rss

”ٹرمپ انتظامیہ کی سفارت کاری: ان کہی کہانی” وزیر خارجہ مائیکل آر پومپئو کا ہیریٹیج فاؤنڈیشن میں صدارتی کلب کے اجلاس سے خطاب

العربية العربية, English English, Français Français, Português Português, Español Español, Русский Русский

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا

میریٹ مارکیز
واشنگٹن ڈی سی
22 اکتوبر 2019 


وزیر پومپئو: آپ سب کا شکریہ۔ سبھی کو صبح بخیر۔ میرے پاس تیار شدہ تقریر ہے اور اس کے بعد میں کچھ اپنی باتیں کہوں گا۔ (قہقہہ)۔ آج میں ان دونوں کو ملا کر بات کروں گا۔

میں کے اور ہیریٹیج کی تمام قیادت کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے مجھے  آج یہاں بلایا ہے۔ سٹیج کے عقب میں ہم آج رات ہونے والی تقریب کے بارے میں بات کر رہے تھے اور میں  نے انہیں یاد دلایا کہ کانگریس کے رکن کی حیثیت سے میں کئی مرتبہ اس تقریب میں شریک ہو چکا ہوں۔ یہ واشنگٹن میں ایک اہم ادارہ ہے جو امریکہ کے لیے کام کرتا ہے اور میں اس کی قدر کرتا ہوں، موجودہ امریکی انتظامیہ بھی اس کی قدردان ہے اور مجھے علم ہے کہ امریکہ بھر میں بہت سے رہنما بھی اس کی قدر کرتے ہیں۔

یہاں آنا بے حد خوشی کا باعث بھی ہے۔ سبھی کو باب ڈیلن کا گیت ”طوفان میں پناہ” یاد ہے۔ آپ سبھی کے ساتھ موجودگی خوشی کی بات ہے۔ (قہقہہ)۔ میں جانتا ہوں کہ میرے دوستوں کا ٹولہ بھی یہاں موجود ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں میں خاصے طویل عرصہ سے جانتا ہوں میں اس اہم ادارے کی معاونت پر آپ سب کا شکریہ بھی ادا کرنا چاہتا ہوں۔ درحقیقت ہیریٹیج نے آزاد معاشروں میں آزاد منڈی پر یقین رکھنے والوں کی کئی نسلوں کو تربیت دی ہے۔ میں کنساس میں ”کنساس پبلک پالیسی انسٹیٹیوٹ” نامی تھنک ٹینک کا مہتمم ہوا کرتا تھا۔ ہم اپنی سمت درست رکھنے کے لیے ہر وقت ہیریٹیج کی رپورٹوں سے استفادہ کرتے تھے اور کنساس کو اسی طرح درست ڈگر پر رکھنے کی کوشش کرتے جس طرح آپ سبھی یہاں واشنگٹن کے لیے کر رہے ہیں۔

آخری مرتبہ مجھے گزشتہ برس مئی میں ہیریٹیج کے سامعین کے سامنے بات کرنے کا اعزاز حاصل ہوا تھا۔ اس وقت مجھے وزیر خارجہ کا عہدہ سنبھالے چند روز ہی گزرے تھے۔ مجھے پہلے ہی سی آئی اے کی یاد آ رہی تھی۔ وہاں خاصی خاموشی تھی (قہقہہ) اور اس قدر عوامی ماحول نہیں تھا۔

دیکھیے، اسی وقت ہم ایرانی جوہری معاہدے سے دستبردار ہوئے تھے۔ میں نے بارہ شرائط پیش کیں جن میں یہ بھی شامل تھا کہ ایران اپنا بلسٹک میزائل پروگرام ختم کرے گا، امریکی یرغمالیوں کو رہا کرے گا اور دہشت گردی و بنیاد پرستی جیسے پاگل پن کو روکے گا۔ میں نے انہیں کہا تھا کہ یرغمال بنانا اور یورپ میں لوگوں کو قتل کرنا بند کیا جائے۔

واشنگٹن پوسٹ کی ایک سرخی کچھ یوں تھی کہ ”مائیک پومپئو نے ایران کے حوالے سے احمقانہ تقریر کی۔” اسی طرح نیویارک ٹائمز نے بھی ایسی ہی خبر دی کہ ”ہیریٹیج میں اپنی تقریر میں پومپئو نے ایرانی طرزعمل کو تنقید کا نشانہ بنایا”۔ دراصل یہ بات جزوی طور پر درست تھی۔ (قہقہہ)۔ میں ان کے طرزعمل پر ہی تنقید کر رہا تھا۔ ایسی بہت سی سرخیاں ہیں اور آپ یہ سب دیکھ چکے ہیں۔

اب ان کا موازنہ ہیریٹیج کی سرخی سے کرتے ہیں جو اسی روز سامنے آئی۔ اس میں کہا گیا تھا کہ ”پومپئو نے ایک اہم تقریر میں ایرانی عوام کی حمایت میں بات کی ہے”۔ درحقیقت اگر آپ میری ان باتوں پر دوبارہ نظر ڈالیں تو اندازہ ہو گا کہ میں یہی کچھ کہنے کی کوشش کر رہا تھا۔ (تالیاں)۔

دراصل آج میں یہی بات کرنا چاہتا ہوں۔ ہم ایرانی عوام کے ساتھ تھے۔ میری بات درست طور سے سمجھنے پر آپ کا شکریہ۔ وہ داستان بیان کرنے میں میری مدد پر آپ کا شکریہ جو بعض اوقات دوسری جگہوں پر بیان نہیں ہو پاتی۔

وہ میری پہلی تقریر تھی، وزیر خارجہ کی حیثیت سے وہ میری پہلی بڑی  تقریر تھی۔ جیسا کہ میں نے کہا ہے اس کا مرکزی خیال  یہ تھا کہ ہم نے ایرانی عوام کو کامیابی میں مدد دینے کے لیے اپنی بہترین کوشش سے کام لیا اور میں سمجھتا ہوں کہ یہی اس کام کی بنیاد تھی جو ہم نے گزشتہ ڈیڑھ برس میں کیا ہے۔

اس سے ہمیں اپنی خارجہ پالیسی کی راہ متعین کرنے میں بھی مدد ملی۔ میں نے کڑے پیغامات بھیجنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے جن سے دنیا کے طرزعمل بارے بنیادی حقائق کی نشاندہی ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے لیے زمینی حقائق کو جانے بغیر اچھی حکمت عملی اختیار کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

گزشتہ ہفتے نائب صدر پنس نے یہی کچھ کیا جب وہ اور میں انقرہ گئے تھے۔ مجھے یقین ہے کہ جب میں کم سے ملوں گا تو اس دوران وہاں کی صورتحال پر بات ہو گی۔

جہاں تک ایران کا معاملہ ہے تو غالباً آپ ایک انداز میں وہ بات سن چکے ہیں۔ تاہم جو بات بیان نہیں ہوئی وہ اس حقیقت سے شروع ہوتی ہے کہ ہماری انتظامیہ کو شام میں بے ترتیبی ورثے میں ملی تھی۔ گزشتہ انتظامیہ نے ناصرف شام بلکہ مغربی عراق میں بھی خلافت کو اپنی جڑیں جمانے کا موقع دیا جو اربیل کے بیرونی حصوں تک پہنچ گئی تھی۔

ٹرمپ انتظامیہ نے ایس ڈی ایف کے جنگجوؤں اور اتحاد میں شامل 70 ممالک کی مدد سے اس کے خلاف کارروائی کی۔ یہ ایسی بات ہے جس کا زیادہ تذکرہ نہیں ہوتا۔ ہم نے شام اور عراق میں خلافت کو تباہ کرنے کے لیے یہ ٹیم تیار کی تھی۔ ایس ڈی ایف میں زبردست کرد اور عرب جنگجو شامل تھے۔ ہم اس امر سے بھی آگاہ ہیں کہ ہمارے نیٹو اتحادی ترکی کو وہاں اپنی سلامتی کے حوالے سے جائز خدشات لاحق ہیں۔ درحقیقت امریکہ نے طویل عرصہ سے پی کے کے کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔ ہم ترکی کے خدشات کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ چنانچہ ہم دفتر خارجہ کی قیادت میں اور وزارت دفاع کے ساتھ اس خطے میں ایک محفوظ علاقہ بنانے کے لیے کام کر رہے تھے تاکہ دونوں میں ثالثی کی کوشش ہو سکے۔

صدر ٹرمپ نے ترکی کو خبردار کیا تھا کہ وہ حملہ نہ کرے۔ افسوسناک طور سے انہوں نے چڑھائی کر دی۔ جب صدر اردوگان آگے بڑھے تو صدر ٹرمپ نے تباہی سے بچنے کے لیے ایک سفارتی ٹیم بھیجی۔ آپ چند ہی گھنٹوں میں دیکھیں گے کہ 120 گھنٹوں کی جنگ بندی سامنے آئے گی۔ میں اس صورتحال پر مزید بات کروں گا تاہم یقینی طور پر کچھ پیش رفت ہو چکی ہے۔

سچائی یہ تھی کہ یہ چڑھائی جاری رکھنا نیٹو اتحادی کی حیثیت سے ترکی کے مفاد میں نہیں تھا۔ حقیقت  یہ تھی کہ اس چڑھائی سے داعش کے خلاف ہماری مشترکہ جدوجہد کو نقصان پہنچا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اب صورتحال پہلے سے بہتر ہے۔

سچائی یہ تھی کہ اگر ترکی اپنی چڑھائی جاری رکھتا تو صدر ٹرمپ ایسے اقدامات کے لیے تیار تھے جن سے ترکی کو اپنے اقدام کی قیمت چکانا پڑتی۔ چنانچہ صدر نے امریکہ کی معاشی طاقت استعمال کی تاکہ نیٹو اتحادی کے ساتھ حرکی تصادم سے بچا جا سکے۔ جیسا کہ صدر ٹرمپ نے اسی روز ٹویٹ کیا ”معاملہ سلجھانے کے لیے کچھ کڑے اقدام کی ضرورت تھی۔” (تالیاں )

یقیناً یہ ایک پیچیدہ داستان ہے۔ نتیجے کی کامیابی کا تاحال پوری طرح تعین نہیں ہوا۔ تاہم یہ اس کام کی ایک چھوٹی سی مثال ہے جو ہم دفتر خارجہ میں اور میں امریکہ کے سفارت کار اعلیٰ کی حیثیت سے کرتا ہوں۔ ابتدا ہی سے میری ذمہ داری یہ ہے کہ میں ممالک کو یہ سمجھنے میں مدد دوں کہ دنیا نے کیسے چلنا ہے۔

ایسے  بہت سے مزید حقائق ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران مظلوم نہیں بلکہ خود جارح ہے۔ سچ یہ ہے کہ چین ایسا تزویراتی حریف ہے جو جبر اور بدعنوانی کو ریاست کاری کے ہتھکنڈوں کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ (تالیاں) سچائی یہ ہے کہ ہم چیئرمین کم کو اپنے جوہری ہتھیار ترک کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے ناکام حکمت عملی پر انحصار نہیں کر سکتے۔ اس حوالے سے بہت سا کام ہونا باقی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم تمام فریقین کو مذاکرات کی میز پر لائے بغیر افغانستان میں امن اور مفاہمت ممکن نہیں بنا سکتے۔ یہ بھی سچ ہے کہ وینزویلا میں جمہوریت کی بحالی سے اس خطے میں ہمارا مفاد وابستہ ہے اور ہمیں اس مقصد کے حصول کے لیے اپنی کوششوں کا دائرہ مزید وسیع کرنا ہو گا۔ (تالیاں) سچائی یہ ہے کہ دنیا بھر میں سلامتی ممکن بنانے کے لیے ان عالمگیر اقدامات میں اپنا حصہ ڈالنا تمام ممالک کی ذمہ داری ہے۔ (تالیاں)

مجھے علم ہے کہ نائب صدر آج رات اس پر مزید بات کریں گے مگر بعض اوقات ایسے پیغامات جاری کرنا مذاق نہیں ہوتا۔ میں برسلز میں ایک نہایت ٹھنڈے کمرے میں بیٹھا تھا جو میری تقریر کے بعد پہلے سے زیادہ ٹھنڈا ہو گیا۔ (تالیاں) یقیناً ایسی ہی باتوں کے سبب میں ذرائع ابلاغ سے متعلقہ لوگوں میں غیرمقبول ہوں۔ آپ گوگل پر ”پومپئو” لکھ کر دیکھیں اور خود پڑھ لیں۔ (قہقہہ)

تاہم آج آپ کے سامنے مجھے یہ کہنا ہے کہ میں پرامید ہوں ہمیں کامیابی حاصل ہو رہی ہے اور ہم ان خطرات اور ایسے دیگر خطروں سے دنیا کو خبردار کر رہے ہیں چنانچہ آج میں آپ کو کچھ اپنی باتیں کہنا چاہتا ہوں۔

اس کا آغاز ایسے اقدامات سے ہوتا ہے جس کی ایک مثال گزشتہ ہفتے ترکی کے معاملے میں سامنے آئی۔ میں اب تک قریباً 55 ممالک کا دورہ کر چکا ہوں جن میں بہت سے ممالک میں میرے پیشرو بھی جا چکے ہیں۔

میں نے چھ مرتبہ لاطینی امریکہ کے ممالک کا دورہ کیا ہے۔ مغربی کرے میں یہ ایسا خطہ ہے جسے ہماری حکومتوں کے اعلیٰ رہنماؤں نے طویل عرصہ سے نظرانداز کیے رکھا ہے۔ میں نے کولمبیا اور پیرو سے لے کر ایکواڈور، پیراگوئے اور برازیل تک دورہ کیا ہے۔ چند ہی ہفتوں میں میرا دوبارہ جنوبی امریکہ جانا ہو گا جہاں میری چلی کے صدر سے ملاقات ہو  گی۔

میں مئی میں فن لینڈ گیا تھا تاکہ قطب شمالی کی حقیقی صورتحال سے آگاہی حاصل ہو اور وہاں چینیوں اور روسیوں کی جانب سے زمین پر قبضے اور خطے میں فوجی سرگرمیوں کی بابت علم ہو سکے۔

میں نے آزاد و کھلے خطہ ہندو الکاہل کے حوالے سے اپنا تصور پیش کرنے کے لیے آسٹریلیا، انڈیا اور تھائی لینڈ کا دورہ ہی نہیں کیا بلکہ مجھے پہلے امریکی وزیر خارجہ کی حیثیت سے مائیکرونیشیا جانے کا موقع بھی ملا۔ اس دوران میں نے اس علاقے میں چین کی سرگرمیوں کے حوالے سے ان کے ساتھ بات کی۔

مجھے ہنگری، سلواکیہ، آئس لینڈ اور مونٹی نیگرو جانے کا موقع بھی ملا جہاں طویل عرصہ سے کسی امریکی وزیر خارجہ نے قدم نہیں رکھا تھا۔

بعدازاں میں نے وزیر خارجہ کی حیثیت سے پہلی مرتبہ شمالی مقدونیہ کا دورہ کیا کیونکہ یہ پہلا موقع تھا جب بلقان خطے کے  اس امریکہ نواز ملک میں جانا ممکن ہوا۔

میرا اندازہ ہے کہ بہت کم امریکی اس کام سے آگاہ ہیں اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مگر سچائی کا تعلق اس بات سے ہے جو ٹرمپ انتظامیہ کو سامنے لانا ہے۔ میرا یہی کام ہے۔ اسی لیے آج میں یہاں موجود ہوں۔ اسی لیے غالباً میں دیگر وزرائے خارجہ کے مقابلے میں کئی مرتبہ یہاں آ چکا ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ امریکی عوام کے لیے یہ جاننا اہم ہے کہ دفتر خارجہ ٹیکس دہندگان کے ڈالر کہاں اور کیسے خرچ کر رہا ہے۔

تاہم معاملات پر بات کرنا اسی صورت مفید ہے جب آپ کا کوئی مقصد ہو اور آپ مشکل حالات میں سچائی بیان کرنے پر آمادہ ہوں اور ایسی باتیں کرتے رہیں جن کا بیان آسان نہیں ہوتا۔ اجلاس میں جانا اور سامعین کی مرضی کی بات کرنا، خود کو ان کا بہت بڑا اتحادی بتانا اور ایک دوسرے کے ساتھ خوشی کا اظہار اور باہمی اہم امور پر ایک دوسرے کے کام کی تعریف کرنا بہت آسان ہوتا ہے۔ اس کے بجائے مشکل معاملات پر بولنا کہیں زیادہ اہم ہے جہاں فریقین میں اختلافات ہوتے ہیں اور جہاں سچائی سامنے لائی جانی چاہیے۔

یوں لگتا ہے جیسے ہم حقیقت بیان کرنے کا کردار این بی اے سے اپنے ذمے لے رہے ہیں۔ (قہقہہ اور تالیاں) دیکھیے، اگر آپ ماضی پر نظر ڈالیں تو، میں سات سال کی عمر میں اس مقابلے میں حصہ لینے گیا تھا اور یہ بہت برا تجربہ رہا۔ (قہقہہ)

ایران اس کی بہترین مثال ہے۔ میں نے ابتدا ہی میں اس کا حوالہ دیا ہے۔ جب سے میں  نے وہ ”احمقانہ” تقریر کی اس وقت سے بات چیت کا رخ ہی بدل گیا ہے ۔ ایران پر پابندیوں کے معاملے میں سینکڑوں نجی کاروباری ادارے ہمارے ساتھ ہیں۔ اسی خدشے کے باعث یورپی کاروباری اداروں نے ایران سے ہاتھ کھینچ لیا ہے ۔ مجھے کئی مرتبہ بتایا گیا کہ صرف امریکی پابندیوں سے کام نہیں بنے گا۔ آپ آیت اللہ سے پوچھیں کہ آیا یہ بات درست ہے۔

ایرانی حکومت کی جانب سے سعودی تیل تنصیبات، برطانیہ، فرانس اور جرمنی پر بم حملوں کے بعد ان تینوں یورپی ممالک نے ایک بیان جاری کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ”ہم واضح طور سے سمجھتے ہیں کہ اس حملے کا ذمہ دار ایران ہے ۔۔۔ اور وقت آ گیا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے حوالےسے طویل مدتی فریم ورک پر بات چیت کو قبول کرے۔” ان کا یہ موقف اسلامی جمہوریہ ایران اور اس کی بدعنوان اور چور حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے امریکی حکمت عملی کے آغاز پر ان کے موقف سے بہت مختلف تھا۔ (تالیاں) اب دنیا کو سمجھ آ رہی ہے کہ ایران التجا کے بجائے طاقت کی زبان سمجھتا ہے۔

ایران اس داستان کا صرف ایک باب ہے۔ ذرا دیکھیے کہ کیسے صدر ٹرمپ نے عالمگیر توجہ چین کی جانب مبذول کرائی یا ایسے متعدد مواقع کو ذہن میں لائیے جب کثیرملکی اداروں میں امریکی اصولوں کو پذیرائی ملی۔ بڑی حد تک یہ موجودہ انتظامیہ کی دلیرانہ حکمت عملی کی بدولت ہی ممکن ہوا۔

ہم نے ایک بہت بڑا اتحاد بنایا ہے۔ مجھے دفتر خارجہ کے افسروں پر بے حد فخر ہے۔ ہم نے لیما گروپ کے نام سے اتحاد قائم کیا ہے جس کا مقصد وینزویلا میں جمہوریت کی بحالی ہے۔ پچاس سے زیادہ ممالک اب جوآن گوئیڈو کو وینزویلا کے عوام کا جائز منتخب رہنما تسلیم کر چکے ہیں۔ یہ امریکی دفتر خارجہ کے اچھے اور ٹھوس سفارتی کام کی بدولت ہی ممکن ہوا۔

ہم نے آسیان ممالک کو قائل کیا ہے کہ وہ خطہ ہندو الکاہل میں خودمختاری اور قوانین کی بنیاد پر نظام کی حمایت کریں۔

ہم نے جاپان، آسٹریلیا اور انڈیا کے ساتھ سلامتی سے متعلق گفت و شنید کا دوبارہ آغاز کیا ہے جو نو برس سے معطل تھی۔ یہ بات چیت چین کو دنیا میں اس کی جائز جگہ پر رکھنے کی آئندہ کوششوں میں نہایت اہم ثابت ہو گی۔

مجھے اس بات پر بھی فخر ہے کہ ہم نے مذہبی آزادی کے فروغ کے لیے سو سے زیادہ ممالک کے نمائندوں پر مشتمل وزارتی اجلاس کی میزبانی کی۔ یہ دفتر خارجہ میں انسانی حقوق پر اب تک ہونے والی سب سے بڑی کانفرنس تھی۔ ہم دو سال سے اس کا انعقاد کر رہے ہیں۔ (تالیاں)۔ اس کا اتنا تذکرہ نہیں ہوا جتنا ہونا چاہیے تھا۔ اگر آپ گوگل پر ٹرمپ انتظامیہ اور انسانی حقوق لکھیں تو آپ کو اس حیران کن کام پر ایم ایس این بی سی کی رپورٹ دکھائی نہیں دے گی جس کی بدولت تمام عقائد کے لوگ واشنگٹن آئے اور انہوں نے اس اہم حقیقت پر بات کی کہ یہ پہلی آزادی ہی دنیا بھر کے ممالک کی راہ متعین کرتی ہے۔ ہمیں امریکہ میں یہ طاقتور اور اہم آزادی میسر ہے۔

حال ہی میں 20 ممالک نے اقوام متحدہ میں ہمارے اس خط کی حمایت کی ہے، معاف کیجیے، جس میں کہا گیا ہے کہ اسقاد حمل انسانی حق نہیں ہے۔ (تالیاں)

ایسا نہیں کہ ہمیں اس کی قیمت نہیں چکانا پڑی، ہم نے ہر سوئے ہوئے ذہن کو جگا دیا اور ہر جعلی خبر کو باطل کیا۔

جب میں کنساس میں لوگوں سے بات کرتا ہوں جہاں ہمارے دوست، ہمارا خاندان اور ہمارا چرچ ہے، تو میں انہیں غلط نہیں کہتا۔ بسا اوقات یوں ہوتا ہے کہ انہیں درست خبر نہیں ہوتی۔ بعض اوقات انہیں یہ نظر نہیں آتا کہ امریکہ دراصل دنیا بھر میں اچھائی کی طاقت ہے۔ ہمارا کام یہ امر یقینی بنانا ہے کہ ہم سچائی بیان کریں اور جب میں ”ہمارا” کا لفظ استعمال کرتا ہوں تو اس کا مطلب میں اور آپ ہوتا ہے۔

ایک اور داستان سنیے: چند ہفتے قبل مجھے ابروزو میں واقع چھوٹے سے قصبے پاسینٹرو میں واقع اپنے آبائی گھر جانے کا موقع ملا۔ میں جانتا ہوں کہ آپ میں سے بیشتر وہیں سے تعلق رکھتے ہیں۔ (قہقہہ) وہاں پاسنٹرو میں قریباً ہزار لوگ رہتے ہیں اور سڑک پر کوئی 1050 افراد موجود تھے۔ اپنے دادا کے علاقے میں جانا ذاتی طور پر بہت اچھا تجربہ تھا۔ میرے والد کو کبھی یہ موقع نہیں مل سکا تھا۔

میں گول پتھروں سے بنی گلیوں سڑکوں پر گھوم رہا تھا اور وہاں بچے امریکی جھنڈے لہرا رہے تھے۔ میں آپ کو پڑھ کر نہیں سناؤں گا کہ یہ سیاسی رواداری نہیں کہلائے گا۔ وہاں بہت چھوٹے بچے میرے ہاتھ کھینچ رہے تھے اور مقامی حکام میرا خیرمقدم کرنا چاہتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ امریکہ ان کی پشت پر موجود ہو اور وہ آگاہ تھے کہ ہم اچھائی کی قوت ہیں۔

یہ واقعہ ان مشاہدات کی زبردست ترجمانی کرتا ہے جن سے دنیا بھر میں میرا واسطہ پڑتا ہے۔ دنیا بھر میں لوگ امریکی وزیر خارجہ کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ امریکہ ان کی مدد کے لیے موجود ہو۔ وہ چاہتے ہیں ہم پرزور انداز میں ایسی باتوں کی حمایت کریں جو درست ہیں اور جن پر ان کی حکومتوں کا یقین ہے۔

میں اس بات پر پوری طرح یقین رکھتا ہوں کہ ہماری سفارتی محنت کے نتیجے میں ہمارے بہت سے دوست اور اتحادی دنیا کو نئے انداز میں دیکھنے لگے ہیں۔

اب تک کے لیے مجھے اتنا ہی کہنا ہے۔ مجھے اعتماد ہے کہ ہمارا ماضی اس کا گواہ ہے اور تاریخ بھی اس کی گواہی دے گی۔ میں آپ سبھی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔ آج یہاں میرے ساتھ موجودگی پر آپ سبھی کا شکریہ اور اب میں چند سوالات لینا چاہوں گا۔

خدا ہیریٹیج پر اور امریکہ پر رحمت کرے۔ (تالیاں) .c


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں