rss

صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کا اسرائیل اور فلسطینی عوام کے لیے امن، خوشحالی اور روشن مستقبل کا تصور

English English, Español Español, Português Português, العربية العربية, Français Français, Русский Русский, हिन्दी हिन्दी

وائٹ ہاؤس
دفتر سیکرٹری اطلاعات
28 جنوری 2020
برائے فوری اجرا
روشن مستقبل کا تصور

 

”ہم یہاں درس دینے نہیں آئے ۔۔۔ ہم یہاں دوسروں کو یہ بتانے نہیں آئے کہ کیسے جینا ہے، کیا کرنا ہے، کیا بننا ہے یا کیسے عبادت کرنی ہے۔ اس کے بجائے ہم یہاں شراکت کی پیشکش لائے ہیں ۔۔۔ جس کی بنیاد مشترکہ مفادات اور اقدار پر ہے ۔۔۔ تاکہ ہم سب کے لیے بہتر مستقبل کی راہ ڈھونڈی جائے” ۔۔۔ صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ

امن کے لیے دلیرانہ تصور: صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کو اندازہ ہے کہ یہ اسرائیل اور فلسطینی عوام کے لیے امن، سلامتی، عظمت اور موقع کے حصول کی خاطر نئی سوچ کا وقت ہے۔

  • یہ تصور اب تک پیش کردہ سب سے زیادہ سنجیدہ، حقیقت پسندانہ اور تفصیلی منصوبہ ہے۔ یہ ایسا منصوبہ ہے جو اسرائیلیوں، فلسطینیوں اور خطے کو محفوظ تر اور مزید خوشحال بنا سکتا ہے۔
  • یہ تصور محض پہلا قدم ہے اور یہ امن کی جانب تاریخی پیش رفت کی بنیاد مہیا کرتا ہے۔ امریکہ کو امید ہے کہ یہ تصور اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین براہ راست بات چیت کی جانب رہنمائی کرے گا۔
  • یہ اسرائیلی اور فلسطینی رہنماؤں پر منحصر ہو گا کہ وہ سیاسی تعطل کے خاتمے، اس تصور کی بنیاد پر بات چیت دوبارہ شروع کرنے اور پائیدار امن و معاشی خوشحالی کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے جرات مند اور دلیرانہ اقدامات کریں۔
  • اگر فلسطینیوں کو اس تصور سے خدشات لاحق ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ نیک نیتی پر مبنی بات چیت کے تناظر میں انہیں پیش کریں اور خطے کی ترقی میں مدد دیں۔
  • اس تصور کی نری مخالفت اس مایوس کن صورت حال  کی حمایت کا اعلان ہے جو کئی دہائیوں کی فرسودہ سوچ کی پیداوار ہے۔

سفارتی کامیابی: صدر ٹرمپ امن کے لیے ایک تفصیلی تصور اور اسرائیل اور اس کے ہمسایوں کے مابین معمول کے تعلقات کو فروغ دینے کی حمایت میں اسرائیلی سیاسی حریفوں کو متحد کر رہے ہیں۔

  • صدر ٹرمپ نے وزیراعظم نیتن یاہو اور حزب اختلاف کے رہنما لیفٹیننٹ جنرل بینی گانٹز دونوں کو واشنگٹن آنے پر رضامند کیا جہاں یہ رہنما تصور کو بات چیت کی بنیاد بنانے پر متفق ہوئے۔
  • اس تنازع میں پہلی مرتبہ صدر ٹرمپ دو ریاستی حل کے لیے سرحدی تفصیلات  پر مبنی نقشے کے حوالے سے اسرائیل کے ساتھ ایک سمجھوتے پر پہنچے۔
  • صدر ٹرمپ خطے میں تاریخی دشمنوں کو ایک دوسرے کے قریب لا رہے ہیں اور ان کے اقدامات سے  اسرائیل اور اس کے ہمسایوں میں معمول کے تعلقات فروغ پا  رہے ہیں۔

باہمی قبولیت اور آزادی: یہ تصور ایک حقیقت پسندانہ دوریاستی حل تجویز کرتا ہے جس میں فلسطینی ریاست کی جانب قابل عمل راہ پیش کی گئی ہے۔

  • اسرائیل اب مستقبل کی فلسطینی ریاست کی شرائط پر رضامند ہو چکا ہے۔
  • اس تصور کا مقصد اسرائیلی ریاست کی یہودی عوام کی قومی ریاست اور مستقبل کی فلسطینی ریاست کی فلسطینی عوام کی قومی ریاست کی حیثیت سے باہمی قبولیت ممکن بنانا ہے۔ دونوں ریاستوں میں تمام لوگوں  کو یکساں شہری حقوق حاصل ہوں گے۔
  • یہ سوچ فلسطینی عوام کے لیے آزادی، خود اختیاری اور قومی وقار کی جائز خواہشات کو عملی جامہ پہنانے کی راہ تخلیق کرتی ہے۔
  • اس تصور کے تحت نہ تو فلسطینیوں اور نہ ہی اسرائیلیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا جائے گا۔

اسرائیل کی سلامتی: اس تصور میں زمینی حقائق مدنظر رکھے گئے ہیں اور یہ اسرائیلی سلامتی کا مکمل تحفظ کرتا ہے۔

  • یہ تصور اسرائیل کی سلامتی کے تقاضوں سے پوری طرح ہم آہنگ ہے اور اسرائیل سے سلامتی کے حوالے سے اضافی خطرات مول لینے کو نہیں کہتا جبکہ یہ اسرائیل کو کسی بھی خطرے کے خلاف اپنے دفاع کے قابل بناتا ہے۔
  • یہ تصور اسرائیل کے ساتھ پرامن طور سے موجود غیرفوجی فلسطینی ریاست کا قیام ممکن بناتا ہے جس میں دریائے اردن کے مغرب میں سلامتی کی ذمہ داری اسرائیل کے پاس رہے گی۔
  • وقت کے ساتھ اسرائیل کی جانب سے سلامتی کے ضمن میں اپنا کردار محدود کیے جانے پر فلسطینی سلامتی کی مزید ذمہ داریاں لینے کے لیے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کام کریں گے۔

یروشلم اور مقدس مقامات: اسرائیل یروشلم کے مقدس مقامات کی حفاظت کرتا رہے گا اور یہودیوں، عیسائیوں، مسلمانوں اور تمام عقائد کے لوگوں کو عبادت کی آزادی کی ضمانت دے گا۔

  • ہیکل سلیمانی/ حرم الشریف کے حوالے سے جوں کی توں حالت برقرار رہے گی۔
  • یروشلم میں مسلمانوں کے مقدس مزارات کے حوالے سے شاہ اردن کا خصوصی اور تاریخی کردار برقرار رہے گا۔
  • تمام مسلمانوں کی مسجد الاقصیٰ میں پرامن آمد کا خیرمقدم کیا جائے گا۔

مستقبل کی فلسطینی ریاست: اس تصور میں فلسطینیوں کے لیے نمایاں علاقائی توسیع شامل ہے اور یہ فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے معقول طور سے مغربی کنارے اور غزہ کے حجم جتنی زمین مختص کرتا ہے۔

  • اسرائیل نے دو ریاستی حل کا امکان مستحکم کرنے کے لیے چار  سالہ زمینی انجماد پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
  • یروشلم متحد اور اسرائیل کا دارالحکومت رہے گا جبکہ فلسطینی ریاست کا دارالحکومت القدس ہو گا اور اس میں مشرقی یروشلم کے علاقے بھی شامل ہوں گے۔
  • اس تصور میں پیش کردہ نقشے میں فلسطینیوں کے لیے جو زمین مختص کی گئی ہے وہ ان کے پاس موجودہ زمین کے دو گنا سے بھی زیادہ ہے۔
  • علاقے کے علاوہ یہ تصور فلسطینیوں کے لیے حیفہ اور اشدود بندرگاہوں کے استعمال و انتظام کی سہولت، بحیرہ مردار کے مغربی ساحل پر ایک تفریحی مقام کے قیام اور وادی اردن میں فلسطینیوں کی زرعی سرگرمی جاری رکھنا بھی ممکن بناتا ہے۔
  • یہ تصور مستقبل کی پوری فلسطینی ریاست بشمول غزہ اور مغربی کنارے میں آسان سفر اور اشیا کی ترسیل کے لیے نقل و حمل کے جدید اور موثر روابط تجویز کرتا ہے۔

معمول کے حالات: یہ تصور مہاجرت کی صورتحال کا خاتمہ کرے گا اور خطے کو حقیقی تبدیلی کی راہ پر ڈالے گا جو استحکام، سلامتی اور خوشحالی کے فراواں مواقع سے عبارت ہو گی۔

  • مشرق وسطیٰ کو ایران اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے، سلامتی مضبوط بنانے اور معاشی سرمایہ کاری و علاقائی خوشحالی کے وسیع مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے مضبوط علاقائی شراکتوں کی ضرورت ہے۔
  • صدر ٹرمپ نے ان علاقائی شراکتوں کی داغ بیل ڈالی ہے جن کی بدولت تاریخی دشمن اپنے مشترکہ خطرات اور باہم مفید مواقع کو بھانپتے ہوئے اسرائیل اور اس کے ہمسایوں میں معمول کے تعلقات کے امکان میں سہولت دے رہے ہیں۔
  • یہ تصور ایک مضبوط پلیٹ فارم کا کام دے گا جس سے علاقائی سرگرمیاں مزید بہتر ہوں گی اور خطے میں شراکتیں تقویت پائیں گی۔
  • اس تصور کے تحت فلسطینی مہاجرین کو مستقبل کی فلسطینی ریاست میں رہنے، اپنے موجودہ ممالک میں ضم ہونے یا کسی تیسرے ملک میں بسنے کا اختیار دیا جائے گا۔
  • امریکہ مہاجرین کی نوآباد کاری کے عمل میں مدد دینے کے لیے ایک فیاضانہ ٹرسٹ قائم کرنے کی غرض سے عالمی برادری کے ساتھ کام کرے گا۔

خطے بھر میں خوشحالی: یہ تصور ‘امن تا خوشحالی’ معاشی فریم ورک کے ساتھ اس خطے کے امکانات وا کرے گا جو طویل عرصہ سے تصادم کا شکار ہے۔

  • اس تصور میں 50 ارب ڈالر کا ‘امن تا خوشحالی’ معاشی منصوبہ شامل ہے جس سے فلسطینی معیشت کو مہمیز ملے گی۔
  • مناسب طور سے عملدرآمد کی صورت میں یہ تصور:
  • دس لاکھ سے زیادہ نئے روزگار پیدا کرے گا
  • فلسطینی جی ڈی پی میں دگنی سے زیادہ ترقی لائے گا، اور
  • بیروزگاری کو 10 فیصد سے بھی نیچے لے جائے گا جبکہ  غربت کی شرح نصف رہ جائے گی۔

یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں