rss

دوسرے امریکہ انڈیا 2+2 وزارتی ڈائیلاگ کا مشترکہ اعلامیہ

हिन्दी हिन्दी, English English

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
19 دسمبر 2019

 

درج ذیل بیان کا متن دوسرے امریکہ انڈیا 2+2 وزارتی ڈائیلاگ کے موقع پر امریکہ اور انڈیا کی حکومتوں کی جانب سے جاری کیا گیا۔

آغاز متن:

امریکی وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو  اور وزیر دفاع مارک ٹی ایسپر نے دوسرے سالانہ امریکہ انڈیا 2+2 وزارتی ڈائیلاگ کے موقع پر واشنگٹن ڈی سی میں انڈیا کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور وزیر برائے خارجہ امور ڈاکٹر ایس جے شنکر کا خیرمقدم کیا۔ چاروں وزرا نے امریکہ اور انڈیا کے مابین بڑھتی ہوئی شراکت کو مثبت طور سے سراہا۔ اس شراکت کی بنیاد باہمی اعتماد اور دوستی، جمہوری اقدار، عوامی سطح پر روابط اور اپنے شہریوں کی خوشحالی کے مشترکہ عزم پر استوار ہے۔ اس موقع پر وزرا کا کہنا تھا کہ امریکہ اور انڈیا کے مابین مضبوط ہوتی تزویراتی شراکت کی جڑیں آزادی، انصاف، انسانی حقوق اور قانونی کی حکمرانی کے عزم سے متعلق مشترکہ اقدار میں پیوست ہیں۔ انہوں نے امریکہ انڈیا تزویراتی عالمی شراکت سے پورا فائدہ اٹھانے کے لیے مجموعی حکومتی کوشش کے طور پر 2+2 فریم ورک میں مل کر کام کرنے کا عزم کیا۔ یہ شراکت صدر ٹرمپ اور وزیراعظم مودی کے مشترکہ تصور کی روشنی میں آگے بڑھ رہی ہے۔ وزرا نے دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ و دفاع کے مابین روابط کے لیے قائم کردہ نئے اور محفوظ ذرائع کے ذریعے نئی پیش ہائے رفت پر باقاعدہ گفت و شنید جاری رکھنے کا عزم کیا۔

اصولوں، امن اور خوشحالی کی عالمگیر شراکت

وزرا نے آزاد، کھلے، جامع، پرامن اور خوشحال  خطہ ہندوالکاہل کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ خطہ ہندوالکاہل کے حوالے سے فریقین کی سوچ میں مطابقت کو سراہتے ہوئے انہوں نے آسیان کی مرکزیت، قانون کی حکمرانی، سمندری سفر اور پروازوں کی آزادی، تنازعات کے پرامن حل اور بنیادی ڈھانچے کے لیے پائیدار و شفاف سرمایہ کاری کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اس بات کی ازسرنو توثیق کی کہ امریکہ اور انڈیا میں قریبی تعاون وسیع تر خطہ ہندوالکاہل اور اس سے بھی آگے سلامتی و خوشحالی کے فروغ میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔

وزرا نے جنوبی ایشیا اور ہندوالکاہل میں بھرپور ربط کے لیے اپنے مشترکہ تصور کی ازسرنو توثیق کی اور امریکہ و انڈیا کی جانب سے خطے میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی و ربط کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات پر پیش رفت کا تذکرہ کیا۔ وزرا نے قوانین کی بنیاد پر عالمی نظام کو پائیدار اور بارآور  بنانے کے لیے امریکہ اور انڈیا کی جانب سے دوطرفہ، دیگر شراکت داروں کے ساتھ اور علاقائی و عالمی سطح پر افزودہ سفارتی مشاورت و ارتباط کا خیرمقدم کیا۔ اس تناظر میں امریکہ نے اقوام متحدہ کی اصلاح شدہ سلامتی کونسل میں انڈیا کے مستقل کردار اور جوہری ترسیل کنندگان کے گروہ میں انڈیا کی جلد شمولیت کے لیے اپنی موثر حمایت کی ازسرنو توثیق کی۔

وزرا نے امریکہ، انڈیا اور جاپان کے مابین حالیہ سہ فریقی اجلاسوں کو اہم قرار دیتے ہوئے ستمبر 2019 میں امریکہ، انڈیا، جاپان اور آسٹریلیا کے مابین چار فریقی اجلاس کا خیرمقدم کیا۔ اس سے بنیادی ڈھانچے کی ترقی، سائبر سکیورٹی، انسداد دہشت گردی اور علاقائی ربط کے لیے عملی تعاون کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔

اقوام متحدہ کے زیراہتمام قیام امن کی کوششوں کو مضبوط بنانے کے لیے اپنی مشترکہ دلچسپی کا اعادہ کرتے ہوئے وزراء نے خطہ ہندوالکاہل سے آنے والے قیام امن کے اہلکاروں کی اہلیت بہتر بنانے کے لیے مشترکہ طور پر کام کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ یہ امریکہ اور انڈیا کی جانب سے افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے قیام امن کے اہلکاروں کی تربیت کے کامیاب پروگرام کا تسلسل ہو گا۔

قدرتی آفات سے لاحق خطرات میں کمی لانے کے لیے بھرپور علاقائی و عالمی تعاون کی اہمیت کے تناظر میں وزرا نے حال ہی میں قائم کردہ اتحاد میں امریکی شمولیت کا خیرمقدم کیا۔ اس اتحاد کا مقصد ایسے بنیادی ڈھانچے کی تیاری میں مدد دینا ہے جو قدرتی آفات کا مقابلہ کر سکے۔ اس ضمن میں وزرا نے جاری تکنیکی تعاون کا خیرمقدم بھی کیا جس میں آفات کے خلاف قومی فورس (این ڈی آر ایف) کے ساتھ کام بھی شامل ہے۔

وزرا نے وزیراعظم مودی کی جانب سے خطہ ہندوالکاہل میں سمندری اقدامات کو سراہا اور اسے کھلا، جامع اور آزاد سمندری علاقہ بنانے نیز سمندروں کو صاف رکھنے کے لیے اپنے ممالک کی مشترکہ دلچسپی پر بات کی ۔ انہوں نے سمندری حوالے سے مشترکہ ترجیحات بشمول بحرہند میں آلودگی سے نمٹنے، مچھلی رانی کے ضوابط پر عملدرآمد، سائنسی تحقیق اور سمندری حیات کا دستاویزی ریکارڈ تیار کرنے کے لیے امریکہ انڈیا سمندری مکالمے کی بنیاد پر پیش رفت کی سفارش کی۔

وزرا نے پرامن، محفوظ، مستحکم، متحد، جمہوری، جامع اور خودمختار افغانستان میں اپنے مشترکہ مفاد کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے افغانوں کے زیرقیادت اور افغانوں کے لیے قابل قبول مذکرات کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا جن سے پائیدار امن کے قیام میں مدد ملے، دہشت گردانہ تشدد کا خاتمہ ہو اور گزشتہ 18 برس میں حاصل ہونے والے فوائد برقرار رکھے جا سکیں۔ انہوں نے افغانستان کی طویل مدتی پائیدار ترقی  کے لیے تجارتی روابط اور کثیر نمونہ مواصلاتی ڈھانچے کی تیاری کے لیے انڈیا کی کوششوں کو سراہا۔

وزرا نے آبنائے ہرمز میں سمندری سفر کی آزادی اور بلاروک ٹوک سمندری تجارت کی حمایت کی اور جزیرہ نما کوریا میں امن و استحکام یقینی بنانے کی اہمیت کی ازسرنو توثیق کی۔ اس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی مطابقت سے شمالی کوریا کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے تمام ہتھیاروں اور بلسٹک میزائلوں کا خاتمہ بھی شامل ہے۔

دفاع و انسداد دہشت گردی کے لیے پائیدار شراکت کا قیام

وزرا نے امریکہ انڈیا بڑی دفاعی شراکت (ایم ڈی پی) کے حوالے سے اپنے مشترکہ تصور سے وابستگی کا اظہار کیا جو ایک جامع، پائیدار اور دوطرفہ فوائد کی حامل دفاعی شراکت کے لیے ان کے ممالک کی مشترکہ خواہش ہے۔ انہوں نے سلامتی و دفاع کے شعبے میں تعاون کے تمام پہلوؤں کو وسعت دینے کی بات کی۔ ایم ڈی پی کے اس تصور کی مطابقت سے وزرا نے دونوں ممالک کی افواج کے مابین تعاون کو وسعت دینے اور آنے والے برسوں میں دفاع و سلامتی کے شعبے میں شراکت بہتر بنانے کی خواہش ظاہر کی۔

اس تناظر میں وزرا نے دونوں ممالک کی بحری افواج کے مابین بڑھتے ہوئے جدید طرز کے تعاون کا خیرمقدم کیا۔ خاص طور پر وزرا نے ”مالابار” بحری مشق میں اعلیٰ سطحی عملیاتی تعامل کا تذکرہ کیا۔ فریقین نے تینوں افواج کی نئی خاکی و آبی مشق ”ٹائیگر ٹرائمف” شروع کرنے کے اقدام کو بھی سراہا۔ یہ عسکری تعاون کی بڑھتی ہوئی وسعت اور پیچیدگی کا واضح مظاہرہ ہے۔ وزرا نے ”ٹائیگر ٹرائمف” مشق سالانہ بنیاد پر کرانے کا فیصلہ کیا۔ اس کی ترتیب کا فیصلہ باہمی مشاورت سے کیا جائے گا۔ وزرا نے خطہ ہندوالکاہل کے لیے امریکی کمان، مرکزی کمان اور افریقی کمان کے تحت امریکی اور انڈین بحریہ میں بڑھتے ہوئے تعاون کو جاری رکھنے کا عہد کیا اور دونوں ممالک کی بری افواج و فضائیہ کے مابین بھی ایسے ہی تعاون کو وسعت دینے کا ارادہ ظاہر کیا۔

سمندری سلامتی اور بحری تعاون میں اضافے کے حوالے سے اپنے مشترکہ مفادات کو آگے بڑھانے اور سمندری سلامتی کے ضمن میں امریکہ اور انڈیا کے درمیان چوتھے ڈائیلاگ کی کامیابی کی بنیاد پر وزرا نے مستقبل قریب میں انڈیا کے ایک افسر کی امریکی بحری افواج کی مرکزی کمان سے رابطے کے لیے تعیناتی کا خیرمقدم کیا اور عسکری سطح پر باہمی رابطہ کاری کو مزید بڑھانے کے ارادے کا اظہار کیا۔

امریکہ نے بحرہند کے خطے کے لیے ایک معلوماتی ادغامی مرکز (آئی ایف سی۔آئی او آر) کے قیام کے لیے انڈیا کے قائدانہ کردار کو سراہا اور خطے بھر میں سمندری سلامتی کے ضمن میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے اس مرکز میں ایک امریکی رابطہ افسر کی تعیناتی پر غور کا فیصلہ کیا۔

وزرا نے سمندری تعاون بشمول خطہ ہندوالکاہل میں دیگر شراکت دار ممالک کے ساتھ مل کر چلنے کی اہمیت کو تسلیم کیا۔ اس حوالے سے امریکہ نے 2020 میں ہونے والی کثیرطرفی ”ملن’ بحری مشق میں شرکت کے لیے انڈیا کی دعوت کا خیرمقدم کیا اور اس میں شرکت کے ارادے کا اظہار کیا۔

امریکہ انڈیا بحری تعاون کی کامیابی کی بنیاد پر وزرا نے دونوں ممالک میں فوجی سطح پر دیگر شعبہ جات میں تعاون بڑھانے سمیت کی اہمیت پر زور دیا۔ وزرا نے مشترکہ اور دونوں ممالک کی افواج کے مختلف شعبوں میں تعامل و تعاون مضبوط بنانے کے اپنے عزم کی ازسر نو  توثیق کی۔ انہوں نے دونوں ممالک کی بری و فضائی افواج میں قریبی تعلقات کے قیام اور خصوصی کارروائی کرنے والی فورسز کے مابین تعاون کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر وزرا کا کہنا تھا کہ اعلیٰ ترین عسکری سطح پر ہونے والی بات چیت یعنی عسکری تعاون سے متعلق گروپ کو سالانہ بنیاد پر دونوں ملکوں میں عسکری تعاون کا جائزہ لینا چاہیے اور مستقبل کے لیے باہمی تعاون پر مشتمل سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کرنا چاہیے۔ وزرا نے مشترکہ اور افواج کے مختلف شعبہ جات  کے مابین دفاعی نوعیت کی معلومات کے تبادلے کے لیے اپنے عزم کی ازسرنو توثیق کی۔ وزرا نے خطہ ہندوالکاہل میں اہلیت بڑھانے کی کوششوں میں تعاون کے لیے اپنے عزم کا اظہار بھی کیا۔

وزرا نے دفاعی شعبے میں تعاون کے لیے اتفاق رائے کے معاہدوں کی اہمیت پر زور بھی دیا۔ ان معاہدوں کی بدولت امریکہ اور انڈیا کی افواج اور دفاعی صنعتوں کو اہم شعبہ جات میں تعاون بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ وزرا نے مواصلاتی مطابقت اور سلامتی کے معاہدے (سی او ایم سی اے ایس اے) پر عملدرآمد کے لیے تیزتر پیش رفت کا تذکرہ بھی کیا جو پہلے ہی قابل قدر تعاون ممکن بنا چکا ہے۔ انہوں نے مسلح افواج بشمول بری اور فضائی افواج کے مابین فوری طور پر محفوظ مواصلاتی اہلیت کے قیام پر بات کی۔ فریقین کا کہنا تھا کہ ‘سی او ایم سی اے ایس اے’ پر عملدرآمد جاری رہنے سے بڑھتے ہوئے عسکری تعاون کو مزید وسعت دینے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے بنیادی تبادلے و تعاون کے معاہدے (بی ای سی اے) پر 2020 میں تبادلہ خیال جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تاکہ ہرطرح کی جغرافیائی معلومات کا تبادلہ ممکن بنایا جا سکے۔

وزرا نے صنعتی سلامتی کے ملحقہ معاہدے (آئی ایس اے) پر دستخط کا خیرمقدم بھی کیا جس سے امریکہ اور انڈیا کی دفاعی صنعتوں کو مخصوص عسکری معلومات کے تبادلے  میں سہولت ملے گی۔ دونوں فریقین نے ‘آئی ایس اے’ پر عملدرآمد کے لیے 2020 میں ملاقات کے ارادے کا اظہار بھی کیا۔ وزرا نے امریکہ اور انڈیا میں بڑھتی ہوئی دفاعی تجارت، دونوں ممالک کے اداروں میں دفاعی اختراع کے سلسلے میں تعاون سے متعلق مشترکہ عزم اور عالمی سطح پر دفاعی ترسیل کے شعبے میں انڈیا کے بڑھتے ہوئے کردار کا خیرمقدم بھی کیا۔ وزرا نے دفاعی ٹیکنالوجی و تجارت کے اقدام (ڈی ٹی ٹی آئی) بشمول مشترکہ طور پر متعدد منصوبہ جات پر کام کرنے کے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے اہم پیش رفت کا بخوشی اعلان کیا۔ وزرا نے ‘ڈی ٹی ٹی آئی’ اور دونوں ممالک کی صنعتوں میں باہمی تعاون کے فریم ورک کے تحت چلنے والے منصوبہ جات  کے لیے عملدرآمدی رہنما خطوط وضع کرنے کے لیے معیاری عملی طریقہ ہائے کار کو حتمی شکل دینے کا خیرمقدم کیا۔ اس سے امریکہ اور انڈیا کی دفاعی کمپنیوں اور ان کی حکومتوں میں دفاعی ٹیکنالوجی و صنعتی تعاون کے شعبہ جات میں مل کر کام کرنے کی خاطر بات چیت کا طریق کار وضع ہو گا۔

وزرا نے دفاع و فضائیات کے شعبہ جات میں تجربے و تصدیق کے سلسلے میں تعاون کی راہیں تلاش کرنے اور انڈیا میں مرمت و بحالی کی تنصیبات کے قیام سے متعلق ارادے کا اظہار کیا۔ فریقین کا کہنا تھا کہ انڈیا میں دفاعی صنعتی راہداریوں کے قیام سے دفاعی صنعت میں تعاون کے مواقع کھلے ہیں۔

وزرا نے دہشت گردی کی تمام اشکال کی مذمت کرتے  ہوئے تمام دہشت گرد نیٹ ورکس بشمول القاعدہ، آئی ایس آئی ایس/داعش، لشکر طیبہ، جیش محمد، حقانی نیٹ ورک، حزب المجاہدین، ٹی ٹی پی اور ڈی کمپنی کے خلاف مرتکز کارروائی کی بات کی۔ وزرا نے پاکستان سے کہا کہ وہ فوری، پائیدار اور ناقابل واپسی طور سے یہ امر یقینی بنائے کہ اس کے زیرانتظام کوئی علاقہ کسی بھی طرح کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سرحد پار دہشت گرد حملوں کا ارتکاب کرنے والوں بشمول 26/11 کے ممبئی حملوں اور پٹھان کوٹ میں دہشت گردی کی کارروائی کرنے والوں کو گرفتار کر کے ان کے خلاف قانونی کارروائی کرے۔ انڈیا نے امریکہ کی جانب سے اقوام متحدہ میں جیش محمد کے رہنما مسعود اظہر سمیت متعدد دہشت گردوں کی پابندیوں کے لیے نامزدگی کی حمایت کو سراہا اور امریکہ نے انڈیا کے قانون میں ترمیم کا خیرمقدم کیا جس کی رو سے دہشت گردوں کی نامزدگیوں کے معاملے پر دونوں ممالک میں تعاون کو مزید فروغ ملے گا۔

وزرا نے امریکی وفاقی عدالتی مرکز اور انڈیا کے شہر بھوپال میں واقع قومی عدالتی اکیڈمی کے مابین دہشت گردی کے معاملات پر عدالتی تعاون کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کے درمیان  نئے شعبہ جات اور تیسرے شراکت دار ممالک کے لیے عدالتی ورکشاپس کے ذریعے مزید تعاون میں سہولت دینے کا ارادہ ظاہر کیا۔

عالمگیر ترسیلی سلسلے اور مال و اسباب کی سلامتی کے حوالے سے تعاون مضبوط بنانے کے لیے وزرا نے بااختیار معاشی نگراں (اے ای او) پروگراموں کے مابین باہمی شناختی اہتمام (ایم آر اے) کو جلد حتمی  شکل دینے کی بات کی۔

نقصان دہ سائبر کرداروں کی جانب سے لاحق سنگین خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے امریکہ انڈیا سائبر ڈائیلاگ اور معلومات و مواصلات سے متعلق ورکنگ گروپ کے حالیہ کامیاب اجلاسوں کو یاد کرتے ہوئے وزرا نے سائبر سکیورٹی کے شعبے میں تعاون کی اہمیت، سائبر سپیس میں ذمہ دارانہ ریاستی طرزعمل کے فروغ اور کھلے و شفاف پلیٹ فارم و ٹیکنالوجی میں معاونت کی ازسرنو توثیق کی۔ اس ٹیکنالوجی کی بدولت خاص طور پر ابھرتی ہوئی آئی سی ٹی ٹیکنالوجی بشمول 5جی نیٹ ورکس میں نجی معلومات اور خودمختاری کے تحفظ میں مدد ملے گی۔ فریقین نے آنے والے برس میں سائبر دفاع سے متعلق امور پر بات چیت شروع کرنے کے ارادے کا اظہار بھی کیا۔

معیشت، توانائی، ماحول اور دوطرفہ خوشحالی

وزرا نے امریکہ اور انڈیا میں ریکارڈ سطح کی تجارت کی ستائش کی اور امریکی تجارتی نمائندوں اور انڈیا کی وزارت تجارت و صنعت کے متعدد دوطرفہ تجارتی مسائل کے حوالے سے باہمی سمجھوتے پر پہنچنے کا خیرمقدم کیا۔ دونوں فریقین  یہ مسائل تجارت میں سہولت پیدا کرنے، منڈی تک رسائی بہتر بنانے اور ایسے مسائل سے نمٹنے کے لیے سامنے لائے تھے جن سے دونوں کا مفاد وابستہ ہے۔ وزرا نے ایسی بات چیت کو فوری نتیجہ خیز بنانے کی بات کی جس سے دونوں ممالک میں خوشحالی کے فروغ اور روزگار تخلیق کرنے کے مشترکہ مقاصد کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی اور دونوں ملکوں کی معیشتوں میں بھاری سرمایہ کاری اور اختراع کے امکانات میں اضافہ ہو گا۔

دنیا میں سب سے زیادہ توانائی استعمال کرنے والے ان دو ممالک میں توانائی و وسائل میں بڑھتے ہوئے تعاون کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزرا نے امریکہ انڈیا تزویراتی توانائی کی شراکت کی اہمیت پر زور دیا تاکہ انڈیا کی جانب سے اپنی آبادی کو قابل اعتبار اور قابل استطاعت توانائی کی فراہمی کے مقصد کی تکمیل میں مدد دینے کے لیے بجلی کی ترسیل کی تنصیبات کو جدید بنایا جائے، توانائی کے جدید ذرائع کو انڈیا کے توانائی نظام کا حصہ بنایا جائے اور توانائی کی استعداد کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ فضائی آلودگی سے نمٹنے کے اقدامات ممکن ہو سکیں۔ وزرا نے بجلی کی تقسیم میں اصلاحات کے لیے معلومات کے تبادلے اور امریکہ انڈیا صاف توانائی کی مالیات سے متعلق ٹاسک فورس کے تحت توانائی کے موثر ذرائع سے متعلق اقدام کی اہمیت پر زور دیا۔

وزرا نے انڈیا کو امریکی ایل این جی، خام تیل اور توانائی کی دیگر پیداوار کی بڑھتی ہوئی برآمد کو سراہا جو اب 6.7 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک میں توانائی کے شعبے میں بڑی سطح کی سرمایہ کاری کی بات کی جس میں تیل و گیس کی تلاش و پیداوار (ای اینڈ پی) اور گیس سے متعلق بنیادی ڈھانچے کی ترقی بھی شامل ہیں۔

وزرا نے انڈیا کی وزارت جل شکتی اور امریکی ارضیاتی جائزے کے مابین مفاہمت کی دستاویز کا خیرمقدم کیا جس کا مقصد پانی کے معیار و انتظام جیسے شعبہ جات میں تکنیکی تعاون کو فروغ دینا ہے۔

امریکہ انڈیا تاریخی جوہری معاہدے کا تذکرہ کرتے ہوئے وزرا نے ”نیوکلیئر پاور کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ”  اور ”ویسٹنگ ہاؤس الیکٹرک کمپنی” کی جانب سے چھ جوہری ری ایکٹر تعمیر کرنے کی سائنسی و کاروباری پیشکش کا خیرمقدم کیا۔

شہری ہوابازی کے شعبے میں امریکہ اور انڈیا کے مابین شاندار تعاون کا تذکرہ کرتے ہوئے وزرا نے امریکہ انڈیا فضائی نقل و حمل کے معاہدے کے تحت امریکی جہازوں کو زمینی کارروائیوں کی اجازت دینے کے لیے معیارتی عملی طریقہ کار وضع کرنے کی کوششوں کو سراہا۔

وزرا نے ہوابازی سے متعلق امریکی وفاقی انتظامیہ اور انڈین  وزارت برائے شہری ہوابازی کے مابین شہری ہوابازی سے متعلق مفاہمت کی نئی یادداشت کی فوری تکمیل کی امید کا اظہار بھی کیا۔

سائنسی و خلائی شعبے میں مشترکہ قیادت

وزرا نے دونوں ممالک میں سائنس و ٹیکنالوجی سے متعلق نئے معاہدے کا خیرمقدم کیا جس سے سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے ، عملی تحقیق اور اختراع میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔

اپالو 11 مشن اور انڈیا کے خلائی تحقیقی ادارے (آئی ایس آر او) کو 50 سال مکمل ہونے پر وزرا نے خلائی شعبے، زمینی سائنس اور چاند پر تحقیق سمیت دونوں ممالک میں خلائی تعاون کا تذکرہ کیا جو کہ امریکہ انڈیا شراکت کی ایک منفرد حقیقت ہے۔ انہوں نے 2022 میں ”ناسا” اور ”اسرو” کا مشترکہ طور پر تیار کردہ ”سنتھیٹک اپرچر ریڈار” خلا میں بھیجنے کے لیے دونوں ممالک کے خلائی اداروں میں قریبی تعاون کو بھی سراہا۔

وزرا نے دو سالہ امریکہ انڈیا غیرفوجی مشترکہ خلائی ورکنگ گروپ کے ذریعے دونوں ممالک میں بڑھتے ہوئے تعاون کا خیرمقدم کیا۔ اس میں جدید ترین انداز میں زمینی  جائزے سے لے کر بین السیاراتی تحقیق تک مختلف کام انجام دیے جاتے ہیں ۔ وزرا نے باہمی تعاون بشمول انسان کو خلا میں بھیجنے اور تحقیق سمیت نئے مواقع کی حمایت کی۔ وزرا نے خلائی صورتحال سے آگاہی بارے دوطرفہ معلومات کے تبادلے کا خیرمقدم بھی کیا جس سے محفوظ، مستحکم اور پائیدار خلائی ماحول کے قیام کی کوششوں کو مہمیز ملے گی۔ دونوں فریقین نے آئندہ برس خلائی دفاع کے شعبے میں ممکنہ تعاون پر بات چیت کے ارادے کا اظہار بھی کیا۔

دونوں ممالک کے شہریوں کے مابین رشتوں کی تعمیر

وزرا نے دونوں ممالک میں عوامی تعلقات کی منفرد اور پائیدار بنیاد کا تذکرہ کیا جس میں چالیس لاکھ انڈین امریکی بھی شامل ہیں جنہوں نے امریکہ انڈیا شراکت کی تخلیق میں اپنا کردار ادا کیا۔

وزرا نے امریکہ میں انڈین طلبہ کی تعداد میں حالیہ اضافے کا خیرمقدم کیا جو اب دو لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی میں تحقیقی شراکتوں میں وسعت کی اہمیت کا اعتراف کیا۔ اس سے باہمی سمجھ بوجھ، کاروبار اور سائنسی تحقیق میں مدد مل رہی ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے ”فل برائٹ نہرو پروگرام” کی دیرپا کامیابی کو سراہا جسے 2020 میں 70 برس ہو جائیں گے۔ وزرا نے امریکہ انڈیا نوجوان اختراع کاروں کے دوطرفہ اقدام کی تشکیل کے ارادے کا اظہار کیا۔ اس سے سائنسی اور معاشی جدوجہد میں ابھرتے ہوئے نوجوان رہنماؤں کے لیے تربیت کے مواقع کھلیں گے۔

 انڈیا کے عوام اور امریکہ میں رہنے والے انڈین لوگوں کے کاروباری جذبے کو سراہتے ہوئے وزرا نے معاشی تعلقات مضبوط بنانے کے لیے عوامی سطح پر روابط کی اہمیت کا تذکرہ کیا۔ دونوں فریقین نے تعاون کو مزید فروغ دینے اور ویزا نیز باہمی تشویش کے معاملات بشمول شادی، گود لینے اور بچے کی تحویل سے متعلق دوطرفہ خاندانی امور پر بات چیت اور امریکہ انڈیا آئندہ قونصلر ڈائیلاگ کو آگے بڑھانے کی بات کی۔

امریکہ انڈیا مضبوط شراکت کے لیے دونوں ممالک میں وسیع پیمانے پر مقبول اور سیاسی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے وزرا نے امریکہ انڈیا پارلیمانی تبادلے کا ارادہ ظاہر کیا تاکہ دونوں ممالک کے ارکان پارلیمان کو دوطرفہ دوروں میں سہولت دی جا سکے۔

وزیر پومپیو اور ایسپر نے دوسری جنگ عظیم سے لاپتہ امریکی افواج کے ارکان کی باقیات واپس لانے میں مسلسل مدد پر انڈیا کی حکومت کی ستائش کی۔

مہاتما گاندھی کی 150ویں برس پر امریکہ ان کی زندگی اور پیغام کی یاد مناتے ہوئے انڈیا کے ساتھ ہے۔ وہ انڈیا اور امریکہ کی کئی نسلوں کے لیے تحرک کا باعث بنے۔

انڈیا 2020 میں آئندہ 2+2 وزارتی ڈائیلاگ کی میزبانی کا منتظر ہے۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں