rss

چرائے گئے اثاثہ جات کی نائجیریا کے عوام کو واپسی

हिन्दी हिन्दी, English English

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
ترجمان دفتر خارجہ مورگن اورٹیگس کا بیان
4 فروری 2020

3 فروری کو دفتر خارجہ نے امریکی حکومت، عملداریء جرسی اور وفاقی جمہوریہ نائجیریا کے مابین ایک معاہدے پر دستخط کی تقریب کا انعقاد کیا۔ اس معاہدے کے تحت 308 ملین ڈالر سے زیادہ مالیتی اثاثے نائجیریا کے عوام کو لوٹائے جانا ہیں۔ یہ اثاثے 1990 کی دہائی میں سابق فوجی آمر سانی اباچا نے چرائے تھے جنہیں بیرون ملک رکھا گیا تھا۔ 20 سال سے زیادہ عرصہ کے بعد یہ اثاثے نائجیریا کے عوام کو واپس کیے جا رہے ہیں۔

نائجیریا کی آزاد خودمختار حکومت یہ فنڈ ملک بھر کے تزویراتی اقتصادی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے سے متعلق تین منصوبوں پر خرچ کرے گی۔ ان مالی وسائل کا ذمہ دارانہ اور قومی فائدے کے لیے استعمال یقینی بنانے کے لیے اس معاہدے میں ان منصوبہ جات کی جانچ اور ان پرعملدرآمد کے طریقہ ہائے کار اور بیرونی نگرانی بھی شامل ہے۔ اس میں یہ شرط بھی رکھی گئی ہے کہ نائجیریا کسی نئی بدعنوانی یا واپس کیے گئے اثاثوں کے لیے قائم کردہ اکاؤنٹ میں غبن کی صورت میں یہ فنڈ واپس کرنے کا پابند ہو گا۔ اثاثہ جات کی یہ واپسی عالمی سطح پر اس بڑھتے ہوئے اتفاق رائے کی عکاس ہے کہ ممالک کو یہ امر یقینی بنانے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے کہ چرائے گئے اثاثے شفاف اور قابل احتساب انداز میں واپس ہوں۔ یہ اقدام امریکہ اور نائجیریا کے ان وعدوں سے بھی مطابقت رکھتا ہے جو انہوں نے ان اصولوں کے تحت کیے تھے جن پر اثاثہ جات کی بازیابی کے لیے 2017 کے عالمگیر فورم میں اتفاق پایا گیا تھا۔ اس فورم کا انعقاد امریکہ اور برطانیہ نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔

یہ معاہدہ اس اثر کی علامت ہے جو امریکی حکومت بدعنوانی کے خلاف جدوجہد میں ڈالتی ہے۔ ہم اس جدوجہد کے حوالے سے صدر بوہاری کے ذاتی عہد کا خیرمقدم کرتے ہیں اور ہم ہر سطح پر بدعنوانی کا مقابلہ کرنے کے لیے  سول سوسائٹی اور نائجیریا کی دیگر کوششوں کی معاونت جاری رکھیں گے۔ بدعنوانی کے خلاف جدوجہد نائجیریا کے مستقبل میں سرمایہ کاری کی حیثیت رکھتی ہے۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں