rss

مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف امریکی اقدامات

Español Español, English English, Português Português, العربية العربية, Русский Русский, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو کا بیان
20 دسمبر 2019

 

مذہبی آزادی کا تحفظ ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کی اولین ترجیح ہے۔ مذہب یا اعتقاد کی بنیاد پر ایذا رسانی اور امتیازی سلوک دنیا کے ہر خطے میں ہوتا ہے۔ امریکہ مذہبی آزادی کے فروغ اور اس کی پامالی روکنے کے لیے تندہی سے کام کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں حالیہ نامزدگیاں اسی اہم کام کا تسلسل ہیں۔

18 دسمبر 2019 کو دفتر خارجہ نے برما، چین، اریٹریا، ایران، شمالی کوریا، پاکستان، سعودی عرب، تاجکستان اور ترکمانستان کو عالمگیر مذہبی آزادی کے قانون 1998 کے تحت ایسے ممالک کے طور پر ازسرنو نامزد کیا جن کے حوالے سے خاص خدشات پائے جاتے ہیں۔ یہ نامزدگیاں ان ممالک کے مذہبی آزادی کی ”منظم، جاری، (اور) سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے یا مذہبی آزادی کی پامالی سے صرف نظر کرنے” پر عمل میں آئی ہیں۔

دفتر خارجہ نے کوموروز، روس اور ازبکستان کو ایسی حکومتوں کی خصوصی نگرانی کی فہرست (ایس ڈبلیو ایل) میں دوبارہ شامل کیا ہےجو ”مذہبی آزادی کی شدید خلاف ورزی” میں ملوث رہی ہیں یا انہوں نے اس خلاف ورزی کو نظرانداز کیا ہے۔ کیوبا، نکاراگوا، نائجیریا اور سوڈان اس فہرست میں آنے والے نئے ممالک ہیں۔ سوڈان کو غیرفوجی رہنماؤں کے زیرقیادت عبوری حکومت کی جانب سے گزشتہ حکومت کے ہاتھوں ”مذہبی آزادی کی منظم، جاری اور سنگین خلاف ورزیوں” سے نمٹنے کے اقدامات کی بنا پر خصوصی نگرانی کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ آخر میں ہم نے النصرہ فرنٹ، جزیرہ نما عرب میں سرگرم القاعدہ، القاعدہ، الشباب، بوکو حرام، حوثیوں، دولت اسلامیہ، دولت اسلامیہ خراسان اور طالبان کو ایسی تنظیموں کے طور پر نامزد کیا ہے جن کے حوالے سے خاص خدشات پائے جاتے ہیں۔

ان نامزدگیوں سے ایسے لوگوں کے تحفظ کے لیے امریکہ کا عزم نمایاں ہوتا ہے جو اپنی مذہبی یا عقیدے کی آزادی سے کام لینے کے خواہاں ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہر ایک کو ہر جگہ اور ہر وقت اپنے ضمیر کی آواز کے مطابق زندگی بسر کرنے کا حق ہونا چاہیے۔ ہم ان بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے تمام ریاستی و غیرریاستی کرداروں کو چیلنج کرنا جاری رکھیں گے اور ان کے افعال پر ان سے جواب طلبی یقینی بنائیں گے۔

اس ماہ امریکی حکومت نے عالمگیر میگنیٹسکی ایکٹ کے تحت نو ممالک کے 68 افراد اور اداروں کو بدعنوانی اور انسانی حقوق کی پامالی کی پاداش میں پابندیوں کے لیے نامزد کرنے کا اعلان کیا۔ ان میں روہنگیا مسلمانوں اور دیگر مذہبی و نسلی اقلیتوں کے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے ذمہ دار برمی فوجی رہنما بھی شامل ہیں۔ اکتوبر میں ہم نے چینی حکومت اور اشتراکی جماعت کے ایسے حکام پر ویزا کی پابندیاں عائد کی تھیں جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ چینی صوبے سنکیانگ میں ویغور، قازق اور مسلم اقلیتی گروہوں کے دیگر ارکان کی حراست یا ان سے بدسلوکی کے ذمہ دار یا ایسی سازباز میں ملوث ہیں۔

ہمارے اقدامات مذہبی آزادی کے حوالے سے ہمارے موقف کے مطابق رہے ہیں اور رہیں گے۔ لوگوں کو ان کے عقیدے کی بنا پر ایذا پہنچانے والے ہر ملک، ادارے یا فرد کا احتساب یقینی بنایا جانا چاہیے۔ ہم نے اس سلسلے میں عملی اقدامات کئے ہیں اور کرتے رہیں گے۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں