rss

جنوبی و وسطی ایشیائی امور کی نائب معاون وزیر خارجہ ایلس ویلز کی پریس بریفنگ

English English, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
بریفنگ
واشنگٹن ڈی سی
24 جنوری 2020
7:07 شام

 

مس اورٹیگس: تو یہ تمام بریفنگ آن دی ریکارڈ ہو گی۔ ایلس حال ہی میں واپس آئی ہیں۔ ان کے پاس اپنے دورے سے متعلق تفصیلات تحریری صورت میں موجود ہیں۔ یقیناً ہمارا ایک اور دورہ بھی آنے والا ہے، اسی لیے ہماری کوشش ہو گی کہ جب وہ اپنے افتتاحی بیانات مکمل کر لیں تو زیادہ سے زیادہ سوالات لیے جا سکیں۔

جی بات کیجیے۔

سفیر ویلز: بہت اچھے۔ یہ ایک طویل دورہ تھا لہٰذا میں اس کی طولانی تفصیل کے بیان پر معذرت چاہتی ہوں، تاہم اس کے بعد میں آپ کے سوالات کے جواب دینا چاہوں گی۔ تو میرا پہلا پڑاؤ سری لنکا میں تھا۔ قومی سلامتی کونسل میں صدر کی نائب معاون لیزا کرٹس میرے ساتھ تھیں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں خطہ ہندوالکاہل میں سری لنکا نہایت اہم جگہ پر واقع ہے اور بحرہند کے خطے میں اس کی تزویراتی اہمیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ نومبر میں منتخب ہونے والے صدر گوٹابایا راجاپکسے، ان کے بھائی اور وزیراعظم مہندا راجاپکسے، وزیر خارجہ، حزب اختلاف کے نمائندوں، تامل نیشنل الائنس اور سول سوسائٹی سے ہماری مفید ملاقاتیں ہوئیں۔ میں کہوں گی کہ یہ انتخاب بجائے خود اہم تھا۔ سری لنکا ایشیا کی قدیم ترین جمہوریت ہے۔ یہ انتخابات لڑے گئے، ان کا انعقاد شفاف طور سے ہوا اور ان میں صدر راجاپکسے پر واضح اعتماد کا اظہار کیا گیا۔

صدر کے ساتھ ہماری ملاقات میں لیزا کرٹس اور میں نے انہیں صدر ٹرمپ کا خط پہنچایا۔ اس خط میں صدر کا کہنا تھا کہ ہم  اصلاح اور مفاہمت کی راہ پر سری لنکا کے مسلسل سفر کی قدر کرتے ہیں اور ہم صدر کے اس بیان کا واقعتاً خیرمقدم کرتے ہیں جس میں انہوں نے سری لنکا کے تمام لوگوں کا صدر ہونے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

سری لنکا کے ساتھ ہمارے مضبوط مشترکہ مفادات ہیں جن میں متشدد انتہاپسندی کا خاتمہ، سمندری سلامتی کی مضبوطی، منشیات سمگلنگ کی روک تھام اور آزاد و کھلے خطہ ہندوالکاہل کا حصہ ہونے کے ناطے سرمایہ کاری اور معاشی نمو کا فروغ شامل ہیں۔ بالاآخر ہماری شراکت کا معیار مشترکہ اقدار کو مضبوط بنانے میں ہماری کامیابی کا عکاس ہو گا جس میں سری لنکا کی خانہ جنگی کے زخم بھرنے جیسا اہم معاملہ بھی شامل ہے۔

سری لنکا سے ہم رائے سینا ڈائیلاگ میں شرکت کے لیے نئی دہلی گئے۔ اس سالانہ کانفرنس کی کامیابی دنیا کے منظرنامے اور خطہ ہندوالکاہل کے قلب میں انڈیا کے نمایاں کردار کی عکاسی کرتی ہے۔ قومی سلامتی کونسل کے نائب مشیر میٹ پوٹنگر کے ساتھ انڈیا کی قومی سلامتی کونسل کے مشیر اور وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقاتوں میں شرکت کے علاوہ ہم نے وزارت امور خارجہ، وزیراعظم کے دفتر اور قومی سلامتی کونسل کے حکام نیز حزب اختلاف اور سول سوسائٹی کے ارکان سے بھی ملاقاتیں کیں۔

میرے خیال میں یہ بات واضح ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں میں انڈیا کے وسیع ہوتے تزویراتی افق اس کی  جامد خارجہ پالیسی میں ایک ایسی تبدیلی کا باعث بنے ہیں جس کے ذریعے انڈیا کے مفادات کو مزید پُرزور طور سے آگے بڑھانے میں مدد ملی ہے۔ یہ بات خطہ ہندوالکاہل سے زیادہ کہیں اور صادق نہیں آتی۔ خواہ یہ جہازرانی اور بحری شعبے میں ہمارا بڑھتا ہوا تعاون ہو، چہار فریقی ڈائیلاگ ہو یا انڈیا کی’ ایکٹ ایسٹ ‘پالیسی ہو، خطہ ہندوالکاہل کے حوالے سے ہماری سوچ میں فی الواقع کوئی فرق نہیں ہے۔ قومی سلامتی کے نائب مشیر پوٹنگر کے رائے سینا میں خطاب میں  کیلی فورنیا سے کلیمنجارو تک پھیلے خطہ ہندوالکاہل کی تائید نے اس تزویراتی ارتکاز کو مزیدمستحکم کیا ہے۔

میری سرکاری ملاقاتوں میں بھی اسی بات پر توجہ مرکوز رہی کہ گزشتہ دسمبر میں 2+2 وزارتی ڈائیلاگ کے دوران حاصل شدہ سفارتی و دفاعی فوائد کو مزید ترقی کیسے دی جا سکتی ہے۔ دفاعی تعاون، قیام امن کی کارروائیوں، خلائی شعبے، انسداد دہشت گردی، تجارت، عوامی سطح پر اقدامات اور دیگر میدانوں میں مسلسل ترقی کے ہوتے ہوئے میں خاص طور پر یہ کہوں گی کہ دونوں ممالک کے مابین بحری تعاون خصوصاً معلومات کے تبادلے کا معیار اور رفتار بے مثل سطح پر پہنچ چکا ہے۔ ہم نے ایک ایسے تجارتی معاہدے پر بھی توجہ مرکوز رکھی ہے جس سے شفاف اور دوطرفہ تجارت کو فروغ ملے اور امریکی تجارتی نمائندوں کے ادارے (یوایس ٹی آر) سے تعلق رکھنے والے میرے ساتھی اس پیش رفت کو آگے بڑھانے کے لیے نئی دہلی میں موجود ہیں۔

اس دورے سے انڈیا میں شہریت کے ترمیمی ایکٹ سے متعلق پیش رفت بارے مزید جاننے کا موقع بھی ملا۔ میں کہوں گی کہ اس پر توانا انداز میں جمہوری پڑتال ہو رہی ہے خواہ یہ سڑکوں پر ہو، سیاسی حزب اختلاف کی جانب سے ہو، میڈیا میں یا عدالتوں میں ہو۔ ہم قانون کے تحت مساوی تحفظ کے اصول کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔

جموں و کشمیر کے معاملے پر بعض اضافی اقدامات دیکھ کر مجھے خوشی ہوئی جس میں کشمیر میں انٹرنیٹ کی جزوی واپسی بھی شامل ہے۔ میں سمجھتی ہوں  کہ  ہمارے سفیر اور دیگر غیرملکی سفارت کاروں کے دورہ جموں کشمیر کی ذرائع ابلاغ میں جامع کوریج ہوئی۔ ہم اسے ایک مفید قدم کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ہم حکومت پر یہ زور بھی دے رہے ہیں کہ وہ ہمارے سفارت کاروں کو کشمیر میں باقاعدہ رسائی دے اور کسی الزام کے بغیر قید میں رکھے سیاسی رہنماؤں کی رہائی کے لیے فوری اقدامات کرے۔

میں نئی دہلی سے اسلام آباد گئی جہاں میری حکومت، فوج، سول سوسائٹی اور کاروباری شخصیات سے ملاقاتیں ہوئیں۔ اس دورے کے ایجنڈے میں یہ ادراک سرفہرست تھا کہ دونوں ممالک اپنے دوطرفہ تعلقات کو اس تعاون کی مطابقت سے کیسے ترقی دے سکتے ہیں جو ہمیں افغانستان میں امن اور علاقائی استحکام کے فروغ سے حاصل ہو رہا ہے۔

ہم پاکستان کی جانب سے افغان امن عمل کو ترقی  دینے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہتے ہیں۔ افغانستان میں پائیدار سلامتی و استحکام کو فروغ  دینے میں پاکستان کا اہم کردار ہے۔

میں نے پاکستان کی جانب سے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے تحت انسداد دہشت گردی کے ضمن میں اپنی مالیاتی ذمہ داریاں پوری کرنے کی کوششوں کا خیرمقدم کیا۔ ہم پاکستان کی بھرپور طور سے حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ اس حوالے سے ایکشن پلان میں اپنی ذمہ داریاں مکمل طور سے پوری کرنے کے لیے ایف اے ٹی ایف اور عالمی برادری کے ساتھ کام کرے۔ پاکستان میں معاشی اصلاح کی کوششوں بشمول آئی ایم ایف پروگرام کے حوالے سے ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان کی تکمیل اہمیت کی حامل ہے۔ پاکستان میں بلا امتیاز تمام جنگجو گروہوں کے خلاف پائیداراور اٹل کارروائی ثابت کرنے کے لیے بھی اس پلان پر عملدرآمد ضروری ہے۔

ہم نے پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات میں واضح پیش رفت دیکھی ہے۔ اس میں صدر کی جانب سے ڈیووس میں وزیراعظم خان  کے ساتھ پرجوش اور تعمیری ملاقات سے لے کر پاکستان کے لیے عالمگیر عسکری تعلیم و تربیتی پروگراموں کی بحالی جیسے معاملات شامل ہیں۔

میری اس موضوع پر جامع بات چیت ہوئی کہ امریکہ کے پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی، سب سے بڑے تجارتی شراکت دار اور تاریخی طور پر پاکستان میں ایک انتہائی اہم سرمایہ کار ہوتے ہوئے  دونوںملک اپنی اقتصادی شراکت کو کیسے بہتر بنا سکتے ہیں۔ توانائی اور زراعت کے شعبے میں دونوں ممالک کے مابین اہم نوعیت کا  تعاون موجود ہے اور پاکستانی منڈیوں کو امریکی سرمایہ کاری کے لیے کھولنے سے اصول قربان کیے اور بدعنوانی کو ہوا دیے بغیر نوکریاں اور دولت پیدا کی جا سکتی ہے۔

ہم 10 پاکستانی خریداری وفود کا امریکہ میں خیرمقدم کرنے اور 2020 میں پانچ علاقائی تجارتی میلوں کے منتظر ہیں جن سے امریکہ اور پاکستان کے کاروباری اداروں میں گہرے تعلقات قائم ہوں گے۔ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے معاشی اصلاح کی کوششوں کو عالمی بینک نے 2019 میں 10 سب سے بڑی اصطلاحات میں سے ایک قرار دیا ہے۔

آخری بات ، جیسا کہ آج صبح اعلان کیا گیا تھا، وزیر خارجہ پومپیو یورپی ممالک کے دورے کے بعد یکم تا 3 فروری قازقستان اور ازبکستان کا دورہ کریں گے۔ وزیر خارجہ معیشت، سلامتی اور مذہبی آزادی کے اہم امور پر بات چیت کے لیے وسطی ایشیا کا دورہ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ وسطی ایشیائی ممالک کی خودمختاری، آزادی اور زمینی سالمیت سے متعلق ہمارے عزم کی ازسرنو توثیق بھی کریں گے۔

یہاں میں اپنی بات ختم کرتے ہوئے آپ کے سوالات کی جانب آتی ہوں۔

مس اورٹیگس: میٹ، بات کیجیے۔

سوال: کیا میں ۔۔۔ شکریہ۔ میں جانتا ہوں یہ لازمی طور سے آپ کا قلمندان نہیں ہے ۔۔۔ میں شمالی کوریا کے بارے میں پوچھوں گا۔ نہیں۔ (قہقہہ) میں مذاق کر رہا ہوں۔

مس اورٹیگس: آپ کے پاس ۔۔۔۔ نہیں تھا۔

سوال: اگر ممکن ہو تو کیا آپ، چلیں ۔۔۔ ہمیں یہ بتائیے کہ آپ کے خیال میں افغان امن معاہدے کا معاملہ اس وقت کہاں تک پہنچا ہے؟

سفیر ویلز: میرا مطلب ہے، میں صرف یہی بتا سکتی ہوں کہ سفیر خلیل زاد اور ان کی ٹیم دوحہ میں موجود ہے۔ وہ طالبان کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں کہ وہ طاقت کے استعمال  میں کمی لانے کا وعدہ کریں۔ اس سے افغانوں کو مل بیٹھ کر بات چیت میں مدد ملے گی۔ چنانچہ یہ عمل جاری ہے۔

مس اورٹیگس: ٹھیک ہے۔

سوال: کیا میں جلدی سے ایک اور سوال پوچھ سکتا ہوں؟

مس اورٹیگس: جی، پوچھیے ۔

سوال: معذرت۔ کیا آپ ان اطلاعات کی تصدیق کرتی ہیں کہ طالبان  کی جانب سے افغانستان میں مزید تشدد کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ گزشتہ رات ہی  موصولہ اطلاعات کے مطابق طالبان جنگجو عام شہریوں اور ‘اے این ایس ایف’ کے ارکان کو ہلاک کر رہے ہیں۔ کیا یہ اطلاعات آپ کی نظر سے گزری ہیں؟ کیا آپ ۔۔۔ کیا آپ اس کی تصدیق کر سکتی ہیں ۔۔۔

سفیر ویلز: جی میرے پاس ایسی اطلاعات ہیں اور تشدد جاری ہے۔ اس سے یقینی طور پر یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ امن عمل کی ضرورت کیوں ہے اور افغان عوام کیوں امن کے خواہاں ہیں۔ اس سے تشدد اور طالبان کی جانب سے عام شہریوں پر حملوں بارے عدم امتناع بھی واضح ہوتا ہے۔

سوال: میں نے یہ بات اس لیے پوچھی ہے کہ یقیناً، جیسا کہ ہم جانتے ہیں صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر تشدد جاری رہا تو وہ گفت و شنید آگے بڑھانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ایسے میں موجودہ صورتحال امن عمل کے امکان کو گہنا دیتی ہے۔

سفیر ویلز: اسی لیے تشدد میں کمی لانے پر توجہ مرکوز رکھنے کی ضرورت ہے۔ ایسی کمی جو افغان عوام کو دکھائی دیے، وہ اسے محسوس کریں اور اس کی ستائش کر سکیں۔

مس اورٹیگس: بات کیجیے۔

سوال: پاکستان اور چین کو یقینی طور پر سی پیک (سی پی ای سی) کے بارے میں آپ کے تبصرے سے مایوسی ہوئی ہے۔ کیا آپ اس تمام ابتری کے بعد کچھ کہنا چاہیں گی؟

سفیر ویلز: جیسا کہ آپ نے سنا ہے وزیر پومپیو نے مزید کھل کر بات کی ہے کہ ‘ون بیلٹ ون روڈ’ پر ہمیں خدشات ہیں اور ‘ون بیلٹ ون روڈ’ کے تحت شروع کردہ منصوبوں میں عموماً عالمی معیارات کا پاس نہیں کیا جاتا۔ ان میں استحکام اور افرادی قوت سے متعلق صورتحال شامل ہے۔ میں پاکستان میں یہ بات کہہ رہی تھی کہ مواقع موجود ہیں اور امریکی سرمایہ کاری، توانائی سے متعلق امریکی اداروں اور پاکستانی منڈی میں دلچسپی رکھنے والی امریکی صنعتوں کے لیے مواقع ہونا چاہئیں۔ آپ کے ہاں ایکسون موبل، ایکسیلیریٹ، کارگل اور ہنی ویل جیسے کاروباری ادارے موجود ہیں جو بڑے حجم کی نئی سرمایہ کاری کی تلاش میں ہیں۔ آپ کے ہاں اوبر پاکستانی نوجوانوں کے لیے 80 ہزار نوکریاں پیدا کر رہی ہے۔

جیسا کہ ہم دنیا بھر میں کرتے ہیں اسی طرح پاکستان میں ہمارا یہ استدلال ہے کہ آپ کو ”آگاہ گاہک” کے اصول کا پاس کرنا چاہیے۔ پاکستان ایک گاہک یا خریدار ہے اور اسے  چین کی جانب سے امداد نہیں بلکہ قرضہ دیا جا رہا ہے جس کے ساتھ عام طور پر مراعات نہیں ہوتیں۔ پاکستان کو اس قرضے کی شرائط سے آگاہ ہونا چاہیے اور یہ امر یقینی بنانا چاہیے کہ وہ اپنی رقم کے بدلے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کر رہے ہیں جس سے زبرست معاشی خوشحالی آئے گی ۔

سوال: تو آپ ان کی بات کی تردید نہیں کر رہیں؟ وہ اس بات پر مضطرب ہیں۔

سفیر ویلز: کیا ۔۔۔

سوال: وہ اس پر ایک طرح سے مشتعل ہو رہے ہیں، جیسا کہ دفتر خارجہ کے افسروں کا کہنا ہے کہ یہ ان کے ملک کے معاملات میں مداخلت ہے۔

مس اورٹیگس: آپ کا کہنا ہے کہ چینی یہ بات کہہ رہے ہیں؟

سوال: وہ اس کی تائید کر رہے ہیں۔

مس اورٹیگس: میں ایسا نہیں سمجھتی، تو آپ کا سوال کیا ہے؟

سوال: کیا یہ مقامی معاملات، حکومتی معاملات یا پاکستان کے معاملات میں مداخلت ہو گی؟

سفیر ویلز: اوہ، یقیناً نہیں۔ یہ فیصلہ کرنا پاکستان کا حق ہے کہ وہ کون سی سرمایہ کاری کن شرائط پر چاہتا ہے۔ پاکستان کا دوست ہونے کے ناطے یقیناً ہم اس بات پر زور دیں گے کہ وہ سرمایہ کاری کے ایسے منصوبے منتخب کریں  جن سے دولت تخلیق ہو، روزگار پیدا ہو اور جو پائیدار ہوں، انہیں سوچنا چاہیے کہ ہمارے پاس پاکستانی منڈی کے لیے زبردست آپشن موجود ہیں۔

سوال: شکریہ۔

مس اورٹیگس: بات کیجیے۔

سوال: کیا آپ سمجھتی ہیں کہ اگر پاکستان ‘ایف اے ٹی ایف’ کے ضابطوں یا قوانین پر پورا نہیں اترتا تو اسے آئی ایم ایف کی جانب سے مالی وسائل کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے؟

سفیر ویلز: میرا مطلب ہے، یقیناً، اگر پاکستان ‘ایف اے ٹی ایف’ سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا یا اس ضمن میں ناکام ہو کر بلیک لسٹ کر دیا جاتا ہے تو یہ پاکستان میں معاشی اصلاحاتی پروگرام اور اس کی جانب سے سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کی اہلیت کے لیے تباہ کن ہو گا۔ ہمیں پاکستان کی جانب سے ‘ایف اے ٹی ایف’ کے ضوابط پورے کرنے کے سلسلے میں پیش رفت کو دیکھ کر خوشی ہے۔ اس وقت بیجنگ میں ایک اجلاس جاری ہے جہاں پاکستان ٹاسک فورس کے سامنے اپنے اقدامات کی تفصیل پیش کر رہا ہے۔ چنانچہ میں اس بارے میں کوئی بھی  تعین ٹاسک فورس پر چھوڑتی ہوں۔ تاہم اس امر کی شہادت جتنی بڑی ہو گی کہ پاکستان اپنی معیشت کو دستاویزی شکل دینے اور جنگجوؤں کو  ملکی بینکاری نظام یا سرزمین سے فائدہ اٹھانے سے روکنے میں سنجیدہ ہے تو  عالمی برادری اور کاروباری طبقے کی جانب سے پاکستان میں کام کے لیے اعتماد بھی اسی قدر زیادہ ہو گا۔

سوال: کیونکہ پاکستانی وزیر خارجہ گزشتہ ہفتے یہاں موجود تھے اور انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اب امریکہ کو چاہیے کہ وہ ”گرے لسٹ” سے نکلنے میں پاکستان کی مدد کرے۔

سفیر ویلز: دیکھیے، ایف اے ٹی ایف ایک تکنیکی عمل ہے۔ اس میں ایک ایکشن پلان ہے جو پاکستان کو پیش کیا گیا تھا۔ اس میں کچھ شرائط ہیں جو دنیا میں تمام ممالک کو پورا کرنا ہوتی ہیں۔ چنانچہ یہ سیاسی عمل نہیں ہے مگر یقیناً ہم پاکستان کے مددگار ہیں اور ان ذمہ داریوں پر عملدرآمد میں اس کی معاونت کے لیے تیار ہیں۔

مس اورٹیگس: ٹھیک ہے۔ کونر۔

سوال: سفیر ویلز، اجازت ہو تو میرے پاس دو سوال ہیں۔ پہلا یہ کہ آیا افغانستان کے لیے مخصوص معاشی امداد روکنے کے فیصلے سے اب تک کوئی پیش رفت ہوئی ہے؟ کیا آپ نے غنی انتظامیہ کی جانب سے کوئی تعمیری اقدامات دیکھے ہیں؟ کیا آپ پیغام کے طور پر دیگر فنڈ روکنے پر بھی غور کر رہے ہیں یا نہیں؟

اور دوسرا سوال یہ ہے کہ میرے اندازے کے مطابق قومی انتخابات سے اب تک چار ماہ ہو چکے ہیں۔ کیا آپ کو اس پر تشویش ہے کہ ان کا کوئی واضح نتیجہ سامنے نہیں آیا اور کس موقع پر آپ ووٹوں کی دوبارہ گنتی یا نئے انتخابات کے لیے کہیں گے؟

سفیر ویلز: بدعنوانی کے خلاف جنگ افغانستان میں ہمارے تمام پروگراموں کا بنیادی عنصر ہے۔ ہم یہ بات یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہیں کہ امریکی ٹیکس دہندگان کے ڈالر مناسب طور سے خرچ ہوں اور ان کا مطلوبہ نتیجہ سامنے آئے۔ ہم عطیہ دہندگان کے ڈالر کی اثرپذیری میں اضافے کے طریقے تسلسل سے تلاش کر رہے ہیں۔

چنانچہ جب وزیر پومپیو نے یہ نشاندہی کی کہ کون سی جگہوں پر کمی ہے تو اس سے افغانستان میں جاری متعدی بدعنوانی کے بارے میں ہماری  تشویش کا اظہار ہوتا ہے۔ مجھے خوشی ہے جیسا کہ وزیر نے واضح کیا ، ایک شعبے میں ہم نے افغان حکومت کی جانب سے پیش رفت دیکھی ہے اور اس کے نتیجے میں 60 ملین ڈالر کی امداد فراہم کرنا ممکن ہوا۔ یقیناً ہم ایک مرتبہ پھر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ حکومت اور دیگر عملدرآمد کنندگان یا امداد وصول کرنے والے ادارے یہ امر یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کریں کہ معاشی امداد کو زیادہ سے زیادہ موثر کیونکر بنایا جائے جس سے افغانستان کے لیے خود انحصاری کی منزل کا حصول اور وہاں نجی شعبے کی ترقی ممکن ہو سکے۔

جہاں تک انتخابات کا معاملہ ہے تو یہ نہایت اہم بات ہے کہ انتخاب لڑنے والے امیدوار اس عمل سے وابستہ رہیں۔ آزاد الیکشن کمیشن اور انتخابی شکایات سے متعلق کمیشن انتخابی قانون کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ وہ انتخابی شکایات پر کارروائی کر رہے ہیں۔ انتخابی شکایات کے کمیشن نے ووٹنگ کے ایسے مراکز کی نشاندہی کی ہے جہاں وہ ووٹوں کی دوبارہ گنتی چاہتے ہیں ۔ یہ عمل آگے بڑھ رہا ہے۔ ہمارا پیغام یہ ہے کہ اس عمل کو فوری مکمل کرنے کے بجائے درست طور سے مکمل ہونے دینا بہتر ہے۔ اسی لیے ہم افغانستان کے انتخابی اداروں کی حمایت کر رہے ہیں۔

مس اورٹیگس: کوئی اور سوال؟

سوال: وہ کون سا شعبہ ہے جہاں آپ نے کچھ پیش رفت دیکھی اور اسے 60 ملین ڈالر مل گئے؟

سفیر ویلز: جی، ہم آپ کو اس بارے میں آگاہ کریں گے۔ مجھے اس پروگرام کا نام برجستہ یاد نہیں آ رہا، تاہم عملہ آپ کو اس بارے میں تفصیل فراہم کر دے گا۔

سوال: کیا آپ قازقستان کے آئندہ دورے کی بابت کوئی اہم بات بتانا چاہیں گی؟ کیا قازقستان اور ازبکستان میں؟ کیا اس حوالے سے کوئی ایسی بات ہے جس کی ہمیں توقع یا انتظار ہونا چاہیے؟

سفیر ویلز: میں سمجھتی ہوں کہ وزیر کا یہ دورہ اہم ہے کیونکہ وہ یہ دورہ امریکی انتظامیہ کی وسطی ایشیا سے متعلق حکمت عملی کے تناظر میں کر رہے ہیں جو جلد سامنے آئے گی۔ اس حکمت عملی میں وسطی ایشیائی ریاستوں کی خودمختاری، زمینی سالمیت اور آزادی کے لیے امریکہ کی حمایت کا تذکرہ ہے۔ وزیر پومپیو وہاں سی 5 اجلاس کی میزبانی کریں گے۔ یہ ایک سال کے عرصہ میں ایسا دوسرا موقع ہے۔ اس سے ایک ایسے وقت میں وسطی ایشیائی ریاستوں میں علاقائی شناخت قائم کرنے کی اہمیت واضح ہوتی ہے جب ہم علاقائی ربط بڑھانے اور افغانستان کو خطے سے دوبارہ جوڑنے کے لیے ان کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

چنانچہ تجارت و سرمایہ کاری میں اضافے اور اسی دوران افغانستان کے لیے معاونت کے ضمن میں اہم پیش رفت ہوئی ہے کہ صدر کریموو کی رخصتی اور صدر مرزیویو کے علاقائی انضمام بارے مختلف موقف کی بدولت خطے کو جدیدیت کی راہ پر ڈالنے میں اہم پیش رفت دیکھنے کو ملی ہیں۔

سوال: مگر میرے خیال میں سی 5 ممالک اب تک عام طور پر باہمی تجارت، سلامتی، انسداد دہشت گردی اور ایسی چیزوں پر اکٹھے ہوئے ہیں۔ کیا ایسا بھی ہے کہ ۔۔۔

سفیر ویلز: اور یہ بھی کہ ۔۔۔

سوال: مگر افغانستان کے حوالے سے بھی، مگر کیا ایسا بھی ہے کہ اس موقع پر سی 5 ممالک کے باہمی امور اور افغانستان کے حوالے سے کم جبکہ سی 5 اور امریکہ کے حوالے سے زیادہ بات ہو گی؟

سفیر ویلز: میں سمجھتی ہوں کہ اس میں انسداد دہشت گردی کے حوالے سے تعاون شامل ہو گا۔ ہم نے دیکھا ہے کہ وسطی ایشیائی ممالک غیرملکی دہشت گرد جنگجوؤں کی معاشرے میں ازسرنو یکجائی کے ضمن میں نمایاں ملک بن رہے ہیں۔ قازقستان 600 جنگجوؤں اور ان کے اہلخانہ کو واپس لایا۔ ازبکستان سو سے زیادہ اور تاجکستان بھی سو کے قریب ایسے جنگجوؤں کو واپس لا چکا ہے۔ یہ وہ ممالک ہیں جو ہمیں ازسرنو یکجائی کے اس عمل سے حاصل ہونے والے اسباق سے آگاہ کریں گے۔ چنانچہ انسداد دہشت گردی اس اجلاس کا ایک اہم حصہ ہو گا۔ علاقائی معاشی ربط دوسرا اہم حصہ ہے اور اس کے بعد معاشی جدیدیت بشمول علاقائی برقی منڈی کی تخلیق کے لیے ایک نئے منصوبے پر بات ہو گی۔

سوال: کیا آپ اس دورے پر جا رہی ہیں؟

سفیر ویلز: جی میں جا رہی ہوں۔

سوال: کیلی فورنیا سے کلیمنجارو کی بات کس نے کہی تھی؟

سفیر ویلز: میرے خیال میں یہ پرلطف ہے۔

مس اورٹیگس: مجھے یہ فقرہ پسند ہے۔

سفیر ویلز: پہلے یہ بالی وڈ سے ہالی وڈ تک تھا اور اب ۔۔۔ (قہقہہ) نہیں، بلکہ ۔۔۔۔

مس اورٹیگس: میں اس کا کریڈٹ لینا چاہتی ہوں۔

سفیر ویلز: مگر اس سے جو بات نمایاں ہوتی ہے ۔۔۔ اس پر دھیان دینے کا شکریہ کیونکہ اس سے ۔۔۔ (قہقہہ) کیونکہ اس سے یہ نمایاں ہوتا ہے کہ ۔۔۔۔

سوال: سوائے اس کے کہ آپ کو کیلیفورنیا کے سے کہنا ہے۔ (قہقہہ)

سفیر ویلز: نہیں، تاہم اس سے ایک تعریفی تبدیلی کا اظہار ہوتا ہے کیونکہ اصل میں جب ہم نے خطہ ہندوالکاہل کی بات کی تو ہالی وڈ سے بالی وڈ کہا اور یوں ہم نے انڈیا کی مغربی سرحد پر لکیر کھینچ دی۔ اب خطہ ہندوالکاہل کی ہماری تعریف میں جاپان، انڈیا اور آسٹریلیا شامل ہیں۔ امریکہ سمیت یہ چاروں ملک مشترکہ سوچ کے مالک ہیں۔ کم از کم جغرافیائی اعتبار سے ایسا ہی ہے۔

سوال: اس طرح خطہ ہندوالکاہل مشرقی افریقہ کی جانب جاتا ہے۔

سفیر ویلز: ہوں۔

مس اورٹیگس: ٹھیک ہے، ہم ۔۔۔۔

سوال: کیا مجھے ایک اور سوال پوچھنے کی اجازت ہے؟ معذرت کہ مجھے دیر ہو گئی، معذرت۔

مس اورٹیگس: یقیناً، بات کیجیے۔

سوال: مجھے علم ہے کہ ابتدا میں مجھ سے چوک ہوئی۔ اس برس افغانستان میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت سے خاص طور پر امن مذاکرات پر کیا اثر پڑا ہے؟

مس اورٹیگس: میرا خیال ہے کہ وہ پہلے ہی اس کا جواب دے چکی ہیں۔ ہم آپ کو بریفنگ کا مسودہ بھیج دیں گے۔

فرانسسکو

سوال: کیا آپ دوحہ میں امریکہ طالبان گفتگو کے حوالے سے ہمیں آف دی ریکارڈ کچھ بتا سکتی ہیں؟

مس اورٹیگس: نہیں، تاہم کوشش کا شکریہ۔

سوال: ویسے میرا خیال ہے کہ مجھے 60 ملین ڈالر مل گئے ہیں۔

سفیر ویلز: کیا آپ کو اس کا جواب مل گیا؟

سوال: کیا یہ سازوسامان کی خریداری کے قومی ادارے سے متعلق ہے؟ اسے روک لیا گیا تھا کیونکہ حساب کتاب اور مالیات کے انتظام کی شفافیت بارے خدشات تھے۔

سفیر ویلز: جی جی

مس اور ٹیگس: شکریہ۔

سفیر ویلز: شکریہ۔ (قہقہہ) آپ کی خدمات لے لی گئی ہیں۔ (قہقہہ) آپ کی خدمات لے لی گئی ہیں۔ (قہقہہ)


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں