں کی مرہون منت ہوتی ہے جو اس سے محبت کرتے ہیں۔ یہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کی جڑیں اس کی تاریخ میں ہوتی ہیں اور جو اس کی ثقافت میں پروان چڑہتے ہیں، جو اس کی اقدار پر کاربند رہتے ہیں، جو اپنے عوام  سے جڑے ہوتے ہیں اور جو یہ جانتے ہیں کہ اس کے مستقبل کی تعمیر کرنا یا اس کو کھونا  اِن کے ہاتھوں میں ہے۔ محب وطن لوگ کسی قوم اور اس کے مقدر کو جس انداز سے دیکھتے ہیں ویسے کوئی اور نہیں دیکھ سکتا۔

آزادی کا تحفظ، خودمختاری کی سلامتی، جمہوریت کی بقا، عظمت کا حصول، صرف اور صرف محب وطن لوگوں کے ارادے اور لگن کی بدولت ہی ممکن ہے۔ انہی کے جذبے کی بدولت جبر کے خلاف مزاحمت کرنے کی قوت، ورثہ چھوڑنے کا تحرک، دوستی تلاش کرنے کے لیے خیرسگالی اور امن حاصل کرنے کے لیے بہادری پیدا ہوتی ہے۔ اپنی قوم سے پیار اس دنیا کو تمام اقوام کے لیے بہتر بناتا ہے۔

اسی لیے آج یہاں موجود تمام رہنماؤں سے میرا یہ کہنا ہے کہ ہمارے ساتھ ایک ایسے مشن میں شامل ہوں جو کسی بھی شخص کے لیے سب سے زیادہ اطمینان بخش چیز ہو سکتی ہے اور جوکسی شخص کا ترقی میں موثر ترین حصہ ہو سکتا ہے: یعنی اپنی قوم کو اوپر اٹھائیں۔ اپنی ثقافت کو عزیز جانیں۔ اپنی تاریخ کا پاس کریں۔ اپنے شہریوں کی قدر کریں۔ اپنے ملکوں کو مضبوط، خوشحال اور دیانت دار بنائیں۔ اپنے لوگوں کے وقار کا احترام کریں تو کوئی چیز بھی  آپ کی پہنچ سے باہر نہیں ہو گی۔

جب ہمارے ملک عظیم تر ہوں گے تو مستقبل زیادہ روشن ہوگا، ہمارے لوگ زیادہ خوش ہوں گے اور ہماری شراکتیں مضبوط  سے مضبوط تر ہوتی چلی جائیں گی۔

ہم مل کر خدا کی مدد سے آزادی کے دشمنوں سے چھٹکارا پائیں گے اور انسانی وقار پر جبر کرنے والوں کے پرغالب آئیں گے۔ ہم زندہ رہنے کے نئے معیارات قائم کریں گے اور انسانی ترقی کی نئی بلندیوں کو چھوئیں گے۔ ہم تمام سچائیوں کو ازسرنو دریافت کریں گے، پرانے اسراروں سے پردے اٹھائیں گے اور نئی پرجوش کامیابیاں حاصل کریں گے۔ ہمیں پہلے سے کہیں زیادہ قوموں کے درمیان مزید خوبصورت دوستیاں ملیں گی اور اُن کے مابین پہلے سے کہیں زیادہ ہم آہنگی ملے گی۔

میرے ساتھی رہنماؤ، امن، ترقی، آزادی، انصاف اور تمام انسانیت کے لیے بہتر دنیا کی راہ کی ابتدا اپنے گھر سے ہوتی ہے۔

 آپ کا شکریہ، خدا آپ پر رحمت کرے، خدا دنیا کی اقوام پر رحمت کرے۔ اور خدا امریکہ پر رحمت کرے۔ آپ کا بے حد شکریہ۔ (تالیاں)

اختتام                                 صبح 10بجکر 49 منٹ ای ڈی ٹی


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں