rss

”انسانی حقوق اور ایرانی حکومت”

Español Español, English English, Português Português, العربية العربية, Français Français, Русский Русский, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو کا خطاب
ڈین ایچی آڈیٹوریم
واشنگٹن ڈی سی
19 دسمبر 2019

 

وزیر خارجہ پومپیو: شکریہ۔ صبح بخیر۔ آپ سبھی کا شکریہ۔ شکریہ۔ سبھی کو صبح بخیر۔ آج آپ لوگوں کا دن کیسا رہا؟ کیا سبھی ٹھیک ٹھاک ہیں؟

آج دفتر خارجہ میں ایک اہم دن ہے اور ہمارے ساتھ شمولیت پر میں آپ تمام لوگوں کا قدردان ہوں۔ باب، میرا اس قدر عمدہ تعارف کرانے پر آپ کا شکریہ۔ یہاں امریکی دفتر خارجہ میں آپ سبھی کا خیرمقدم کرنا میرے لیے خوشی کا باعث ہے۔

ایران سے تعلق رکھنے والے دوستوں کی میزبانی پر مجھے خاص خوشی ہے۔ آپ کی کامیابی اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ اگر ایرانی عوام کو اپنی پوری صلاحیتوں سے کام کا موقع ملے تو وہ کیا کچھ کر سکتے ہیں۔

یقیناً میں حاضرین میں موجود ان بہادر ایرانیوں کا خاص طور پر خیرمقدم کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے مصائب جھیلے اور ایرانی حکومت کی ایذارسانی سے بچ نکلنے میں کامیاب رہے۔ آج میرے ساتھ شمولیت پر آپ سبھی کا شکریہ۔ آپ تمام لوگوں کو یہاں دیکھنا  میرے لیے انکسار اور اعزاز کی بات ہے۔

مجھے حاضرین کا تنوع پسند ہے جس کا ہم آج یہاں مشاہدہ کر رہے ہیں۔ یہاں کانگریس کے ارکان بھی موجود ہیں۔ غیرسرکاری اداروں سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی یہاں ہیں جو اسلامی جمہوریہ ایران سے متعلق اہم امور پر کام کر رہے ہیں۔

خارجہ پالیسی سے متعلقہ لوگ بھی یہاں موجود ہیں۔ ان میں ہمارے دفتر خارجہ کے بہت سے ارکان اور سفارتی عملے سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں۔

یہاں آنے پر آپ تمام لوگوں کا شکریہ۔

میں سمجھتا ہوں کہ آج حاضرین کے متنوع گروہ اور ان کی تعداد اس بات کا اشارہ ہے کہ دنیا ایرانیوں کی آواز اور ان کے خوابوں کی حمایت میں امریکہ کا ساتھ دینے کے لیے کس قدر آمادہ ہے۔

ایسا کرتے ہوئے ہم دنیا میں آزادی کے سب سے بڑے حامی کی حیثیت سے امریکی میراث کو برقرار رکھیں گے جیسا کہ ہم اپنی ابتداء سے ہی  کرتے چلے آئے ہیں۔

ایسا کرتے ہوئے ہم ایرانی عوام کو یہ بھی بتا رہے ہوں گے کہ دنیا بھر میں ان کے دوست موجود ہیں اور امریکہ ان کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر انصاف کا خواہاں ہے۔

درحقیقت ایرانی حکومت کی جانب سے اپنے عوام کے خلاف ناانصافی اور انسانی حقوق کی پامالی نے ہی ہم تمام لوگوں کو آج یہاں اکٹھا کیا ہے اور میں چند منٹ آپ سے اس بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔

میرے پاس ایرانی حکومت کے رہنماؤں کے لیے ایک پیغام ہے:

اگر آپ اپنے عوام اور دنیا کی نظروں میں اپنا احترام بحال کرنے کے خواہاں ہیں ۔۔۔

اگر آپ اس ملک کے لیے استحکام اور خوشحالی کے خواہش مند ہیں جو کبھی ایک عظیم قوم سمجھا جاتا تھا ۔۔۔

تو آپ کو اپنے وعدوں کی پاسداری کرنا ہو گی۔ آپ کو انسانی حقوق کا احترام کرنا ہو گا۔

اس مذاکرے اور اجتماع کے لیے اس سے زیادہ موزوں موقع کوئی اور نہ تھا۔ نومبر میں شروع ہونے اور تیزی پکڑنے والے احتجاج نے واضح طور پر بتا دیا ہے کہ ایرانی عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ اب وہ تنگ آ چکے ہیں۔

وہ حکومت کی معاشی ناکامیوں سے تنگ آ چکے ہیں۔

وہ چور اور ڈاکو حکمرانوں سے تنگ آ گئے ہیں۔

وہ اس حکومت سے تنگ ہیں جو انہیں بنیادی انسانی وقار سے محروم رکھتی ہے جو کہ بطور انسان ہماری فطرت کا حصہ ہے

یہ کسی مخصوص عمر کے لوگ نہیں ہیں۔ کسی ایک طبقے یا صنف سے تعلق رکھنے والے لوگ ہی آواز بلند نہیں کر رہے۔

تہران میں طالبات احتجاج کر رہی ہیں۔

مشہد میں اساتذہ سراپا احتجاج ہیں۔

مہرشہر میں نوجوان احتجاج کر رہے ہیں۔

پویا بختیاری بھی انہی نوجوانوں میں شامل تھا۔ پویا زندگی سے بھرپور ایک الیکٹریکل انجینئر تھا جسے ایلوس کا گیت ”میں خود کو تم سے محبت کرنے سے نہیں روک پاتا” گانا پسند تھا۔ وہ ایرانی قیادت سے تنگ تھا جسے وہ مجرم اور بدعنوان قرار دیتا تھا۔

گزشتہ ماہ اس نے سڑکوں پر احتجاج کے لیے اپنے عوام کا ساتھ دیا۔ پویا کی والدہ ناہید بھی مظاہرے میں اس کے ساتھ گئیں۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ اکٹھے رہنے کے لیے ایک دوسرے کے ہاتھ تھامے رہیں گے۔ مگر جیسا کہ آپ نے ویڈیو میں دیکھا ہو گا کہ وہاں افراتفری کا سماں تھا۔ جب سکیورٹی فورسز نے ہجوم پر حملہ شروع کیا تو دونوں ماں بیٹا ایک دوسرے سے جدا ہو گئے۔

پھر ناہید نے جو کچھ دیکھا وہ کسی بھی والدین کے لیے بدترین ڈراؤنا خواب ہوتا ہے۔ انہوں نے ساتھی مظاہرین کو اپنے بیٹے کا بے جان جسم اٹھائے دیکھا۔ اسے ایرانی حکومت کی سکیورٹی فورسز نے سر میں گولی ماری تھی۔

آج ناہید بہت سے دوسرے والدین کے ساتھ ماتم کناں ہیں، ان میں ایران بھر سے بے شمار حیران کن لوگ شامل ہیں۔ مگر اب وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ ”اب پویا کے آدرش میرے ہیں۔ میں ایرانی عوام کو آزادی کی خوشی مناتا دیکھنا چاہتی ہوں۔”

آج ناہید کی طرح بہت سے ایرانی غصے میں ہیں۔ یہ وہ احساس ہے جو بہت طویل عرصہ سے پرورش پا رہا تھا۔ آیت اللہ اور اس کے ٹھگوں کے ٹولے نے اس غصے کی بنیادیں 40 سال پہلے رکھی تھیں۔ اب انہیں تبدیلی لانا ہو گی۔

1979 میں اپنے مجنونانہ جوش میں انہوں نے کھلے ذہن کے مالک اور حیران کن صلاحیتوں کے حامل ایرانی عوام پر اسلامی جمہوری انقلاب مسلط کیا۔

آج ایرانی حکومت لوگوں کے تصورات، ان کے اظہار اور درحقیقت ان کی زندگی پر قابو پانے پر تلی ہوئی ہے۔

اس حوالے سے میں گزشتہ برس کی چند مثالیں پیش کروں گا:

مارچ میں خواتین کے عالمی دن پر تین خواتین نے تہران میٹرو پر لوگوں کو پھول پیش کیے۔ انہوں نے حجاب نہیں اوڑھے تھے۔

ایرانی حکومت نے انہیں ریاست کے خلاف پروپیگنڈے اور ”اخلاقی بدعنوانی” کے الزام میں 16 تا 23 برس قید کی سزا سنائی۔

دو ماہ بعد مئی میں ایرانی حکومت نے مذہبی اقلیتوں کو بچوں کے مراکز میں مسلمان بچوں کے ساتھ کام سے روک دیا۔

صحافیوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی کمیٹی نے گزشتہ ہفتے ہی اطلاع دی ہے کہ اس وقت 11 صحافی ایرانی جیلوں میں قید ہیں۔ ایرانی وزارت انٹیلی جنس ان صحافیوں کے معمر اہلخانہ کو دہشت زدہ کرنے کی مہم چلا رہی ہے۔

یہ چند مثالیں صرف ایک جھلک ہے۔ یہ ایرانی حکومت کی جانب سے 40 سال تک اپنے عوام کی بے عزتی کی ایک جھلک ہے۔ اس بے عزتی نے ایران کے اندرونی نظم و نسق کو غیرمستحکم کیا ہے، اسی نے ایرانی کی معیشت کو کمزور اور دنیا بھر میں آزادی سے محبت کرنے والی اقوام کی نگاہوں میں ایران کو اچھوت ریاست بنا دیا ہے۔

اس بدسلوکی کے ساتھ بہت بڑی منافقت بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ ایرانی حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کی بہت سی خلاف ورزیاں اس کے اپنے مقامی قوانین کے بھی خلاف ہیں۔

چالیس سال پہلے اسی ماہ ایرانی حکومت نے موجودہ آئین اختیار کیا تھا جو اب بھی موثر ہے۔

اس آئین کا آرٹیکل 9 یہ کہتا ہے کہ ”کسی فرد، گروہ یا بااختیار حکام کو ایران کی سیاسی، ثقافتی، معاشی و عسکری آزادی یا زمینی سلامتی کی خلاف ورزی کا کوئی حق نہیں ہے۔”

تاہم جیسا کہ عراق اور لبنان میں مظاہرین کہہ رہے ہیں، ان کے ملک کی موجودہ صورتحال کا ذمہ دار ایران ہے۔ یہ کس قدر بڑی منافقت ہے۔

اسی آئین کا آرٹیکل 14 یہ کہتا ہے کہ ”اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت اور تمام مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ غیرمسلموں کے ساتھ اخلاقی اقدار کے مطابق سلوک کریں اور ان کے انسانی حقوق کا احترام یقینی بنائیں۔”

تاہم، یہودیوں، عیسائیوں اور زرتشتوں سمیت ایران میں قانونی طور پر موجود تمام اقلیتی مذہبی عقائد کے لوگ اپنی پوری آزادیوں سے محروم ہیں۔

کرسمس سے ایک ہفتہ پہلے مجھے وکٹر بیٹ ٹیمراز کا خیال آ رہا ہے۔ وہ ایک عیسائی پادری ہیں جن کے گھر پر پانچ سال پہلے کرسمس کے موقع پر دھاوا بولا گیا تھا۔ وہ، ان کی اہلیہ  اور بیٹا قید کی سزاؤں کے خلاف اپیل پر ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ ان کی بیٹی ڈیبرینا آج یہاں ہمارے ساتھ موجود ہیں۔ ڈیبرینا، یہاں آنے پر آپ کا شکریہ۔ (تالیاں)

یہ دستاویز اور یہ آئین کہتا ہے کہ ”نسل یا قبیلے سے قطع نظر یران کے تمام لوگ مساوی حقوق کے حقدار ہیں۔” مگر ایرانی حکومت ملک میں بہت سی نسلی اقلیتوں سے دوسرے یا تیسرے درجے کے شہری کا سلوک روا رکھتی ہے۔

آئین کا آرٹیکل 27 عوامی اجتماعات اور جلوسوں کی اجازت دیتا ہے مگر حکومت کے خلاف احتجاج پر لوگوں کو سختی سے دبایا جاتا ہے۔

ان ہزاروں لوگوں کے بارے میں سوچیے  جنہیں آپ سبھی جانتے ہیں۔ ان ہزاروں ایرانیوں کے بارے میں سوچیے جنہیں 1988 میں احتجاج کے بعد پھانسی پر لٹکا دیا گیا تھا۔ 1999 میں جیلوں میں ہلاک کیے گئے طلبہ کے بارے میں سوچیے۔

2009 میں ہونے والے احتجاج کے بارے میں سوچیے۔ ہمیں لوگوں کا یہ مطالبہ اب بھی یاد ہے کہ ”میرا ووٹ کہاں ہے؟” ان مظاہرین کو دوسروں سے زیادہ قتل و غارت اور سزاؤں کا سامنا کرنا پڑا تھا اور انہیں ایون جیل جیسی جگہوں پر قید کاٹنا پڑی۔

آج بھی وہی حالات ہیں۔

وسط نومبر سے اب تک ایرانی حکومت نے سیکڑوں مظاہرین کو ہلاک کیا ہے۔ ممکنہ طور پر یہ تعداد 1000 سے زیادہ ہے۔ حکومت نے انٹرنیٹ بند کر دیا ہے جو کہ رابطے کا بنیادی وسیلہ ہے۔ وہ دنیا کو اپنے ملک میں جاری ہولناک صورتحال سے آگاہ ہونے نہیں دینا چاہتی۔

کیا ایرانی حکومت واقعی یہ سمجھتی ہے کہ اس کا یہ طرزعمل ملک کو خوشحالی اور مضبوطی عطا کرے گا؟ میرے خیال میں ایسا نہیں ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ دوسری طرح سوچتے ہیں۔

میں عالمی ذمہ داریوں اور وعدوں کی خلاف ورزی پر بھی ایران سے یہی سوال کرتا ہوں۔

ایران عالمی تنظیم محنت کا بانی رکن ہے۔ مگر ایرانی حکومت اپنے لوگوں کی رقم چراتی اور ان کی پینشن پر ڈاکہ ڈالتی ہے۔ شہریوں سے یہ رقم ان کے اہلخانہ کی نگہداشت کے نام پر لی جاتی ہے اور پھر اسے شام اور یمن کی جنگ میں جھونک دیا جاتا ہے۔ مزدور رہنماؤں کو جیلوں میں ڈالا جاتا اور تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

انسانی حقوق کا عالمگیر اعلامیہ کہتا ہے کہ ”کسی کو بھی تشدد کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے” یا ”کسی کو ناجائز حراست، قید یا جلاوطنی میں نہیں رکھنا چاہیے۔” مگر ایران میں بہائیوں، سنی اقلیتوں یا غیرمذہبی لوگوں کو ہی دیکھ لیجیے جو اپنے مذہب اور بنیادی عقیدے پر عمل کی پاداش میں مسلسل قید، تشدد اور ہلاکتوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

ایران شہری و سیاسی حقوق سے متعلق عالمگیر کنونشن کا رکن بھی ہے۔ کیسی ستم ظریفی ہے۔ ایران میں کم از کم نو سال کی لڑکیوں اور 13 سال عمر کے لڑکوں کو سزائے موت دی جا سکتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق گزشتہ برس 17 سال عمر کےدو لڑکوں کو خفیہ طور سے موت کی سزا دی گئی تھی۔ گزشتہ 30 دن میں بہت سی جگہوں پر احتجاج کرنے والوں کو سڑکوں پر گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔

سنگدل اور بدعنوان اشرافیہ کی جانب سے ایک قدیم اور پرفخر قوم کی یوں بے عزتی ہمارے لیے افسوس کا مقام ہے۔ ہم یہ دیکھ کر غمزدہ ہیں کہ ایرانی قوم اپنے ناجائز حکمرانوں کے باعث مزید غربت میں دھنستی جا رہی ہے۔

تاہم جیسا کہ میں نے ابھی کہا ہے کہ صورتحال مشکل ہونے کے باوجود امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ ایرانی عوام کو ثابت قدم دوست کا ساتھ میسر ہے، وہ اچھے لوگ ہیں اور ان میں جذبہ موجود ہے۔

یہ دوست تمام زیر جبر لوگوں، ان کی آوازوں، ان کی لکھتوں، ان کے عقائد اور ان کے آدرشوں کے لیے قطبی تارے کی حیثیت رکھتا ہے۔

امریکہ ایرانی عوام کے ساتھ کھڑا رہے گا اور صدر ٹرمپ کی قیادت میں ان کے ساتھ ہے۔ (تالیاں)

ہماری عوامی حمایت، ہماری اخلاقی حمایت اہم ہے۔ انصاف کے لیے ہماری آواز اہمیت رکھتی ہے۔ ہم ایران کو حقیقی معیشت کا حامل اوردوسروں جیسا  ذمہ دار  ملک دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم احتساب چاہتے ہیں۔

بدقسمتی سے 2009 میں جب یہ موقع آیا تو امریکیوں نے اپنا کردار ادا نہ کیا۔ یہ سیاسی بات نہیں ہے۔ یہ بہترین نتائج سے متعلق ہے اور ہم ایرانی عوام سے یہی کچھ چاہتے ہیں۔ دیکھیے، ایرانی حکومت کی خوشامد سے کام نہیں چلے گا۔ 

موجودہ امریکی انتظامیہ نے ماضی سے بالکل مختلف حکمت عملی اختیار کی ہے۔

ہم نے ایرانی عوام سے کہا ہے کہ وہ ہمیں اپنی حکومت کے ظالمانہ اقدامات کے ثبوت بھیجیں۔

ہم وہ سب کچھ لوگوں کے سامنے لا رہے ہیں جسے آیت اللہ چھپانا چاہتے ہیں۔ اب تک ہمیں 36 ہزار سے زیادہ معلومات موصول ہوئی ہیں اور ہم ان میں ہر ایک پر کام کر رہے ہیں۔

ہم نے یہ داستانیں سنی ہیں اور ہم یہ دیکھ چکے ہیں۔

ہم یہ چہرے دیکھ چکے ہیں۔

یہ متاثرین کے چہرے ہیں۔ انہیں بھلایا نہیں جائے گا۔ ان میں جرم کا ارتکاب کرنے والوں کے چہرے بھی ہیں جن کا پیچھا کیا جائے گا۔

ایران کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالی بدترین اور ناقابل قبول ہے۔ وہ برائی اور جرم کے مرتکب ہیں۔

ایرانی حکمران اپنے عوام کی حیران کن توانائی، صلاحیتوں اور جذبے کو کچلنے کی کوشش کر رہے ہیں جو کبھی دنیا کے عظیم لوگ ہوا کرتے تھے۔

چنانچہ آج ہم ایرانی حکومت سے کہتے ہیں کہ وہ اپنا اولین فرض نبھاتے ہوئے اپنے لوگوں کے ساتھ احترام سے پیش آئے جو کہ ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔

ہم ایران سے کہتے ہیں کہ اپنے آئین اور عالمی قانون کے تحت اپنے عہد کی پاسداری کرے۔

ہمارا مطالبہ ہے کہ ایران دوسرے ممالک جیسا  ذمہ دارانہ طرزعمل اختیار کرے۔

ایرانی عوام کی وسیع تر صلاحیتوں کو آشکار ہونے کا موقع دیا جائے۔

ہم یہی کچھ چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ سب کچھ حقیقی اصولوں کے تحت ہو مگر یہ ایرانی حکومت کے لیے عام فہم پیغام بھی ہے۔

ایران میں حقیقی خوشحالی اسی وقت آئے گی جب آپ اپنے لوگوں کو دہشت زدہ کرنا اور انہیں جیلوں میں ڈالنا بند کریں گے۔

درحقیقت میں ایرانی حکومت پر زور دوں گا کہ وہ فارسی شاعر سعدی شیرازی کے کہے پر عمل کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ ”جو حکمران اپنے لوگوں کے دلوں کو بنجر کرتا ہے وہ اپنے ملک کے لیے خواب میں ہی خوشحالی دیکھ سکتا ہے۔”

ہم بے مقصد بات نہیں کرتے اور اسی لیے آج میں ایرانی عوام کی حمایت میں چند نئے اقدامات کا اعلان کر رہا ہوں:

پہلی بات یہ کہ میں نے عالمگیر مذہبی آزادی کے قانون کے تحت ایران کو خاص تشویش کا حامل ملک قرار دیا ہے۔ دنیا کو علم ہونا چاہیے کہ ایران بنیادی مذہبی آزادیوں کی خلاف ورزی کرنے والے بدترین ممالک میں شامل ہے۔

دوسری بات یہ کہ آج امریکی محکمہ خزانہ دو ایرانی ججوں محمد مغیث اور عبدالغاسم صلواتی پر پابندیاں عائد کرے گا۔ (تالیاں)

مغیث کے نفرت انگیز اقدامات میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی وکیل اور خواتین کے حقوق کی محافظ نسرین ستودے کو 33 برس قید اور 148 کوڑوں کی سزا بھی شامل ہے۔

صلواتی نے امریکی شہری ژی یو وانگ کو جاسوسی کے جھوٹے الزام میں 10 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ ہمیں ژی یو کی رہائی کی خوشی ہے مگر انہیں جیل یا سزا ہونا ہی نہیں چاہیے تھی۔

صلواتی نے سیکڑوں سیاسی قیدیوں کو سزا سنائی ہے۔ اس نے صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو جیل میں بھیجا یا اس سے بھی بدتر اقدام کرتے ہوئے انہیں سزائے موت سنائی۔ وہ انصاف کا حامی نہیں بلکہ ایرانی حکومت کے جبر کا آلہ کار ہے۔ آج امریکہ نے اس پر پابندی عائد کر دی ہے۔ (تالیاں)

تیسری بات یہ کہ ترک وطن اور قومیت کے قانون کے تحت ہم ایرانی حکومت کے ایسے موجودہ یا سابقہ حکام یا ایسے ایرانی افراد کو ویزے کے اجرا پر پابندیاں عائد کر رہے ہیں جو پرامن احتجاج کرنے والوں سے بدسلوکی، انہیں حراست میں رکھنے یا ان کی ہلاکت کے ذمہ دار ہیں یا ایسے اقدامات میں معاون رہے ہیں اور عوام کے آزادی، اظہار یا اجتماع کے حق میں رکاوٹ ڈالنے کے مرتکب یا معاون ہیں۔

ہمارے اقدامات کی بدولت ان افراد کے اہلخانہ پر بھی امریکی ویزے کے حصول کی پابندی عائد ہو گی۔ ایران بھر سے شہریوں نے ہمیں جو مواد بھیجا ہے وہ ایرانی عوام کو آزادی اور انصاف سے محروم رکھنے کے ذمہ داروں پر حقیقی دباؤ عائد کرنے کے اس نئے اختیار کو استعمال کرنے میں ہمیں قابل قدر معاونت فراہم کرے گا۔ (تالیاں)

لوگوں کے بچوں کو قتل کرتے ٹھگوں کو اپنے بچے تعلیم کے لیے امریکہ بھیجنے کی اجازت نہیں ہو گی۔

یہ سنجیدہ اقدامات ہیں جو سوچ سمجھ کر اٹھائے گئے ہیں اور اس کےلیے ہمیں کچھ وقت بھی لگا۔ مگر میں چاہتا ہوں کہ ایرانی عوام جان لیں کہ اب سب کچھ ایسے نہیں چلے گا۔

اگر ایرانی حکومت تمام ایرانیوں کے حقوق کا احترام کرے اور اپنے وعدوں کی پاسداری کرے تو اس کے عوام دوبارہ اس سے محبت کرنے لگیں گے۔

اس طرح یہ حکومت دنیا کی نگاہوں میں اپنا اچھا تاثر بحال کر سکتی ہے۔

سب سے اہم بات یہ کہ ایسا کرنے کے نتیجے میں ایرانی عوام کے لیے خوشحالی اور امن کے حصول میں مدد ملے گی۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایرانی رہنماؤں کو علم ہونا چاہیے کہ ان کے عوام کیا چاہتے ہیں۔

ہر ملک کے لیے خوشحالی کا راستہ اس کے اندر سے شروع ہوتا ہے۔ جب خودمختار ممالک کے رہنما اپنے شہریوں کے مفادات کو مقدم  جانیں گے تو ہم سبھی کا مستقبل روشن ہو گا۔ (تالیاں) ایسے میں ہمارے لوگ خوش ہوں گے۔ بنیادی آزادیوں کا احترام ہو گا اور ہماری شراکتیں مزید مضبوط ہو جائیں گی۔

ذرا سوچیے کہ دونوں ممالک کے مابین کیا کچھ نہیں ہو سکتا۔ صدر اکثر اس بارے میں بات کرتے ہیں۔ ایک دن یہاں واشنگٹن میں ایرانی سفارت خانے کے تالے کھل جائیں گے۔  ایک دن ایرانی فضائی پروازیں لاس اینجلس یا ہوسٹن کی جانب براہ راست سفر کر سکیں گی۔ ہر ایک کو لاس اینجلس ایئرپورٹ سے سفر کا تجربہ جھیلنا  چاہیے۔ (قہقہہ)

ایک دن ہمارے رہنما ایک دوسرے سے دشمنوں کے بجائے پرخلوص دوستوں کی طرح مل سکیں گے۔ وہ کیسا لمحہ ہو گا جب یہ سب کچھ ممکن ہو جائے گا۔

میری دعا ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ دن جلد آئے گا۔ ہم آپ سبھی کے ہمراہ یہ سب کچھ ممکن بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ ایرانی حکومت کو جلد یہ دن دیکھنے کے لیے اپنا راستہ صاف نظر آئے گا۔

جو کچھ بھی ہو، میں ایرانی عوام سے کہتا ہوں جو میں نے کئی ماہ پہلے بھی کہا تھا اور جب تک ضرورت رہی میں کہتا رہوں گا کہ:

امریکہ آپ کی آواز سنتا ہے۔

امریکہ آپ کا حامی ہے۔

امریکہ آپ کے ساتھ کھڑا ہے۔

ہم یہ آپ کے لیے کر رہے ہیں ۔۔۔

ہم یہ آزادی کے لیے کر رہے ہیں ۔۔۔

ہم یہ سب کچھ بنیادی انسانی وقار کے لیے کر رہے ہیں ۔۔۔

ہم یہ احترام کے لیے کر رہے ہیں۔

یہاں آنے  پر آپ سبھی کا شکریہ۔

خدا ایرانی عوام پر رحمت کرے۔

خدا امریکی عوام پر رحمت کرے۔ آپ کا شکریہ۔ (تالیاں)


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں