rss

وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو کا جوہری ایران کے خلاف متحد، 2019 کی ایران کانفرنس سے خطاب "ایرانی جارحیت: دنیا جاگ اٹھی”

English English, العربية العربية, Français Français, Português Português, Русский Русский, 中文 (中国) 中文 (中国)

امریکہ کا محکمہ خارجہ
ترجمان کا دفتر
پیلس ہوٹل
نیویارک سٹی، نیویارک
25 ستمبر 2019

صبح الخیر۔ سب کو صبح الخیر۔ آپ کا شکریہ۔ صبح الخیر۔ سینیٹر لیبر مین آج مسلسل دوسرے سال خطاب کے لیے مجھے مدعو کرنے پر آپ کا شکریہ۔ مارک آپ کے درمیان موجود ہونا ایک اعزاز کی بات ہے۔ آپ لوگوں کو آج یہاں  آرام دہ نشستیں ملی ہوئی ہیں۔

جیسا کہ سینیٹر لیبرمین کہہ چکے ہیں میں بھی چند ایک خاص مہمانوں کو خوش آمدید کہنا چاہتا ہوں،  سعودی عرب کے وزیر السبحان، بحرین کے سفیر اور سفیر ڈرمر، اور ایرانی  امریکی یہودی فیڈریشن کی سوسن عزیززادے۔ (تالیاں) جی ہاں (قہقہے) اور ایران میں انسانی حقوق کے ایک عظیم حمایتی، مازیار بھاری۔ اور میں آج  تمام ایرانی سامعین کو سلام کہنا چاہتا ہوں۔ اِس صبح میرے پاس ایرانی عوام سے کہنے کے لیے بہت کچھ ہے۔ 

میں چاہتا ہوں کہ آپ سب اس ماہ کے اوائل میں ابقیق، سعودی عرب کے منظر کا تصور کریں۔ یہ سورج طلوع ہونے  سے تھوڑی دیر  پہلے کا وقت تھا کہ سعودی عرب کے تیل صاف کرنے کے سب سے بڑے کارخانے پر میزائلوں اور ڈرونوں کی بارش ہونے لگی۔ وہاں سے بہت سے بین الاقوامی [افراد] –  یعنی غیرملکی، امریکی  – بہت زیادہ دور نہیں تھے۔ کام کرنے والوں اور اُن کے بچوں نے دھماکوں کی آوازیں سنیں۔ برسبیل تذکرہ، میرے بیٹے کا خیال نہیں تھا کہ یہ اتنا مزاحیہ ہے جتنا کہ آپ سمجھ رہے ہیں کہ میں فوجداری کی بین الاقوامی عدالت میں [پیش ہونے] جا رہا ہوں۔ (قہقہے) اگرچہ اس نے یہ بات ضرور کہی کہ وہ کم ازکم ابتدائی [سماعت کے موقع پر] موجود ہونا چاہے گا۔ (قہقہے)  

سنجیدہ بات کی طرف لوٹتے ہیں۔ اُن کے بچے تھے ۔ ۔ ۔ خدا کا شکر ہے کوئی انسانی جان ضائع نہیں ہوئی مگر ایسا بڑی آسانی سے ہو سکتا تھا۔ ان معنوں میں، خطے میں سب، اور بلا شک و شبہ دنیا میں سب خوش قسمت ٹھہرے۔ 

میں نے فوری طور پر اسے ایک "جنگی فعل” کہا، [جس میں] ایک خود مختار ریاست ایک دوسری خود مختار

ریاست کے خلاف تھی، کیونکہ [حقیقت یہی] تھی۔ یہ ایک خود مختار ریاست، سعودی عرب کے خلاف حملہ تھا۔

یقینی طور پر یہ عالمی معیشت پر بھی ایک حملہ تھا۔

بعض نے کہا کہ یہ اعلان جلد بازی میں نتیجے پر پہنچنا تھا۔ تاریخ  – چھ دنوں پر مشتمل تاریخ نے  –  ہمیں درست ثابت کیا ہے، امریکہ کو درست ثابت کیا ہے۔ ہم نے قدم اٹھانے میں جلد بازہ سے کام نہیں لیا۔

ہم نے صبر سے کام لیا۔ ہم نے اپنے حلیفوں سے بات کی۔ ہم نے حقائق جانے۔ ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے تھے کہ سب کو وہ کچھ دیکھنے کا موقع ملے جس کا ہمیں علم تھا۔

اور جیسا کہ سینیٹر لیبرمین نے اس ہفتے کہا، برطانیہ، فرانس، اور جرمنی نے اپنے [اخذ کردہ] نتائج کے بارے میں ایک بیان جاری کیا۔

انہوں نے کہا، اُن کے الفاظ ، "ہم پر یہ واضح ہے” –  کہ یہ تین ممالک، "ہم پر واضح ہے کہ ایران پر اس حملے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور معقول وجہ نہیں ہے۔  

انہوں نے بیان میں کہا، "ممکن ہے کہ یہ حملے سعودی عرب کے خلاف ہوں، مگر اِن کا تعلق تمام ممالک سے ہے اور یہ ایک بڑے تصادم کے خطرات میں اضافہ کرتے ہیں۔” 

اور انہوں نے اعلان کیا کہ، "ایران کے لیے اپنے جوہری پروگرام کے ساتھ ساتھ علاقائی سلامتی سے متعلقہ مسائل کے ایک طویل مدتی ڈھانچے پر مذاکرات قبول کرنے کا وقت آ گیا ہے۔”

کچھ یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ امریکہ کے ساتھ شامل ہو چکے ہیں۔ میرے خیال میں اصل بات یہ ہے کہ وہ حقیقت کے ساتھ شامل ہوئے ہیں۔ جیسے ہم سب حقائق کو دیکھتے ہیں میرے خیال میں وہ بھی حقائق کو اُسی طرح دیکھ کر ہمارے ساتھ شامل ہوئے ہیں۔ اور یہ ایک پیشرفت ہے۔  

قومیں حقیقت کی حمایت کر رہی ہیں۔ وہ اسے وہی کچھ کہہ رہی ہیں جو کہ یہ ہے۔ ایک ایسی چیز جسے اس کمرے میں موجود ہم سب کو ایک طویل عرصے سے علم ہے۔

یہ ایک بیداری کی ابتدا  ہے – اس سچ کی طرف کہ ایران جارح  ہے نہ کہ متاثرہ فریق، جیسا کہ وہ واشنگٹن میں بھاگ دوڑ کے دوران کر رہے ہیں – اوہ مجھے معاف کیجیے جیسا کہ اس ہفتے وہ نیویارک میں بھاگ دوڑ کے دوران کر رہے ہیں۔  

اور یہی وہ کچھ ہے جو امریکی جمہوریت اور سفارت کاری نے حاصل کیا ہے۔

جب صدر ٹرمپ جوہری معاہدے، جے سی پی او اے سے نکلے تھے تو انہوں نے محض امریکہ کی قومی سلامتیوں* پر ہی موقف اختیار نہیں کیا تھا۔ بلکہ انہوں نے اس وقت کہا تھا کہ اس معاہدے نے صرف "ایران کی [خونی] خواہشات کو … مزید ڈھیٹ” بنا دیا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران کی اپنے لوگوں کے خلاف، اپنے ہمسایوں کے خلاف، اور بلا شبہ بذات خود تہذیب کے خلاف بلا اشتعال جارحیت کی ایک طویل  تاریخ  ہے جسے اب 40 سال ہو چکے ہیں۔

یہ ایک طویل فہرست ہے۔ اپنے لوگوں کو قتل کرنے اور اذیتیں پہنچانے سے لے کر، لبنان تا عراق امریکیوں کو قتل کرنے، حتٰی کہ آج بھی القاعدہ کی پشت پناہی کرنے تک، ایران نے چار دہائیوں سے تباہی مچائی ہوئی ہے اورافسوس یہ ہے کہ نہ ہونے کے برابر نتائج بھگتے بغیر۔   . 

اس جوہری معاہدے کے دوران – یعنی جوہری معاہدے کے مذاکرات کے دوران، ایران کی بدنیتی پر مبنی کاروائیاں ایک لمحے کے لیے بھی نہیں کم ہوئیں حالانکہ کے اس معاہدے کے پیچھے یہی نظریہ کارفرما تھا۔ اسرائیل کی وجہ سے ہمیں اب پتہ چلا ہے کہ عین اسی وقت وہ اپنے جوہری طریقہ واردات کا تحفظ کر رہے تھے، اسے خفیہ رکھ  رہے تھے، اور اسے محفوظ بنا رہے تھے۔  

انہوں نے معاہدے پر دستخط کرنے  اور نقد رقم کے ڈھیر وصول کرنے کے بعد پورے خطے میں بلاشک و شبہ حزب اللہ، حماس، حوتیوں، اور شیعہ ملیشیاؤں کی پشت پناہی جاری رکھی۔ دنیا نے اُن کے نخرے اٹھائے اور پھر اُن کی دہشت گردی کی ضمانت بھی دی۔

جب صدر ٹرمپ نے اپنا عہدہ سنبھالا تو [اُن سے] پہلی انتظامیہ کی توقعات کے برعکس، ایران  قوموں کی برادری میں شامل نہ ہوا۔

ہمارے سامنے کیا آیا:ایران کی اسد کی حمایت کی وجہ سے شام میں ہمارے سامنے پناہگزینوں کا ایک بحران؛ حوتیوں کو ایران کے ہتھیار دینے کی وجہ سے یمن میں ایک انسانی دلدل؛ شیعہ ملیشیاؤں کی حمایت کی وجہ سے ایک خستہ حال عراق؛ [اور] لبنان کے نام سے جانی جانے والی ایک ایرانی آلہ کار ریاست، لبنان آئی۔ 

ہم نے ایرانیوں کو امریکی شہریوں اور دیگر بہت سے ممالک کے شہریوں کو جیل میں قید کرتے اور اُن پر تشدد کرنے کے ساتھ ناحق حراست میں لیتے ہوئے دیکھا۔

یہ ابھی کل ہی کی بات ہے کہ صدر ٹرمپ نے [دو قسم کے] لوگوں کے درمیان ایک خط تفریق کھینچا۔ [ایک وہ ہیں] جو یہ سوچتے ہیں کہ ” دوسروں پر حکومت کرنا اُن کا مقدر ہے،” اور دوسرے  "وہ لوگ اور ملک ہیں جو صرف اپنے آپ پر حکومت کرنا چاہتے ہیں۔” یہ روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کس زمرے میں آتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ گزشتہ برس معاہدے سے ہمارے نکلنے کے بعد ہم نے  صدر ٹرمپ کی حکمت عملی پر عمل کیا –  دیکھنے میں تو یہ زیادہ سے زیادہ  دباؤ ڈالنے کی ایک سادہ اور  مختصر سی مہم معلوم ہوتی ہے  –  مگر یہ اس سے بڑھکر کہیں زیادہ ہے۔

ہم نے اُن آمدنیوں کے ذرائع کو منقطع کرنا شروع کر دیا جنہیں یہ حکومت موت اور تباہی کی مالی مدد کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ اور ہم نے اس کے فوائد دیکھے ہیں۔ ہم نے حکومت پر ایک ایسا حقیقی معاہدہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا شروع کیا جو اس بات کو یقینی بنائے کہ دنیا کی سرکش ترین حکومت کے ہاتھ  تاریخ  کے سب سے زیادہ تباہی مچانے والے ہتھیاروں کے نظام کبھی بھی نہ آنے پائیں۔  

اور جیسا کہ صدر نے کل کہا، اپنے عوام کی خاطر، "اب ایرانی رہنماؤں کے لیے وقت آ گیا ہے کہ وہ آگے قدم بڑھائیں اور دیگر ممالک کو دھمکانے کی بجائے اپنے ملک کی ترقی پر توجہ مرکوز کریں۔ اب ایرانی رہنماؤں کے لیے وقت ہے کہ وہ [اِن لوگوں کو یعنی] ایرانی عوام کو مقدم جانیں۔” اور مجھے اعتماد ہے –  مجھے اعتماد ہے کہ ایرانی عوام بھی اس کا مطالبہ کریں گے۔ (تالیاں) اور جب وہ ایسا کریں گے تو یہ بات آپ کے علم میں ہونی چاہیے کہ یہ انتظامیہ اُن کی مدد کرے گی۔ (تالیاں)

غور کریں کہ ہم نے امن کی اپنی منزل حاصل کرنے کے لیے بے مثل اقدامات کو عملی جامہ پہنایا ہے۔

ہم نے اُن کی خونریزی کی وجہ سے – اُن کے خون سے رنگے ہاتھوں کی وجہ سے [جرائم کا] ارتکاب کرنے والے  اعلٰی سطحی افراد پر پابندیاں لگائی ہیں۔ اُن میں سے صرف چند ایک نام  یہ ہیں: رہبر اعلٰی، وزیر خارجہ ظریف، اور آئی آر جی سی۔   

ہم نے حکومت کو اربوں ڈالروں سے محروم کرنے کے لیے تیل اور اس سے متعلقہ مصنوعات کے شعبے اور دھاتوں کے شعبے اور بنکنگ کے شعبے کو پابندیوں کا نشانہ بنایا ہے۔ اور اِن پابندیوں کا  کڑے انداز سے مستقل نفاذ جاری ہے اور جاری رہے گا۔

دنیا بھر کی ہزاروں کمپنیاں ہماری پابندیوں پر عمل  کر رہی ہیں۔ کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ اُن کی کامیابی کا دارومدار امریکہ پر ہے نہ کہ آیت اللہ پر ہے۔

اور حکومت کے تیل کے شعبے پر پابندیاں عائد کرنے سے ہم نے ایران کے  اول نمبر کے آمدنی کے ذریعے کو بند کر دیا ہے۔ 30 سے زائد ممالک کی  ایرانی تیل کی درآمدات صفر پر آ گئی ہیں۔ اور مستقبل میں ایرانی تیل کے شعبے پر ہماری پابندیوں کی وجہ سے ایرانی حکومت ہر سال 50 ارب ڈالر کی آمدنی سے محروم ہو جائے گی۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ یہ پابندیاں مئی کے مہینے میں اپنی انتہا پر پہنچیں جسے اب تک کم و بیش پانچ ماہ ہوئے کو ہیں۔ بہت سا کام کرنا ابھی باقی ہے۔  

اور ہم خوش قسمت ہیں۔ امریکی طاقت کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی دوسرا ملک برداشت کرنے کے لیے اتنا شدید دباؤ نہیں ڈال سکتا۔

جیسا کہ ہم سر عام  بولے جانے والے جھوٹوں میں دیکھ چکے ہیں کہ یہ بے مثل دباؤ بھی اس حکومت کو گھبراہٹ والی جارحیت پر مجبور کر رہا ہے۔

ہمیں کسی تصادم کے لیے اکسانے، ملکوں میں تقسیم پیدا کرنے، اور انہیں کسی کاروائی پر مجبور کرنے  کی خاطر وہ چالوں کی اپنی کتاب میں سے تمام چالیں استعمال کر رہے ہیں۔*  اور آپ کو علم ہونا چاہیے کہ اُن کی چالوں کی کتاب کامیاب نہیں ہوگی۔

حالیہ موسم گرما میں ایران نے بین الاقوامی آبی راستوں میں تیل کے ٹینکروں پر حملے کیے۔ اس نے ایک امریکی یو اے وی کو مار گرایا اور اپنے جوہری وعدوں کو توڑنے کی دھمکی دی اور توڑا۔ اور یہ اسرائیل کے لیے موت کا اعلان کرنا بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ 

اور ابھی کل ہی اس حکومت نے آپ کی تنظیم کو – جسے سینیٹر لیبرمین نے ایک پُرامن غیر منفعتی تنظیم قرار دیا –  دہشت گردوں کی اپنی فہرست میں شامل کیا ہے۔ اس حکومت نے ایف ڈی ڈی میں ہمارے دوستوں کے ساتھ چند ہفتے قبل بالکل اسی طرح کیا۔

یہ ظلم کی بات ہے۔ یہ اس حکومت کے لیے بھی ایک زیادتی کی بات ہے۔ اس کا یقیناً یہ مطلب ہے کہ آپ کوئی نہ کوئی اچھا کام کر رہے ہیں۔

اور ایران بالکل سفید جھوٹ بولتا ہے اور جب بھی ہم اسے اس طرح  کرتے ہوئے دیکھیں ہمارے لیے  ضروری ہے کہ اس سے سوال پوچھیں۔

گزشتہ رات میں نے فوکس نیوز [چینل] لگایا تو میں نے دیکھا کہ صدر روحانی کرس والیس کے ساتھ باتیں کر رہا ہے۔ یہ اپنی جگہ ایک عجیب بات ہے۔ (قہقہے)

اُس نے دعوی کیا –  روحانی نے دعوی کیا کہ ایران جہاں کہیں بھی ہو دہشت گردی کو شکست دیتا ہے۔ 

اُس نے دعوی کیا، "یقینی طور پر، بغیر کسی شک شبہے کے” اسرائیل داعش کی حمایت کرتا ہے۔

اور اس نے ایک ناقابل یقین بات کی – اور یہاں مجھے اُس کی بات ضرور دہرانی چاہیے – اس نے کہا، میں اس کے الفاظ دہراتا ہوں، "ایران ایک ایسا ملک ہے جو خطے میں امن لے کر آیا ہے۔” اور ہاں بہت سے لوگ روحانی اور ظریف کی باتیں غور سے سنتے ہیں اُن کے الفاظ کو متعلقہ، یا اہم، یا حقیقی، یا درست مانتے ہیں۔

روحانی دھوکہ دینے کے لیے بے چین ہے کیونکہ سچ کے لیے دنیا کی آنکھیں کھل رہی ہیں۔ سچ یہ ہے کہ ایران طاقت سے مانتا ہے نہ کہ منت سے۔  صدر ٹرمپ یہ بات جانتے ہیں۔

زیادہ سے زیادہ ملک ایران کے پُرتشدد رویے کی مخالفت کر رہے ہیں اور اس سے معاشی تعلق توڑ رہے ہیں۔ ہم اسے یقینی بنائیں گے کہ سب ملک ایسا ہی کریں۔ بقول صدر کے انہیں یہ احساس ہونے لگا ہے، ” کسی بھی ذمہ دار حکومت کو ایران کی [خونی پیاس] بجھانے میں  معاونت نہیں کرنا چاہیے۔”

ہم نے پیشرفت کی ہے۔ فرانس نے اپنے ملک میں آنے اور جانے والی ماہان ایئر کی تمام  پروازوں پر پابندی لگا دی ہے۔ 

جرمنی نے بھی اِن طیاروں کے اپنی سرزمین پر اترنے پر پابندی لگا  دی ہے۔

ارجنٹینا نے حال ہی میں حزب اللہ کو دہشت گرد گروہ کی حیثیت سے نامزد کیا ہے۔

اور برطانیہ نے کہا ہے کہ وہ اب حزب اللہ کے سیاسی اور فوجی شعبوں کے جھوٹے فرق کو نہیں مانے گا۔

یونان نے شام  تیل لے کر جانے والے ایک ایرانی سپر ٹینکر کو اپنی بندرگاہوں سے ایندھن حاصل کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔

پہلی مرتبہ ہالینڈ نے یہ اعلان کیا ہے کہ اس کے اُن دو شہریوں کے قتل کے پیچھے ایران کا ممکنہ ہاتھ  ہے جو ایرانی منحرفین تھے۔ 

آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کے تحفظ کے لیے آسٹریلیا، بحرین، سعودی عرب، یو اے ای، اور برطانیہ سب ہمارے ساتھ شامل ہو چکے ہیں۔  

کل میں جی سی سی ممالک کے [لیڈروں کے] ساتھ تھا۔ انہیں ایران کی طرف سے امن کو درپیش خطرات کا علم ہے اور وہ انہیں روکنے کے لیے تیار ہیں۔ جب صدر ٹرمپ نے کل اُن سے ملاقات کی تو یہ بھی واضح تھا کہ خطے میں استحکام کو یقینی بنانے کے لیے جو کچھ بھی کرنا پڑا  وہ اس کے لیے تیار ہیں۔

اب میں جانتا ہوں کہ جب میں یہ کہوں گا کہ یہ موثر کثیر المملکیت ہے تو کئی ایک باتونی پھٹ پڑیں گے۔ یہ وہی کچھ ہے جو ٹرمپ انتظامیہ نے کرنے کی کوشش کی ہے یعنی واضح مقصد کے ساتھ حقیقت اور سچے حالات پر مبنی کثیر المملکیت۔

ملک اپنے آپ کو اسی طرح پیش کر رہے ہیں جس طرح کے صدر ٹرمپ نے کل اُن کے ہونے پر تعریف کی تھی یعنی "ایسے  خودمختار اور آزاد ممالک جو اپنے شہریوں کا تحفظ کرتے ہیں، اپنے ہمسایوں کا [احترام] کرتے ہیں اور اُن تفاوات کو قبول کرتے ہیں جو ہر ملک کو [اپنی جگہ پر] خاص اور منفرد بناتے ہیں۔ ”  

یہی وہ کچھ ہے جو امریکی سفارت کاری نے حاصل کیا ہے۔ تاہم بہت سا مزید کام کرنا ابھی باقی ہے۔

مگر ملک یقیناً اس سچ پر آنکھیں کھول رہے ہیں کہ ایران جتنے زیادہ حملے کرے گا اتنا ہی زیادہ ہمارا دباؤ ہوگا اور ہونا بھی چاہیے۔

اور قیادت کرنے کے لیے آپ امریکہ پر بھروسہ کر سکتے ہیں بلکہ ہر ایک ملک [بھروسہ] کر سکتا ہے۔ جیسا کہ صدر ٹرمپ نے کل کہا، "جب تک ایران کا خطرناک طرزعمل جاری رہے گا اس وقت تک اس پر پابندیاں بھی برقرار رہیں گی۔ بلکہ ان میں مزید سختی آئے گی۔” مستقبل کی راہ کا آغاز دو شرائط سے ہوتا ہے:

پہلے، ہم آئی آر جی سی کو ایرانی معیشت سے جدا کرنے کے لیے نئے اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ امریکہ اُن ممالک اور کمپنیوں کو آگاہ کرنے کی اپنی کوششوں میں تیزی لائے گا جو آئی آر جی سی کے اداروں کے ساتھ کاروبار کرنے کے خطرات مول لیتی ہیں۔ اگر وہ ہماری تننبیہات  پر توجہ نہیں دیں گی تو ہم انہیں سزا دیں گے۔ 

دوسرے، آج ہم امریکی پابندیوں کے برعکس جان بوجھ کر ایران سے تیل لے جانے والی مخصوص چینی کمپنیوں پر پابندیاں لگا رہے ہیں۔ (تالیاں) ایک اہم بات یہ ہے کہ ہم اِن کمپنیوں کے انتظامی افسروں پر بھی پابندیاں لگا رہے ہیں۔ اور ہم چین کو اور تمام ممالک کو بتا رہے ہیں کہ یاد رکھیں کہ ہم تعزیروں کی زد میں آنے والی ہر ایک سرگرمی پر پابندی لگائیں گے۔ 

اپنے خطاب کے اختتام سے پہلے میں تمام ذمہ دار ممالک سے کہتا ہوں: کیا آپ عوامی طور پر ایران کی بدنیتی پر مبنی سرگرمی کی مذمت کریں گے؟ ہمیں آپ کے ایسا کرنے کی ضرورت ہے اور دنیا ایسا کرتی ہے۔

کیا آپ ہمارے ساتھ باز رکھنے والے اقدامات کی بحالی کے لیے کام کریں گے؟ ہمیں آپ کے ایسا کرنے کی ضرورت ہے اور دنیا ایسا کرتی ہے۔

عالمی تجارت میں جہاز رانی کی آزادی کو تحفظ فراہم کرنے میں کیا آپ ہماری مدد کریں گے؟ ہمیں آپ کے ایسا کرنے کی ضرورت ہے اور دنیا ایسا کرتی ہے۔

اہم ترین بات: ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کے لیے کیا آپ ہماری مدد کریں گے؟ ہمیں آپ کی مدد کی ضرورت ہے؛ دنیا کو مدد کی ضرورت ہے۔

اور کیا آپ ہمارے ساتھ ساتھ اسرائیل کی حمایت بھی کریں گے؟ ہمیں آپ کے ایسا کرنے کی ضرورت ہے؛ دنیا کو آپ کے ہمارے ساتھ شامل ہونے کی ضرورت ہے۔ (تالیاں)

گو کہ سادہ نہیں مگر ہمارا مقصد بڑا واضح ہے ۔ اور ہمیں علم ہے کہ سفارت کاری کام کر رہی ہے، ہمارا عزم مضبوط ہے، اور ہماری آنکھیں کھلی ہیں۔ میرے خیال میں دنیا میں بیداری کا آغاز ہو چکا ہے۔

اِس صبح آخری مرتبہ صدر کے ان الفاظ کا حوالہ دے رہا ہوں – "تمام ملکوں – ہر ایک ملک – کا حرکت میں آنے کا فرض بنتا ہے” آپ کیا کریں گے؟

آپ کا شکریہ۔

خدا آپ پر رحمت کرے۔

اور خدا ایران کے عوام پر رحمت کرے۔ (تالیاں)   


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں