rss

"روک تھام کی بحالی: ایرانی مثال”

فارسی فارسی, English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Русский Русский, Español Español, 中文 (中国) 中文 (中国)

محکمہ خارجہ
ترجمان کا دفتر
واشنگٹن، ڈی سی
13 جنوری 2020
تقریر
وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو
سٹینفورڈ کے طالبعلموں کے ساتھ حکمت عملی پر تبادلہ خیالات
"روک تھام کی بحالی: ایرانی مثال”
سٹینفورڈ یونیورسٹی کا ہوور انسٹی ٹیوشن
پالو آلٹو، کیلی فورنیا

 

سب کا شکریہ۔ کیا سب کا دن اچھا گزر رہا ہے؟ جب موسم اتنا زبردست ہوتو ناخوش ہونا تو ایک مشکل بات ہوتی ہے۔ جنوبی کیلی فورنیا میں بڑا ہوتے ہوئے مجھے تھوڑا بہت یاد پڑتا ہے کہ ہر دن ایسا ہی ہوا کرتا تھا۔ مجھے اس کا  بھی احساس ہے–    ٹام، اتنے اچھے تعارف پر شکریہ۔ مجھے اس کا  بھی احساس ہے کہ جب میرا 70ویں وزیر خارجہ کے طور پر تعارف کرایا جاتا ہے اور یہ کہ صدر ٹرمپ 45ویں صدر ہیں، تو میرے حصے میں بہت کچھ آ جاتا ہے۔ (قہقہے) 

میں چند ایک خاص لوگوں کا اکرام کرنا چاہتا ہوں۔ وزیر رائس ہمارے ساتھ ہیں۔ ٹام، آپ کی موجودگی کا شکریہ۔ میرے سابق رفیق کار اور پیارے دوست جنرل میک ماسٹر بھی ہمارے درمیان موجود ہیں۔ یہاں کیلی فورنیا میں آپ کے درمیان موجود ہونا اور واپس آنا ہمیشہ بہت اچھا لگتا ہے۔

آپ کا اس شاندار ادارے میں تعلیم حاصل کرنا ایک زبردست اعزاز کی بات ہے۔ آپ کے ابتدائی گریجوایٹوں میں سے ایک گریجوایٹ ایک عظیم امریکی بھی تھے جن کے نام پر اِس ادارے یعنی "ہوور انسٹی ٹیوشن” کا نام رکھا گیا۔

وہ امریکہ کی غیر معمولی شان و شوکت کی وجہ سے اس کا احترام کرنے پر ہماری تعریف کے مستحق ہیں۔ وہ آئیووا کے ایک یتیم سے ترقی کرتے کرتے امریکہ کے صدر بنے۔ وہ کان کنی کے ایک ذہین انجنیئر تھے۔ میں نے بھی بحیثیت انجنیئر گریجوایشن کی۔ انہوں نے آسٹریلیا سے چین تک کا سفر کیا اور اپنی محنت کے بل بوتے پر بڑی دولت کمائی۔

جب پہلی عالمی جنگ شروع ہوئی تو انہوں نے اپنی ذہانت کو استعمال میں لاتے ہوئے یورپ میں پھنسے ہزاروں امریکیوں کی کوششوں میں رابطہ کاری کی اور انہیں واپس امریکہ لانے میں مدد کی۔ وہاں اُن کی کامیابی کے نتیجے میں انہوں نے پہلی عالمی جنگ سے پہلے اور بعد میں یورپ کو فاقہ کشی سے بچانے کی کوششوں میں رہنمائی کی۔ وہ انسانی بنیادوں پر کی جانے والی اُن امریکی کوششوں کی ہرایک اُس چیز کی مجسم صورت تھے جس کے ہم امین رہے اور جسے ہم دہائیوں سے اپنائے ہوئے ہیں۔

1948ء میں 74 سال کی عمر میں انہوں نے اپنی جائے پیدائش پر جو کچھ ایک غریب یتیم بچے کی حیثیت سے امریکہ نے انہیں دیا اُس کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے کہا، اُن کے الفاظ میں، ” مجھے ہر وہ اعزاز ملا جس کی کوئی آدمی خواہش کرسکتا ہے۔ پوری دنیا میں امریکہ کے علاوہ کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں کسی آدمی کے تمام بیٹوں کو زندگی میں یہ موقع مل سکے۔”

میں اپنے بارے میں بھی اکثر اسی طریقے سے محسوس کرتا ہوں۔ امریکہ حقیقی معنوں میں ایک خاص جگہ ہے۔

میں پچھلے چند دنوں اور ہفتوں کے اقدامات کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا ماسوائے اُن کاموں کے جو ہماری انتظامیہ نے امریکہ کو محفوظ رکھنے اور آپ میں سے ہر ایک کی حفاظت کی خاطر کیے ہیں۔

اس ماہ کی تین تاریخ کو ہم نے دنیا کے مہلک ترین دہشت گردوں میں شمار ہونے والے ایک دہشت گرد کو میدان جنگ سے ہمیشہ  ہمیشہ کے لیے ہٹا دیا۔

آپ میں سے بہت سوں کو غالبأ بے گھر ہونے والے لاکھوں افراد اور شام میں مارے جانے والے ہزاروں افراد، یمن میں فاقہ کشی اور ہیضے کی وبا، لبنان اور عراق میں شیعہ ہلال کے ساتھ ساتھ جمہوریت کو عدم استحکام سے دوچار کرنے والی شیعہ ملیشیاؤں کے بارے میں علم ہے۔

ایرانی حکومت اور اس کے آلہ کاروں نے قاسم سلیمانی کی براہ راست نگرانی میں اِن سب مصائب کو پروان چڑہایا۔ یہی وجہ ہے کہ جب عراقیوں نے سنا کہ سلیمانی کی موت واقع ہوچکی  ہے تو وہ ہزاروں کی تعداد میں جشن منانے سڑکوں پر نکل آئے۔ اور بھی بہت سے لوگ ان میں شامل ہو جاتے مگر اس ڈر سے کہ  ایران کے  حمایت یافتہ باقی بدمعاش، جن میں سے بہت سے کچھ دن قبل امریکی سفارت خانے کے دروازوں پر تھے، ان کی مار پیٹ کرتے یا انھیں جیل بھیج دیتے یا مار ڈالتے۔

اس وقت آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ایرانی عوام سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ بے تحاشا ذاتی خطرات کے باوجود وہ بھی اسی طرح ایک حیرت انگیز تعداد میں موجود ہیں۔ وہ اُن اشتہاروں اور اشتہاری بورڈوں کو جلا رہے ہیں جن پر سلیمانی کا چہرہ بنا ہوا ہے اور یہ نعرے لگا رہے ہیں، "سلیمانی قاتل ہے۔” انہیں علم ہے کہ وہ ان پر کیے جانے والے جبر کا ایک اہم معمار تھا۔ اور امریکہ اُن کے آزادی اور انصاف کے مطالبات میں، آیت اللہ اور اس کے کاسہ لیسوں، اورجو کچھ انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران میں تباہ کیا اُس کے خلاف اُن کے بجا غصے میں ان کے ساتھ  ہے۔ میں صدر ٹرمپ کے اس اصرار کو دہرانا چاہتا ہوں کہ ایران مظاہرہ کرنے والے کسی ایک شخص کو بھی نقصان نہ پہنچائے۔ مجھے امید ہے کہ ہر ایک ایسا ہی کرے گا۔ ہم نے پوری دنیا اور خطے میں اپنے اتحادیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھی ایرانیوں کے ساتھ اس تقاضے کو دہرائیں۔

اسامہ بن لادن کے علاوہ دوسرا کوئی ایسا دہشت گرد نہیں ہے جس کے ہاتھوں پر قاسم سلیمانی سے زیادہ خون ہو۔ سلیمانی نے ہمارے 600 سے زیادہ محب وطنوں کو ہلاک کیا۔ ان میں سے کچھ نوجوانوں کو میں جانتا بھی تھا۔

وہ عراق میں امریکی افواج کے خلاف ہونے والے حالیہ حملوں کا  منصوبہ ساز تھا۔ اس کے علاوہ وہ  گزشتہ برس 27 دسمبر کو کیے جانے والے اس حملے کا  بھی منصوبہ ساز تھا جس میں ایک امریکی ہلاک ہوا تھا۔

اس نے 31 دسمبر کو امریکہ سفارت خانے پر دھاوا بولنے کا حکم بھی دیا یعنی اُن لوگوں پر جو بغداد میں امریکہ کے محکمہ خارجہ کے لیے کام کرتے ہیں۔ میں آپ کو یقین دلا سکتا ہوں کہ اس حقیقت کے نتیجے میں دنیا اب زیادہ محفوظ جگہ ہے کہ دنیا کو اس (سلیمانی) سے اب کوئی خطرہ لاحق نہیں۔ 

تاہم میں یہ بات سیاق و سباق کے ساتھ آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں کہ ہم کیا کچھ کرنے کی کوشش کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اس معاملے میں ایک وسیع تر حکمت عملی ہے۔

صدر ٹرمپ اور ہم میں سے وہ جو قومی سلامتی کی ٹیم میں شامل ہیں، اسلامی جمہوریہ کے معاملے میں ڈر پر مبنی روک تھام (کی حکمت عملی) دوبارہ  تشکیل دے رہے ہیں –  ڈر پر مبنی حقیقی روک تھام۔ تزویراتی اصطلاح میں اس روک تھام کا مطلب یہ ہے کہ دوسرے فریق کو اس بات پر آمادہ کیا جائے کہ کسی مخصوص رویے کی قیمت اس کے فوائد سے زیادہ ہے۔ اس کے لیے اعتبار کی ضرورت ہوتی ہے اور اسی پر اس کا انحصار ہوتا ہے۔ آپ کے مخالف کو  بہرصورت یہ احساس ہونا چاہیے کہ آپ میں  نہ صرف اُس پر اِس کی قیمت مسلط کرنے کی اہلیت ہے بلکہ حقیقت میں آپ ایسا کرنے کے لیے تیار بھی ہیں۔

میں سرد جنگ کے زمانے میں ایک نوجوان فوجی سپاہی تھا۔ آپ دنیا کی عظیم ترین فوج رکھ سکتے ہیں لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا اگر آپ اپنے تزویرانتی مقاصد حاصل کرنے کے لیے اسے استعمال کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔

جیسا کہ آپ کے سکالروں میں سے ایک سکالر، وکٹر ڈیوس ہینسن نے کہا، "ڈر پر مبنی روک تھام کو قائم کرنا مشکل اور کھونا آسان ہوتا ہے۔”

آئیے ایمانداری سے بات کریں۔ ہم سب کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ایران کے معاملے میں ڈر پر مبنی اس روک تھام کو حاصل کرنے کے لیے دہائیوں تک دونوں سیاسی جماعتوں کی امریکی انتظامیاؤں نے خاطر خواہ کوشش نہیں کی۔ جے سی پی او اے یعنی جوہری معاہدے نے بذات خود حالات کو خراب کیا۔ اس نے (ایرانی) حکومت کو پیسہ جمع کرنے کے قابل بنایا، ملیشیاؤں کے نیٹ ورک بنانے کے لیے آیت اللہ کے منصب پر بیٹھے لوگوں پر آمدنی کے دریا بہا دیئے۔ یہ وہی نیٹ ورک ہیں – بالکل وہی نیٹ ورک – جنہوں نے ایک امریکی کو ہلاک کیا اور بغداد میں ہمارے سفارت خانے کو بے پناہ خطرات سے دوچار کیا۔ اِن کوششوں کو روکنے کے بجائے اس معاہدے نے ایران کو جوہری ہتھیاروں کی واضح راہ پر ڈال دیا۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پر صدر ٹرمپ نے یہ کہتے ہوئے اپنے کلمات کا آغاز کیا کہ ایسا اُن کے ہوتے ہوئے کبھی نہیں ہوگا۔     

تو ہم نے کیا کیا؟ ہم نے سفارتی تنہائی، اقتصادی دباؤ، اور ڈر پر مبنی فوجی روک تھام کی ایک مہم تشکیل دی۔

ہمارا مقصد دو جہتوں پر مشتمل ہے۔ پہلے، ہم نے حکومت کو وسائل سے محروم کرنا چاہا۔ وہ وسائل جس کی اسے دنیا بھر میں بدنیتی پر مبنی اپنی سرگرمیوں کو مستقل بنیادوں پر چلانے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اور دوسرے، ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ ایران ایک عام ملک جیسا رویہ اپنائے۔ ناروے جیسا، ٹھیک ہے نا؟ (قہقہے)

سفارتی سطح پر، اتحادی اور شراکت کار ہمارے ساتھ شامل ہو چکے ہیں۔ بحری جہازوں پر حملوں کو روکنے کے لیے وہ  خلیج فارس میں آبنائے ہرمز میں ہمارے ساتھ مل کر گشت کر رہے ہیں۔ اس بات کو ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ گزشتہ ماہ ایرانیوں نے آبنائے (ہرمز) سے کافی جہاز ہٹائے ہیں۔ 

جرمنی، فرانس، اٹلی، سب ماہان ایئر نامی کمپنی پر پابندی لگا چکے ہیں۔ یہ ایک ایرانی فضائی کمپنی ہے جو فوجی –   یعنی ایران کا فوجی ساز و سامان اور ہتھیار جنگی محاذوں تک پہنچاتی ہے۔ 

ارجنٹینا اور برطانیہ دونوں اب حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں۔

اور آپ بھی دیکھ چکے ہیں کہ ہماری طرف سے ڈالے جانے والے اقتصادی دباؤ نے ایرانی تیل کی آمدنی کو لگ بھگ 80 فیصد کم کر دیا ہے۔ ہم آخری 20 فیصد کو بھی ختم کرنے کا تہیہ کیے ہوئے ہیں۔  

صدر روحانی نے بذات خود اقرار کیا ہے کہ ہم نے ایرانی حکومت کو 200 ارب ڈالر کی غیرملکی آمدنی اور سرمایہ کاری سے محروم کر دیا ہے۔ یہ ہمارے اقدامات کا نتیجہ ہے۔ یہ وہی پیسہ ہے جس کی ایک کثیر تعداد ایسی کاروائیوں کو بڑہاوا دیتی جو آپ اور آپ کے ساتھی شہریوں کو خطرات سے دوچار کردیتی۔  

اور آپ بھی اسے دیکھ سکتے ہیں۔ ایرانی عوام اپنی دولت چوری کرنے پر اور اُن کی بے تحاشا قیمت پر پرتشدد طریقے سے حکومت کو پھیلانے کی وجہ سے اپنی حکومت سے سخت زیادہ ناراض ہیں۔   

فوجی پہلو سے، ہم  ایرانیوں کو بار بار متنبہ کر چکے ہیں- میں نے خود ذاتی طور پر ایسا کیا ہے –   کہ ایسا حملہ جس سے امریکی جانیں چلی جائیں، برداشت نہیں کیا جائے گا۔

اور انہوں نے ہمیں آزمایا جیسے کہ وہ پہلی انتظامیاؤں کو بھی کئی مرتبہ آزما چکے تھے۔ ماضی کی نرمی نے انہیں دلیر بنا دیا تھا۔

سلیمانی کا فیصلہ اپنی جگہ، مگر 27 دسمبر کو ہم نے یہ تبدیل کر دیا۔ 31 کو ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاؤں نے بغداد میں ہمارے سفارت خانے پر حملہ کیا اور ہم نے اُن کے کھیل کو بدل کر رکھ دیا۔

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف نے غالبأ بہترین بات کی۔ اگر ہم نے قاسم سلیمانی کے خلاف یہ حملہ نہ کیا ہوتا  – جو سفارشات ہم نے صدر ٹرمپ کو بھجوائیں – اور اگر ہم یہ سفارشات نہ بھجواتے تو ہم "مجرمانہ غفلت” کے مرتکب ہوتے۔ ہماری قیادت نے اس (ایرانی) حکومت پر اس کے برے فیصلے کی وجہ  سے بھاری قیمت چکانے کا بوجھ  ڈالا۔

قاسم سلیمانی کو امریکی جانوں کے دفاع کرنے کے ہمارے عزم کا پتہ چل گیا ہے۔

اور ایران نے جوابی کاروائی کی اور ہم شکرادا کرتے ہیں کہ کوئی انسانی جان ضائع نہیں ہوئی۔ اور ہم امریکہ یا اس کی افواج پر کسی بھی حملے کی سنگینی کو کبھی بھی کم کرکے بیان نہیں کریں گے۔ مگر حملے کی نوعیت اور اس کی شدت سے اندازہ لگاتے ہوئے، (ایرانی) حکومت کو یقینی طور پر یہ سمجھ آجانا چاہیے کہ اگر وہ دوبارہ امریکی جانوں کے لیے خطرہ بنیں گے تو ہم کیا کریں گے۔ اگر ایران اس کو بڑہاتا ہے تو اس کا خاتمہ ہماری شرائط پر ہوگا۔

صدر ٹرمپ نے ڈر پر مبنی روک تھام کو اس وقت مزید مضبوط بنایا جب انہوں نے گزشتہ ہفتے سلسلہ وار بیانات دیئے۔ اور آج کل ایران جوہری سمجھوتے سے نکلنے کا شور مچا رہا ہے۔ اس کی ایک وجہ  یہ ہے کہ صدر نے قوم کے نام اپنے بیان سے پہلے یہ الفاظ کہے۔ ان کے الفاظ میں، "جب تک میں امریکہ کا صدرہوں، [ہم کبھی نہیں] –  ایران کو کبھی بھی کوئی جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دیں گے۔” اس اعلان کے پیچھے دنیا کی ڈر پر مبنی موثر ترین روک تھام کی صلاحیت موجود ہے۔

اور ہماری پابندیاں تب تک جاری رہیں گی جب تک کہ حکومت اپنی دہشت گردی کی سرگرمی روک نہیں دیتی اور کبھی بھی جوہری ہتھیار رکھنے کا عہد نہیں کر لیتی اور اس کی تصدیق کرنے والے ایک ایسے طریقہ کار کی اجازت نہیں دے دیتی جو دنیا کو یہ اعتماد دے سکے کہ ایسا نہیں ہوگا۔

اب ہم ایران سے متعلق طاقت کے اونچے مقام پر کھڑے ہیں۔ یہ اتنا ہی اچھا ہے جتنا یہ پہلے کبھی  رہا ہے اور ایران کبھی بھی ایسے مقام پر نہیں تھا جس پر وہ آج کھڑا ہے۔

ہم نے ڈر پر مبنی روک تھام کو دوبارہ قائم کر دیا ہے اور ہمیں علم ہے کہ یہ دیرپا نہیں ہوتا اور یہ خطرہ برقرار رہے گا۔ ہم یہ تہیہ کیے ہوئے ہیں کہ ہم ڈر پر مبنی اس روک تھام کو نہ گنوائیں۔ ہمیں ہر حالت میں یہ کام کرنا ہوگا۔

دنیا بھر میں آزادی اور حریت کا دفاع کرنے کے لیے ہمیں یہ کام کرنا ہوگا۔ صدر ٹرمپ کے سارے کام کا بنیادی نکتہ پہلے کے مقابلے میں ہماری فوج کو مضبوط ترین بنانا ہے۔

ہم نے صرف ایران ہی میں نہیں بلکہ دوسری جگہوں پر بھی دیکھا جہاں ڈر پر مبنی امریکی روک تھام کمزور تھی۔ ہم نے 2014ء میں روس کا کرائمیا پر قبضہ اور یوکرین کے خلاف جارحیت کی حمایت بھی دیکھی کیونکہ ڈر پر مبنی روک تھام کمزور پڑ گئی تھی۔ ہم نے یوکرین کی فوج کو انتہائی موثر امداد دوبارہ شروع کر دی ہے۔

چین کی بحیرہ جنوبی چین میں ایک جزیرے کی تعمیر بھی اور اس کی امریکی اتحادیوں کو ڈرانے دھمکانے کی ڈھٹائی پر مبنی کوششوں نے بھی ڈر پر مبنی روک تھام کو نقصان پہنچایا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے پورے خطے کے اپنے اتحادیوں اور دوستوں اور شراکت کاروں کے ہمراہ، بحیرہ جنوبی چین میں بحری مشقیں تیز تر کر دی ہیں۔

آپ نے بھی دیکھا کہ روس نے ایک معاہدے کو نظر انداز کیا۔ ہم اپنے نیٹو اتحادیوں کی متفقہ حمایت کے ساتھ آئی این ایف معاہدے سے دستبردار ہوگئے کیونکہ دو فریقی معاہدے کی صرف ایک فریق ہی پاسداری کر رہا تھا۔ ہمارا خیال ہے کہ اس نے امریکہ کی حفاظت کرنے کے لیے (ہماری) ساکھ اور ڈر پر مبنی روک تھام کو دوبارہ بحال کر دیا ہے۔ 

تنہا یہ کام نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہےکہ صدر ٹرمپ نے اصرار کیا ہے کہ نیٹو کے ممبران اپنا بوجھ اٹھانے کے لیے اپنے حصے کا کام کریں۔ دنیا بھر میں آزادی کے تحفظ کے لیے اپنے شراکت کاروں کی حوصلہ افزائی کرنے کی امریکی کوششوں کے براہ راست نتیجے میں 2024ء کے آخر تک نیٹو کے سازوسامان کے لیے 400 ارب ڈالر کے قریب قریب مزید آئیں گے۔ اس سے اُس سب کچھ کو تقویت حاصل ہوگی جو ہم سب مل کر حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔   

کئی سالوں سے چین نے اپنی منڈیوں میں امریکی مصنوعات کی رسائی پر پابندی عائد کر رکھی ہے، جبکہ یہاں اپنی مصنوعات کی رسائی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ میں ایک چھوٹا سے کاروبار کا مالک تھا۔ میرا شنگھائی میں ایک چھوٹا سا دفتر تھا۔ ہم نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ہم چین کے ساتھ منصفانہ اور دو طرفہ برابری کا تجارتی بندوبست کریں گے۔ ہم سب اس کا مطالبہ کریں گے۔ مجھے امید ہے کہ اگلے چند گھنٹوں کے دوران  ہم ایک ایسے اہم معاہدے کے پہلے حصے پر دستخط کریں گے جو امریکی شہریوں کی زندگیوں کو بہتر بنائے گا، یہاں ملک میں شہریوں کی اجرتوں میں اضافہ کرے گا، اور ہمارے دونوں ممالک کے درمیان شرائط کے ایک ایسے مجموعے کی بنیاد پر معاشی تعلقات میں اضافہ کرے گا جو چین اور امریکہ دونوں کے لئے فائدہ مند ہوگا۔

ایک اور مشن بھی ہے۔ چین نے امریکی اختراعات کی ایک کثیر تعداد چرائی ہے جیسا کہ کیمپسوں میں تخلیق کی گئیں بالکل اسی طرح کی اختراعات جن میں سے ایک یہ ہے جس پر میں کھڑا ہوں۔ اِن میں جینیاتی انجنیئرنگ سے تیار کردہ  فصلوں کے بیجوں سے لے کر خود بخود چلنے والی کاروں کی ٹکنالوجی تک سب کچھ شامل ہے۔ انہوں نے اسے چرا لیا۔ انہیں کوئی سرمایہ کاری نہیں کرنا پڑی اور نہ ہی کوئی خطرہ مول لینا پڑا۔

ہم اس بات کو یقینی بنانے میں پیشرفت کر رہے ہیں کہ معاہدے کا اگلا حصہ آئی پی کے اُن تحفظات کو بہتر بنائے جو چینی تجارتی معاہدے کے پہلے مرحلے میں ہیں۔

میں یہاں پر بات ختم کروں گا کیوںکہ میں چاہتا ہوں کہ میں آپ کے جتنے زیادہ سوالوں کے جوابات دے سکتا ہوں اتنوں کے جواب دوں۔ دیکھیے ہم نہیں جانتے کہ ایسے میں جب ہم ڈر پر مبنی روک تھام کو بڑہانا جاری رکھے ہوئے ہیں ایران کا ردعمل کیا ہوگا۔ اگر ہم درست انتخاب کریں گے اور ایک ایسے مقام کی طرف لوٹ جائیں گے جہاں ہم دونوں کے درمیان باہمی احترام ہو تو یہ دنیا کے لیے ایک اچھی چیز ہوگی۔ 

ہم امید کرتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی قیادت ہمارے اس نکتہ نظر سے اتفاق کرے گی اور ہمیں امید ہے کہ ہم یہاں ملک کی سلامتی کی بہتری اور مشرق وسطی اور پوری دنیا میں استحکام کے لیے اسے  حاصل کرسکتے ہیں۔

مجھے یہاں مدعو کرنے پر آپ کا شکریہ۔ اب میں آپ کے سوالات کے جواب دینے کا منتظر ہوں۔

(تالیاں)


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں