rss

وزیرخارجہ مائیک پومپیو اور وزیر خزانہ سٹیون منوچن کی ایرانی پابندیوں پر پریس بریفنگ

Português Português, English English, العربية العربية, Français Français, Español Español, 中文 (中国) 中文 (中国)

وائٹ ہاؤس
پریس سیکرٹری کا دفتر
واشنگٹن، ڈی سی
10 جنوری 2020

 

 

[ابتدائی کلمات]
جیمز ایس بریڈی پریس بریفنگ روم
10:27 صبح ای ایس ٹی

 

وزیر خزانہ منوچن: سب کو، صبح بخیر۔ آج یہاں موجود ہونے پر آپ کا شکریہ۔ اس سے پہلے کہ ہم ایران پر پابندیوں کی بات کریں میں ایک مختصر سے بات کرنا چاہوں گا۔ مجھے یقین ہے سب نے ‘ڈاؤ” کو 29,000 کی سطح پر ہہنچتے ہوئے دیکھا۔ صدر کے اقتصادی منصوبے واضح انداز سے کامیاب ہو رہے ہیں۔ ہم چین کے یو ایس ایم سی اے پر دستخط کرنے اور اس سال مضبوط معیشت کے منتظر ہیں۔

جیسا کہ صدر پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں، ہم امریکی اور اتحادی فوجوں پر حملے کے نتیجے میں ایرانی حکومت کے خلاف اضافی پابندیوں کا اعلان کر رہے ہیں۔

پہلے، صدر ایک انتظامی حکم نامہ جاری کر رہے ہیں جس کے ذریعے کسی بھی ایسے شخص کے خلاف اضافی پابندیاں عائد کرنے کا اختیار دیا جائے گا جو ایرانی معیشت کے تعمیراتی، مصنوعات سازی، ٹیکسٹائل اور کان کنی کے شعبوں سمیت کسی بھی شعبے کا مالک ہوگا، اسے  چلاتا ہوگا، اس میں تجارت کرتا ہوگا یا معاونت کرتا ہوگا۔ میں ایک بات واضح کر دوں: یہ بنیادی اور ثانوی، دونوں پابندیاں ہوں گیں۔ اس انتظامی حکم نامے کے تحت وزیر خارجہ پومپیو کو اور مجھے مستقبل میں اُن دیگر شعبوں کو نامزد کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا جنہیں ہم مناسب سمجھیں گے۔

دوسرے، ہم ایران کی سب سے بڑی سٹیل اور لوہا بنانے والی کمپنیوں، سیشیلز میں قائم تین اداروں، اور مصنوعات کی منتقلی میں ملوث ایک بحری جہاز پر 17 مخصوص پابندیوں کا اعلان کر رہے ہیں۔ ان اقدامات کے نتیجے میں، ہم ایرانی حکومت کی اربوں ڈالر کی مالی مدد منقطع کردیں گے۔ اور ہم دوسرے اداروں پر (پابندیوں) کے اپنے نفاذ کو جاری رکھیں گے۔

تیسرے، ہم ایران کے اُن آٹھ اعلٰی اہل کاروں کے خلاف بھی کاروائی کر رہے ہیں جنہوں نے حکومت کی عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمی کو فروغ دیا اور  وہ منگل کے بیلسٹک میزائلوں کے حملے میں ملوث تھے۔ وزیر خارجہ اس موضوع پر مزید بات کریں گے۔

ہماری آج کی پابندیاں ایرانی حکومت کی عالمگیر دہشت گرد سرگرمیوں کو روکنے کے ہمارے عزم کا حصہ ہیں۔ صدر اس بارے میں بڑے واضح ہیں: ہم اس وقت تک اقتصادی پابندیوں کا اطلاق جاری رکھیں گے جب تک کہ ایران اپنی دہشت گردی کی کاروائیاں بند نہیں کردیتا اور یہ عہد نہیں کرتا کہ وہ جوہری ہتھیار کبھی نہیں رکھے گا۔

اب میں وزیر خارجہ پومپیو کو بات کرنے کی دعوت دیتا ہوں۔

وزیر خارجہ پومپیو: شکریہ، سٹیون۔ سب کو، صبح بخیر۔

آج، صدر ٹرمپ اپنا وہ وعدہ پورا کر رہے ہیں جو انہوں نےاس دن کیا تھا جس دن ایران نے عراق میں امریکی افواج پر حملہ کیا تھا: یعنی نئی پابندیوں کا ایک پورا سلسلہ  شروع  ہوگا۔

وزیر خزانہ منوچن نے ابھی ابھی اُن آٹھ اعلٰی ایرانی اہل کاروں کا ذکر کیا جو ملک کے اندر اور ملک سے باہر، دونوں جگہوں پر حکومت کے تشدد کے ذمہ دار ہیں۔ ہم اسلامی جمہوریہ کی اندرونی سکیورٹی کے نظام کے دل پر کاری ضرب لگا رہے ہیں۔ اِن پابندیوں کے اہداف میں سپریم نیشنل کونسل کا سیکرٹری اور بسیج فورسز کا کمانڈر شامل ہیں۔ یہ حکومت کا سفاک ٹولہ ہے جس نے گزشتہ چند ماہ میں تقریبأ اُن 1500 ایرانیوں کو مار ڈالا جو محض آزادی کا مطالبہ کر رہے تھے۔  

ہمارا اقدام اُن دوسرے اعلٰی رہنماؤں کو نشانہ بناتا ہے جو آیت اللہ کے قریب ہیں۔ انہوں نے مشرق وسطی اور پوری دنیا میں عدم استحکام کی مہموں میں اس کی (آیت اللہ کی) دہشت گردانہ سازشوں کو عملی جامہ پہنایا۔ انہوں نے خطے بھر کے جنگ کے میدانوں میں فوجی جھونکے۔ انہوں نے داخلی مظالم کے ‘ فنون’ میں عراق، شام، اور دیگر جگہوں پر ملیشیاؤں کو تربیت دی۔

آج، انہیں قتل اور تباہی کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جا رہا ہے۔ ہماری مہم کا مقصد حکومت کو اپنی تباہ کن خارجہ پالیسی کو چلانے کے وسائل سے محروم کرنا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایران ایک عام ملک جیسا رویہ اپنائے۔ ہمیں یقین ہے کہ ہم نے جو پابندیاں آج عائد کی ہیں وہ اس تزویراتی مقصد کو آگے بڑہائیں گی۔

ہماری مہم  اُن سفارتی اور معاشی اجزاء پر مشتمل ہے جنہوں نے حکومت کو اربوں کی اُس آمدنی سے محروم کرکے رکھ دیا ہے جس کو اس حکومت نے مشرق وسطی اور پوری دنیا میں موت اور تباہی کو بڑھاوا دینے کے لئے استعمال کیا۔

افسوس کی بات ہے کہ گزشتہ انتظامیہ نے ایران پر آمدنی کے دریا بہا دیئے۔ تاہم ہماری انتظامیہ کے تحت، تیل سے ہونے والی آمدنی 80 فیصد تک کم ہو چکی ہے اور ایران اپنے غیر ملکی کرنسی کے ذخائر کے لگ بھگ 90 فیصد حصے تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا۔ اور یہ تو دو ہفتے سے بھی کم کی بات ہے جب ایران کے صدر روحانی نے اقرار کیا کہ ایران کو ہماری پابندیوں کی وجہ سے غیر ملکی آمدنی اور سرمایہ کاری کی شکل میں 200 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ جب تک ایران کے غیر قانونی طرز ہائے عمل  جاری رہیں گے، ہم پابندیاں عائد کرتے رہیں گے۔

آخر میں، میں ایران کے انددر زیرِ حراست امریکیوں اور دوہری شہریت کے حامل شہریوں کے بارے میں صدر ٹرمپ کی تشویش کا اعادہ کرنا چاہتا ہوں۔ ایران کو علم ہے کہ اِن افراد نے کوئی جرم نہیں کیا۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کے خلاف الزامات جعلی ہیں۔ اور ہم، اِن میں سے ہر ایک کو وطن میں اُن کے خاندانوں کے پاس بحفاظت واپس پہنچانے کے لیے ہر وہ کام کریں گے جو ہم کر سکتے ہیں۔

*          *          *          *

ختم شد  11:04 صبح ای ایس ٹی

 


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں