rss

ادلب میں لڑائی کی شدت میں اضافہ

English English, العربية العربية, हिन्दी हिन्दी, Русский Русский

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو کا بیان
4 فروری 2020

امریکہ ادلب کے لوگوں پر اسد حکومت، روس، ایران اور حزب اللہ کے مسلسل، ناقابل جواز اور بے رحمانہ حملوں کی ایک مرتبہ پھر مذمت کرتا ہے۔ 3 فروری کو اسد حکومت کی فورسز کی جانب سے ترک مشاہدہ چوکیوں پر مارٹر حملہ سنگین اشتعال انگیزی ہے۔ اس کے بعد علاقے میں بے رحمانہ حملے ہوئے جن میں عام شہری، امدادی کارکن اور بنیادی ڈھانچہ متاثر ہوا۔ اس حملے کے بعد جنم لینے والی صورتحال میں ہم اپنے نیٹو اتحادی ترکی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ حملے میں ترکی کے متعدد اہلکار ہلاک ہوئے۔ یہ اہلکار رابطے اور تناؤ کی شدت میں کمی لانے کے لیے استعمال ہونے والی ایک مشاہدہ چوکی پر فرائض انجام دے رہے تھے۔ اس حملے کے جواب میں ہم ترکی کے اپنے دفاع میں جائز اقدامات کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ ان اہلکاروں کی ہلاکت پر ہم ترک حکومت سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ اسد حکومت، روس، ایرانی حکومت اور حزب اللہ کے ظالمانہ اقدامات شمالی شام میں جنگ بندی کی راہ میں براہ راست رکاوٹ ہیں۔ ایسے وحشیانہ حملے بہرصورت بند ہونا چاہئیں، امداد پہنچانے کی اجازت ملنی چاہیے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2254 کی مطابقت سے امن بحال ہونا چاہیے۔ امریکہ اسد حکومت کی عالمی برادری میں ازسرنو یکجائی روکنے کے لیے ہرممکن قدم اٹھائے گا یہاں تک کہ  ملک بھر بشمول ادلب میں جنگ بندی سمیت اقوام متحدہ کی قرارداد 2254 کی تمام شرائط پر پورا نہیں اترتا۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں